ہوم << خطبہ جمعہ مسجد الحرام – شیخ ڈاکٹر عبداللہ بن عواد الجہنی – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل
600x314

خطبہ جمعہ مسجد الحرام – شیخ ڈاکٹر عبداللہ بن عواد الجہنی – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

علم اور اہلِ علم؛ فضیلت، احترام اور ذمہ داریاں

انسان کو زندگی کے مختلف مراحل میں بہت سی نعمتیں ملتی ہیں، مگر علم وہ نعمت ہے جو اسے دوسری تمام نعمتوں کے درست استعمال کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ مال موجود ہو مگر اسے خرچ کرنے کا شعور نہ ہو تو وہ تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ قوت میسر ہو مگر عدل اور ذمہ داری کا علم نہ ہو تو وہ ظلم میں بدل سکتی ہے۔ اسی طرح عبادت کا جذبہ موجود ہو، لیکن شرعی رہنمائی حاصل نہ ہو تو انسان نیکی کی خواہش کے باوجود غلط راستے پر چل سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام نے علم کو محض ایک اضافی خوبی نہیں، بلکہ صحیح عقیدے، درست عبادت اور صالح کردار کی بنیاد قرار دیا ہے۔ مسجد الحرام کے امام، شیخ ڈاکٹر عبداللہ بن عواد الجہنی نے اپنے حالیہ خطبۂ جمعہ میں علم کی فضیلت، اہلِ علم کے مقام اور معاشرے کے مختلف طبقات کی تعلیمی و تربیتی ذمہ داریوں کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا۔ امامِ کعبہ نے یاد دلایا کہ اللہ تعالیٰ نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا، اسی عظیم مقصد کی وضاحت کے لیے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں۔ لیکن اللہ کی عبادت اسی وقت درست انداز میں ہوسکتی ہے جب انسان کو معلوم ہو کہ اس کا رب اس سے کیا چاہتا ہے، کن کاموں کا حکم دیتا اور کن چیزوں سے روکتا ہے۔
قرآن مجید نے علم کو عمل پر مقدم رکھا ہے۔ توحید کا اقرار ہو یا استغفار، نماز ہو یا روزہ، زکوٰۃ ہو یا حج، ہر عمل سے پہلے اس کا علم ضروری ہے۔

علم کے بغیر کیا جانے والا عمل بسا اوقات اخلاص کے باوجود سنت اور شریعت سے دور ہوجاتا ہے۔ صحیح علم انسان کو اپنے رب کی معرفت عطا کرتا، ایمان مضبوط بناتا اور دل میں خشیتِ الٰہی پیدا کرتا ہے۔ علم کی اصل قدر بھی اسی وقت سامنے آتی ہے جب وہ انسان کو اللہ کے قریب کرے، اس کے اعمال سنوارے اور اسے گناہوں سے بچائے۔دینی علم کی ایک بنیادی مقدار حاصل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ہر شخص کو اپنے عقیدے، طہارت، نماز، روزے، زکوٰۃ اور دیگر ضروری دینی احکام کا اتنا علم ضرور ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت صحیح طریقے سے کرسکے۔ اس ذمہ داری کا تعلق صرف علماء یا مدارس کے طلبہ سے نہیں، بلکہ ہر مسلمان مرد و عورت سے ہے۔ اپنی روزمرہ زندگی سے متعلق دینی مسائل سے ناواقف رہنا کوئی قابلِ قبول عذر نہیں، بالخصوص اس دور میں جب معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہوچکی ہے۔

اسلامی تعلیمات صرف عبادات کا علم حاصل کرنے تک محدود نہیں رکھتیں، بلکہ ہر شخص سے یہ تقاضا بھی کرتی ہیں کہ وہ اپنے پیشے اور معاملات سے متعلق شرعی احکام سیکھے۔ تاجر کو خرید و فروخت، نفع، قرض، سود، دھوکے اور دیانت کے مسائل معلوم ہونے چاہییں۔ ڈاکٹر کو علاج، مریض کی رازداری اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی شرعی حدود کا ادراک ہونا چاہیے۔ اسی طرح انجینئر، وکیل، استاد، سرکاری افسر اور دوسرے شعبوں سے وابستہ افراد کو بھی اپنے کام سے متعلق حلال و حرام کی پہچان حاصل کرنی چاہیے۔ بصورت دیگر آدمی انجانے میں دوسروں کے حقوق پامال یا حرام کا ارتکاب کرسکتا ہے۔ علم کی اسی غیر معمولی اہمیت کے باعث اسلام نے علمائے ربانی کو بلند مقام عطا کیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور اہلِ علم کی گواہی کے ساتھ توحید کی سب سے عظیم حقیقت بیان ہوئی ہے۔ ایک دوسرے مقام پر بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان اور اہلِ علم کے درجات بلند فرماتا ہے۔ یہ مقام محض کسی ظاہری نسبت، لباس یا لقب سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے مستحق وہ علماء ہیں جو علم کے ساتھ عمل، تقویٰ، دیانت اور خیرخواہی کو بھی اختیار کرتے ہیں۔

علمائے ربانی انبیائے کرام کے وارث ہیں۔ انبیاء نے اپنے پیچھے مال و دولت نہیں، بلکہ علم کی میراث چھوڑی، لہٰذا جو شخص اس علم کو حاصل کرتا ہے، وہ نبوی ورثے سے اپنا حصہ پاتا ہے۔ اہلِ علم تاریکیوں میں ہدایت کے چراغ ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں کے شبہات دور کرتے، صحیح اور غلط کے درمیان امتیاز واضح کرتے اور دین کو غلو پسندوں کی تحریف، باطل پرستوں کی من گھڑت باتوں اور جاہلوں کی غلط تشریحات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ جب کسی آیت یا حدیث کو سیاق و سباق سے ہٹا کر غلط مفہوم پہنایا جائے تو یہی علماء علمی دلائل کے ساتھ اس کی حقیقت واضح کرتے ہیں۔ اسی بنا پر علماء کا احترام دراصل علم اور دین کا احترام ہے۔ نبی کریمؐ نے بڑوں کی توقیر، چھوٹوں پر شفقت اور علماء کے حقوق کی پہچان کو اپنی امت کی نمایاں خصوصیات میں شمار فرمایا۔ تاہم احترام کا مطلب کسی فرد کو خطا سے پاک سمجھنا یا دلیل کے بغیر اس کی ہر بات قبول کرلینا نہیں۔ عالم کا حقیقی احترام یہ ہے کہ اس کے علم سے فائدہ اٹھایا جائے، اس کی عزت محفوظ رکھی جائے، اختلاف کی صورت میں تہذیب اور انصاف ملحوظ رہے اور علمی مسائل کو شور، الزام تراشی اور کردار کشی کی نذر نہ کیا جائے۔

علم حاصل کرنے والوں کے لیے بھی بڑی بشارت ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے۔ فرشتے طالبِ علم کے عمل سے خوش ہوتے ہیں اور آسمان و زمین کی مخلوقات اہلِ علم کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہیں۔ مگر یہ فضائل ایسے علم سے وابستہ ہیں جو نافع ہو، خلوص کے ساتھ حاصل کیا جائے اور جس کے آثار انسان کے عقیدے، عبادت، گفتگو اور معاملات میں دکھائی دیں۔ علم اور اخلاق کے اسی تعلق کو سلف صالحین نے خصوصی اہمیت دی۔ چنانچہ امام سفیان ثوری کی والدہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ پہلے چند احادیث سیکھو، پھر دیکھو کہ علم سے تمہارے اخلاق، طرزِ عمل اور لوگوں سے گفتگو میں بہتری آئی یا نہیں۔ اگر علم کردار سنوارے تو مزید حاصل کرو، لیکن اگر اس کا کوئی اثر دکھائی نہ دے تو اندیشہ ہے کہ یہی علم قیامت کے دن تمہارے خلاف حجت بن جائے۔ یہ نصیحت ہر طالبِ علم کے لیے آئینہ ہے۔ علم کا مقصد صرف معلومات بڑھانا، بحث جیتنا یا شہرت حاصل کرنا نہیں، بلکہ انسان کے باطن اور کردار کی اصلاح ہے۔

نئے تعلیمی سال کا آغاز اساتذہ، والدین اور طلبہ سب کو اپنی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتا ہے۔ استاد کا کام صرف کتاب پڑھانا اور نصاب مکمل کرنا نہیں۔ وہ نئی نسل کی علمی، فکری اور اخلاقی شخصیت بناتا ہے۔ اس کے لہجے، انصاف پسندی، وقت کی پابندی، شفقت اور دیانت کا اثر طلبہ پر دیر تک قائم رہتا ہے۔ اس لیے استاد کو چاہیے کہ محض تعلیم دینے پر اکتفا نہ کرے، بلکہ اپنے طلبہ کے لیے عملی نمونہ بھی بنے۔ سچی بات، عدل اور نرمی دلوں پر ایسے نقوش چھوڑتے ہیں جو برسوں بعد بھی باقی رہتے ہیں۔ تعلیمی کامیابی میں خاندان کا کردار بھی بنیادی ہے۔ گھر بچے کی پہلی درس گاہ اور والدین اس کے اولین مربی ہوتے ہیں۔ اگر گھر میں سچائی، نماز کی پابندی، بڑوں کا احترام، رحم دلی اور غلطی پر معذرت کا ماحول ہو تو یہ اوصاف بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ صرف احکام سنانا تربیت نہیں؛ تربیت وہ عملی نمونہ ہے جو بچہ ہر روز اپنے سامنے دیکھتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں میں محنت، سنجیدگی، احترامِ علم اور استاد کی قدر پیدا کریں اور ان کی تعلیمی کامیابی کے ساتھ اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیں۔
طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئے تعلیمی سال کا آغاز پختہ عزم، نہایت مؤدب ہو کر بلند حوصلے کے ساتھ کریں۔

وقت کی حفاظت، استاد کا احترام، مطالعے کی پابندی اور حاصل شدہ علم پر عمل ان کے سفر کو بامقصد بناتے ہیں۔ علم اخلاق سے خالی ہو تو اپنے حامل کے خلاف حجت بن سکتا ہے، لیکن جب وہ حسنِ کردار سے آراستہ ہو تو روشنی بن کر فرد، خاندان اور معاشرے کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ قوموں کی حقیقی ترقی عمارتوں، مشینوں اور وسائل سے نہیں، بلکہ علم، اخلاق اور تربیت یافتہ انسانوں سے ہوتی ہے۔ اس روشن مستقبل کی تعمیر میں حکومت، علمی ادارے، علماء، اساتذہ، والدین اور طلبہ سب شریک ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم علم و عمل سے اپنا تعلق مضبوط کریں، اہلِ علم کی قدر پہچانیں، حسنِ اخلاق کو تربیت کا حاصل بنائیں اور اس یقین کو اپنے کردار کا معیار قرار دیں کہ اللہ تعالیٰ ہر حال میں ہمیں دیکھ رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment