ہوم << فلم ستلج، خاموش چیخوں کی بازگشت – مسرور احمد
600x314

فلم ستلج، خاموش چیخوں کی بازگشت – مسرور احمد

فلم صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات وہ تاریخ کے ان صفحات کو بھی آواز دیتی ہے جنہیں ریاستیں، ادارے یا معاشرے خاموشی کے پردے میں چھپا دینا چاہتے ہیں۔ “ستلج” بھی ایسی ہی ایک فلم ہے۔ یہ محض چند کرداروں کی کہانی نہیں بلکہ خوف، انتظار، امید، انصاف اور انسانی وقار کے درمیان جاری ایک مسلسل کشمکش کی علامت ہے۔

فلم جبری گمشدگی کے مسئلے کو ایک انسانی المیے کے طور پر پیش کرتی ہے، جہاں سب سے بڑی سزا صرف گمشدہ فرد کو نہیں بلکہ اس کے پورے خاندان کو ملتی ہے، جو برسوں تک یہ نہیں جان پاتا کہ اس کا پیارا زندہ ہے یا مر چکا۔ یہی وجہ ہے کہ “ستلج” صرف ایک ملک یا ایک خطے کی کہانی نہیں رہتی بلکہ انسانی حقوق کے عالمی مباحث کا حصہ بن جاتی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں جبری گمشدگیوں کے الزامات مختلف ادوار میں سامنے آئے ہیں، اور ایسے معاملات پر اقوام متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی ادارے شفاف تحقیقات، قانون کی حکمرانی اور متاثرہ خاندانوں کے حقِ انصاف پر زور دیتے رہے ہیں۔ فلم کا سب سے مضبوط پہلو اس کا انسانی حقوق کا زاویہ ہے۔ اس میں کسی نظریے یا سیاسی جماعت سے زیادہ اہمیت ایک عام انسان کی تکلیف کو دی گئی ہے۔ ایک ماں، ایک بہن، ایک بیوی یا ایک بچے کے انتظار کو جس خاموشی سے فلم میں دکھایا گیا ہے، وہ ناظر کو جذباتی طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فلم سیاسی بیانیے سے بلند ہو کر انسانی ضمیر سے مخاطب ہوتی ہے۔

اگر فلم کو سیاسی معیشت (Political Economy) کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف ریاستی طاقت کی کہانی نہیں بلکہ طاقت، اختیار اور احتساب کے باہمی تعلق کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ جدید ریاست میں سلامتی، قانون اور آزادی کے درمیان توازن ہمیشہ ایک پیچیدہ سوال رہا ہے۔ جب ریاستیں داخلی یا خارجی خطرات کا سامنا کرتی ہیں تو اکثر سلامتی کو بنیادی ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ ناقدین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قومی سلامتی اور بنیادی انسانی حقوق ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ دونوں کو قانون کے دائرے میں ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔نیو لبرل اکانومی کے زاویے سے دیکھا جائے تو فلم ایک وسیع تر سوال اٹھاتی ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں میں دنیا بھر میں معاشی لبرلائزیشن، نجکاری اور منڈی کی بالادستی نے ریاست کے کردار کو تبدیل کیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس عمل کے نتیجے میں بعض معاشروں میں عدم مساوات، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور احتساب کے کمزور ہونے جیسے مسائل بڑھے۔ دوسری طرف اس نقطۂ نظر کے ناقدین کہتے ہیں کہ یہ تمام مسائل صرف نیو لبرل معاشی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ کمزور اداروں، بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام اور ناقص حکمرانی کا بھی کردار ہوتا ہے۔

“ستلج” اگرچہ معاشی تھیوری پر براہِ راست گفتگو نہیں کرتی، لیکن طاقت اور کمزور شہری کے درمیان فاصلے کو ضرور نمایاں کرتی ہے۔ فلم کو شدت پسندی کے تناظر میں بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ جب معاشروں میں انصاف پر اعتماد کمزور پڑنے لگے، قانون کی عمل داری پر سوال اٹھنے لگیں اور سیاسی اختلاف کو پرامن انداز میں حل کرنے کے راستے محدود ہو جائیں تو انتہاپسندی اور تشدد کے لیے ماحول سازگار ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ شدت پسندی کے اسباب کثیرالجہتی ہوتے ہیں، جن میں نظریاتی، سیاسی، معاشی اور سماجی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک سبب کو تمام مسائل کی جڑ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ فلم کی اسکرپٹ اور پلاٹ نہایت متوازن رفتار کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ کہانی غیر ضروری ڈرامائی موڑ پیدا کرنے کے بجائے خاموش مناظر، مکالموں اور کرداروں کے جذبات پر انحصار کرتی ہے۔ یہی سادگی اس کی اصل طاقت ہے۔ بعض مقامات پر کہانی کی رفتار نسبتاً سست محسوس ہوتی ہے، لیکن یہی سستی کرداروں کے انتظار اور بے یقینی کے احساس کو مؤثر بناتی ہے۔

اداکاری فلم کا ایک نمایاں پہلو ہے۔ مرکزی کرداروں مثلاً فلکیات دوسانجھ، ارجن رامپال اور دیگر کرداروں نے جذباتی مناظر میں مصنوعی پن سے گریز کیا ہے۔ ان کی خاموشیاں، چہروں کے تاثرات اور مکالموں کی ادائیگی فلم کو حقیقت کے قریب لے آتی ہے۔ خاص طور پر متاثرہ خاندان کے کردار ناظر کو اس ذہنی اذیت کا احساس دلاتے ہیں جو کسی عزیز کی غیر یقینی صورتِ حال میں برسوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ پروڈکشن ڈیزائن اور سینماٹوگرافی بھی قابلِ تعریف ہیں۔ لوکیشنز، روشنی اور رنگوں کا استعمال فلم کے اداس اور غیر یقینی ماحول کو مضبوط بناتا ہے۔ کیمرہ ورک کئی مقامات پر دستاویزی فلم کا احساس دلاتا ہے، جس سے منظر زیادہ حقیقی محسوس ہوتا ہے۔ میوزک اور بیک گراؤنڈ اسکور جذبات کو ابھارتا ضرور ہے لیکن کہانی پر حاوی نہیں ہوتا۔ خاموشی کا استعمال بھی ایک تخلیقی فیصلہ ہے، جو کئی مناظر میں موسیقی سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ ایڈیٹنگ مجموعی طور پر مضبوط ہے۔ اگرچہ چند مناظر کو مختصر کیا جا سکتا تھا، لیکن فلم اپنی روانی برقرار رکھتی ہے اور ناظر کی توجہ قائم رکھنے میں کامیاب رہتی ہے۔ تاریخی حقائق کے حوالے سے یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ “ستلج” ایک فیچر فلم ہے، تاریخی دستاویز نہیں۔ اس لیے اسے کسی مخصوص واقعے کا مکمل تاریخی ریکارڈ سمجھنے کے بجائے ایک تخلیقی بیانیہ تصور کرنا چاہیے، جو ایک حساس مسئلے پر بحث کا دروازہ کھولتا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں بھی یہ فلم ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: کیا ایسے حساس موضوعات پر مزید معیاری، تحقیق پر مبنی اور متوازن فلمیں بننی چاہئیں؟ اس کا جواب غالباً ہاں میں ہے۔ ایک بالغ جمہوری معاشرے میں آرٹ اور سنیما کو مشکل موضوعات پر گفتگو کی گنجائش ہونی چاہیے، بشرطیکہ وہ تحقیق، ذمہ داری اور انسانی وقار کے احترام کے ساتھ پیش کیے جائیں۔آخر میں، “ستلج” محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک سوال ہے: کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟ ارسطو کا مشہور قول آج بھی بحث کا موضوع ہے کہ “قانون مکڑی کے جالے کی مانند ہے؛ کمزور اس میں پھنس جاتے ہیں جبکہ طاقتور اسے توڑ کر نکل جاتے ہیں۔” اگر کسی معاشرے کو مضبوط بنانا ہے تو قانون کی حکمرانی، شفاف احتساب، انسانی حقوق کا احترام اور انصاف تک مساوی رسائی بنیادی شرط ہیں۔ یہی پیغام “ستلج” کو ایک اہم سماجی اور فکری فلم بناتا ہے، جو ناظر کو صرف جذباتی نہیں بلکہ فکری طور پر بھی جھنجھوڑ دیتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

مسرور احمد

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment