ہوم << طالع کی ارجمندی – فاطمہ عشرت
600x314

طالع کی ارجمندی – فاطمہ عشرت

اسکول سے واپسی پر جیسے ہی گھر کی دہلیز پار کی تو صحن میں بچھے تخت پر اماں کے پاس دو خواتین کو ساتھ بیٹھے گپ شپ کرتے دیکھا۔ حیا نے چند منٹ کا فاصلہ سیکنڈز میں طے کیا اور فوراً سلام کیا۔ وہ پہچان گئی تھی کہ اس کی دلعزیز پھوپھی جان آئی ہیں۔ ان کے ہمراہ ایک خاتون بھی تھیں، جو کافی ماڈرن دکھائی دے رہی تھیں۔ دوپٹہ ان کے گلے میں جھول رہا تھا۔ حیا پھوپھی جان سے گفتگو میں مصروف ہوگئی، جب پاس بیٹھی ان خاتون کے الفاظ کانوں میں پڑے، جو وہ اماں سے کہہ رہی تھیں۔

عرشی بیگم نے حیا کو دیکھ کر جھرجھری سی لی۔ چہرے پر حیرت اور گرمی کی شدت سے عجیب ناگواری کے تاثرات نمایاں تھے۔
“باجی! حیا کا تو دم ہی نکل جائے گا۔ آپ نے اتنی سخت گرمی میں بھی ایسا برقعہ پہنایا ہوا ہے، اور سونے پر سہاگا یہ کہ دستانے اور موزے بھی! مجھے تو یہ دوسری دنیا کی مخلوق لگ رہی ہے، کیونکہ میرا تو ایسے اپنے حلیے میں ہی برا حال ہو جاتا ہے، یہ تو پھر بھی پردے میں قید ہے!”
اماں مسکرا کر ان کی باتیں سنتی رہیں۔ ان کے چہرے پر ایک عجیب سی دھنک تھی۔

“نہیں عرشی، ایسی بات نہیں۔ گرمی تو لگتی ہے، مگر جو کام اللہ کی خوشنودی کے لیے کیا جائے، اس کے حکم کو بجا لایا جائے تو خودبخود اللہ کے حکم سے ایسی طاقت مل جاتی ہے، جس سے ہر چیز برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ بس میری بیٹی کو اللہ پاک نے قبول فرمایا، پھر ایسی ہمت اور ثابت قدمی عطا کی جو ہر موسم، غرض زمانے کی باتوں کو بخوبی برداشت کر لیتی ہے۔ گرمی میں بھی اسے گرمی کا احساس نہیں ہوتا بلکہ پُرسکون ہی رہتی ہے، ماشاء اللہ۔”
حیا اماں کے جوش اور خوشی کو دیکھ کر دل ہی دل میں مسکرا رہی تھی۔ وہ اب آنٹی کی طرف متوجہ ہوگئی۔
“کیسی ہیں آپ، آنٹی؟”

“الحمدللہ، ٹھیک ہوں۔ کیا آپ کو اس میں ذرا بھی گرمی نہیں لگتی؟” عرشی بیگم استفسار کیے بغیر نہ رہ سکیں۔
حیا کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“الحمدللہ، آنٹی! اب نہیں لگتی۔ اللہ کے کام کو جب بندہ اپناتا ہے تو وہ اسے قوتِ برداشت بھی عطا کر دیتا ہے، جو ہر مشکل کو آسانی سے سہہ سکے۔”
پھوپھی نے پھر حیا سے تعارف کروایا کہ یہ عرشی بیگم ان کی نند ہیں۔
حیا کچھ دیر بعد اجازت لے کر اندر کمرے میں آگئی۔ جلدی سے برقعہ اتارا، فریش ہوئی، وضو بنایا اور کچن کی جانب بڑھ گئی۔ جلدی سے کباب نکال کر فرائی کیے، چائے بنائی، نمکو اور کیک سلیقے سے سجا کر ٹرے اٹھائی اور اماں کے پاس چلی آئی۔

عرشی بیگم نے حیا کے سراپے کو بڑے غور سے دیکھا۔ سادگی نمایاں تھی، میک اپ سے عاری چہرہ، سادہ سی چٹیا، شلوار قمیض میں ملبوس، قرینے سے دوپٹہ سر پر لیے، تیزی سے ہاتھ چلاتی ہوئی بڑے سلیقے سے ٹیبل سیٹ کر رہی تھی۔ انہیں وہ لڑکی بڑی بھلی سی لگی۔ اس کی سادگی نے ان کا دل موہ لیا۔
حیا کے اخلاق نے اسے اور بھی دلکش بنا دیا۔ عرشی بیگم بہت متاثر نظر آ رہی تھیں۔ سارے راستے وہ اپنی بھابھی سے حیا کا ذکر کرتی رہیں۔
رات سے ہی حیا کی طبیعت ناساز تھی، اس لیے آج وہ اسکول بھی پڑھانے نہ جا سکی۔ سب کام سمیٹ کر تھوڑی دیر آرام کی غرض سے لیٹی ہی تھی کہ اماں کی کسی سے بات کرنے کی آواز سنائی دی۔ وہ فوراً اٹھی، دوپٹہ سر پر اوڑھا اور کمرے سے باہر آگئی۔ اماں کو ڈھونڈتے ہوئے بیٹھک تک جا پہنچی اور دروازے پر ہی رک گئی۔ پھوپھی کے ہمراہ ایک بار پھر عرشی بیگم تھیں، اور اس بار ان کے سر پر دوپٹہ تھا۔ یہ دیکھ کر وہ شادمان ہوئی۔

عرشی بیگم کی نظر جوں ہی اس پر پڑی، وہ بڑی گرمجوشی سے اس کی طرف لپکیں اور بہت پیار کیا۔ وہ اس اچانک محبت پر بوکھلا سی گئی۔ اسے ان کا یہ رویہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ پھوپھی بھی بڑی تپاک سے ملیں۔ اس بار ان کے لہجے میں خوشی کی کھنک نمایاں تھی۔ وہ حیرانگی سے بس یہ سب دیکھ رہی تھی اور سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
جب اماں نے پکارا تو اس نے خود کو نارمل کیا۔ انہوں نے اسے مہمان نوازی کا کہا تو وہ فوراً کچن کی جانب بڑھ گئی۔ آج طبیعت کی خرابی کے باوجود بھی اس نے ابا کی خواہش کے مطابق بریانی بنائی تھی۔ ساتھ کباب، رائتہ اور سلاد بھی تیار تھا، سو اس نے جھٹ پٹ دسترخوان لگا دیا۔ عرشی بیگم تو اس کی تعریف کرتے نہ تھک رہی تھیں۔ انہیں بریانی بہت پسند آئی۔

رات کھانے سے فراغت کے بعد اماں نے ابا کو پھوپھی اور ان کی نند کے آنے کا اصل مقصد بتایا۔ اماں آنکھوں کے پور صاف کرتے ہوئے کہنے لگیں:
“بچیاں کتنی جلدی بڑی ہو جاتی ہیں۔ آج آپ کی بہن نے جب عرشی بیگم کے بیٹے کے لیے حیا کا ہاتھ مانگا تو میں ایک دم گم صم سی ہو گئی۔ جیسے خود کو یقین دلا رہی ہوں کہ حیا اب اتنی بڑی ہو چکی ہے کہ اس کے لیے شادی کے پیغام آنے لگے ہیں۔ ایک پل میں حیا کے بچپن سے جوانی تک کے اَن گنت واقعات اور اس کا سراپا میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا۔
جب آپ کی بہن نے پکارا تو میں خیالوں کی دنیا سے باہر آئی اور اپنی توجہ ان کی طرف مبذول کی۔ انہوں نے حاشر کی تعریف میں زمین آسمان ایک نہیں کیے، بس ایک ہی جملہ کہا، جو میرے دل کو چھو گیا:

‘باجی! حاشر میں وہ سب اچھی خصلتیں ہیں جو ایک اچھے انسان میں ہونی چاہئیں۔ باقی کمی بیشی تو ہر انسان میں ہوتی ہے۔ وہ بے شک امریکہ میں ایک عرصے سے مقیم ہے، مگر اس کے باوجود اس کی بنیاد نہیں ہلی۔’
انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ وہ حتمی فیصلہ حاشر کے حق میں چاہتی ہیں۔ ‘آپ حیا کا رشتہ اللہ کے بعد مجھ پر بھروسا کر کے دے دیں، ان شاء اللہ آپ مایوس نہیں ہوں گی۔’
آپ بھی اس رشتے پر اچھی طرح نظرِ ثانی کر لیں، پوچھ گچھ بھی کر لیں، حیا کے ابا! تاکہ پوری طرح تسلی ہو جائے۔”
ابا جان بھیگی آنکھوں کو صاف کرنے میں محو تھے۔ اپنی شریکِ حیات کی بات مکمل ہونے کے بعد ذرا کھنکارے، پھر ہمت جمع کر کے گویا ہوئے:

“بیگم! بے شک یہ بڑا ہی کٹھن مرحلہ ہوتا ہے ہر ماں باپ کے لیے۔ بیٹی کو رخصت کرنا جوئے شیر لانے جیسا ہے، اور صحیح شریکِ سفر کا انتخاب، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر گھرانہ، اتنا ہی اہم ہے جتنا زندہ رہنے کے لیے سانس کا ہونا۔ مجھے اپنی بہن کی بات پر اعتبار ہے، پھر بھی میں ہر ممکن پہلو پر غور و فکر کروں گا، بیٹوں سے بھی مشورہ کروں گا، پھر جواب دوں گا۔”
اماں، ابا جان کی بات سے قدرے مطمئن ہو گئیں اور پھر سونے کی تیاری شروع کر دی۔ کچھ دیر بعد دونوں ہی استراحت فرما چکے تھے۔
چند دنوں کی بھاگ دوڑ، پوچھ گچھ اور ہر طرح کی معلومات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ واقعی حاشر ایک اچھا انسان ہے۔ تمام معلومات کافی تسلی بخش رہیں، جس سے پورے گھر کی امید بندھ گئی۔

ہر طرح کی تسلی، استخارے میں ہاں کا اشارہ ملنے اور دل کے اطمینان کے بعد عرشی بیگم کو رضامندی دے دی گئی۔ ان کی تو دلی خواہش پوری ہو گئی۔ وہ کتنی دعائیں مانگ رہی تھیں۔ بس جلد بات پکی کر کے شادی کی تاریخ طے کرنے پر اصرار کرنے لگیں۔
حیا کو جب اماں جان نے بتایا تو اس کے سر پر جیسے ایٹم بم آ گرا۔ وہ کچھ سمجھ ہی نہ پائی کہ کیا کہے، کیسا ردِعمل ظاہر کرے۔ بس خاموش سی ہو گئی۔
جمعے کی شام عرشی بیگم اپنے گھر والوں کے ہمراہ منہ میٹھا کرنے آئیں اور خاندانی کنگن حیا کو پہنا دیے۔ یوں بات پکی ہو گئی۔ شادی ایک سال بعد طے پائی۔ جہیز سے صاف منع کر دیا گیا، کیونکہ عرشی بیگم ان سب رسومات کے خلاف تھیں۔
کزنز نے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔ کوئی کچھ کہتا، کوئی کچھ۔ حیا کے دل کی عجیب حالت تھی۔

ایک کزن نے تو یہاں تک کہہ دیا:
“یہ امریکہ والے پورے انگریز ہوتے ہیں، دین کے بارے میں انہیں الف، بے بھی پتا نہیں ہوتی۔”
دوسری نے تائید کرتے ہوئے کہا:
“تم تو باشرع لڑکی ہو، کیسے نبھا پاؤ گی جب ایسے آزاد ماحول کے فرد سے شادی کرو گی؟”
ایک اور بولی:
“ختمِ نبوت کی کئی ونگز کی ایڈمن ہو، ہر سرگرمی میں آگے ہوتی ہو، اسی میں تمہاری روح بستی ہے۔ اس کے بغیر کیسے رہ پاؤ گی؟”

حیا کو ان سب کی باتیں بے حد پریشان کر گئیں۔ اس کی حالت ایسی ہو گئی جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔
اب وہ زیادہ تر اضطراب میں مبتلا رہنے لگی۔ اپنے کمرے میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ زیادہ تر وقت روتی رہتی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے اور گھر والوں کو کیسے سمجھائے۔
ابا جان حیا کی کیفیت دیکھ رہے تھے۔ وہ اس کے ماتھے پر آئی معمولی سی شکن بھی فوراً بھانپ لیتے تھے۔
ایک رات کھانے کے بعد انہوں نے حیا کو اپنے کمرے میں بلایا، پاس بٹھایا، شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، پھر سینے سے لگا لیا اور پوچھنے لگے:
“میرا بچہ! کیا بات ہے؟ جب سے آپ کی بات طے ہوئی ہے، میں آپ کو پریشان دیکھ رہا ہوں۔ کیا آپ اس رشتے سے خوش نہیں؟”

حیا تو خود موقع کی تلاش میں تھی کہ کسی طرح دل کی بات کر سکے۔ اس کی مشکل آسان ہو گئی، مگر وہ پھر بھی تذبذب میں مبتلا تھی کہ بات کہاں سے شروع کرے۔
آخر ہمت کر کے اس نے کہنا شروع کیا:
“ابا جان! نہ جانے حاشر کیسے شوہر ثابت ہوں گے۔ دین کے معاملے میں میرا ساتھ دیں گے بھی یا نہیں؟ ختمِ نبوت میری روح میں بسی ہے، میں اس کے بغیر کیسے رہ پاؤں گی؟ اگر وہ انکار کر دیں؟ وہ امریکہ میں پلے بڑھے ہیں، ان کا رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا سب وہاں کے لوگوں جیسا ہو گا۔ یہی خدشات مجھے بے چین کر رہے ہیں۔”
یہ کہتے ہی اس کی آنکھیں برسنے لگیں۔
ابا جان اس کا رونا دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ انہوں نے اس کے آنسو صاف کیے، کندھے سے لگایا اور نہایت محبت سے سمجھانے لگے:

“بیٹا! حاشر ایسا نہیں جیسا آپ نے اس کے بارے میں گمان کر لیا ہے۔ ہمیں ہر چیز کا خوب اندازہ ہے۔ ایسے کیسے کسی کو اپنی بیٹی دے سکتے ہیں؟ ہر پہلو سے مطمئن ہونے کے بعد ہی ہم نے ہاں کی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر استخارے میں بھی ہاں کی طرف اشارہ ملا، یعنی اللہ کی رضا بھی شامل ہو گئی۔ پھر یہ بے چینی، یہ فکر اور پریشانی مناسب نہیں۔ اللہ کا فیصلہ ہمیشہ بہترین ہوتا ہے۔ اگر وہ ایسا شریکِ حیات عطا کر رہا ہے تو یقیناً اس نے ہر چیز کے اسباب بھی بنا دیے ہوں گے۔ آپ کو بس اس پر توکل کرنا ہے۔”
ابا جان کی باتوں سے اسے بہت ڈھارس ملی۔ اس کی بے چینی اور گھبراہٹ کافی حد تک ختم ہو گئی۔ اب وہ مطمئن تھی۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔
اب وہ روز دل لگا کر صلوٰۃ الحاجت پڑھتی اور خوب دعائیں مانگتی۔ اللہ پر توکل نے اس کے دل سے ہر قسم کا خوف نکال دیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ ختمِ نبوت کا ساتھ اس سے کبھی نہیں چھوٹے گا، ان شاء اللہ۔

حیا روزانہ دل لگا کر صلوٰۃ الحاجت ادا کرتی اور اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعائیں مانگتی۔ اللہ پر کامل توکل نے اس کے دل سے ہر قسم کا خوف اور اضطراب نکال دیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ ختمِ نبوت کا ساتھ اس سے کبھی نہیں چھوٹے گا، ان شاء اللہ۔

یارب! نظروں کو آج کچھ ایسی بینائی دے،
جدھر دیکھوں مجھے مدینہ دکھائی دے۔
کاش ایسی روانی ہو آج ہواؤں میں،
نبیؐ پر درود بھیجوں اور آواز سنائی دے۔
وہ عرش کا چاند ہیں، میں ان کے قدموں کی دھول ہوں،
اے زندگی! گواہ رہنا، میں غلامِ رسولؐ ہوں۔

کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ حیا بخیر اپنے گھر کی ہو گئی۔ رخصتی کے فوراً بعد وہ امریکہ چلی گئی، کیونکہ حاشر شادی سے پہلے ہی تمام دستاویزات مکمل کروا کر جمع کروا چکے تھے۔ اسی وجہ سے نکاح شادی سے پہلے کر دیا گیا تھا۔ آج امریکہ میں اس کی پہلی صبح تھی۔ وہ فجر کے وقت بیدار ہوئی تو حاشر کو بستر پر نہ پا کر پریشان ہو گئی۔ ابھی وہ انہیں تلاش کرنے کے ارادے سے اٹھنے ہی والی تھی کہ وہ سامنے سے آتے دکھائی دیے۔ ان کے چہرے اور بازوؤں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، جو غالباً وضو کی نشاندہی کر رہے تھے۔ حاشر تولیے سے چہرہ اور بازو خشک کرتے ہوئے مسکرا کر بولے:

“السلام علیکم، حیا بیگم! بیدار ہو گئیں آپ؟ میں تو وضو کے بعد آپ کو جگانے ہی والا تھا۔ اچھا، فجر کی نماز کا وقت ہو چکا ہے، جماعت بس کھڑی ہونے والی ہے۔ آپ بھی نماز ادا کر لیجیے، میں مسجد جا کر نماز پڑھ کر آتا ہوں، ان شاء اللہ۔”
حیا حیرت سے انہیں دیکھتی رہ گئی۔ امریکہ جیسے ملک میں فجر کی نماز کی ایسی پابندی! اسے سب کچھ کسی خواب جیسا محسوس ہو رہا تھا۔
حاشر نے اس کی خاموشی بھانپ لی۔ ہلکی سی مسکراہٹ اور شوخی بھرے لہجے میں بولے:
“ارے، حیا بیگم! کہاں کھو گئی ہیں آپ؟ مابدولت کو اس طرح نہ گھوریں۔ ہم اتنے بھی گئے گزرے نہیں کہ نماز بھی پابندی سے ادا نہ کرتے ہوں۔ تھوڑے بہت اچھے مسلمان تو ہم بھی ہیں۔”

حیا ایک دم چونک گئی۔ اپنی چوری پکڑی جانے پر ہلکا سا شرما گئی اور جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
“جی، ایسی بات نہیں۔ بس نئی جگہ ہے، شاید اس لیے تھوڑا وقت لگے گا۔ ان شاء اللہ جلد ہی سیٹ ہو جاؤں گی۔ اور جزاکم اللہ، میں بھی وضو کرنے جا رہی ہوں۔”
حاشر سر پر ٹوپی پہنتے ہوئے بولے:
“فی امان اللہ۔” یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئے۔
حیا کی خوشی کی انتہا نہ رہی، جب اس نے اپنے شوہر کو ہر نماز باجماعت اور پابندی کے ساتھ ادا کرتے دیکھا۔ اس کے دینی معاملات میں بھی کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کرتی، کم تھا۔

دن اتنی تیزی سے گزرنے لگے کہ اسے اندازہ ہی نہ ہوا۔ شروع میں کچھ دقت ضرور ہوئی، مگر آہستہ آہستہ وہ نئے ماحول سے مانوس ہو گئی۔ بلاشبہ حاشر ایک اچھے اور نیک شوہر ثابت ہوئے۔
اب اس نے ارادہ کیا کہ ختمِ نبوت کے کام کو وہیں سے دوبارہ شروع کرے، جہاں شادی کی وجہ سے چھوڑنا پڑا تھا۔
وہ مختلف لوگوں سے ملنے جلنے لگی، جن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی۔ لیکن ایک چیز نے اسے شدید صدمہ پہنچایا۔ اس نے دیکھا کہ بہت سے مسلمان اس فرق کو معمولی سمجھ کر بیٹھے ہیں کہ قادیانی کافر ہیں۔ اکثر دعوتوں میں قادیانی بھی شریک ہوتے اور ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا جیسے وہ عام مسلمان ہوں۔
یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ اس کا دم گھٹنے لگا اور طبیعت بگڑ گئی۔ جو خاتون اسے ساتھ لے گئی تھیں، وہ فوراً اسے گھر واپس لے آئیں۔

کچھ سنبھلنے کے بعد اس نے فوراً شبانِ ختمِ نبوت کے ادارے کا نمبر ملایا، پوری صورتحال سے آگاہ کیا اور رہنمائی طلب کی۔ وہاں سے اسے جلد ایک سیشن منعقد ہونے کی خوشخبری ملی، اور یہ بھی بتایا گیا کہ مولانا منیر علوی صاحب آئندہ چند دنوں میں امریکہ کے دورے پر آ رہے ہیں۔ یہ سن کر اس کی جان میں جان آئی۔ اسے ضروری ہدایات بھی دے دی گئیں کہ اس دوران اسے کیا کرنا ہے۔ جب حاشر کے سامنے اس نے ختمِ نبوت کے کام کا ذکر کیا تو انہوں نے بغیر کسی اعتراض کے اجازت دے دی، بلکہ اپنی خدمات پیش کرنے کی بھی پیشکش کی۔ حیا ان کے اس رویے پر بے حد ممنون ہوئی۔ اس کے لیے یہی بہت تھا کہ شوہر نے اس کے دینی کام میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔
اس نے اپنے گھر میں چھوٹے چھوٹے سیشن منعقد کرنے شروع کیے اور بنیادی عقائد پر گفتگو کرنے لگی۔ آہستہ آہستہ اس کی محنت رنگ لانے لگی اور اللہ تعالیٰ نے اسے کامیابی عطا فرمائی۔

ایک دن حاشر اپنے ایک گہرے دوست، جو اب ان کے بزنس پارٹنر بھی تھے، کو دوپہر کے کھانے پر ساتھ لے آئے۔ صبح ہی انہوں نے حیا سے خاص اہتمام کرنے کو کہا تھا، اس لیے وہ تب سے کچن میں مصروف تھی۔ اس نے کئی قسم کے کھانے تیار کر رکھے تھے۔
حاشر جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے، کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو نے ان کی بھوک اور بھی بڑھا دی۔
ساتھ آئے ہوئے دوست بھی مسکرا کر بولے:
“واہ! خوشبو تو لاجواب آ رہی ہے، بھوک اور بڑھ گئی۔”
حیا پہلے ہی کھانا میز پر سجا چکی تھی۔ مہمان نے کھانا بڑے شوق سے کھایا اور حیا کے ہاتھ کے ذائقے کی خوب تعریف کی۔

حاشر اسی دوست کے ساتھ اپنی زندگی کی ایک نہایت اہم کاروباری ڈیل پر دستخط کر چکے تھے۔ اس میں انہوں نے خاصی سرمایہ کاری بھی کی تھی اور کامیابی کے امکانات روشن دکھائی دے رہے تھے۔
دونوں اسی سلسلے میں گفتگو کر رہے تھے کہ حیا چائے کی ٹرے لے کر وہاں آ گئی۔ ابھی وہ انہیں آواز دینے ہی والی تھی کہ مہمان کے چند الفاظ نے اس کے قدم وہیں جما دیے۔
اسے معلوم ہوا کہ حاشر کا یہ دوست قادیانی ہے، اور وہ کہہ رہا تھا:
“بزنس میں مذہب کو نہیں لانا چاہیے، ورنہ انسان انتشار کا شکار رہتا ہے۔ میں قادیانی ہوں، میں نے یہ بات تم سے چھپائی نہیں۔ ہمارے نبی نے تو ہر مذہب کی عزت کرنا سکھایا ہے، اسی لیے میں کبھی ان باتوں کو اپنے کام کے درمیان نہیں لاتا۔”

حاشر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
“بالکل یار! میں تمہاری بات سے متفق ہوں۔”
یہ الفاظ سن کر حیا کے لیے خود کو سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ وہ بڑی مشکل سے اپنے کمرے تک پہنچی۔ اس کے جسم سے جیسے جان نکل گئی تھی۔ رات تک وہ بخار میں تپنے لگی۔
حاشر اپنے دوست کے ساتھ باہر چلے گئے تھے اور رات گئے واپس آئے۔ حیا کی طبیعت دیکھ کر وہ ششدر رہ گئے۔
“یہ کیا ہو گیا؟ شام کو تو تم بالکل ٹھیک تھیں!” وہ سخت پریشان ہو گئے۔
حیا انہیں دیکھ کر اٹھ بیٹھی۔ خاموشی سے آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کرنے لگی۔

حاشر متفکر لہجے میں بولے:
“کیا ہوا، حیا بیگم؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟”
حیا نے اداس نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔
“میں آپ سے ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟”حاشر نے سر ہلا کر اجازت دی۔
حیا نے دھیمی آواز میں پوچھا:
“اگر کل کوئی میرے بارے میں بری بات کرے، مجھے رسوا کرنے کی کوشش کرے، تو آپ ایسے شخص کے ساتھ کیسا سلوک کریں گے، چاہے وہ آپ کا کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو؟”

حاشر فوراً سنجیدہ ہو گئے۔
“چاہے وہ میرا کتنا ہی قریبی ہو، میں ہرگز یہ برداشت نہیں کروں گا کہ کوئی میری بیوی کے بارے میں ایسی بات کرے۔ میری بیوی میری عزت ہے، میرا مان ہے۔ میں اسے ایسا جواب دوں گا کہ وہ ہمیشہ یاد رکھے گا، بلکہ اس سے تعلق بھی ختم کر دوں گا۔”
وہ سن کر حیا کے آنسو مزید تیزی سے بہنے لگے۔ رندھی ہوئی آواز میں بولی:

