ہوم << ایٹوموسو – محمد جمیل اختر
600x314

ایٹوموسو – محمد جمیل اختر

مکمل دیوانگی اور ہوش میں ایک ایسا عالم بھی ہوتا ہے کہ جب آپ ایک خلا میں ہوتے ہیں، جب آپ کو نہ تو دیوانہ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی عقلمند۔ ایسے عالم میں آدمی یا تو بے حد بولنے لگ جاتا ہے یا مکمل خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ پہلے پہل بہت بولنے والے جب دیوانے ہوتے ہیں تو انہیں گہری چپ آن گھیرتی ہے، اور جو پہلے پہل خاموش رہتے ہیں، دیوانگی ان کے لیے آوازوں کا تحفہ ساتھ لاتی ہے، سو وہ چیختے ہیں، چلاتے ہیں۔

آپ کبھی پاگل خانے جائیں تو آپ کو دو ہی طرح کے پاگل ملیں گے؛ بہت خاموش یا بہت باتونی۔ لیکن بہرحال کہلاتے سب پاگل ہی ہیں۔
وہ بھی آج کل ایسے ہی خلا میں تھا۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ چند روز اور اگر وہ اسی کرب میں گزارے گا تو عین ممکن ہے مکمل پاگل ہو جائے۔ لیکن وہ پاگل ہونے سے ڈرتا بھی تھا، کہ پاگل تو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، کچھ بھی کر سکتے ہیں۔۔۔ وہ بہت ڈرتا تھا۔ بہت سی باتیں اسے بھولنے لگ گئی تھیں۔ کبھی کبھار تو اسے یوں لگتا جیسے وہ اپنا نام تک بھول گیا ہو۔ فوراً جیب سے شناختی کارڈ نکالتا، نام پڑھتا اور کہتا:
“حد ہے! یہی نام تو مجھے یاد ہے۔ بھلا آدمی اپنا نام تھوڑی بھول سکتا ہے!”

راستوں میں وہ خود کلامی کرتا دکھائی دیتا، اور جونہی اسے یہ خیال آتا کہ وہ کافی اونچی آواز میں خود سے باتیں کر رہا ہے اور لوگ اسے دیکھ رہے ہیں تو وہ فوراً خاموش ہو جاتا، پھر لوگوں کی طرف یوں دیکھتا جیسے کہہ رہا ہو:
“آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں ابھی پاگل نہیں ہوا۔”
وہ جب بہت اونچی آواز میں خود کلامی کرتا تو کچھ اس طرح کے بے ترتیب جملے لوگوں کو سننے کو ملتے:
“میں نہیں ڈرتا۔۔۔ نہیں، کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ میں نہیں، نہیں، نہیں ڈرتا۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔”
پھر اسے خیال آ جاتا کہ لوگ اسے دیکھ رہے ہیں، تو وہ خاموش ہو جاتا۔

نیند اسے اب بہت مختصر ٹکڑوں میں آتی۔ ذرا سے شور سے بھی وہ جاگ جاتا۔ اس کے خواب سارے پریشان تھے، اتنے پریشان کہ وہ چیخ اٹھتا۔ ایسے خوابوں کے بعد بھلا کون سو سکتا ہے؟
ایک وقت تھا کہ وہ ایک زندہ دل آدمی تھا، خوش باش، بھرپور انداز میں زندگی گزارنے والا انسان۔ لوگوں میں گھل مل جانا اس کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ لیکن اب وہ دن نہیں رہے تھے۔ اسے اب لوگوں سے خوف آتا تھا۔ حتیٰ کہ چوک میں کھڑی موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں سے بھی ڈرتا تھا۔ لوگوں کو بہت غور سے دیکھتا۔ اب اسے کسی پر اعتبار نہیں تھا۔
“کیا ساری دنیا بے اعتباری ہے؟” اس کا یہی خیال تھا۔

وہ بار بار راستے تبدیل کرتا۔ ہر موڑ پر کوئی موٹرسائیکل کھڑی ہوتی، جو اس کا راستہ روک لیتی۔ وہ پریشان تھا، لیکن وہ ڈرتا تھا۔ وہ بیچارہ بہت عجیب تھا۔ وہ آوازوں سے اتنا خوفزدہ تھا کہ کانوں میں ہر وقت روئی ڈالے رکھتا۔ لوگ اس کی حالت پر افسوس کرتے اور اس کے ماضی کی خوشگوار باتوں کو یاد کر کے آہیں بھرتے۔
لوگوں نے اسے بہت سمجھایا کہ:
“دیکھو، اس قدر خوف انسان کو مار ڈالتا ہے۔ حوصلے سے کام لینا چاہیے۔” اور اس طرح کی بہت سی عام باتیں۔
لیکن وہ ڈرتا تھا۔ ہر آواز سے، ہر شور سے۔
ایک روز، جب دسمبر کی خوشگوار دھوپ نکلی ہوئی تھی، اس کا دل چاہا کہ صحن میں بیٹھا جائے اور دھوپ کے مزے لوٹے جائیں۔ کافی عرصے بعد اس کے دل میں کوئی خواہش اٹھی تھی۔

سو وہ صحن میں موجود ایک کرسی پر بیٹھ گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔
“دسمبر کی دھوپ یقیناً خوشگوار ہوتی ہے۔”
اس نے سوچا، پھر آنکھیں کھولیں اور دیکھا کہ دیوار پر چند چڑیاں بیٹھی چہچہا رہی ہیں۔
“مجھے یقیناً اب ڈرنا نہیں چاہیے، اور پرندوں کی خوبصورت آوازوں کو سننا چاہیے۔” اس نے ڈرتے ڈرتے کانوں سے روئی نکال کر پھینک دی اور آنکھیں موند لیں۔
“یہ آوازیں۔۔۔ اور یہ دھوپ۔۔۔ کتنی بھلی معلوم ہوتی ہے۔۔۔ اور مجھے اب ڈر بھی نہیں لگتا۔۔۔ مجھے اب اس خوف سے نکلنا ہوگا۔”
باہر گلی میں بچے کھیل رہے تھے۔ انہوں نے ایک پٹاخے کو آگ لگائی اور پٹاخہ اندر صحن میں پھینک دیا۔
“یہ دھوپ کتنی خوشگوار ہے۔۔۔ یہ چڑیاں کتنا خوبصورت گاتی ہیں۔۔۔ اور مجھے اب ڈر بھی نہیں لگتا۔۔۔”

ڈزززززز۔۔۔!!!
ایک چیخ۔۔۔ ایسی دل دوز چیخ کہ چڑیاں اڑ گئیں، بچے ڈر کے مارے بھاگ گئے۔
اور وہ کرسی پر ہی بے ہوش ہو گیا۔
پچھلے دھماکے میں بھی وہ بے ہوش ہو گیا تھا۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment