امت الرقیب آپا کی یاد میں
مجھے پتہ ہی نہیں کہ کہاں سے شروع کروں اور کہاں ختم کروں۔ مسلسل یہی لگتا ہے کہ وہ گئی ہی نہیں ہیں۔ گزرے ہوئے ایک ایک لمحے کی یاد میرے سامنے آتی ہے، مگر دل یہ ماننے کو تیار نہیں کہ امت الرقیب آپا اب ہمارے درمیان نہیں رہیں.
بخدا!
ابھی تک یقین نہیں آتا کہ وہ چلی گئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ ابھی کسی لمحے فون کریں گی، اپنی مخصوص آواز میں بات کریں گی، کوئی نئی بات بتائیں گی، کسی کام کے بارے میں مشورہ دیں گی یا پھر اچانک کوئی ایسی بات کہہ دیں گی جس پر ہم دونوں بے اختیار ہنس پڑیں گی۔ شاید یہی محبت کی عجیب سی کیفیت ہے کہ انسان جانتا ہے کہ سامنے والا دنیا میں نہیں رہا، مگر دل اسے ماننے سے انکار کرتا رہتا ہے۔ امت آپا کے ساتھ میری رفاقت صرف کام کی رفاقت نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا تعلق تھا جس میں وقت کے ساتھ بہت سے رنگ شامل ہوتے گئے۔ ہم نے ایک ساتھ کام کیا، ایک دوسرے کے ساتھ سفر کیے، بہت سے شہروں میں گئیں، جامعات کے مسائل دیکھے، کارکنان سے ملیں، تربیتی پروگراموں میں شریک ہوئیں۔ کبھی کام کی سنجیدگی ہوتی، کبھی سفر کی تھکن، کبھی کوئی مشکل پیش آ جاتی اور کبھی کوئی ایسی چھوٹی سی بات ہو جاتی جسے یاد کر کے آج بھی ہنسی آتی ہے۔
اور یہی تو ہماری رفاقت کی خوب صورتی تھی۔ ہم نے صرف کام نہیں کیا، ہم نے زندگی بھی ساتھ گزاری۔ امتل آپا کے ساتھ مجھے سب سے زیادہ جو چیز یاد آتی ہے، وہ ان کی شخصیت کی وہ گرم جوشی ہے جو سامنے والے کو فوراً اپنا بنا لیتی تھی۔ وہ جس سے ملتی تھیں، اس سے تعلق قائم کر لیتی تھیں۔ ان کے اندر لوگوں کو جوڑنے کی ایک عجیب صلاحیت تھی۔ وہ صرف ایک ذمہ دار نہیں تھیں۔ وہ ایک مربیہ تھیں۔ ایک منتظم تھیں۔ ایک رہنما تھیں۔ اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی انسان تھیں جو دوسروں کے دکھ، ضرورت اور احساس کو سمجھتی تھیں۔ ہماری تنظیمی زندگی میں بہت سے سفر آئے اور گزر گئے، مگر کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی یادوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں۔
سنجھورو کا سفر بھی ایسا ہی تھا۔ آج بھی یاد آتا ہے تو ایک ساتھ کئی تصویریں ذہن میں ابھرنے لگتی ہیں۔ سفر کی مصروفیت، راستے کی باتیں، لوگوں سے ملاقاتیں، کام کی ذمہ داریاں اور پھر وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جو اس سفر کو ہمارے لیے یادگار بنا گئیں۔ دیسی گھی اور انڈوں کا واقعہ بھی مجھے نہیں بھولتا۔ ہم راستے میں جگہ جگہ رکتے تھے لمبے سفر کے دوران ہم نے کچھ ہوٹل طے کر لیے تھے ناشتے، کھانے کے لیے میں گھر سے دیسی گھی اور دیسی انڈے لے جاتی تھی اور ہوٹل والا اسے بنا کے لاتا تو وہ اتنا خوش ہوتیں نہال ہو جاتیں کہ تم میرا کتنا خیال رکھتی ہو پھر یہ میں نے معمول بنا لیا تھا۔ بظاہر یہ کتنی معمولی بات ہے! لیکن زندگی میں بعض چیزیں اپنی اصل اہمیت اس وقت ظاہر کرتی ہیں جب وہ یاد بن جاتی ہیں۔ آج وہ دیسی گھی کی بوتل اور انڈے بھی مجھے امتل آپا کی یاد دلاتے ہیں۔
پھر خانپور کے مالٹے!
