تاریخ میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب قوموں کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ خوف کے سامنے سر جھکائیں گی یا عزم و استقلال کے ساتھ اپنے مستقبل کا دفاع کریں گی۔ پاکستان آج ایسے ہی ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف وہ عناصر ہیں جن کے ہاتھ معصوم شہریوں، بچوں، خواتین، بزرگوں اور ہمارے بہادر سیکیورٹی اہلکاروں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اور دوسری طرف وہ ریاست ہے جس نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ پاکستان کے امن، خودمختاری اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
زیارت کے منگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر ہونے والا دہشت گرد حملہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گرد صرف جانیں نہیں لیتے بلکہ قوموں کے حوصلے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستانی قوم کی تاریخ شکست کی نہیں، مزاحمت کی تاریخ ہے۔ ہر شہید کا جنازہ اس قوم کے عزم کو مزید بلند کرتا ہے، ہر قربانی دشمن کے عزائم کو مزید ناکام بناتی ہے، اور ہر حملے کے بعد پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرتا ہے۔ اسی ناقابلِ شکست قومی عزم کا عملی اظہار آپریشن شعبان ہے۔ یہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں، بلکہ ریاستِ پاکستان کا دوٹوک اعلان ہے کہ اب اس سرزمین پر دہشت، خونریزی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں بچے گی۔
پاکستان امن چاہتا ہے، مگر ایسا امن جو قانون کی بالادستی، آئین کی حکمرانی اور ریاست کی مضبوط رٹ پر قائم ہو، نہ کہ بندوق کے سائے میں۔ پاکستان کی مسلح افواج، فرنٹیئر کور، بلوچستان پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے آج وطن کے دفاع کی پہلی صف میں کھڑے ہیں۔ ان کے قدموں کی مضبوطی قوم کے اعتماد سے جنم لیتی ہے، اور ان کے حوصلوں کو شہداء کے لہو کی حرمت جلا بخشتی ہے۔ قوم اپنے ہر شہید کو سلام پیش کرتی ہے، کیونکہ انہی قربانیوں کی بدولت پاکستان کا پرچم آج بھی سربلند ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردی صرف گولی اور بارود سے نہیں چلتی۔ اس کے لیے مالی وسائل، سہولت کاری، انتہا پسندانہ بیانیہ اور مختلف نوعیت کے معاون نیٹ ورک درکار ہوتے ہیں۔ ان تمام ذرائع کا قانون کے مطابق خاتمہ ناگزیر ہے۔ پاکستان متعدد مواقع پر یہ مؤقف پیش کرتا رہا ہے کہ بعض دہشت گرد گروہوں کو سرحد پار سے معاونت اور پناہ ملتی رہی ہے، اور اس مسئلے کے مؤثر حل کے لیے علاقائی تعاون اور ذمہ دارانہ بین الاقوامی کردار ضروری ہے۔
یہ وقت اختلافات کو ہوا دینے کا نہیں بلکہ قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کا ہے۔ دہشت گردوں کی سب سے بڑی شکست اس وقت ہوتی ہے جب پوری قوم ریاست کے ساتھ ایک صف میں کھڑی ہو جائے۔ جب عوام افواہوں کو مسترد کریں، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں، اور قومی مفاد کو ہر ذاتی یا سیاسی مفاد پر مقدم رکھیں، تو دہشت گردی کی جڑیں خود بخود کمزور پڑ جاتی ہیں۔
دہشت گرد سن لیں!
یہ پاکستان ہے؛ ایک ایسی ریاست جس کی بنیاد لاکھوں قربانیوں پر رکھی گئی، جس کی حفاظت کے لیے ہزاروں جوان اپنی جانیں نچھاور کر چکے ہیں، اور جس کی بقا کے لیے کروڑوں پاکستانی ہر امتحان سے گزرنے کو تیار ہیں۔ تمہاری گولیاں ہمارے حوصلوں کو زخمی نہیں کر سکتیں، تمہارے دھماکے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، اور تمہاری بزدلانہ کارروائیاں اس قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔ ہر حملے کا جواب قانون کی طاقت، ریاست کی رٹ اور قومی اتحاد سے دیا جائے گا۔
آپریشن شعبان دراصل ایک اعلان ہے؛ اعلانِ مزاحمت، اعلانِ استقامت اور اعلانِ فتح۔ یہ دہشت گردوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان اب صرف دفاع نہیں کرے گا بلکہ امن کے ہر دشمن کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچانے کے لیے پوری قوت سے کارروائی کرے گا۔ ریاست کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اور وطنِ عزیز کے امن سے کھیلنے والوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں رہے گی۔
آئیے، ہم سب اپنے شہداء کے خون سے وفاداری کا عہد کریں۔ اپنے سیکیورٹی اداروں کا حوصلہ بڑھائیں، قومی یکجہتی کو اپنی طاقت بنائیں اور ہر اس آواز کو مسترد کر دیں جو دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔ کیونکہ جب قوم متحد ہو، ریاست مضبوط ہو اور ادارے پُرعزم ہوں تو دہشت گردی کی ہر سازش اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔ پاکستان کا پرچم ہمیشہ سربلند رہے گا، ریاست کی رٹ ہمیشہ قائم رہے گی، اور دہشت گردی کا اندھیرا اس قوم کے عزم کے سامنے ہمیشہ شکست کھاتا رہے گا۔



تبصرہ لکھیے