ہوم << خطبہ جمعہ مسجد نبوی – الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم– ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل
600x314

خطبہ جمعہ مسجد نبوی – الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم– ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

غربت یا دولت؛ ہر حال میں عبادت
ہم اکثر کسی کی خوش حالی دیکھ کر اسے خوش نصیب اور کسی کی تنگ دستی دیکھ کر اسے محروم سمجھ لیتے ہیں۔ یہی پیمانہ اپنے حالات پر بھی لاگو کرتے ہیں۔ آمدن بڑھے تو خیال ہوتا ہے کہ اللہ ہم سے خوش ہے، رزق گھٹے تو اس کی ناراضی کا اندیشہ ہونے لگتا ہے۔ لیکن انسان کی اصل قدر اس کے مال سے متعین نہیں ہوتی۔ دولت اور غربت، دونوں امتحان ہیں اور دونوں ہی اللہ کی رضا پانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

مسجد نبوی کے خطیب الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے اپنے خطبۂ جمعہ میں اسی حقیقت کو واضح کیا کہ اللہ کا ہر کام حکمت پر مبنی ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے علم، رحمت، قدرت اور حکمت کی گواہی دیتا ہے۔ تقدیر پر ایمان کے ساتھ یہ یقین بھی ضروری ہے کہ اس کے فیصلے بے مقصد نہیں ہوتے، خواہ ان کی حکمت ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ انسانوں کی صلاحیتوں، مزاج، سمجھ بوجھ اور روزی میں فرق بھی اسی حکمت کا حصہ ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے محتاج ہیں اور باہمی تعاون سے زندگی کا نظام چلتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے:
’’ہم نے دنیا کی زندگی میں ان کی روزی ان کے درمیان تقسیم کی اور بعض کو بعض پر درجوں میں فوقیت دی، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔‘‘
سب یکساں خوش حال ہوتے تو اللہ تعالی کو محبوب اعمال یعنی محتاجوں کی مدد، صدقہ خیرات اور مالی احسان کون کرتا؟!

رزق کی فراوانی ہمیشہ انسان کے حق میں بہتر نہیں ہوتی۔ قرآن کریم کے مطابق اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق بہت کشادہ کر دے تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگیں، لیکن وہ جتنا چاہتا ہے، مخصوص مقدار میں عطا کرتا ہے۔ اسے اپنے بندوں کے حالات خوب معلوم ہیں۔ ہم اپنی خواہش دیکھتے ہیں، جبکہ ہمارا رب ہماری بھلائی جانتا ہے۔ کسی کے لیے کشادگی مفید ہوتی ہے اور کسی کے لیے تنگی۔ اللہ کبھی نعمت دے کر آزماتا ہے اور کبھی آزمائش کے ذریعے نوازتا ہے۔ تکلیف سے گناہ مٹتے اور درجے بلند ہوتے ہیں۔ رسول اللہؐ نے فرمایا:
’’اللہ جس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے، اسے آزمائش میں مبتلا کرتا ہے۔‘‘ (بخاری)

بظاہر محرومی دکھائی دینے والی چیز اپنے انجام کے اعتبار سے عطا ہو سکتی ہے۔ جبکہ انسان کی نظر فوری راحت تک محدود رہتی ہے؛ اس لیے وہ اسی کو نعمت سمجھتا ہے جو طبیعت کو اچھی لگے۔دولت ملنا لازماً اللہ کی محبت کی دلیل نہیں، اور اس کی کمی لازماً ناراضی کا ثبوت نہیں۔ کبھی نافرمان انسان کو نعمتیں ملتی رہتی ہیں اور وہ مزید غفلت میں ڈوبتا جاتا ہے۔ کبھی اللہ اپنے محبوب بندے کو بعض آسائشوں سے بچاتا ہے، تاکہ اس کا دینی مقام متاثر نہ ہو۔ سورۂ فجر میں اسی غلط تصور کی تردید ہوئی ہے کہ فراوانی ملے تو انسان خود کو معزز اور رزق تنگ ہو تو خود کو ذلیل سمجھنے لگے۔انبیائے کرام اور صحابۂ کرام کی زندگیاں بھی اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔ ابراہیم، ایوب، داؤد اور سلیمان علیہم السلام کو خوش حالی ملی، جبکہ عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام غریب تھے۔ صحابہ میں عثمان بن عفان اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما جیسے مال دار بھی تھے اور ابوذر، مصعب بن عمیر اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم جیسے کم وسائل رکھنے والے بھی۔ جبکہ آپؐ، ابو بکر اور عمر پر فراوانی و تنگی دونوں قسم کے حالات رہے۔ چنانچہ فضیلت کا فیصلہ دولت نے نہیں کیا؛ اللہ کے ہاں عزت کا معیار ایمان اور تقویٰ ہے۔