آج بھی کبھی خانپور کے مالٹوں کا ذکر آتا ہے تو امت آپا فوراً یاد آ جاتی ہیں۔ مجھے فروٹس بہت پسند ہیں میں ناشتے میں خانپور سے منگائے ہوئے مالٹے کھایا کرتی تھی۔ ایک بار میں نے انھیں دیے وہ بہت خوش ہوئیں پھر اس کے بعد یہ بھی معمول میں شامل ہو گیا۔ کچھ لوگ ہماری زندگی سے اس طرح جڑ جاتے ہیں کہ پھر شہر، راستے، کھانے، موسم، حتیٰ کہ معمولی چیزیں بھی ان کی یاد بن جاتی ہیں۔ امتل آپا کے ساتھ سفر میں ایسی بے شمار یادیں بکھری پڑی ہیں۔ وہ سفر کو بھی ایک یادگار بنا دیتی تھیں۔ مجھے کبھی کبھی وہ ’’لیڈی ویلنٹن‘‘ کہتی تھیں۔ اب سوچتی ہوں تو اس لقب پر ہنسی آتی ہے۔ ان کی باتوں میں ایسی بے تکلفی اور اپنائیت تھی کہ ہم کام کے انتہائی سنجیدہ ماحول میں بھی ہنسنے کا کوئی نہ کوئی موقع نکال لیتے تھے۔ آج وہ باتیں یاد آتی ہیں تو دل چاہتا ہے کہ وہ وقت واپس پلٹ آئے۔
کاش ایک بار پھر وہ سامنے بیٹھیں۔وہ پھر مجھے اسی طرح چھیڑیں۔ میں پھر ان کی کسی بات پر ہنسوں۔مگر وقت کبھی واپس نہیں آتا۔اور جو لوگ چلے جاتے ہیں، وہ بھی واپس نہیں آتے۔بس ان کی یادیں رہ جاتی ہیں۔اور کبھی کبھی یہی یادیں انسان کو رونے بھی نہیں دیتیں۔ہماری رفاقت میں سفر کی چھوٹی چھوٹی مشکلات بھی یادگار بن جاتی تھیں۔ کبھی کسی جگہ سہولت نہیں ہوتی، کبھی راستہ مشکل ہوتا، کبھی کسی کی طبیعت کا خیال رکھنا ہوتا۔ سفر میں تو راستے میں کموڈ کا انتظام بھی کئی جگہ کیا وہ خوش ہوئیں ۔ آج یہ واقعہ یاد آتا ہے تو ہنسی بھی آتی ہے اور آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں۔کیونکہ یہ وہ واقعات ہیں جو صرف بہت قریبی لوگ ہی جانتے ہیں۔یہی تو رفاقت ہوتی ہے۔جس میں انسان دوسرے کی بڑی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اس کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کا بھی خیال رکھتا ہے۔
امتل آپا ایسی ہی تھیں۔وہ صرف بڑے کاموں کی ساتھی نہیں تھیں، وہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں میں بھی ساتھ کھڑی ہوتی تھیں۔ہم نے چترال کی جامعہ بھی دیکھی۔وہاں کا سفر، پہاڑ، راستے اور وہاں کام کرنے والی خواتینسب کچھ آج بھی یاد ہے۔ دور دراز علاقوں میں جامعات کا کام آسان نہیں تھا۔ لیکن امتل آپا کے اندر کام کو آگے بڑھانے کا عزم تھا۔وہ جانتی تھیں کہ ایک جامعہ صرف ایک عمارت نہیں ہوتی۔وہ ایک نسل کی تعمیر ہوتی ہے۔وہ ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں لڑکیاں صرف کتابیں نہیں پڑھتیں بلکہ اپنی زندگی کا مقصد سمجھتی ہیں۔امتل آپا نے اس کام کو دل سے کیا۔ملک بھر کی جامعات کے تربیتی پروگراموں میں ان کی شرکت، ان کی دلچسپی اور ان کی محنت دیکھنے والی تھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ کام صرف چلتا نہ رہے بلکہ بہتر سے بہتر ہوتا جائے۔وہ لوگوں کو تیار کرتی تھیں۔لوگوں کو جوڑتی تھیں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ لوگوں پر اعتماد کرتی تھیں۔
ہماری ذمہ داریاں بھی بدلتی رہیں۔کبھی میں ان کی نائب تھی اور کبھی حالات نے ہمیں اس مقام پر پہنچایا کہ وہ میری نائب بن گئیں۔لیکن عہدے بدلنے سے رفاقت نہیں بدلی۔یہی ہمارے تعلق کی سب سے خوب صورت بات تھی۔ہم نے ایک دوسرے کو مختلف ذمہ داریوں میں دیکھا، مگر ایک دوسرے کے لیے دل میں جو احترام اور محبت تھی، وہ کبھی کم نہیں ہوئی۔امتل آپا میرے لیے صرف ایک ساتھی نہیں تھیں۔وہ میری زندگی کے ایک پورے عہد کا حصہ تھیں۔وہ میرے گھر والوں سے محبت کرتی تھیں۔ میرے بچوں کا ذکر کرتیں تو ان کے لہجے میں ایک خاص اپنائیت ہوتی۔ میرے پوتے سے بھی انہیں بہت محبت تھی۔ایسے لوگ جب ہماری زندگی سے چلے جاتے ہیں تو صرف ایک شخص نہیں جاتا۔ان کے ساتھ ہماری زندگی کا ایک پورا زمانہ چلا جاتا ہے۔طارق صاحب کی وفات کے بعد شاید ہماری قربت اور بھی بڑھ گئی تھی۔
دکھ انسان کو انسان کے قریب لے آتا ہے۔ہم دونوں نے زندگی کے اپنے اپنے دکھ دیکھے تھے۔ شاید اسی لیے ایک دوسرے کے دکھ کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے لگی تھیں۔کبھی کبھی الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔صرف کسی کا پاس بیٹھ جانا کافی ہوتا ہے۔صرف یہ احساس کافی ہوتا ہے کہ کوئی ہے جو آپ کے دکھ کو سمجھتا ہے۔امتل آپا میرے لیے ایسا ہی احساس تھیں۔اور اب جب وہ خود چلی گئی ہیں تو ایک عجیب سا خلا محسوس ہوتا ہے۔وہ خلا جو کسی کے آنے سے پُر نہیں ہوتا۔میں سوچتی ہوں، زندگی بھی کتنی عجیب ہے!
ہم ایک دوسرے کے ساتھ سفر کرتے ہیں اور ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کون سا سفر آخری ہے۔ہم کسی سے ملتے ہیں اور یہ سوچ کر واپس آتے ہیں کہ پھر ملاقات ہو گی۔ہم کسی کو رخصت کرتے ہیں اور دل میں یقین ہوتا ہے کہ یہ جدائی عارضی ہے۔مگر کبھی کبھی وہ آخری ملاقات ہی آخری ملاقات ہوتی ہے۔اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا۔امتل آپا کی آخری یادیں بھی میرے دل میں اسی طرح محفوظ ہیں۔میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان سے ہونے والی کوئی ملاقات آخری ہو سکتی ہے۔ کاش ہمیں معلوم ہوتا کہ یہ آخری ملاقات ہے تو شاید ہم کچھ دیر اور بیٹھتے۔
کچھ باتیں اور کر لیتے۔کچھ یادیں اور سمیٹ لیتے۔شاید میں ان کا ہاتھ تھام کر کچھ دیر اور بیٹھتی۔شاید انہیں بتاتی کہ وہ میرے لیے کتنی اہم ہیں۔لیکن زندگی ہمیں یہ موقع نہیں دیتی۔اب میرے پاس صرف یادیں ہیں۔اور یادیں بھی ایسی کہ کبھی دل کو رلا دیتی ہیں اور کبھی ہنسا دیتی ہیں۔پھر بھی ان کی باتیں یاد کر کے ہنستی ہوں۔کبھی ان کا کوئی جملہ یاد آ جاتا ہے۔کبھی ان کی آواز۔کبھی ان کی ہنسی۔کبھی کسی سفر کی کوئی بات۔کبھی سنجھورو کا رستہ، دیسی گھی اور انڈے۔کبھی خانپور کے مالٹے۔کبھی ’’لیڈی ویلنٹن‘‘ کا لقب۔کبھی راستے میں کموڈ کے انتظام کی وہ یاد۔اور میں سوچتی ہوں کہ شاید وہ گئی ہی نہیں ہیں۔شاید وہ میرے ساتھ ساتھ ہیں۔محبت کا یہی تو کمال ہے۔موت انسان کو ہم سے چھین لیتی ہے، مگر محبت نہیں چھین سکتی۔جسم چلا جاتا ہے، آواز خاموش ہو جاتی ہے، مگر یادیں زندہ رہتی ہیں۔
اور بعض لوگ اپنی زندگی میں اتنی محبت بانٹ جاتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد بھی وہ محبت ہمارے اندر زندہ رہتی ہے۔امت آپا بھی ایسی ہی تھیں۔انہوں نے اپنی زندگی صرف اپنے لیے نہیں گزاری۔انہوں نے لوگوں کو وقت دیا۔لوگوں کو محبت دی۔لوگوں کو تربیت دی۔ان کے اندر مقصد پیدا کیا۔اور جامعات کی صورت میں ایک ایسا کام چھوڑ گئیں جس کے اثرات ان کے بعد بھی جاری رہیں گے۔آج جب میں ان کے بارے میں سوچتی ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ایک انسان کی اصل زندگی اس کے جانے کے بعد شروع ہوتی ہے۔جب لوگ اسے یاد کرتے ہیں۔جب اس کے کام کا ذکر ہوتا ہے۔جب اس کے تربیت یافتہ لوگ آگے بڑھتے ہیں۔جب اس کی محنت کسی اور کی زندگی بدلتی ہے۔امتل آپا کی زندگی بھی ایسی ہی زندگی تھی۔وہ چلی گئی ہیں، مگر ان کا کام باقی ہے۔ان کی محبت باقی ہے۔ان کی تربیت باقی ہے۔ان کی یاد باقی ہے۔اور ان کی دعاؤں کے اثرات شاید ہماری زندگیوں میں ہمیشہ باقی رہیں گے۔
آپا!
آپ کے جانے کا دکھ بہت گہرا ہے۔دل اب بھی ماننے کو تیار نہیں کہ آپ نہیں ہیں۔مگر شاید یہ بھی محبت کی ایک شکل ہے کہ دل آپ کی جدائی کو قبول نہیں کر رہا۔میں جب آپ کو یاد کرتی ہوں تو صرف روتی نہیں۔میں مسکراتی بھی ہوں۔آپ کی باتیں یاد کر کے ہنستی ہوں۔آپ کے ساتھ گزارے ہوئے سفر یاد آتے ہیں تو دل میں ایک عجیب سی روشنی پھیل جاتی ہے۔اور پھر مجھے لگتا ہے آپ کہیں گئی ہی نہیں ہیں۔آپ میرے ساتھ ساتھ ہیں۔کسی سڑک پر چلتے ہوئے۔کسی سفر کی یاد میں۔کسی جامعہ کے صحن میں کسی تربیتی پروگرام کی گفتگو میں۔کسی بچی کی آنکھوں میں جو اپنے مستقبل کا خواب دیکھ رہی ہو۔اور کبھی کبھی بالکل میرے پاس۔اپنی اسی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ۔
شاید آپ مجھے دیکھ کر کہہ رہی ہوں:
’’ارے! اتنا کیوں رو رہی ہو؟‘‘
اور میں آپ سے کہہ رہی ہوں:
’’آپا! آپ کے بغیر دل کیسے مانے کہ آپ چلی گئی ہیں؟‘‘
لیکن پھر دل کو یہ تسلی بھی ہے کہ موت اختتام نہیں۔یہ ایک سفر ہے۔اور ہم سب مسافر ہیں۔آج آپ آگے چلی گئی ہیں۔کل ہمیں بھی اسی راستے پر جانا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایمان کے ساتھ اپنے پاس بلائے اور آپ سے جنت میں دوبارہ ملا دے۔
یا اللہ!
امت الرقیب آپا کی مغفرت فرما۔ان کی لغزشوں سے درگزر فرما۔ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔ان کے درجات بلند فرما۔ان کی تمام دینی، تعلیمی اور تنظیمی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے۔انہوں نے جن بچیوں اور خواتین کی زندگیوں کو سنوارنے کے لیے اپنی زندگی صرف کی، ان کی ہر نیکی کا اجر ان کے نامۂ اعمال میں جاری فرما۔
یا اللہ!
ان کی محبت کو ان کے لیے رحمت بنا دے۔ان کی محنت کو ان کے لیے نجات کا ذریعہ بنا دے۔اور ہمیں ان کے لیے صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق دے۔
آپا!
آپ دنیا سے رخصت ہو گئی ہیں۔
مگر میری یادوں سے نہیں گئی ہیں۔
آپ کی آواز اب بھی میرے ساتھ ہے۔
آپ کی ہنسی اب بھی میرے ساتھ ہے۔
آپ کے ساتھ گزارے ہوئے سفر اب بھی میرے ساتھ ہیں۔
آپ کی باتیں اب بھی میرے ساتھ ہیں۔
اور شاید اسی لیے میں آج بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ آپ چلی گئی ہیں۔
آپ تو میرے ساتھ ساتھ ہیں۔
ہمیشہ رہیں گی۔
اور جب کبھی آپ کی یاد آئے گی، میں روؤں گی بھی اور مسکراؤں گی بھی۔
کیونکہ آپ سے محبت صرف غم نہیں دیتی۔
یہ ایک خوب صورت یاد بھی دیتی ہے۔
اور پھر دل کہتا ہے:
کچھ لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر ہماری دنیا سے کبھی نہیں جاتے۔
امت آپا! آپ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں۔
آپ گئی ہی کہاں ہیں!



تبصرہ لکھیے