ہوم << خطبہ جمعہ مسجد نبوی – الشیخ ڈاکٹر صلاح بن محمد البدیر – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل
600x314

خطبہ جمعہ مسجد نبوی – الشیخ ڈاکٹر صلاح بن محمد البدیر – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

جنت کی نعمتیں اور سب سے بڑی خوشی

دنیا کی ہر خوشی وقت کے ساتھ بدل جاتی ہے۔ صحت کو بیماری کا، جوانی کو بڑھاپے کا اور زندگی کو موت کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔ انسان جس گھر کو محنت سے بناتا ہے، ایک دن اسے چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ جنت ایسی جگہ ہے جہاں نہ خوشی ختم ہوگی، نہ زندگی۔ اللہ نے اسے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کیا ہے۔ اس کی نعمتوں کے بارے میں ہم جو کچھ سنتے ہیں، وہ دل میں شوق جگاتا ہے؛ مگر دنیا میں رہتے ہوئے ان کی پوری حقیقت سمجھنا ممکن نہیں۔

مسجد نبوی کے خطیب ڈاکٹر صلاح بن محمد البدیر نے حالیہ خطبہ جمعہ میں جنت کی نعمتیں بیان کیں اور سامعین کو یاد دلایا کہ ایسی عظیم منزل کے لیے کوشش کرنا ہی دانش مندی ہے۔ انہوں نے رسول اللہؐ کی وہ حدیث سنائی جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کیا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا۔ جنت کی جو تفصیل ہمیں بتائی گئی ہے، وہ اس وعدے کو سمجھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ خطیب محترم نے جنت کی ساخت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی اینٹیں سونے اور چاندی کی، ان کے درمیان خوشبودار مشک، کنکریاں موتیوں اور جواہرات کی اور مٹی زعفران کی ہوگی۔ یہ حسن محض دیکھنے کے لیے نہیں ہوگا۔ وہاں رہنے والے ہمیشہ نعمتوں میں ہوں گے؛ نہ انہیں بیماری لاحق ہوگی، نہ ان کے کپڑے پرانے ہوں گے، نہ جوانی ڈھلے گی اور نہ موت آئے گی۔ دنیا میں ہم کسی نعمت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بھی اس کے چھن جانے سے ڈرتے ہیں، مگر جنت میں یہ خوف پنپ ہی نہیں سکے گا۔

جنت کے دروازے بھی استقبال کا پُرشکوہ منظر پیش کرتے ہیں۔ خطیب محترم نے بتایا کہ سب سے پہلے رسول اللہؐ جنت کا دروازہ کھلوائیں گے۔ دربان آپؐ سے نام پوچھے گا، پھر عرض کرے گا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آپؐ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔ جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور ان کی وسعت بھی ہماری دنیا کے اندازوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ ان کے بعد آنے والے چمکتے ستاروں جیسے ہوں گے۔ ان کے دلوں میں نہ اختلاف ہوگا، نہ ایک دوسرے کے لیے بغض۔ خطیب محترم نے اہل جنت کی پاکیزہ زندگی اور حسن و جمال کا ذکر کرنے کے بعد اس اعلان کی طرف توجہ دلائی جو انہیں سنایا جائے گا: اب تم ہمیشہ تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہ ہوگے؛ ہمیشہ زندہ رہو گے، تمہیں موت نہیں آئے گی؛ ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی بوڑھے نہ ہوگے؛ اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے، کبھی بدحال نہ ہوگے۔ جس نے زندگی میں بیماری، بڑھاپا یا کسی عزیز کی جدائی دیکھی ہے، وہ اس اعلان کی قدر بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔

جنت کے پھلوں، سایوں اور رہائش کا ذکر کرتے ہوئے خطیب محترم نے اس درخت کی مثال دی جس کے سائے میں سوار سو برس تک چلتا رہے، تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو۔ انہوں نے ایک ایسے خیمے کا بھی ذکر کیا جو ایک ہی کھوکھلے موتی سے بنا ہوگا۔ پھر سامعین کو رسول اللہؐ کی یہ ترغیب یاد دلائی کہ جب اللہ سے جنت مانگو تو فردوس مانگو؛ وہ جنت کا بلند ترین مقام ہے۔ جنت کی خوب صورتی کا اندازہ اس بیان سے بھی ہوتا ہے کہ وہاں کی ایک عورت کا دوپٹہ دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہوگا۔ خطبے میں کوثر اور حوض کا ذکر خاص اہتمام سے آیا۔ کوثر جنت کا وہ دریا ہے جو اللہ نے اپنے نبیؐ کو عطا فرمایا۔ اس کے کناروں، پانی اور خوشبو کا بیان دل میں اس کی چاہت جگاتا ہے۔ قیامت کے دن اہل ایمان رسول اللہؐ کے حوض پر آئیں گے؛ جو وہاں سے پی لے گا، اسے پھر کبھی پیاس نہ لگے گی۔ خطیب نے ساتھ ہی تنبیہ کی کہ کچھ لوگوں کو حوض سے ہٹا دیا جائے گا، کیونکہ انہوں نے دین میں تبدیلیاں کی ہوں گی۔ یہ بیان نعمت کی امید کے ساتھ رسول اللہؐ کی تعلیمات پر قائم رہنے کی ذمہ داری بھی یاد دلاتا ہے۔

جنت کی وسعت کا اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے جو خطیب نے سب سے کم درجے والے جنتی کے بارے میں بیان کیا۔ جب اسے جنت میں داخل ہونے کا حکم ملے گا تو وہ سمجھے گا کہ دوسرے لوگ اپنی جگہیں لے چکے ہیں؛ اب اس کے لیے کیا باقی ہے؟ اللہ اسے دنیا کے ایک بادشاہ کی سلطنت جیسی نعمت، پھر اس سے کئی گنا زیادہ، اور اس کے ساتھ وہ سب کچھ عطا فرمائے گا جسے اس کا دل چاہے گا اور جس سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ یہ تو سب سے کم درجے والے جنتی کا حصہ ہے۔ پھر خطیب نے جنت کے بلند ترین درجوں پر فائز لوگوں کا ذکر کیا۔ ان کے لیے اللہ نے خاص نعمتیں تیار فرمائی ہیں؛ ایسی نعمتیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔ سب سے کم درجے والے جنتی کی عطا سننے کے بعد بلند درجوں کی عظمت کا کچھ اندازہ ہوتا ہے، مگر ان کی حقیقت ہمارے تصور سے بھی آگے ہے۔ مادی نعمتوں کے بعد خطیب محترم نے اس خوشی کا ذکر کیا جس کے سامنے باقی تمام خوشیاں بھی چھوٹی محسوس ہوں گی۔

اللہ اہل جنت سے پوچھے گا: کیا تم راضی ہو؟
وہ عرض کریں گے: ہم کیوں راضی نہ ہوں! آپ نے تو ہمیں وہ کچھ عطا کیا جو دوسروں کو نہیں دیا؟
پھر اللہ انہیں اپنی دائمی رضا عطا فرمائے گا اور فرمائے گا کہ اب میں تم سے کبھی ناراض نہ ہوں گا۔ انسان دنیا میں کتنی ہی کامیابیاں حاصل کرلے، اس کے دل کا بڑا سوال یہی رہتا ہے کہ کیا اس کا رب اس سے راضی ہے؟
جنت میں اسے اس سوال کا خوش کن جواب مل جائے گا۔

اس کے بعد خطیب محترم نے جنت کی سب سے بڑی خوش خبری سنائی کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے۔ چنانچہ رسول اللہؐ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر صحابہ کو بتایا کہ وہ اپنے رب کو واضح طور پر دیکھیں گے۔ خطیب محترم نے یاد دلایا کہ اہل جنت کو دی جانے والی تمام نعمتوں میں اپنے رب کا دیدار سب سے زیادہ محبوب ہوگا۔ جنت کی عمارتیں، باغات اور دریا عظیم نعمتیں ہیں؛ مگر اللہ کی رضا اور اس کا دیدار اہل ایمان کی سب سے بڑی آرزو ہے۔ دوسرے خطبے میں ڈاکٹر صلاح البدیر نے سامعین سے پوچھا کہ ایسی جنت کے ہوتے ہوئے انسان چند روزہ دنیا کی خاطر اس سے کیسے غافل ہوسکتا ہے؟
موت کسی بھی وقت آ سکتی ہے۔ اس لیے تقویٰ، اطاعت اور دین پر ثابت قدمی کو کل پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ خطیب محترم نے ملک میں امن، اتحاد اور حرمین شریفین کی خدمت کی نعمت پر شکر ادا کیا، پھر مسلمانوں، بیماروں اور سرحدوں پر موجود اہل کاروں کے لیے دعا کی۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ کو جارحیت سے محفوظ رکھنے اور بارش کے لیے بھی دعا کی۔یہ خطبہ ہر شخص سے پوچھتا ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی ہمیں کس منزل کی طرف لے جارہی ہے؟

جنت کی چاہت زبان سے ظاہر ہوتی ہے، مگر اس کی سچائی تقویٰ، اطاعت اور دین پر ثابت قدم رہنے کی کوشش سے پہچانی جاتی ہے۔