ہوم << حیا: ایمانی زینت اور کردار کی حفاظت – خطبہ جمعہ مسجد نبوی ﷺ
600x314

حیا: ایمانی زینت اور کردار کی حفاظت – خطبہ جمعہ مسجد نبوی ﷺ

انسان کی اصل پہچان وہ باطنی احساس ہے جو تنہائی میں بھی اسے برائی سے روکتا اور لوگوں کے درمیان وقار سے جینا سکھاتا ہے۔ یہی حیا ہے۔ جس دل میں حیا بیدار ہو، وہاں گناہ کے لیے جگہ تنگ ہو جاتی ہے؛ لیکن یہ وصف کمزور پڑ جائے تو انسان برائی کو معمول اور بے باکی کو آزادی سمجھنے لگتا ہے۔

مسجد نبوی کے خطیب ڈاکٹر خالد المہنا نے اپنے خطبۂ جمعہ میں اسی ایمانی وصف کو موضوع بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تقویٰ اللہ تعالیٰ سے سچی محبت اور درست ایمان کی دلیل ہے۔ ایمان عقیدے، قول، عمل اور اخلاق، سب کو شامل ہے۔ ان شعبوں کو اپنانے سے ایمان پختہ ہوتا ہے، جبکہ ان میں کوتاہی اسی تناسب سے ایمان اور تقویٰ کو کمزور کر دیتی ہے۔ حیا ایمان کی نمایاں شاخ، بہترین خوبی اور بلند اخلاقی مقام ہے۔ یہ صرف اسلامی تعلیمات کا امتیاز نہیں، بلکہ تمام آسمانی شریعتوں اور انبیائے کرام کی مشترک تعلیم رہی ہے۔ رسول اللہؐ نے ایمان کی متعدد شاخیں بیان کرتے ہوئے سب سے اعلیٰ شاخ اللہ کی وحدانیت کے اقرار کو، سب سے ادنیٰ شاخ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو، اور حیا کو ایمان کی ایک شاخ قرار دیا۔ اس ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان دل کے یقین سے شروع ہو کر معاشرتی بھلائی اور اخلاقی پاکیزگی تک انسان کی پوری زندگی کو محیط ہے۔

خطبے میں حیا کی حقیقت بیان کرتے ہوئے اسے نفس کی ایسی صفت قرار دیا گیا جو انسان کو پاکیزہ اور آراستہ کرنے والے کاموں پر ابھارتی ہے، جبکہ آلودہ اور عیب دار بنانے والے کاموں سے روکتی ہے۔ یہ وصف مؤمن کو اپنے رب کے حقوق ادا کرنے، اس کے حکم کی پاس داری اور مسلسل ملنے والی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے، اس کی خلوت و جلوت سے واقف ہے اور اس کے دل کے رازوں تک کو جانتا ہے۔ یہی احساس اسے خواہشات کی اندھی پیروی سے محفوظ رکھتا ہے۔حیا انسانی فطرت میں رکھی گئی ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ نے نفس کو نیکی اور بدی کے راستوں کی پہچان عطا فرمائی؛ البتہ گناہوں کی آلودگی فطرت کو مسخ، بصیرت کو ماند اور دل کو بے حس کر دیتی ہے۔ پھر شرمندگی والے کام معمولی دکھائی دیتے ہیں، یہاں تک کہ انسان برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دیتا ہے۔

مؤمن کی حیا کے دو رخ ہیں۔ پہلا رخ اللہ تعالیٰ سے حیا ہے، جو اسے رب کی ناراضی والے کام سے روکتا ہے۔ دوسرا لوگوں سے حیا ہے، جو اسے علانیہ برائی، دوسروں کے معاملات میں مداخلت، ان کی نجی چیزوں پر نظر رکھنے اور معاشرتی حقوق پامال کرنے سے بچاتا ہے۔ یہی حیا اسے رشتہ داروں سے تعلق قائم رکھنے اور ضرورت مند بھائیوں کے کام آنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یوں اللہ سے حیا دین کی حفاظت کرتی ہے اور لوگوں سے حیا مروت کو سنوارتی ہے۔ دین اور مروت جمع ہوں تو انسانی شخصیت اپنے کمال کو پہنچتی ہے۔حقیقی مؤمن اپنے رب کی عظمت، اسماء، صفات اور افعال کی معرفت کے باعث اس سے حیا کرتا ہے۔ وہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو اسی کی نافرمانی میں استعمال نہیں کرتا۔ خالق کی کبریائی کے سامنے اسے اپنی کم مائیگی کا احساس رہتا ہے۔ شریف النفس شخص خود اپنی ذات سے بھی حیا کرتا ہے اور اپنے لیے گھٹیا سوچ، پست عمل اور اخلاقی گندگی قبول نہیں کرتا۔

رسول اللہؐ نے ایک شخص کو اپنے بھائی کی زیادہ حیا پر اعتراض کرتے دیکھا تو اسے روک دیا اور فرمایا کہ حیا سراسر خیر، ایمان کا حصہ اور خیر ہی کا سرچشمہ ہے۔ حقیقی حیا وہ قوت ہے جو برائی کے سامنے انسان کے قدم روک دے۔خطیب محترم نے حیا کو دو داخلی کیفیات کا نتیجہ قرار دیا۔ پہلی کیفیت اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس ہے۔ بندہ جب یہ حقیقت اپنے سامنے رکھتا ہے کہ اللہ اسے ہر حال میں دیکھ رہا ہے تو اس کی خلوت بھی جلوت کی طرح پاکیزہ ہو جاتی ہے۔ پھر وہ صرف لوگوں کے خوف سے گناہ نہیں چھوڑتا، بلکہ اس وقت بھی خود کو روکتا ہے جب کوئی انسانی نگاہ اسے نہیں دیکھ رہی ہوتی۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ اللہ اسے ہر حکم کی تعمیل میں حاضر اور ہر ممنوع مقام سے دور پائے۔ یہی کیفیت مقامِ احسان کی بنیاد بنتی ہے۔

دوسری کیفیت اپنی کوتاہی کا ادراک ہے۔ انسان عبادت اور اطاعت میں پوری کوشش کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ زندگی، صحت، عقل، ایمان، رزق اور بے شمار ظاہری و پوشیدہ نعمتیں اسے ہر لمحے اپنے رب کا محتاج بناتی ہیں۔ جب بندہ اپنے محدود عمل اور اللہ کے عظیم حق کا موازنہ کرتا ہے تو غرور کے بجائے عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنے عمل پر اترانے کے بجائے قبولیت کا امیدوار اور کوتاہی پر شرمندہ رہتا ہے۔ یہی احساس دل میں اللہ کی ہیبت اور مستقل حیا کو جگہ دیتا ہے۔یہ عظیم وصف بعض لوگوں کو فطری طور پر زیادہ عطا ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے، تاہم اسے تربیت اور مجاہدۂ نفس سے پیدا اور مضبوط بھی کیا جا سکتا ہے۔ انسان نگاہ، زبان، لباس، تعلقات اور تنہائی کے معمولات میں حیا کی پابندی کرے تو رفتہ رفتہ یہ اس کی مستقل عادت بن جاتی ہے۔ پھر اس کا نفس برائی سے سمٹنے اور فضیلت کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ رسول اللہؐ نے تنہائی میں بھی جسم ڈھانپنے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ انسان اس سے حیا کرے۔

انبیائے کرام کی زندگیاں حیا کا روشن نمونہ ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نہایت باحیا تھے۔ نبی اکرمؐ پردے میں رہنے والی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیا رکھتے تھے؛ ناپسندیدہ بات کے آثار آپ کے چہرۂ مبارک سے پہچانے جاتے تھے۔ قرآن نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس آنے والی نیک خاتون کی چال میں بھی حیا کو نمایاں کیا۔ حیا مرد کی مروت اور عورت کے وقار، تحفظ اور نسوانی حسن کو مکمل کرتی ہے۔حیا دل کی زندگی ہے۔ جس دل میں زندگی ہو، وہ انسان کو برائی سے روکتا ہے، مگر حیا چھن جائے تو گناہ کی راہ کھل جاتی ہے۔ نبوی تنبیہ ہے کہ جب حیا نہ رہے تو انسان جو چاہے کرتا پھرے۔ اس کا مطلب اجازت دینا نہیں، بلکہ بے حیائی کے خطرناک انجام سے خبردار کرنا ہے۔ بے حیا شخص وقار کی چادر اتار کر ذلت، بدنامی اور تہمت کا لباس پہن لیتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کے تعاقب میں خود کو مشکوک مقامات تک لے جاتا ہے اور اپنے دین، مروت اور فطرت، تینوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

آج فرد اور معاشرے کو اسی باطنی نگہبان کی ضرورت ہے۔ حیا محفوظ ہو تو نگاہ، گفتگو، لباس، معاملات اور تعلقات میں پاکیزگی باقی رہتی ہے۔ اس لیے دل میں اللہ کی نگرانی کا یقین تازہ رکھا جائے، نعمتوں کو اطاعت میں استعمال کیا جائے اور نفس کو اچھے اعمال کا عادی بنایا جائے۔ حیا کی حفاظت دراصل ایمان، کردار اور انسانی وقار کی حفاظت ہے؛ جبکہ بے حیائی کا انجام دینی نقصان، اخلاقی پستی اور مکمل خسارہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment