ہوم << مظلوم بھی میرا ہے اور ظالم بھی میرا - حافظ یوسف سراج

مظلوم بھی میرا ہے اور ظالم بھی میرا - حافظ یوسف سراج

یوسف سراج قصور کس کا تھا اور غصہ پرور انا کس کی تھی ، مجھے معلوم نہیں، مگر جب کسی طاقتور کا گھونسہ کسی کمزور پر پڑتا ہے تو میرا ہاتھ بےاختیار اپنے گال کی طرف اٹھ جاتا ہے. ایسے سمے مجھے دل میں درد اور گالوں پر طمانچے کے نشاں محسوس ہوتے ہیں اور میرے کانوں میں سناٹے چیخنے لگتے ہیں.
مجھے یاد آتا ہے کہ نبوت سے پہلے ایک دن میرے رسول اکیلے ہی ایک کمزور کے ساتھ مکہ کے سبھی ناخدائوں سے ٹکرانے نکلے تھے، اور پھر ایک دن آپ نے ارشاد کیا تھا، قومیں اس لیے تباہ ہوگئیں کہ انھوں نے کمزور پر طاقت کا قانون لاگو کیا، اور اشرافیہ کو مگر قانون سے بالاتر کر دکھایا. مجھے یاد آتا ہے کہ کسی دن مدینہ میں، سب سے پیارے ہوتے سفارشی اسامہ سے میرے اس حبیب رسول نے کہا تھا، یہ تو قریش کی ایک فاطمہ ہے، اگر یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی لخت جگر فاطمہ بھی ہوتی، اور چوری کر بیٹھتی تو میں سو جان سے اپنی لاڈلی پر قربان رحمہ العالمین باپ، اس پھول سی فاطمہ کی نازک کلائی سے اس کا ہاتھ الگ کر دیتا! ضرور کر دیتا اور کوئی محبت مجھے روک نہ سکتی. اس لیے نہ روک سکتی کہ سب محبتوں بالا میری اک محبت اس ذات سے بھی ہے کہ جس کے حضور اک دن سبھی محبتوں اور طاقتوں کو جوابدہ ہونا ہے.
درد ہے اور اس سے کہیں زیادہ جتنا کسی پھول سے کشمیری پر کسی ظالم بھارتی سینا کے پڑے گھونسے سے ہوتا ہے. اور زیادہ، کہیں زیادہ. اور یہ دو طرفہ بھی ہے. یعنی کچھ اور اذیت ناک!
مظلوم ہی ہمارا ہونا تھا اے کاش! کم از کم ظالم ہی کسی اور کے حصے میں آیا ہوتا! آہ! میری قسمت مظلوم بھی میرا ہے اور ظالم بھی میرا! اور اب جو خسارہ ہونا ہے وہ بھی میرا، جو ہو چکا وہ بھی میرا. کوئی شاعر ،کوئی ادیب مجھے وہ نوحہ بتائے، جسے وہ باپ گا سکے ،جس کا ایک بیٹا قاتل ہو اور ایک مقتول! کیا وہ باپ یہی کہے گا :دو ینگ آفیسرز نے. .... دو ینگ اور اب یعنی انصاف بھی ہوگا! ٹویٹ میں کہا یہ گیا ہے کہ جتنا انصاف دو ینگ آفیسر کر گئے، اس کے علاوہ ابھی کچھ اور بھی”انصاف“ کیا جائے گا. مارے دہشت کے میرے دونوں ہاتھ میرے دونوں رخساروں سے چمٹ گئے ہیں.
اور ہاں آپ سب کو عید مبارک ! کل عید بھی تو ہے نا! سوچتا ہوں کاش موٹر وے کے کمزور کی اس زندگی میں یہ آخری قربانی ہو!