“میرے نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس تو سب سے افضل ہے، پھر آپ نے اس قادیانی کے ساتھ کاروباری معاہدہ کرتے وقت یہ کیوں نہیں سوچا؟ آپ اسے اپنا دوست کیسے بنا سکتے ہیں؟ کیا آپ کو اس سے اتنی محبت ہے کہ آپ کو اپنے پیارے نبی ﷺ کی ذاتِ مبارکہ نظر نہیں آ رہی؟
میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں، مگر اپنے رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہوں۔ میں ہرگز یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ میرا شوہر ایسے شخص سے تعلق رکھے جو میرے نبی ﷺ کا دشمن ہو۔ میں آپ کو اس دلدل میں دھنستا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔”
حیا کی باتیں سن کر حاشر خاموش رہ گئے۔ وہ جیسے سکتے میں آ گئے تھے۔ انہوں نے اس پہلو سے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ ان کے لیے تو وہ کاروباری معاہدہ سب سے اہم تھا۔

اب وہ واقعی شرمندہ تھے۔
اس رات وہ اللہ تعالیٰ کے حضور بہت روئے، خوب گڑگڑا کر توبہ کی۔ انہیں احساس ہو چکا تھا کہ وہ ایک غلط راستے پر چل پڑے تھے۔ جب انہیں اپنی لغزش کا احساس ہوا تو وہ خود اپنی نظروں میں گر گئے۔
اسی دوران وہ مبارک دن بھی آ پہنچا جب مولانا منیر علوی صاحب امریکہ تشریف لائے۔ ان کے ساتھ دیگر مبلغین بھی موجود تھے۔
سیشن میں حیا کے ساتھ حاشر بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے نہ صرف شرکت کی بلکہ ہر سرگرمی میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیا۔
مولانا صاحب نے تحریکِ ختمِ نبوت کا پس منظر، اس کی تاریخ اور اس کے مقاصد پر تفصیلی گفتگو کی۔ ان کا اندازِ بیان محبتِ رسول ﷺ اور عقیدت سے بھرپور تھا، اور ہر لفظ سامعین کے دلوں میں اترتا چلا جاتا تھا۔

مولانا منیر علوی صاحب نے تحریکِ ختمِ نبوت کا پس منظر بیان کیا کہ یہ کس طرح وجود میں آئی، کس طرح چند طلبہ کی ایک مختصر سی کوشش وقت گزرنے کے ساتھ ایک منظم تحریک میں تبدیل ہوئی، اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے کس قدر وسیع پیمانے پر اس کا کام جاری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس تحریک کا بنیادی مقصد ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ ہے۔ ان کا اندازِ بیان محبتِ رسول ﷺ، عقیدت اور جذبۂ ایمان سے لبریز تھا۔ ان کی گفتگو کا ہر لفظ حاضرین کے دلوں میں اترتا چلا جاتا تھا۔
حاشر کے ذہن میں موجود بہت سے سوالات اور الجھنیں اس نشست کے بعد دور ہو چکی تھیں۔ اس سیشن نے ان کی سوچ پر گہرا اثر ڈالا۔ اب وہ نہ صرف حیا کے جذبے کو سمجھ چکے تھے بلکہ اس کے دینی کام میں اس کے حقیقی ساتھی بن گئے تھے۔

حیا اللہ تعالیٰ کی بے حد شکر گزار تھی کہ اس نے اسے ایسا شریکِ حیات عطا فرمایا، جو وقت گزرنے کے ساتھ اس کے قدم سے قدم ملا کر چلنے والا ثابت ہوا۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ جب انسان اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرتا ہے تو وہ دلوں کو بھی بدل دیتا ہے اور راستے بھی آسان کر دیتا ہے۔
آخر میں اس کی زبان پر بے اختیار یہ اشعار جاری ہو گئے:

توڑیں گے ہر ایک لات و ہبل، جھوٹے نبی کا،
منہدم ہر ایک مسجدِ ضرار کریں گے۔

سو بار اگر ملے ہم کو زیست کی نعمت،
قربان شہِ کونین ﷺ پر ہر بار کریں گے۔

اس دور میں ہو جرم اگر عشقِ محمد ﷺ،
اس جرم کا اقرار سو بار کریں گے

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment