ہوم << پاکستانی معاشرہ کا اخلاقی بحران – ڈاکٹر نسرین احسن
600x314

پاکستانی معاشرہ کا اخلاقی بحران – ڈاکٹر نسرین احسن

انسانی معاشروں کے قیام کے مختلف عوامل ہوتے ہیں۔لیکن ہر معاشرہ کے وجود کا انحصار کچھ اقدار پر ہوتا ہے چاہے وہ قبائلی روایات ہوں یا کچھ حدود و قیود کے معاملات ہوں۔ کچھ معاشروں کی بنیاد مذہبی روایات بھی ہوتی ہیں۔وہاں افراد کے عقائد ان معاشروں کی اقدار کے روح رواں ہوتے ہیں۔جن پر اس معاشرے کا سیاسی، معاشرتی اور معیشتی نظام استوار ہوتا ہے اور یہی نظام اسی ریاست کا بھی ہوتا ہے جو ریاست ان معاشروں کو استحکام دینے وجود میں آتی ہے۔

ریاست اور فرد کے تعلقات میں باہمی توازن بہت ضروری ہے۔ اس توازن کو برقرار رکھنے میں ریاست اپنی توانائی لگاتی ہے۔اس کے مطابق قوانین بنائے جاتے ہیں۔اگر یہ توازن بگڑ جائے تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ پاکستانی معاشرہ کی بنیاد اسلامی اقدار ہیں۔ لیکن اس معاشرہ کو ہم اسلامی معاشرہ نہیں کہ سکتےاسے ہم مسلمان افرادکا معاشرہ کہ سکتے ہیں۔اس نکتہ کی وضاحت ضروری ہے۔ اس معاشرے کے ریاستی قوانین میں اسلام کی جھلک ہے۔معاشرتی، معیشتی اور سیاسی نظام کا اسلامی اقدار سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ ریاست اور فرد کے مابین حقوق و فرائض کا توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ ریاست قوانین وضع کرتی ہے تاکہ معاشرہ کا اجتماعی نظام بلا تعطل اور گڑبڑکے چلتا رہے۔ افراد ان ضوابط کی پابندی کے ذمہ دار ہیں جن کے ذریعے ان کے اور دوسرے عوام کے حقوق کا تحفظ ہو۔ اب ہر معاشرہ جو اصول و ضوابط اور قانون اپناتا ہے وہ اس کے اپنے انفرادی اور اجتماعی نظرایات سے مطابقت رکھتا ہے۔

آسان الفاظ میں ہر معاشرہ کا چال چلن اور نظام ان اقدار اور نظریاتی اصولوں کا عکس ہوتا ہے جس کو عزیز رکھتا ہو۔ معاشرے کے سیاسی، اقتصادی، سماجی اور انفرادی نظام میں انہی اصولوں کی جھلک نظر آتی ہے۔ اگر ہم مغربی معاشرہ پر نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی معاشرہ انہیں اقدار کی جھلک دکھاتا ہے جو اس کے نظریاتی اساس ہیں۔مغربی نظام کا نظریہ ہر طرح کی انفرادی اور اجتماعی آزادی کو اپنی بنیاد بناتا ہے۔ ۔مغرب کا میڈیا آزادی رائے اور انفرادی آزادی پر یقین رکھتا ہےتو اس میں انہیں چہروں کی جھلک نظر آتی ہے ۔ اسی طرح اس کا اقتصادی اور سیاسی نظام بھی اپنے اصولوں پر بنایا جاتا ہے۔ اب ہم اپنے معاشرہ کا جائزہ لیں ۔ہم ایک اسلامی معا شرہ کہلاتے ہیں۔لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا ہمارے معاشرے میں اسلام کی جھلک بہت کم دکھائی دیتی ہے۔زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کا معاشرہ ہیں جس میں کچھ روایات اور رسم و رواج میں اسلام کی جھلک نظر آتی ہے۔ لیکن معاشرے کے اجتماعی نظام میں اسلام کے حقیقی اصولوں کی عکاسی نظر نہیں آتی۔

ہمارا میڈیا جو کچھ دکھاتا ہے اس میں اسلام کی جھلک دوردور تک دکھائی نہیں دیتی بلکہ اس کے بالکل متضاد نظریات نظر آتے ہیں۔ہما رے اشتہارات دیکھ کر کوئی بھی یہی سمجھے گا کہ یہ مغربی معاشرہ ہے۔ ہمارے ڈرامے بھی معاشرے کی عکاسی بہت کم کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں معاشرے کے افراد کا ذہنی انتشار میں مبتلا ہو جانا یقینی ہے۔ آپ ایک بات کر تے ہیں مگر عمل اس سے کوسوں دور ہوتا ہے۔آپ اپنی نئی نسل کو یہی اصول سکھائیں گے اور نئی نسل کا گمراہ ہونا یا ذہنی الجھائو میں مبتلا ہو کر ایک نیا نظریہ بنا لیناچنداں عجوبہ کی بات نہیں۔ اس وجہ سے معاشرے کے اندراخلاقی بحران پیدا ہوتا ہے۔ اس کی جھلک ہم معاشرے میں رونما ہونے والے مختلف واقعات میں دیکھ سکتے ہیں مثال کے طور پر قندیل بلوچ، ثنا یوسف والے واقعات ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ وہ فرد جو کسی معاشرتی زیادتی کا شکار ہوتا ہے ہم الزام اسی پر تھوپ دیتے ہیں۔ جیسا کہ ہم کہتے ہیں کی وہ لڑکی وہاں کیوں گئی یا اس نے ایسا کیوں کیا؟

ہم افراد پر الزام اور تہمت لگانے میں پھرتی دکھاتے ہیں اور اپنے فیصلے صادر کرتے ہیں۔اس کے پیچھے عوامل کی کسی کو پرواہ نہیں ہوتی۔سوشل میڈیا نے ہر ایک کو ایسا ہتھیار تھما دیا ہے جس سے کہیں بھی کسی کی بھی سمت جیسے اپنی مرضی پر ہم گھما دیتے ہیں اور اپنے تئیں یہ ثا بت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہ رہے ہیں وہی مکمل حقیقت ہے اور باقی تمام آرا ء باطل ہیں۔ اصل میں معاشرے کے قوانین کے تحت جو مجرم ہے اسے سزا ملنی لازمی ہے اور اس میں کوئی دو آراء نہیں ہو سکتیں۔کسی فرد نے کچھ بھی کہا ہو ایک غلط کام کی سزا کرنے والے کی ہونی چاہئے۔ہم الزام لگا کر بری نہیں ہو سکتے۔یہ بات سب کو باور کرانی پڑے گی کہ کسی بھی فرد کے پاس کسی دوسرے انسان کی جان لینے کا حق نہیں ہے۔ وہ اس کا کوئی بھی جواز کسی بھی صورت پیش نہیں کر سکتا۔اس لئے غیرت کے نام پر قتل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن ہم نے ان چیزوں کو اپنے لئے جائز کر لیا ہے۔

معاشرہ کے فکری انتشار کا براہ راست تعلق خاندان کے انتشار سے ہے۔ ایک خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی سمجھا جاتا ہے۔اس خاندان کا استحکام معاشرے میں توازن پیدا کرتا ہے۔ خاندان کی تشکیل اور اس کے افراد کے باہمی تعلقات کا معاشرتی اقدار پر گہرا ثر ہو تا ہے۔ جب خاندان بکھرتا ہے تو معاشرے میں بحران کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو کہ آج کے معاشرے میں نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی نئی نسل بہت سی باتوں کو سمجھنے سے قاصر ہے اور اس کے لئے یہ تعین کرنے مشکل ہو گیا ہے کہ اس کی زندگی میں لائحہ عمل کیا ہو۔وہ کون سی اقدار کی پیر وی کریں اور کس راستہ یا تہذیبی اقدار کو اپنائیں۔ بےیقینی کی یہ کیفیت ان تمام واقعات کو جنم دے رہی ہے جو کہ معاشرے میں رونما ہو رہے ہیں اور ہم سب اس پر حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر ہم نئی نسل کو ایک واضح لائحہ عمل دینے میں کامیاب ہو جائیں تو ہمارے بہت سے معاشرتی مسائل حل ہو جائیں۔ ہمارا معاشرہ شدید اخلاقی بحران میں مبتلا ہے۔صاحب اہل فکر کو بیٹھ کر معاشرے کے نئے آداب اور خدوخال واقع کرنے ہونگے اور ہمیں اپنے بچوں کو ان اقدار کی تعلیم دینا ہوگی۔

معاشرے میں فکر انتشار کا لازمی نتیجہ اجتماعی نظام میں ٹوٹ پھوٹ ہے۔یہ معاملہ آگے بڑھ کر اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ نہ افراد تعین کر پاتے ہیں کہ انہیں کیا لائحہ عمل اپنانا ہے اور اجتماعیت بھی اس سمت کا تعین کرنے میں قطعی طور پر ناکام ہو جاتی ہے جس پر اسے ریاست اور معاشرے کو لے جانا ہے۔صورتحال کی منظر کشی ہمارے اجتماعی نظام میں نظر آتی ہےکہ ہم آئین اور قانون کے ہوتے ہوئے اس پر عمل درآمد کرنے اور اسے اپنے اجتماعی نظام میں نافذ کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئے۔ جس کا نتیجہ ہمارے معاشرے کی موجودہ صورت حال ہے۔ اس پر مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ صورت حال کا ادراک کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ہر شخص اپنی جگہ یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ وہ عقل کل ہے اور اپنے آگے کسی بھی پابندیوں سے وہ آزاد ہے۔اسے کہیں سے پکڑ کا خوف نہیں ۔ لہذا ہمارے ٹریفک کا نظام ، ہمارا معاشرتی اقدار کا بحران ، ہماری اقتصادی بد حالی اور ہمارا سیاسی انتشار ہمیں کسی مثبت سمت دینے میں بری طرح ناکام ہے۔

یہ ہمارا اصلی مرض ہے کہ ہم اپنے مرض کی صحیح تشخیص کے بجائے محض بیماری کی علامات کا انفرادی طور پر علاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔نتیجہ مرض وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ادھر ادھر کی پیوند کاری بری طرح ناکام ہو جاتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں، اپنی شناخت کو بحال کریں، اپنے کھوئے ہوئے اخلاق کو اپنائیں تبھی اصل تبدیلی آئے گی۔ورنہ صرف تبدیلی کا نعرہ لگانے سے جو کہ ہم نے بہت کیا کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو گی۔ ہمارے تبصرہ نگاراور تجزیہ کار جب کسی واقعہ پر بات کرتے ہیں تو ان کا رجحان صرف معاشرے پر تنقید ہوتا ہے، وہ ان عوامل کا ادراک کرنے میں قطعی ناکام ہوتے ہیں جو اس واقعہ کا محرک بنا۔ محض تنقید سے ہم کوئی مثبت قدم اٹھانے سے قاصر رہیں گے۔بیشک معاشرے تبدیلی کی زد میں آتے ہیں۔ بہت کچھ زمانے کے ساتھ اونچ نیچ ہوتی ہے۔ کل جو کچھ عام سمجھا جاتا تھا وہ آج مشکوک ہے۔اور آج جو عام ہے پہلے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔لیکن ہمیں اس تبدیلی کا باقاعدہ ایک نظریاتی جائزہ لے کر کچھ قوانین، روایات اور اقدار واضح کرنا ہوں گی جو ہم نئی نسل کو آسانی سے منتقل کر سکیں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment