ہوم << ہے کوئی اس باپ بیٹے جیسا؟ فیض اللہ خان

ہے کوئی اس باپ بیٹے جیسا؟ فیض اللہ خان

فیض اللہ خان جب جہاد دہشت گردی کا متبادل بنا دیا گیا، جب آزادی کے لیے مسلح مزاحمت کو انتہا پسندی کے عنوان سے جوڑ دیا گیا ، جب کشمیر کی تحریک آزادی کو کیا اپنے کیا پرائے سبھی فراموش کرچکے تھے، جب نحیف و نزار سید علی گیلانی بھولی بسری یاد بننے لگا تو ایسے میں برہان الدین وانی وادی کے افق پہ روشن ستارے کی طرح نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی سحر انگیز شخصیت کے سبب نوجوانوں کے دلوں پہ راج کرنے لگا. زمین کا بیٹا ہونے کے سبب کشمیریوں کو اس پہ بڑا مان بھی تھا، جلد ہی ہنسنے کھیلنے والے اس حریت پسند نے اپنی خوبصورت جوانی ہند کے خلاف تحریک پہ لٹا دی اور یوں ہوا کے دوش پہ کئی دیے جلا گیا، وہ سرینگر میں پاکستان کا پرچم بن کر ابھرا تھا، وہی پاکستان جو بدلے حالات میں کشمیریوں کو یوں بھلا چکا تھا جیسے امریکا ہمیں۔ لیکن اس جوان سال شہید نے لہو سے جو دیپ روشن کیا، اس نے ہر صاحب دل کو نئی راہیں سجھا دیں۔ یہاں تک کہ نواز شریف سرکار نے برہان وانی کو سرکاری سطح پر شہید قرار دیا، طویل عرصے بعد مؤقف اختیار کیا کہ بات ہوگی تو صرف کشمیر پر!
اور تو اور، عاصمہ جہانگیر جیسی ہند دوست شخصیت نے بھی مجبور ہوکر سول سوسائٹی کو متحرک اور لبرل حلقوں سے اپیل کی کہ اس معاملے کو لے کر اٹھ کھڑے ہوں، انہوں نے مودی کو چالاک لومڑ سے تشبیہ دی. یہ بھی یاد رہے کہ خوفناک چھروں کے استعمال سے بینائی کھونے والے کشمیریوں کے معاملے کو جبران ناصر نے اس شاندار انداز سے نمایاں کیا کہ عالمی میڈیا بھی اس کا نوٹس لینے پہ مجبور ہوا، بلاشبہ وہ متاثر کن کاوش تھی جس میں ہندی سماج و سیاست کے بڑوں کے چہرے چھروں سے نشان زدہ دکھائے گئے تھے۔ اسی طرح ایک پاکستانی نوجوان گلوکار نے ایک زبردست گانا تخلیق کیا ہے جسے بی بی سی کے مطابق یوٹیوب پہ لاکھوں کشمیری دیکھ و سن چکے ہیں اور کشمیری اس گانے ” کشمیر کی آزادی تک انڈیا کی بربادی تک جنگ رہے گی“ کی رنگ ٹون موبائل فون پہ دھڑا دھڑ لگا رہے ہیں۔
کشمیر کا معاملہ ایک بار پھر نمایاں ہے تو اس میں صرف اور صرف کشمیریوں کی قربانی ہے، ہمارا کوئی کردار نہیں، یہی وجہ ہے کہ کشمیری نوجوان آج بھی نعرہ لگاتا ہے کہ ”ترقی نہیں آزادی چاہیے۔“
ہم پاکستانیوں کی جانب سے کشمیری عوام کو محبتوں بھرا سلام قبول ہو، خاص طور پہ وانی کے والد محترم کو جو یہ کہہ کر اس تحریک کی نظریاتی اساس کو واضح کرتے ہیں کہ ”پہلے اللہ پھر بیٹا، پہلے رسول پھر بیٹا، پہلے قرآن پھر بیٹا“۔ ہے کوئی اس جیسا باپ بیٹا؟