صبر اور شکر کی ضرورت صرف مالی حالات تک محدود نہیں۔ اللہ کے احکام بجا لانے، گناہوں سے بچنے اور اس کے فیصلوں کا سامنا کرنے میں بھی بندہ صبر و شکر سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ رسول اللہؐ نے تنگی اور کشادگی، دونوں میں بندگی کا کامل نمونہ پیش کیا۔ آپؐ صبر میں بھی سب سے آگے تھے اور شکر میں بھی۔ ابن رجب ؒ کے مطابق آپؐ اپنے اہل و عیال پر بھی دوسروں کو ترجیح دیتے، اتنا عطا کرتے کہ بادشاہ بھی اس کی برابری نہ کر پاتے، جبکہ خود غریبوں کی طرح زندگی گزارتے تھے۔ غربت کوئی عیب نہیں۔ رسول اللہؐ نے بھوک سے پیٹ پر پتھر باندھا۔ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھوک کے باعث گھروں سے نکلے تو آپؐ نے بتایا کہ مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے جس نے تمہیں نکالا۔ (مسلم) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھوک سے بے ہوش ہو جاتے اور دیکھنے والا ان کی کیفیت کو جنون سمجھ بیٹھتا۔ (بخاری) چنانچہ تنگ دستی اور اللہ کے ہاں بلند مرتبہ، دونوں ایک شخص میں جمع ہو سکتے ہیں۔

اللہ کی رحمت ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ جمع کرتے ہیں۔ اس لیے مال کی طلب میں اس کی رضا سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ تقویٰ اختیار کرنے والے کے لیے اللہ مشکلات سے نکلنے کا راستہ بناتا ہے اور وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ رزق کے اسباب اختیار کرتے ہوئے اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھنا مومن کی پہچان ہے۔نبی کریمؐ کو اپنی امت کے بارے میں غربت سے زیادہ دولت کی صورت میں آزمائش کا اندیشہ تھا۔ آپؐ نے خبردار فرمایا کہ دنیا کی کشادگی ملنے پر لوگ اس کے حصول میں مقابلہ کرنے لگیں گے، اور یہی دوڑ انہیں تباہ کر دے گی، جیسے پہلے لوگوں کو کر چکی ہے۔ (بخاری و مسلم) مال بڑھنے کے ساتھ اس کی کمائی اور خرچ کے بارے میں جواب دہی کی ذمہ داری بھی بڑھتی ہے۔قیامت کے دن غریب اہل ایمان، مال داروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (ترمذی) ان کے پاس زیادہ مال نہیں ہوگا جس کا حساب دینا پڑے۔ تاہم پہلے داخل ہونا اور جنت میں بلند درجہ پانا الگ باتیں ہیں۔ کوئی مال دار اپنے نیک اعمال میں آگے ہوگا تو حساب کے بعد اس کا درجہ بلند ہو سکتا ہے۔ آخری فیصلہ نیکی اور تقویٰ ہی کی بنیاد پر ہوگا۔

ان تعلیمات کا مقصد محنت سے روکنا نہیں۔ بلکہ اسلام روزی کمانے کی ترغیب دیتا ہے۔ رسول اللہؐ نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھانے کو بہترین کھانا قرار دیا۔ (بخاری) صاحب استطاعت مومن صدقہ و خیرات کے ذریعے نیکی میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ بندے کا کام جائز کوشش کرنا، ملنے پر شکر اور تنگی میں صبر کرنا ہے۔ مومن کی یہی خوبی ہے کہ خوشی میں شکر اور تکلیف میں صبر، اس طرح دونوں رد عمل ہی اس کے لیے خیر بن جاتے ہیں۔ (مسلم) اپنے سے کم وسائل رکھنے والوں کو دیکھنا بھی نبوی تعلیم ہے، تاکہ اپنی نعمتیں حقیر محسوس نہ ہوں۔ حقیقی خوش نصیبی ہدایت ہے، اور سب سے بڑی محرومی اس سے خالی ہو کر اللہ کے سامنے پہنچنا ہے۔ وہاں مال اور اولاد کام نہیں آئیں گے؛ نجات اسے ملے گی جو اللہ کے حضور پاکیزہ دل لے کر حاضر ہو۔ اصل کامیابی ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ خطبے کے آخری حصے میں شیخ القاسم نے حرمتِ حرمین کا تذکرہ کیا۔ مکہ اللہ کا محبوب شہر، کعبے اور عظیم شعائر کا مقام ہے۔ مدینہ رسول اللہؐ کی ہجرت گاہ اور وہ شہر ہے جہاں ایمان سمٹ کر آتا ہے۔

انہوں نے حوثی جماعت کی جارحانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے ان شہروں، مساجد، تعلیمی اداروں اور املاک پر حملے اور پُرامن لوگوں کو خوف زدہ کرنے کو سنگین جرم قرار دیا۔ مکہ پر چڑھائی کرنے والے اصحابِ فیل کا انجام باعث عبرت ہے، جبکہ اہل مدینہ کو ناحق خوف زدہ کرنے والے کے لیے حدیث میں سخت وعید آئی ہے۔ (نسائی) اللہ کی نعمتوں کا شکر اس کی اطاعت اور اس کی مقرر کردہ حرمتوں کی پاسداری کا تقاضا کرتا ہے۔ غربت ہو یا دولت، ہر حال میں اس کی عبادت مطلوب ہے۔