ہوم << چیک کریں میسی بھی انہی کا لڑکا تو نہیں؟ – وسیم گل
600x314

چیک کریں میسی بھی انہی کا لڑکا تو نہیں؟ – وسیم گل

عالمی اشرافیہ (Global Elite) یا بااثر طاقتور حلقے بعض منتخب افراد کو عالمی سطح کی شخصیات بنانے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کروڑوں سے لے کر اربوں ڈالر تک کے بجٹ مختص کیے جاتے ہیں، خصوصی پروجیکٹ ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں، مارکیٹنگ ماہرین، نفسیات دان، میڈیا اسٹریٹجسٹ، برانڈ کنسلٹنٹس، تعلقاتِ عامہ (PR) کے ماہرین اور سرمایہ کار ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کرتے ہیں۔

سب سے پہلے مخصوص پس منظر یا نسل سے ایسے افراد کی تلاش کی جاتی ہے جن میں غیر معمولی صلاحیت موجود ہو یا جنہیں عالمی برانڈ بنایا جا سکے۔ پھر ان کی کھیل، شخصیت، لباس، گفتگو، سوشل میڈیا موجودگی، عوامی تعلقات اور ہر عوامی سرگرمی پر برسوں تک کام کیا جاتا ہے تاکہ ان کی ایک منفرد اور پرکشش شخصیت تشکیل دی جا سکے۔ اس کے بعد میڈیا کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ ٹیلی ویژن، اخبارات، کھیلوں کے چینلز، فلمیں، ڈاکیومنٹریز، اشتہارات، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل مہمات کے ذریعے اس شخصیت کو مسلسل عوام کی نظروں کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو میڈیا اداروں میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے یا ان پر اثر و رسوخ قائم کیا جاتا ہے تاکہ مطلوبہ بیانیہ مسلسل فروغ پاتا رہے۔ کسی بھی شخصیت کو صرف ایک شعبے تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ اسے مختلف عالمی برانڈز کا سفیر، بڑی کمپنیوں کا شراکت دار، سرمایہ کار یا ایگزیکٹو شیئر ہولڈر بنایا جاتا ہے تاکہ اس کی کامیابی، دولت اور اثر و رسوخ کو مزید نمایاں کیا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں عام لوگوں کے ذہن میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جاتا ہے کہ یہ شخص غیر معمولی طور پر ہر میدان میں کامیاب ہے۔

جب مطلوبہ شخصیت کو مکمل طور پر تیار کر لیا جاتا ہے تو اسے عالمی سطح پر بھرپور انداز میں متعارف کرایا جاتا ہے۔ پھر میڈیا کوریج، ایوارڈز، انٹرویوز، اسپانسرشپس، اشتہاری مہمات، سوشل میڈیا ٹرینڈز اور دیگر ذرائع کے ذریعے اسے مسلسل خبروں اور عوامی توجہ کا مرکز بنایا جاتا ہے تاکہ اس کی مقبولیت میں کمی نہ آنے پائے۔ اگر معاملہ کھیلوں کا ہو تو بعض اوقات مقابلوں کے نتائج پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق، ریفریز، کھیلوں کی انتظامیہ یا دیگر متعلقہ عناصر پر دباؤ، مالی ترغیب یا دیگر ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں تاکہ مخصوص کھلاڑی یا ٹیم کو فائدہ پہنچے اور اس کی شہرت مزید بڑھے۔ اسی طرح کاروباری دنیا کے بارے میں بھی یہ مؤقف پیش کیا جاتا ہے کہ بعض کاروباری شخصیات کو “سیلف میڈ” (Self-made) کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں ان کے پیچھے بڑے سرمایہ کار، طاقتور مالیاتی ادارے، میڈیا نیٹ ورک اور عالمی سرمایہ موجود ہوتا ہے۔

پھر ان کی زندگی کی ایسی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں کہ گویا انہوں نے انتہائی معمولی حالات، جیسے گھر کے ایک چھوٹے کمرے، گیراج، دکان یا کسی سادہ ماحول میں بیٹھ کر ایک انقلابی خیال سوچا، کمپنی قائم کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ارب پتی بن گئے۔ اس طرح کی داستانیں عوام کے لیے متاثر کن مثالوں کے طور پر پیش کی جاتی ہیں، جبکہ اس نقطۂ نظر کے مطابق اصل سرمایہ، روابط اور طاقت کے مراکز پس منظر میں رہتے ہیں۔

جدید دور میں صرف قابلیت کامیابی کی ضمانت نہیں سمجھی جاتی، بلکہ اصل طاقت اس منظم نظام کے پاس ہوتی ہے جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کس شخصیت کو عالمی سطح پر ابھارنا ہے، کس کی تشہیر کرنی ہے، کس کے لیے سرمایہ، میڈیا، مارکیٹنگ اور عوامی تاثر کو استعمال کرنا ہے، اور کسے عالمی علامت (Global Icon) میں تبدیل کرنا ہے۔ اس تصور کے مطابق، عوام کے سامنے جو کامیابی کی داستان نظر آتی ہے، وہ محض آخری مرحلہ ہوتی ہے، جبکہ اس کے پیچھے برسوں کی منصوبہ بندی، سرمایہ کاری، میڈیا مینجمنٹ اور طاقتور مفادات کا ایک طویل عمل کارفرما ہوتا ہے۔

کچھ لوگوں کو یہ سازشی تھیوری لگے گی، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ایسی سازشی تھیوریاں ہمیشہ سچ ہی ثابت ہوتی آئی ہیں.

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

نقطہ نظر

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment