ہوم << چند تاریخی حقائق اور مولانا عبد الحامد بدایونی – عرفان علی عزیز
600x314

چند تاریخی حقائق اور مولانا عبد الحامد بدایونی – عرفان علی عزیز

تحریک پاکستان کا نام آتے ہی بعض لوگ بے خبری کی وجہ سے اور بعض تجاہلِ عارفانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے علماء یا دینی طبقہ پر بے تحاشا برستے اور انہیں کوسنا شروع کر دیتے ہیں ۔ گویا دینی حلقوں کے سارے طبقے ، پاکستان کے شدید ترین مخالف تھے اور پاکستان بنایا ہے تو صرف جاگیرداروں، چند سرمایہ داروں، بیورو کریسی کے افسروں یا سَروں اورخان بہادروں نے۔

انہیں مولانا حسرت موہانی کی تاریخی جدو جہد اور چکی کی مشقت نظر آتی ہے نہ مولانا عبدالباری فرنگی محلی کی جان و مال کی قربانیاں اور پاکستان کے لئے رات دن ایک کر دینا، وہ بہادر یار جنگ کی شعلہ بیان اور معجزانہ خطابت کو کوئی وزن دیتے ہیں اور نہ سرحد میں پیر مانکی شریف اور پیرزکوڑی شریف کی خدمات کو کسی کھاتے میں ڈالتے ہیں، وہ اس تاریخی حقیقت کو بھی فراموش کر دینا اور تاریخ کے صفحات سے محو کر دینا چاہتے ہیں کہ برعظیم میں سواد اعظم کے رہنماؤں نے 1925ء سے 1946ء تک آل انڈیا سنی کانفرنس کے نام سے متحدہ ہندوستان کے کونے کونے میں فقید المثال اجتماعات منعقد کر کے کھلے عام پاکستان کو ایک پُر جوش عوامی مطالبے کی صورت دی، انہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ قرآن مجید کے مفسر اور نامور عالم دین صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی نے ایک بہت بڑی کانفرنس میں یہ تاریخی جملہ کہا کہ اب اگرقائداعظم محمدعلی جناح بھی خدانخواستہ کسی وجہ سے پاکستان کے مطالبہ سے دست بردار ہوجائیں تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور پاکستان بنا کر دم لیں گے ۔

جو نہ سننا چاہے اُسے کون سنا سکتا ہے کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جب انگریز نے مسلم لیگ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ کسی ایک صوبے کی اسمبلی سے پاکستان کے حق میں قرار داد منظور کرائے تو سندھ میں یہ پیر عبدالرحمن بھرچونڈی شریف ہی تھے جنہوں نے رات دن ایک کر کے اپنے مریدین کانگریسی ممبر ان سندھ اسمبلی سے بھی پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالوا کر قرار داد منظور کرائی اور جب تک یہ قرار داد منظور نہ ہوئی انہوں نے خواب وخور کی پروا تک نہ کی ۔ ہمیں تسلیم ہے کہ علماء کے ایک طبقہ نے قیام پاکستان کی مخالفت کی مگر مسلمانانِ ہندوستان نے انہیں مسترد کر کے انہی زعما کی پیروی کی جنہیں وہ عقائد ونظریات کے بارے میں اپنا اصلی اور حقیقی رہنما سمجھتے تھے، چوں کہ قیام پاکستان کے فورا بعد قائد اعظم انتقال کر گئے اور تاریخ کا قلم ان لوگوں کے ہاتھ آ گیا جو مذہب کے نام سے الرجک تھے ۔ چناں چہ انہوں نے ایسے تمام لوگوں کو کہ جن کے دم قدم سے تحریک پاکستان کامیابی سے ہم کنار ہوئی پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا، اور بتدریج تحریک پاکستان کے اسباب ، مقاصد اور مضمرات سے بے خبر لوگوں کو اُبھار نے لگے، یہ شترِ بے مہار قسم کے لوگ پرلے درجہ کے مفاد پرست ، لالچی ، جاہ و منصب کو سب کچھ سمجھنے والے اور بد کردار تھے ۔ صورت حال یہ ہو گئی ۔

نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

پاکستان کی تاریخ کسی طور مکمل نہیں کہلائے گی اگر اس میں لسانِ پاکستان مولاناعبد الحامد بدایونی کی مجاہدانہ جدوجہد کا تذکرہ شامل نہ ہو، مولانا بدایونی اگر کسی زندہ قوموں میں ہوتے تو ملکی سطح پر ان کی یادگاریں قائم ہوتیں، ان پر کتابیں لکھی جائیں ۔پاکستان کے محسنوں میں سرفہرست ان کا نام ہوتا مگر اے بسا آرزو کہ خاک شده !
اس وقت میرے سامنے مولانا بدایونی کا وہ خطبہ صدارت ہے جو انہوں نے ۳۰ گست 1941ء کو رائے کوٹ ضلع لدھیانہ کی پاکستان کانفرنس میں پڑھا۔¹ جن لوگوں نے مولانا بدایونی کی تقریریں سنی ہیں وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فصاحت و بلاغت کے پیغمبری ورثے سے پوری طرح نواز ا تھا، ان کی آواز میں بلا کی دلکشی ، خصوصی لوچ اور مٹھاس تھی ، وہ جب شائستہ، شستہ، گداختہ اور نستعلیق زبان میں گفتگو کرتے تو دل چاہتا کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی ۔ وہ اپنے سر وقد ، مونی صورت اور اسلامی حلیہ وسیرت کے ساتھ اسٹیج پر آتے ، تو قلب و نظر کو شکار کر لیتے۔ تحریک پاکستان کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لئے کیسے کیسے لوگوں نے اپنی زندگیاں صرف کر دیں۔

یہ خطبہ صدارت پڑھ کر مولانا بدایونی کی سیاسی بصیرت ، اُس وقت کے حالات و واقعات پر ان کی گہری نظر اور مخالفین پاکستان کے بارے میں حکمت و موعظت کا جذبہ واضح طور پر نظر آتا ہے یہ باتیں معمولی نہیں ہیں ۔ یہ ایک حقیقی راہنما کے اوصاف ہیں جو قدرت ہر کسی کو نہیں عطا کرتی ۔ آج پاکستان کے اسباب اور محرکات کے بارے میں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں گویا،
می شد پریشان خواب من از کثرت تعبیر ہا!

ظاہر ہے کہ قائد اعظم محمد علی اور اُن کے دوش بدوش چلنے والے قافلے کے معتمد اور سرکردہ افراد سے بڑھ کر اور کے حق پہونچتا ہے کہ وہ قیام پاکستان کے اسباب اور محرکات کی من مانی اور خود ایجاد کردہ توجیہات پیش کرتا ہے۔ صاف اور سیدھی بات ہے کہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی مملکت بننے کے لئے وجود میں آیا تھا جہاں کتاب وسنت کے مطابق ایک منصفانہ عادلا نہ حکومت قائم ہو جو دنیائے اسلام کے ممالک کے لئے رول ماڈل کا کام کرے۔ اگر خدانخواستہ اسے عملاً یا اعلانیہ سیکولر حکومت بننا تھا تو پھر متحدہ ہندوستان کی سیکولر حکومت میں نماز ، روزے یا عبادت سے کس نے مسلمانوں کو روکا تھا؟ پھر کیا پاکستان صرف کچھ افراد اور اداروں کو نوازنے کے لئے بنایا جارہا تھا؟ اگر قائد اعظم محمدعلی جناح اسلام کی نہیں صرف ایسے مسلمانوں کی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے جو اسلام کے بارے میں معذرت خواہانہ فکر مشکوک ذہن یا جہالت کی حد تو پھر مانا کا تک اسلام سے ناواقف اور متوحش تھے تو پھر اتنا پڑے گاکہ اسلام اسلام ک لفظ ہر جگہ انہوں نے محض دکھاوے کے لئے استعمال کیا تا کہ وہ عام مسلمانو کی ہمدردیاں سمیٹ سکیں ۔

بات کے آں کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں اپنے تو اپنے پرائے بھی اس بات ہیں کہ وہ دور بلند اور اکل کھرے انسان تھے۔ اگر مولانا بدایونی ، مولانا عبد الباری فرنگی محلی² ، مولانا حسرت موہانی³، مولانا ظفر علی خاں⁴، مولوی محرم علی چشتی⁵ ، مولانا عبدالستار خان نیازی⁶ یا مشائخ صوفیہ کو کسی مرحلے پر ذرہ بھر بھی اس بات کا احساس ہوتا کہ اسلام کا نعرہ محض دکھاوے کے لئے ہے تو یہ پر جوش اور مخلص مسلمان زعماء ایک قدم بھی قائد اعظم کے ساتھ چلنے کے لئے تیار نہ ہوتے اور جہاں بھی انہیں یہ احساس ہوتا وہیں سے پیچھے ہٹ جاتے۔ مولانا بدایونی پاکستان کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے خطبے میں فرماتے ہیں۔

”ہمارے سامنے صرف چند ملازمتوں یا عہدہ جات کا ہی سوال نہیں ہے بلکہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ مغربی جمہوریت اور اس کی تعلیم نے ہم مسلمانوں کو اپنی اصل منزل سے بہت دور کر دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپنے آزاد منطقوں میں جہاں ہماری اکثریت ہو، اسلامی قوانین کے ما تحت حکومت الہیہ قائم کریں، جس میں عدل وانصاف کارفرما ہو۔ جہاں اپنے مسلمانوں کے لئے ایسے قوانین نافذ کئے جائیں جو قرآنی ارشادات کے مطابق ہوں، وہیں جو غیر مسلم اقلیت ہمارے صوبوں میں آباد ہو، اس کو ترقی کا پورا موقع دیں۔ جب ہمارا کلچر ، ہماری تہذیب اقوام مغرب اور اصنام پرستوں سے مختلف ، ہمارے مذہبی احکام دوسرے مذاہب سے علیحدہ طریقہ زندگی ، موت وحیات کے معمولات میں فرق اور سب سے بڑی چیز یہ کہ تصویر الوہیت میں دوسروں سے اشتراک نہیں مجھے ان حضرات کی حالت پر حد درجہ افسوس ہوتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اسلامی حکومت کا درمیان میں نام نہ آنے پائے۔“

یوں قائد اعظم محمد علی جناح نے بار بار کھل کر وضاحت کی ہے کہ پاکستان کا نظام حکومت کس قسم کا ہوگا میں یہاں پر بطور خاص اُن کے اس بیان کا حوالہ دینا چاہوں گا جو 1941ء میں حیدر آباد دکن کی عثمانیہ یونیورسٹی میں طلبہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دیا۔ اورینٹ پریس کے نمایندے نے اس کی رپورٹ مرتب کی اس کے مطابق قائد اعظم سے پوچھا گیا کہ اسلامی حکومت کے تصور کی امتیازی خصوصیت کیا ہے انہوں نے کہا ،” اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز (ہمیشہ) پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور وفا کیشی کا مرجع خدا کی ذات ہے جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن مجید کے احکام اور اصول ہیں، اسلام میں اصلاً نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ پارلیمان کی ، نہ کسی شخص یا ادارے کی۔ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کے حدود متعین کر سکتے ہیں ، اسلامی حکومت دوسرے الفاظ میں قرآنی اصول اور احکام کی حکمرانی ہے اور حکمرانی کے لئے لا محالہ آپ کو علاقہ اور مملکت کی ضرورت ہے ۔

کیا اسلام کے آئین جہانبانی اور اصول حکمرانی کی اس سے بہتر توضیح ممکن ہے؟ اسی طرح آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ دہلی 22اپریل 1943ء کو قائداعظم نے کہا۔”معاشی احیاء ہو یا سیاسی آزادی اسے آخر الامر زندگی کے کسی گہرے یا مفہوم پر مبنی ہونا چاہئے اور مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ ہمارےنزدیک زندگی کا وہ گہرا مفہوم اسلام اور روح اسلام ہے ۔“ تاریخ کا عمیق مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ پاکستان کی تحریک اور اس کے قیام میں خود ہندوؤں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ آزادی کی منزل قریب آنے لگی تو ہندوؤں نے مسلمانوں کے ساتھ روایتی تعصب ، عناد اور بعض کے رویے میں مبالغہ آمیز حد تک شدت اختیار کر لی گاندھی نے واضح طور پر کہا۔

”میں اپنے آپ کو سناتی ہندو کہتا ہوں کیوں کہ میں ویدوں ، اپنشدوں، پرانوں اور ہندوؤں کی تمام مذہبی کتابوں کو مانتا ہوں اوتاروں کا قائل ہوں اور تناسخ کے عقیدہ پر یقین رکھتا ہوں، میں گنور کھشا کو اپنے مذہب کا جزو سمجھتا ہوں اور بت پرستی سے انکار نہیں کرتا، میرے جسم کا رواں رواں ہندو ہے⁷ ۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا۔ جس چیز کو مذہب یا منظم مذہب کہتے ہیں اُسے ہندوستان میں اور دوسری جگہ دیکھ دیکھ کر میرا دل ہیبت زدہ ہو گیا ہے۔ میں نے اکثر مذہب کی مذمت کی ہے اور اسے یکسر مٹا دینے تک کی آرزو کی ہے ۔ قریب قریب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اندھے یقین اور ترقی کا دشمن بے دلیل عقیدت اور تعصب کا، تو ہم پرستی اور لوگوں سے بے جا فائدہ اٹھانے کا ، قائم شدہ حقوق اور مستقل حقوق کی بقا کا حمایتی ہے۔⁸ ہندو دھرم کی اسی خطرناک اور دور کی پالیسی نے سلم قومیت کے تشخص کو ابھارا اور اسے تقویت بخشی ، علامہ اقبال نے فرمایا:

نگہ دارد برهمن کار خود را
نمی گوید بہ کسی اسرار خود را
بمن گوید کہ از تسبیح بگذر
بدوش خود برد زنار خود را!

یہ عجیب اتفاق ہے کہ کچھ لوگوں نے اعتقادی مسائل کی طرح سیاسی معاملات میں بھی مسلمانوں کی واضح اکثریت کے برخلاف طرز عمل اختیار کرتے ہوئے پاکستان کی کھل کر مخالفت کی اگرچہ مسلمانوں نے من حیث القوم اس انداز فکر کورد کر دیا۔ جب ایسے لوگوں نے گاندھی جی کو مسجد خیر الدین امرتسر میں منبر پر بٹھایا تو فاضل بریلوی شیخ اٹھے اور انہوں نے کہا۔ جب ہندوؤں کی غلامی ٹھہری پھر کہاں کی غیرت اور کہاں کی خود داری وہ تمہیں مچھ ( ملیچھ ) جانیں، بھنگی مانیں تمہارا پاک ہاتھ جس چیز کو لگ جائے گندی ہو جائے ، سودا بیچیں تو دور سے ہاتھ میں ڈال دیں ۔ حال آں کہ بحکم قرآن خود وہی نجس ہیں اور تم ان نجسوں کو مقدس مطہر بیت اللہ میں لے جاؤ مگر تم کو اسلامی حسن ہی نہ رہا، محبت مشرکین نے اندھا بہرا کر دیا۔⁹سواد اعظم کا یہی وہ قافلہ تھا جس نے 1858ء میں پھانسی کے پھندوں اور خون کے نذرانوں سے تحریک آزادی کی بنیاد رکھی ، ان پر آشوب حالات میں اس قافلے کے رہنماؤں نے علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کو اپنی ترجمانی کے لئے منتخب کیا اور خود ان کی بڑی اکثریت مسلم لیگ کے پر جوش ، مستعد اور تازہ دم در کروں اور مبلغین کی صورت میں ہندوستان بھر میں پھیل گئی۔

مولانا بدایونی نے دوسرے علمائے حق کی طرح قیام پاکستان کے بعد بھی اس کی اساس اور بنیادی نظریئے کی شمع فروزاں رکھنے اور اس کی روشنی میں مملکت خداداد کو ایک اسلامی جمہوری ریاست کے طور پر پھلتے پھولتے دیکھنے کی شدید آرزو کو بھی مدھم ہونے نہیں دیا۔ جمعیت العلمائے پاکستان کے پلیٹ فارم سے ان کی جہد مسلسل اورعظیم خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔علامہ بدایونی کی نگاہ بصیرت پاکستان کے پڑوس میں واقع محکوم وسطی ایشیائی اسلامی ریاستوں اور اُبھرتی ہوئی عظیم قوت چین کے ساتھ تعلقات کی اہمیت و افادیت کو خوب جانچ چکی تھی۔ چنانچہ انہوں نے 1958ء میں علماء کے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے روس کے زیر نگیں مسلم ریاستوں کا مفید اور کامیاب دورہ کیا اور آزاد دنیا کو سوویت یونین کے مسلمانوں کے حالات سے آگاہ کیا۔ اس سے قبل 1970ء میں انہوں نے ایسا ہی ایک وفد لے کر کمیونسٹ چین کا دورہ کیا تھا اور وہاں کے مسلمانوں سے رابطہ قائم کیا۔ خاص طور سے صوبہ سنگیانگ کے مسلمانوں سے قریبی تعلق نے پاکستان اور چین کے درمیان خوشگوار تعلقات کو وسعت اور استحکام کی بنیاد فراہم کی ۔

مولانا مرحوم کی مساعی جمیلہ سے آج نسل نو اگر پوری طرح آگاہ نہیں تو اس کے ذمہ دار جمعیت العلمائے پاکستان اور مسلم لیگ کے قائدین کے ساتھ ساتھ ستی اہل قلم بھی ہیں کہ ان کے تساہل اور چشم پوشی کی بدولت آج تحریک پاکستان کے بدترین مخالف ہیرو بنا دیئے گئے ہیں اور آزادی کے چراغ جن کے لہو سے روشن ہوئے وہ طاق نسیان کے سپرد کر دیئے گئے ۔ حضرت بدایونی (1898ء1970ء) نے زندگی کے آخری تئیس برس پاکستان کو اس کے نظریہ سے ہم آہنگ بنانے کے لیے طویل جد و جہد کی اور تادم جد واپسیں اس سعی جمیل میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ آج ہم ان کے زیر نظر خطبہ صدارت¹⁰ اور اُن کے آخری ایام کے خطابات کا موازنہ کرتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ پیرانہ سالی میں بھی ان کا ایمان ان کا جذبہ ان کا عزم 1941 کی طرح ہی پوری طرح توانا اور جوان تھا ۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا ¹¹

1. اقتباس خطبہ 1941ء
مولانا عبد الحامد بدایونی رحمۃ اللہ نے 1941ء میں خطبہ صدارت برائے پاکستان رائے کوٹ ضلع لدھیانہ 30 اگست کو دیا۔ جس چند اقتباسات درج ذیل ہیں :

مسلمان ملت اسلامیہ کی تعمیر اور تنظیم میں اشتراک عمل میں نمایاں کردار ادا کریں ۔تقسیم بنگال پر لارڈ کرزن پر نکتہ چینی فرمائی ۔
مسجد کانپور کے المناک حادثے پر مسلمانوں کے جذبات کا خیر مقدم ۔
کانگریس گاندھی شدھی اور سنگھٹن تحاریک پر نکتہ چینی اور مسلمانوں کو دورچل رہنے کی اپیل۔
تقسیمِ ہند یا پاکستان کی آزادی کے لیے چند نکات پیش کیے ۔ پاکستان یا اسلامی ریاست اس پر تفصیلی بحث فرمائی۔نظریہ پاکستان کی حمایت: انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے مطالبے کی بھرپور تائید کی اور اسے اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا۔

مسلمانوں کا اتحاد: خطبے میں برصغیر کے مسلمانوں کو فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر مسلم لیگ کے پرچم تلے متحد ہونے کی تلقین کی گئی۔
مذہبی و سیاسی نظریہ: انہوں نے واضح کیا کہ مسلمانوں کی سیاست ان کے دین سے الگ نہیں ہے، اور پاکستان کا قیام محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ اسلامی نظام کے نفاذ کی جانب پہلا قدم ہے۔
برطانوی استعمار اور کانگریس کی مخالفت: آپ نے کانگریس کی پالیسیوں کو مسلمانوں کے مفادات کے خلاف قرار دیا اور برطانوی حکومت کو متنبہ کیا کہ مسلمانوں کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

2. مولانا عبد الباری فرنگی محلی، آپ تحریکِ خلافت کے ممتاز رہنما اور علمی و دینی شخصیت تھے جنہوں نے برصغیر میں برطانوی استعمار کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔1875ء 1926ء
3. مولانا حسرت موہانی، آپ ایک نامور سیاستدان، تحریک آزادی کے مجاہد، اور اردو کے ممتاز غزل گو شاعر تھے جنہوں نے “انقلاب زندہ باد” کا نعرہ مقبول عام بنایا۔ 1875ء 1951ء
4. مولانا ظفر علی خان، آپ ایک بے باک صحافی، شعلہ بیان مقرر اور تحریک آزادی کے سرگرم کارکن تھے، جنہیں “اردو صحافت کا بابائے آدم” کہا جاتا ہے۔
1883ء1956ء
5. محرم علی چشتی، آپ ایک نڈر صحافی اور ادیب تھے جنہوں نے “زمیندار” اخبار کی ادارت میں نمایاں کردار ادا کیا اور اپنی تحریروں کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کو بیدار کیا۔1893ء1946ء

6. علامہ عبد الستار خان نیازی، آپ پاکستان کے ایک معروف مذہبی و سیاسی رہنما تھے جو تحریکِ ختمِ نبوت میں اپنے جرات مندانہ کردار کے لیے خاص شہرت رکھتے ہیں۔1915ء2001ء
7. ینگ انڈیا ۱۲ راکتو بر ۱۹۳۱ء بحوالہ ماہنامہ طلوع اسلام مارچ١٩٦٩ء
8. بحوالہ ماہنامہ، طلوع اسلام، جون ۱۹۳۸ ، ص ۴۹ ۵۰، میری کہانی ص ۱۹۶۱) ہندو
9.(المحجة المؤتمنہ : ۸۴)
10. دیکھیئے حاشیہ نمبر ایک اقتباس خطبہ 1941ء
11. سید محمد فاروق قادری سجادہ نشین آستانہ عالیہ قادریہ گڑھی اختیار خان 2005ء تحریک پاکستان میں مولانا عبد الحامد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ کے کردار کی ایک جھلک ۔ ادارہ پاکستان شناسی لاہور دسمبر 2005

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عرفان علی عزیز

عرفان علی عزیز بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ افسانہ و ناول نگاری اور شاعری سے شغف ہے۔ ترجمہ نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد میں افسانے اور جاسوسی کہانیاں ناول شائع ہوتے ہیں۔ سیرت سید الانبیاء ﷺ پر سید البشر خیر البشر، انوکھا پتھر، ستارہ داؤدی کی تلاش نامی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ شاعری پر مشتمل کتاب زیرطبع ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment