وہ سات بہنوں میں پانچویں نمبر پر تھی۔ گھر میں اس کی حیثیت یورپی ملک میں غیر قانونی طور پر گھس آنے والے سیاہ فام مہاجر جیسی تھی۔ اس کے بے ضرر وجود سے ہر دوسرے فرد کو خواہ مخواہ سا بیر تھا، اور یہی اس کی زندگی کے پہلے دور کا سب سے بڑا روگ تھا۔
پھر اس کی زندگی میں وہ آ گیا، اور وہ ان چھوٹی موٹی باتوں کو جوتی کی نوک پر رکھنے لگی۔ وہ بظاہر بالکل عام سا شخص تھا، مگر اس کے دو بول محبت کی مار ثابت ہوئے، وہ بس!
ایک اکیلی وہی کیا، ہر ترسی ہوئی عورت دو بول محبت کی مار ہی تو ہوتی ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو محبت کے نام پر دھوکہ کھانے میں عورت اور دھوکہ دینے میں مرد چیمپئن نہ ہوتے۔ وہ اسے پا کر پھولے نہیں سماتی تھی، تو اس کا ساتھی بھی اس کی خاطر اپنی ماں اور بہنوں کے سامنے ڈٹ گیا تھا۔ وہ اکثر بڑے فخر سے اپنی سہیلیوں کو بتاتی کہ اس کا ساتھی اس کے لیے کیا کیا کر رہا ہے۔
احمق کو پتا ہی نہ تھا، مرد کی مٹی میں سے اٹھی ہے۔ وہ کبھی کسی کے لیے کچھ نہیں کرتا، اس کا مسئلہ بس اس کی اپنی طلب ہے۔ اپنی طلب ہو تو وہ جھکتا بھی ہے، وہ لڑتا بھی ہے، اور اپنی طلب نہ ہو تو پھر وہ ہو کر بھی نہ ہوتا ہے۔ دلہن بن کر وہ اپنے خوابوں کے گھر پہنچی تو ایک محبت اور ڈھیروں مخالفتیں اس کی منتظر تھیں۔ چوبیس گھنٹے کا ایک محاذ تھا، جس سے اسے نبرد آزما ہونا تھا۔ ساس، جو اپنی بھانجی کو بہو بنانے کی خواہش مند تھیں، زخمی ناگن کی طرح موقع کی تاک میں رہتیں۔ نندوں کو اس کا حسن اور سلیقہ ایک آنکھ نہ بھاتا۔ ان عورتوں کو بھگت کر اسے پتا چلا کہ یورپ میں سیاہ فام مہاجر ہونا کتنے نصیب کی بات ہے۔ وہ جو پیا من بھائے تھی، دیکھتے ہی دیکھتے اس کا محبوب… شوہر بن گیا۔
اپنی ماں بہنوں کے دل دکھانے کی جو جسارت اس سے ہوئی تھی، اس کی تلافی کے لیے وہ عورت کو عورتوں کے حوالے کر کے خود گونگا بہرا بن گیا۔ اس کے دکھوں سے وہ غافل تھا، مگر وہ اس کی بیوی ہے، یہ اسے بخوبی یاد تھا۔ اس لیے جلد ہی وہ امید سے ہو گئی۔ اس کی یہ امید گویا ساس نندوں کی امیدوں پر پانی پھرنے کے مترادف تھی۔
“جس عورت کی ماں نے دھڑا دھڑ سات بیٹیاں جنی ہوں، جو اپنے خاوند کو ایک بیٹے کی خوشی نہ دے سکی ہو، وہ کیا اپنے شوہر کو خوشی دے گی؟ دیکھنا، بیٹیوں کی لائن لگا کر میرے بیٹے کو کہیں کا نہ چھوڑے گی۔”
ساس کا رات دن کا واویلا شروع ہوا، اور پھر خوب رنگ لایا۔
کسی ممکنہ بدبختی سے بچنے کے لیے بچے کی قبل از پیدائش جنس معلوم کرنے کا فیصلہ ہوا، اور الٹراساؤنڈ رپورٹ نے بیٹی کی نوید سنا دی۔ گھر میں سوگ کی سی ویرانی پھیل گئی۔ بیٹی قطعی نامنظور تھی۔ طویل خاموشی کے بعد بالآخر صور پھونکا گیا۔ مدت سے مظلومیت کی چادر میں سمٹا اس کا وجود بہت تڑپا، بہت پھڑپھڑایا، مگر کوکھ اجڑنی تھی، اجڑ کر رہی۔ غم اتنا شدید تھا کہ اس نے خود اپنے کو دلاسا دینا اور اپنا غم اپنے ہی ساتھ بانٹنا سیکھ لیا۔
“میں نے خود عورت کے روپ میں پیدا ہو کر کون سا تیر مار لیا ہے، جو وہ پیدا ہو کر مار لیتی؟ گھٹ گھٹ کر جینے اور بار بار مرنے سے تو پیدا ہوئے بغیر مر جانا اچھا ہے۔ اگر میرے ماں باپ نے بھی مجھے کوکھ میں ہی دفنا دیا ہوتا تو آج میرے سر گناہ کا عذاب ہوتا، نہ دلاسوں کا سراب۔”
جیسے تیسے کچھ عرصے میں دل کو قرار آ ہی گیا، اور اسی کے ساتھ ایک نئی امید بھی، مگر نئی امید کے ساتھ ایک بار پھر وہی پرانا امتحان بھی منہ اٹھائے چلا آیا تھا۔
پھر امتحان ہوا، پھر بیٹی کی نشاندہی ہوئی، پھر وہی تاریخ دہرائی گئی… پھر نیا احساسِ گناہ، نئے دلاسے، نئی تسلیاں، اور پھر ایک نئی امید!
مگر یہ تیسری امید آخری امید تھی۔ وہ ہمیشہ کے لیے بنجر ہو گئی۔ ساس کو آنگن میں کھیلتے ننھے کھلونے کی کمی اب زیادہ ہی ستانے لگی۔ اس کا بانجھ وجود تو اب ناکارہ تھا، چنانچہ ساس کی بھانجی بالآخر اس گھر میں بہو بن کر آ ہی گئی۔ اس کی سوکن چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ اس نے جب خوش خبری سنائی تو جنس معلوم کرنے کی قطعی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔
“جس عورت کی ماں نے چار بیٹے پیدا کیے ہوں، اس کی کوکھ مشکوک ہو بھی نہیں سکتی۔”
اور پھر اس کا شوہر جلد ہی ایک بیٹی کا باپ بن گیا!!
گھر میں خوب چہل پہل تھی۔ اس کی سوکن کے ماں باپ اور بھائیوں کی دعوت تھی۔
“پہلی بیٹی تو خدا کی رحمت ہوتی ہے… اور رحمت کے بعد ہی نعمت کی راہیں کھلتی ہیں۔”
ساس صاحبہ کے روشن فرمودات جس وقت اس کی سماعتوں میں پہنچے، وہ باورچی خانے میں دعوت کی تیاری میں جتی ہوئی تھی۔ پھر نہ جانے ایک دم اسے کیا ہوا۔
اس نے اپنا دوپٹا جلتے چولہے میں جھونک دیا اور خود بے جان بت بن گئی۔
نامنظور… نامنظور…
اس کے ہوش کھوتے وجود میں بلا کا شور تھا، مگر جل کر راکھ ہوتے اس بت کے لبوں پر کوئی آہ نہ تھی۔



تبصرہ لکھیے