ہوم << لامحدود امکانات کی دنیا میں ممکنات کی تلاش – نعیم اللہ باجوہ
600x314

لامحدود امکانات کی دنیا میں ممکنات کی تلاش – نعیم اللہ باجوہ

کائنات اپنے باطن میں لامحدود امکانات کا ایک خاموش سمندر ہے۔ ہر لمحہ، ہر سانس، ہر راستہ اور ہر ملاقات اپنے اندر بے شمار “ہوسکتا تھا” اور “ہوسکتا ہے” کے در وا کیے ہوئے ہے۔ مگر انسان کو پوری کائنات نہیں ملتی؛ اسے صرف اتنا حصہ ملتا ہے جتنا وہ اپنے یقین، اپنے حوصلے اور اپنی بصیرت سے دریافت کر لیتا ہے۔ زندگی دراصل امکانات کی فراوانی نہیں، بلکہ ممکنات کے انتخاب کا نام ہے۔

ہر شخص ایک ہی آسمان کے نیچے رہتا ہے، مگر ہر آنکھ ایک الگ افق دیکھتی ہے۔ ایک ہی بارش کسی کے لیے سیلاب ہے، کسی کے لیے رزق، کسی کے لیے شعر، اور کسی کے لیے دعا کا قبول ہونا۔ حقیقتیں کم اور زاویۂ نگاہ زیادہ فیصلے کرتا ہے۔ انسان اس دنیا میں خالی ہاتھ نہیں آتا؛ وہ اپنے ساتھ خواب دیکھنے کی صلاحیت، امید بُننے کا ہنر اور ناممکن کے سینے سے ممکن کشید کرنے کی قوت لے کر آتا ہے۔ وہ کان کن کی طرح زندگی کی چٹانیں توڑتا ہے، مگر اس کی اصل جستجو پتھروں کی نہیں، ان ہیروں کی ہوتی ہے جو ابھی نگاہ سے اوجھل ہیں۔ جو شخص امکانات کے جنگل میں ممکنات کا راستہ پہچان لیتا ہے، وہی اپنی قسمت کا معمار بن جاتا ہے۔ خواب آسمان سے نہیں اترتے، وہ انسان کے باطن میں اُس وقت جنم لیتے ہیں جب وہ بے یقینی کے اندھیروں میں بھی امکان کی ایک باریک سی کرن کو تھام لیتا ہے۔ خوشیاں بازاروں میں فروخت نہیں ہوتیں؛ وہ اُن دلوں میں پھول بن کر کھلتی ہیں جو محرومی کی مٹی میں بھی امید کا بیج بونا جانتے ہیں۔

اور امید…
امید دراصل وہ چراغ ہے جو مستقبل کے سورج سے پہلے طلوع ہوتا ہے۔ یہ کائنات ہر انسان کو ایک جیسی زمین دیتی ہے، مگر فصلیں مختلف اگتی ہیں؛ کیونکہ بیج ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کوئی اپنے حصے میں خوف بوتا ہے، کوئی شک، اور کوئی یقین۔ پھر وقت خاموشی سے ہر بیج کو اس کے مقدر کا درخت بنا دیتا ہے۔ زندگی کا حسن اس میں نہیں کہ تمام امکانات ہمارے اختیار میں آ جائیں، بلکہ اس میں ہے کہ ہم بے کنار امکانات کے سمندر میں اپنے مقدر کی ایک بوند تلاش کر لیں، اور پھر اسی بوند میں پورا سمندر دیکھنے کی بصیرت پیدا کر لیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب خواب حقیقت میں ڈھلتے ہیں، خوشیاں وجود کا حصہ بنتی ہیں، اور امید انسان کے اندر خدا کی سب سے لطیف امانت بن کر زندہ رہتی ہے۔ شاید زندگی کی سب سے بڑی حکمت یہی ہے کہ کائنات امکانات عطا کرتی ہے، مگر ممکنات انسان خود تخلیق کرتا ہے۔ یہی تخلیق اس کی شناخت ہے، یہی اس کا سفر، اور یہی اس کے وجود کی اصل تفسیر۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

نعیم اللہ باجوہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment