ابھی کچھ ہی دنوں کی بات ہے۔ میں بازار جا رہا تھا، گھر کے لیے سودا سلف خریدنے۔ راستے میں ایک دکان آتی ہے جہاں سے میں اکثر چاول، آٹا وغیرہ خریدا کرتا ہوں۔ دکاندار چچا پانچ وقت کے نمازی اور نہایت سیدھے سادھے مسلمان ہیں۔
اس دن حسبِ معمول میں ان کی دکان پر گیا، مگر دکاندار چچا موجود نہیں تھے۔ ان کی جگہ ان کا چھوٹا بیٹا دکان پر بیٹھا تھا۔ اچانک میری نظر کاؤنٹر کے نیچے پڑی ایک کتاب پر پڑی۔ کتاب کا سرورق دیکھتے ہی میں چونک گیا۔ اس کا عنوان کچھ یوں تھا:
“سورۂ فاتحہ کی تفسیر” — از علامہ غ۔پ۔ر۔۔۔ (ایک متنازع شخص کی تفسیرِ قرآن)
میں نے کچھ دیر توقف کیا۔ پھر خاموشی توڑتے ہوئے اس چھوٹے سے بچے سے پوچھا:
“بیٹا! یہ کتاب کس کی ہے، اور یہاں کیسے آئی؟”
اس معصوم بچے نے جواب دیا:
“بھائی! ابو کے ایک دوست آئے تھے، وہ پڑھنے کے لیے ابو کو دے گئے ہیں۔”
تقریباً ایک ہفتے بعد میرا دوبارہ وہاں سے گزر ہوا۔ اسی دوران راستے میں مجھے دکاندار چچا مل گئے۔ سلام دعا اور خیریت دریافت کرنے کے بعد میں نے ان سے کہا:
“چچا! اگر اجازت ہو تو میں آپ سے ایک بات پوچھ سکتا ہوں؟”
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا:
“جی بیٹا! ضرور، کیوں نہیں۔”
میں نے عرض کیا:
“چچا! ایک ہفتہ پہلے میں آپ کی دکان پر آیا تھا۔ جونہی میری نظر کاؤنٹر کے نیچے رکھی اس کتاب پر پڑی، میرا دل بہت خفا ہوا۔ چچا! کیا آپ کو معلوم ہے کہ جس شخص کی یہ تفسیر ہے، وہ کون تھا؟ اور امتِ مسلمہ کے جید علماء کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ قرآن اور حدیث کا کیا مقام ہے؟ قرآن کے بعد حدیث کی حیثیت کیا ہے؟ حدیث، قرآنِ کریم کی صحیح تشریح و تفسیر ہے۔ اگر کوئی قرآن کو مانے لیکن احادیثِ رسول ﷺ کا انکار کرے، تو کیا وہ مسلمان کہلا سکتا ہے؟
چچا! آپ کو اگر کوئی ایسی متنازع چیز پڑھنے کے لیے دے تو بہتر یہی ہے کہ پہلے اسے پڑھیں ہی نہیں، اور اگر پڑھیں بھی تو مخالف نظریات کے بارے میں مستند علمی تیاری ضرور کر لیں۔ چچا جی! یہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے۔ وہ سوائے فتنہ و فساد کے اور کچھ نہیں چاہتے۔ ان کا مقصد ہی مسلمانوں کو قرآن و حدیث سے دور کرنا ہے۔”
دکاندار چچا نے میری بات غور سے سنی، پھر بولے:
“بیٹا! مجھے معلوم ہے کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو۔ مجھے ان کی اور ان کی کتاب کی حقیقت کا علم ہے۔ بیٹا! میں آٹھ مرتبہ ترجمے کے ساتھ قرآنِ پاک ختم کر چکا ہوں۔ مجھے جو رہنمائی قرآنِ مجید سے ملتی ہے، وہ دنیا کی کسی اور کتاب سے نہیں مل سکتی۔ تم نے مزید میری آنکھیں کھول دی ہیں۔ قرآن کے بعد حدیث کا مقام واقعی بہت اعلیٰ و ارفع ہے۔”
یہ کہتے ہوئے وہ آگے بڑھے اور میری پیشانی چومنا چاہی، مگر میں فوراً ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ پھر میں نے احتراماً ان کے دونوں ہاتھ پکڑ کر بوسہ دیا۔
وہ مسکرائے اور کہنے لگے:
“بیٹا! مجھے بہت خوشی ہے کہ مجھے تمہاری صورت میں ایک دوست اور ایک بیٹا مل گیا ہے۔ امید ہے کہ آئندہ بھی ہم اس حوالے سے اظہارِ خیال کرتے رہیں گے۔”



تبصرہ لکھیے