عادت کبھی ایک ہی دن میں تقدیر نہیں بنتی؛ وہ خاموشی سے آتی ہے، ٹھہرتی ہے، جڑ پکڑتی ہے. پھر شخصیت کی اینٹوں میں اس طرح اتر جاتی ہے کہ انسان کو اپنے انہدام کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔ عادتیں دیمک کی طرح ہوتی ہیں؛ وہ شور نہیں کرتیں، اعلان نہیں کرتیں، صرف اندر ہی اندر کھاتی رہتی ہیں، یہاں تک کہ بظاہر مضبوط دکھائی دینے والی عمارت ایک معمولی سے جھٹکے پر ملبہ بن جاتی ہے۔
دیمک کبھی لکڑی کو ایک ہی وار میں نہیں کھاتی؛ وہ صبر کی مجسم صورت ہے۔ وہ جانتی ہے کہ شور قوت کی نہیں، کمزوری کی علامت ہے۔ اس لیے وہ خاموش رہتی ہے، مگر مسلسل رہتی ہے۔ یہی عادت کا سب سے خطرناک پہلو ہے؛ وہ انسان سے اس کا آج نہیں چھینتی، بلکہ اس کے آنے والے کل پر قبضہ کر لیتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ صرف ایک عمل دہرا رہا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ اپنے باطن کی اینٹیں خود نکال رہا ہوتا ہے۔ عادت دراصل وقت کی وہ چھینی ہے جو شخصیت کے سنگِ مرمر پر مسلسل ضرب لگاتی رہتی ہے۔ ایک ضرب کچھ نہیں بدلتی، دوسری بھی نہیں، مگر ہزاروں ضربوں کے بعد یا تو ایک شاہکار تراش دیا جاتا ہے یا ایک خوب صورت چٹان بے ڈھنگے ملبے میں بدل جاتی ہے۔ اس لیے انسان کا مستقبل کسی ایک بڑے فیصلے سے کم، اپنے روزمرہ کے چھوٹے فیصلوں سے زیادہ تشکیل پاتا ہے۔
ہر عادت ایک بیج ہے۔
زمین یہ فیصلہ نہیں کرتی کہ کون سا بیج اس میں ڈالا گیا ہے؛ وہ ہر بیج کو پروان چڑھاتی ہے۔ اگر تم نے سستی بوئی ہے تو محرومی اُگے گی، اگر نظم بویا ہے تو وقار پھوٹے گا، اگر شکر کا بیج رکھا ہے تو دل میں سکون کا جنگل اُگے گا، اور اگر شکایت کی کاشت کی ہے تو روح کے اندر کانٹے ہی کانٹے جنم لیں گے۔ فطرت ہمیشہ بیج کا انصاف کرتی ہے، خواہ انسان خود اپنے ساتھ انصاف نہ کرے۔ روح بھی ایک گھر ہے۔ اس میں روشنی بھی رہ سکتی ہے اور نمی بھی۔ اگر غفلت کی نمی مسلسل جمع ہوتی رہے تو خواہشات کی دیمک ایمان، بصیرت اور ارادے کے شہتیروں کو اندر ہی اندر چاٹنے لگتی ہے۔ پھر ایک دن انسان حیران ہوتا ہے کہ وہ گرا کیسے، حالانکہ گرنے کا فیصلہ اُس دن ہو گیا تھا جب اس نے پہلی بار ایک چھوٹی سی غلط عادت کو یہ کہہ کر معاف کر دیا تھا کہ “اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔”
یاد رکھو، تقدیر آسمان پر صرف لکھی نہیں جاتی؛ وہ زمین پر انسان کی عادتوں سے بھی لکھی جاتی ہے۔ جو شخص اپنی عادتوں کا معمار بن جاتا ہے، وہ اپنے مقدر کی تعمیر میں شریک ہو جاتا ہے، اور جو اپنی عادتوں کا قیدی بن جائے، وہ کھلے آسمان کے نیچے رہتے ہوئے بھی اندر سے منہدم ہو جاتا ہے۔ انسان کی زندگی بھی کردار کی ایک عمارت ہے۔ اس کی بنیادیں ارادوں سے بنتی ہیں، مگر ان کی حفاظت عادتیں کرتی ہیں۔ اگر عادتیں صالح ہوں تو وہ پتھر کو بھی آئینہ بنا دیتی ہیں، اور اگر فاسد ہوں تو آئینے کو بھی دھندلا کر دیتی ہیں۔ اس لیے انسان اپنے ایک بڑے فیصلے سے کم، اور اپنی چھوٹی چھوٹی عادتوں سے زیادہ پہچانا جاتا ہے۔ ہر گناہ، ہر کمزوری اور ہر غفلت ابتدا میں صرف ایک معمولی سا عمل ہوتی ہے، مگر جب وہ بار بار دہرائی جائے تو عمل، عادت بن جاتا ہے؛ عادت، مزاج بن جاتی ہے؛ مزاج، کردار میں ڈھل جاتا ہے؛ اور کردار ہی آخرکار تقدیر کے راستے متعین کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان سمجھتا ہے کہ وہ اپنی عادتوں کا مالک ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ ان کا اسیر ہو چکا ہوتا ہے۔
خوش نصیب وہ نہیں جسے کبھی بری عادت نہ لگی ہو؛ خوش نصیب وہ ہے جس نے پہلی ہی دستک پر دیمک کو پہچان لیا۔ کیونکہ دیمک سے جنگ دیوار گرنے کے بعد نہیں جیتی جاتی، بلکہ اس کے پہلے دانت پر قابو پا لینے سے جیتی جاتی ہے۔ یاد رکھیے، عظیم زندگیاں عظیم مواقع سے نہیں بنتیں؛ وہ عظیم عادتوں سے بنتی ہیں۔ اور المیے بھی اچانک نہیں ٹوٹتے، وہ برسوں سے پلنے والی اُن خاموش عادتوں کا آخری نتیجہ ہوتے ہیں جنہیں انسان نے کبھی معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا۔



تبصرہ لکھیے