کسی بھی ادارے یا حکومت کی کامیابی اور ناکامی کا تمام تر دار ومدار ”انتظامی امور “ پر ہوتا ہے ،انتظامی امورکی بنیاد جس قدر مضبوط اور مُستحکم ہوتی ہے ادارہ یا حکومت کی ترقی میں حائل رکاوٹیں خود ہی دور ہوتی چلی جاتی ہیں ۔
حضرت امیر معاویہ رضِی اللہ عنہ بالخصوص حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رَضِی اللہ عنہ کے انتظامی امور کا حصہ رہے اسی لیےآپ رَضِیَ اللہ عنہ کو نظام حکومت چلانے کا وسیع تجربہ تھا،آپ نے اپنے دور حکومت میں انہی اصول کو نافذ کیا اور اسی کی برکت سے آپ کے دور میں بے شمار فتوحات ہوئیں۔ امیر معاویہ نے اپنے 19 سالہ دور حکومت میں ملک سے بدامنی اور خانی جنگی دور کر کے عالم اسلام کو متحد کیا۔نظم و نسق کی اصلاح کرکے حکومت کو استحکام بخشا۔ امیر معاویہ نے خلفاء راشدین کی شورائی طرز کے بدل مورثی اور شخصی حکومت کی بنیاد رکھی۔اگرچہ بیرونی طرز عمل خلافت جیسا تھا لیکن درحقیقت اس کے ملوکیت کی روح کار فرما تھی۔ خلافت راشدہ کے نمونہ پر قائم شدہ مجلس شوریٰ تو نہ تھی لیکن ان کے پاس نامور عرب مدبراین عمرو بن عاص مغیرہ بن شعبہ زیاد بن ابی سفیان جیسے زیرک سیاستدان موجود تھی۔ مشیروں کا انخلاء اور انتخاب امیر کی ذاتی پسند نا پسند پر ہوتا۔
امیر معاویہ کا نظامِ اِحتِساب
کسی بھی نظام کی بقاء کا دار و مَدارخوبیوں میں اضافے پربھرپور توجہ دینے اور خامیوں کی اصلاح کرنے میں ہے ،یقیناً اس کے ذریعے تربیت بھی ہوتی رہتی ہے اور حوصلہ افزائی کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے اور یہ دونوں ہی چیزیں کسی بھی نظام کو کامیابی سے ہمکنا ر کرنے کے لیے بہت ہی ضروری ہیں ۔حضرت امیرِ معاویہ کا حلم تمام صحابۂ کرام میں ضرب المثل تھا۔¹ آپ اپنی ذات کے لیے کسی سے بھی بدلہ نہ لیا کرتےلیکن آپ کےعہدِ حکومت کا نظامِ اِحتساب نہایت مضبوط تھا بلکہ آپ اپنے عمال کا اِحتساب خود فرمایا کرتے چنانچہ ایک مرتبہ فلسطین کےعامل صحابیٔ رسول حضرت ابو راشد ازدی حضرت امیر معاویہ کے پاس حاضر ہوئےتو آپ اُن کا محاسبہ فرمانے لگے۔حضرت ابو راشد اَزْدی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔حضرت امیر معاویہ نے رونے کی وجہ پوچھی:تو فرمایا: میرے آنسو محاسبے کی وجہ سے نہیں بہہ رہے بلکہ مجھے قیامت کا دن یاد آگیا ہے۔²
معلوم ہوا کہ حضرت امیر معاویہ منتخب کردہ گورنروں سے باز پرس بھی فرمایا کرتے تھے ، یوں خامی او ر غلطی بھی واضح ہوجاتی اور ہاتھوں ہاتھ اصلاح کی ترکیب بھی بن جاتی ۔حضرت امیر معاویہ کی فراست کی تصدیق حضرت سیدنا فاروق اعظم رَضِی اللہ عنہ نے اس وقت بھی فرمائی جب ملکِ شام تشریف لائے اور استقبال کا شاہانہ انداز دیکھاجو حضرت سیّدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عَنہ کی طبیعت کے سراسر خلاف تھا،جب باز پرس کرنے پر حضرت سیّدنا امیر معاویہ نےوضاحت پیش فرمائی تو اس وقت حضرت سیدنا فاروقِ اعظم نے فرمایا :
نہ ہم ایسا کرنے کا حکم دیتے ہیں اور نہ ہی اس سے روکتے ہیں یعنی تمہیں اپنی حالت زیادہ بہتر معلوم ہے اگر یہ سب کرنے کی حاجت ہے تو بہت اچھا ہےاور اگر حاجت نہیں تو یہ برا ہے.³
حضرت امیر معاویہ کا بھانجا ابنِ اُمِّ حکم آپ کے دور میں کوفہ کا گورنر تھا لیکن جب اس کی بد اخلاقی میں اضافہ ہوا اور لوگوں کے ساتھ برے طریقے سے پیش آنے لگا تو حضرت سیدنا امیر معاویہ نے اسے فوراً معزول فرماکر حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ عَنہ کو کوفہ کا گورنر مقرر فرمادیا ۔ گورنری وہ عہدہ ہے کہ جسے حاصل ہو اس کے پاس ضرورت مندوں کا ہجوم لگارہتا ہے ایسے میں اگر گورنر ہی صبر و تحمل اور خوش اخلاقی کا مظاہر ہ نہ کرے بلکہ بد اخلاقی سے پیش آئے تو لوگوں کی ضروریات بر وقت پوری نہیں ہوں گی جس کی وجہ سے پور ے نظام میں خلل واقع ہوگا۔ آپ نے گورنر کو معزول کرتے ہوئے قرابت داری کا لحاظ نہ کیا بلکہ مسلمانوں کی بر وقت داد رَسی نہ ہونے کی وجہ سے اپنے بھانجے کو معزول فرما کر جلیل القدر انصاری صحابی حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ عَنہ کو کوفہ کا گورنر مقرر فرمایا ۔⁴
عہد امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنہ میں عہدۂ قضاء
خوب صورت معاشرے کا حسن دراصل ایک دوسرے کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے مل جل کر رہنے میں ہے لیکن بعض اوقات ایسے معاملات پیش آجاتے ہیں جن کی بِنا پر فریقین کو کسی تیسرے سے فیصلہ کروانے کی ضرورت پیش آتی ہے اور اس ضرورت سے در حقیقت انسان کی جان ،مال، عزت اور بعض اوقات نسب کا تعلق بھی جڑا ہوتا ہے نیز اس سے معاشرے کے امن و امان کا گہرا تعلق ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام میں عدل و انصاف کو بے پنا ہ اہمیت حاصل ہے ۔ حضرت امیر معاویہ رَضِی اللہ عَنہ کے مبارک دور میں بھی عدل و انصاف کو بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی اور اس کا باقاعدہ شعبہ قائم تھا اور حضرت فضالہ بن عُبید انصاری رَضِیَ اللہ عَنْہ عہدۂ قضاپر فائز تھے۔ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہ عنہ کے بعد حضرت ابو ادریس خولانی رَضِیَ اللہ عَنہ اس منصب پر فائز رہے ۔⁵
سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنہ اور جیل خانہ جات
حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنہ سے قبل بھی قیدیوں کے لیے کھانے اور موسم کے اعتبار سے لباس کا انتظام ہوا کرتا تھا۔سب سے پہلے حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہ عنہ نے عراق میں اور پھر حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنہ نے شام میں اس سلسلے کو جاری رکھا۔⁶
سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عنہ اور نظامِ مالیات
کسی بھی ملک یاادارے کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑا کردار ذرائع آمدنی اور اخراجات کا ہوتا ہے ،اسی کی بدولت ملکی صنعتیں پھلتی پھولتی ہیں اور لوگوں کو خوشحالی نصیب ہوتی ہے ۔اسلامی مملکت کی آمدنی کے بھی مختلف ذرائع ہوتے تھے جن سے ملک کے انتظامی معاملات چلائے جاتے۔ حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنہ کے دورِ حکومت میں بھی مختلف وسائل سےآمدنی حاصل کی جاتی تھی جس میں واضح برکت محسو س کی جاتی ،یہاں اس آمدنی کا مختصراً تذکرہ کیا گیا ہے۔ دمشق سے حاصل ہونے والی آمدنی سے فوجیوں اور قاضیوں کی تنخواہیں ادا کی جاتیں اور فقہاء و مؤذنین کی خدمت بھی اسی مال سے کی جاتی تھی۔ان تمام اخراجات کے بعد جو رقم بچ جاتی اس کی مقدار چار لاکھ دینا رتھی جسے بیت المال میں جمع کروادیا جاتا تھا۔⁷ حضرت سیّدنا عبد اللہ بن دَرّاج رَضِیَ اللہ عَنہ کو جب عراق کے خراج کا والی مقرر فرمایا تو اس وقت زمینوں سے حاصل ہونے والے خراج کی رقم پچاس لاکھ درہم تھا۔⁸
حضرت سیّدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنہ کے دور خلافت میں مصر کے گورنر مختلف صحابۂ کرام رہے اس اعتبار سے یہاں سے حاصل ہونے والی آمدنی کی مقدار بھی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی۔حضرت عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہ عَنہ جب تک گورنر رہے اس وقت تک مصر سے حاصل ہونے والی آمدنی نو لاکھ دینارتھی۔⁹اس کے بعد حضرت مسلمہ بن مخلد رَضِیَ اللہ عَنْہ کے دور میں بیت المال سے مصارف پور ے کرنےکے بعد جو رقم حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنْہ کو بھیجی جاتی اس کی مقدار چھ لا کھ دینا ر تھی ۔¹⁰ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنہ کے مبارک دور میں کس قدر خوشحالی تھی اس کا انداز ہ مالیات کے ان اعداد و شمار اور مصارف سے لگا یا جاسکتا ہے،یقیناً اس کی کامیابی میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مالیاتی نظام کے بارے میں بہترین حکمت عملی اور عمدہ تدابیر شامل تھیں ۔
امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنہ اور حفاظتی اُمُور
حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنْہ کے دور حکومت میں جس طرح اسلام کا پیغام تیزی کے ساتھ پھیل رہا تھا اُسی طرح امن و امان کے قیام اور جان و مال کی حفاظت کا معاملہ بھی بہت ہی اہمیت اختیار کرتا چلا جارہا تھا اسی لیے حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنْہ نے حفاظتی امور کو اتنا مضبوط فرمادیا کہ لوگ بہت ہی سکون و چین کی زندگی گزار رہے تھے۔ چونکہ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنْہ کےدورحکومت میں بحری جنگیں اپنے عروج پر تھیں لہٰذا آپ رَضِیَ اللہ عَنْہ نے اس ضرورت کو محسوس فرماکر بحری جہاز بنانے کے لیے 49 سِنِ ہجری میں کارخانے قائم فرمائے،اس وقت صرف مصر ہی میں یہ کارخانہ موجود تھا اس کے بعد اردن کے مقام ”عکا “میں ایک کا رخانہ قائم کیا گیا جس میں اس شعبے سے تعلق رکھنے والے تمام کاریگر وں کو جمع کردیا گیا اور ساحل پر ہی ان کی رہائش وغیر ہ کا انتظا م کردیا گیا تاکہ بحری جہاز بنانے کے اہم کام میں خلل واقع نہ ہو ۔¹¹
حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنْہ نے حضرت عبداللہ بن قیس الکندی رَضِیَ اللہ عَنْہ کو بحری غزوات پر امیرمقرر فرمایا تھا،آپ رَضِیَ اللہ عَنہ پچاس بحری غزوات میں شریک ہوئے اور ان تمام جنگوں میں ایک مسلمان کا بھی جانی نقصان نہیں ہوا۔¹² یوں آپ رَضِیَ اللہ عنہ کے مبارک دور میں دفاعی نظام نہایت مضبو ط رہا۔ آپ رَضِیَ اللہ عَنہ کی انہی بہترین تدابیر اور حکمت عملیوں کی بناء پر تمام ریاست داخلی اور خارجی خطرات سے محفوظ رہی اور یوں فتوحات کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا ۔
امیر معاویہ کے دور میں پیغام رسانی کا نظام
جس طرح عہدِ فاروقی میں پیغام رسانی کا نظام (Communication System) نہایت مضبو ط تھا اور بروقت اطلاع کے ذریعے ہر جگہ کے احوال سے آگاہی حاصل ہوجاتی تھی،پھر حضرت سیّدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس نظا م کو اتنامضبو ط ترین بنا دیا تھا کہ بارہ میل کے فاصلے پر ایک چوکی قائم فرمادی جس میں” البرید “کے نام سے ایک مستقل شعبہ قائم تھا۔ اس چوکی میں ہر وقت ایک تیز رفتاراور تازہ دم گھوڑا موجود رہتا جب قاصد کا گھوڑا تھک جاتا تو وہ اُس چوکی سے گھوڑا تبدیل کرلیتا، یوں کم وقت میں بہت جلدی پیغام پہنچ جایا کرتا تھا۔اس طرح آپ رَضِیَ اللّٰہ عَنہ دور دراز علاقوں پر مقرر گورنروں کو احکامات بھی پہنچاتے اور وہاں کے حالات سے بھی بھرپور آگا ہی حاصل فرمایا کرتے۔¹³
خطوط پر مہر اور نقل محفوظ رکھنےکا نظام رائج فرمایا۔
حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنہ نے مکتوبات پر مہر لگانے کا طریقہ بھی رائج فرمایا اس کا سبب یہ بنا کہ آپ رَضِیَ اللہ عَنْہ نےایک شخص کے لیے ایک لاکھ درہم بیت المال سے دینے کا حکم تحریر فرمایا لیکن اس شخص نے تصرف کرکے اسے ایک لاکھ کے بجائے دو لاکھ کردیا ، جب اس خیانت کا علم حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنہ کو ہوا تو آپ نے اس شخص کا محاسبہ فرمایا پھر اس کے بعد خطوط پر مہر لگا نے کا نظام نافذ فرمادیا۔¹⁴ اس کے علاوہ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنْہ نے خطوط کی نقل محفوظ رکھنے کا بھی اہتمام فرمایا ۔¹⁵ حضرت ہرم بن حبان رَحمۃ اللہ عَلیہ کا انتقال حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہ عَنہ کےدورِ خلافت میں ہوا۔آپ رَحْمَۃ اللہِ عَلیہ کی تدفین کے بعدآپ کی قبر مبارک پر ایک بادل آگیا اور اسی وقت آپ کی قبر پر گھاس اُگ گئی۔
حوالہ جات
1 التراتیب الاداریۃ ، باب فی من یضرب بہ المثل ۔۔۔ الخ ، باب فیمن عرف بالدھاء ۔۔ الخ ۲ / ۴۶۸
2 تاریخ ابن عساکر ، عبدالرحم ٰ ن بن عبید ۔۔۔الخ ، ۳۵ / ۹۴ملخصاً
3 التراتیب الاداریۃ ، القسم الاول فی الخلافۃ و الوزارۃ ۔۔۔ الخ ، البواب ،۱ / ۱۵۱
4 البدایۃ والنھایۃ ، سنة تسع وخمسين ، ۵ / ۵۹۳
5 الکامل فی التاریخ ، سنۃ ستین ، ذکر بعض سیرتہ و اخبارہ ۔۔الخ،۳ / ۳۷۲
6 التراتیب الاداریۃ ، القسم الرابع فی العملیات ۔۔ الخ ، ھل کا نوا یجرون علی المساجین ارزاقا ،۱ / ۴۶۹مختصراً
7 تاریخ ابن عساکر ، باب ما نقل ۔۔۔الخ ،۱ / ۲۵۳
8 فتوح البلدان ، امرالبطائح ،ص۴۱۱
9 معجم البلدان ، حرف المیم ،۴ / ۲۷۸
10 المواعظ والاعتبار للمقريزی ، ذکر ما عملہ المسلمون ۔۔۔ الخ ،۱ / ۲۳۰
11 فتوح البلدان ، امرالاردن ،ص۱۶۱
12 الاصابۃ ، عبداللہ بن قیس الکندی ،۵ / ۷۴
13 الا ٓ داب السلطا نیۃ للفخری ، معاویۃ امیر المومنین ، کلام فی معنی البرید ،ص۱۰۶
14 تاریخ الخلفاء ، معاویۃ بن ابی سفیان ،ص۱۶۰
15 تاریخ یعقوبی ، وفاۃ الحسن بن علی ،۲ / ۲۷۶
16 البدایۃ و النھایۃ ، سنۃ ست و اربعین ، سراقۃ بن کعب ۔۔ الخ ،۵ / ۵۱۷ مذکورہ بالا مضمون کے لئے دعوت اسلامی کی کتاب فیضان امیر معاویہ سے مدد لی گئی۔



تبصرہ لکھیے