ہوم << رنگ بازی - عبدالرحمن قیصرانی

رنگ بازی - عبدالرحمن قیصرانی

’’لالے کا جان یہ لو تمارا چائے‘‘
بیرے نے چائے میرے سامنے میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ سفید چینی کی پِرچ میں نازک سی پیالی رکھی تھی۔ گرم چائے پیالی میں بہت خوش رنگ دکھائی دے رہی تھی۔ میرے سامنے والی کرسی پر ’رمضو‘ بیٹھا تھا۔ وہ مسلسل میرے عقب میں کسی چیز کو گھور رہا تھا۔ میں نے اُسے پہلے کبھی وہاں نہیں دیکھا تھا۔ وہ اُس چائے خانہ کے سامنے سے ضرور گزرتا تھا مگر کبھی اندر نہیں آیا تھا۔ جبکہ اس جگہ چائے پینا میرا روز انہ کا معمول ہے۔ لیکن آج رمضو کو وہاں دیکھ کر خود بخود توجہ اُس کی طرف تھی۔ مجھے لگا کہ وہ کسی خاص چیز کو دیکھ رہا ہے۔ اتنے میں کسی تیزرفتار گاڑی کے اچانک رُکنے کی آواز سنائی دی۔ ٹائروں کی چرچراہٹ سے سب کا دھیان باہر سڑک کی طرف گیا۔ نوجوان لڑکے لڑکیوں سے لدی پھندی ایک گاڑی آکر رُکی تھی۔ وہ لوگ اُچھلتے کودتے گاڑی سے اُترے، آپس میں خوش گپیاں اور ہنسی مذاق کرتے ہوئے کونے میں پڑی دو میزوں کی طرف بڑھے۔ یہ سب یونیورسٹی کے طلبہ تھے۔ قریب ہونے کی وجہ سے اکثر اس چائے خانہ میں آیا کرتے۔ میں نے چائے کا ایک گھونٹ لیا اور دوبارہ رمضو کی طرف متوجہ ہوا۔ اُن لوگوں کی طرف دیکھ کر اُس نے زیرِ لب کہا۔ ’’رنگ بازی..‘‘ میں نے اُس کو کبھی اتنے قریب سے نہیں دیکھا تھا۔ وہ ہمیشہ ایک ہی طرز کے خستہ لباس میں نظر آتا۔ پرانے چپل اور کھلا گریبان۔ سر کے بال بےترتیب اور ڈاڑھی بڑھی ہوئی۔آستین کے بٹن تو گویا کبھی بند کیے ہی نہ تھے۔ عمر میں وہ پینتالیس کے لگ بھگ لگتا تھا۔ حقیقت میں کم عمر تھا۔ محلے کے لوگ اُسے نظر انداز کرتے۔ وہ سارا دن مسلسل پیدل چلتا، گلیوں اور سڑکوں کا گشت کرتارہتا۔ کئی مرتبہ میرے سامنے سے گزرا تھا۔ میں اُسے آوارہ گرد سمجھتا اور اپنا راستہ بدل لیتا لیکن آج اُسے وہاں چائے خانہ کی میز پر دیکھا تو تعجب ہوا۔ اُس کے سامنے چائے رکھی تھی۔ ایک کاغذی لفافہ اس کے سامنے رکھا تھا اس میں نمک پارے تھے۔ اُس نے ایک بار پھر اپنے سامنے اور میرے عقب میں اُسی چیز کو دیکھنا شروع کر دیا جسے وہ کافی دیر سے گھور رہا تھا۔
میں نے گھوم کر پیچھے دیکھا۔ پیچھے والی دیوار پہ ایک شیلف کے اوپر ٹیلی وژن رکھا تھا۔ رمضو اسی کو گھور رہا تھا۔ ٹی وی پر صرف مناظر نظر آرہے تھے، آواز نہیں آ رہی تھی۔تازہ خبریں نشر ہو رہی تھیں۔ میں نے بھی اپنی کرسی ذرا گھما لی اور کچھ اس انداز میں بیٹھ گیا کہ ٹی وی بھی نظر آنے لگا۔ نیوزکاسٹر مسلسل کچھ بول رہی تھی۔ سکرین پر تیزی سے مناظر تبدیل ہو رہے تھے۔ لیکن میرا دھیان اب بھی بار بار رمضو کی طرف جاتا۔ میں اس سے بات چیت کرنا چاہتا تھا لیکن میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا بات کروں۔بالآخر میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا حال ہے۔ اُس نے ایک لمحہ کے لیے میری طرف دیکھا۔ منہ سے کچھ نہیں بولا اور دوبارہ ٹی وی کو گھورنے لگا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ جواب دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ میں وقفے وقفے سے چائے کی چسکیاں لیتا رہا۔ چائے بہت مزیدار بنی تھی۔ غیر ارادی طور پر میری نظر ٹی وی سکرین پر پڑی، لوگوں کا ایک ہجوم دکھایا جارہا تھا۔ پر جوش اور جذباتی لوگ ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر نعرے لگا رہے تھے۔ ایک سیاسی رہنما اس ہجوم سے خطاب کر رہا تھا۔ ہجوم میں نوجوانوں کی کثرت تھی اور خواتین کی موجودگی گویا منفرد بات تھی۔ لوگوں نے رنگین پرچم اُٹھا رکھے تھے اور اسی طرح کی پٹیاں بازوئوں پر باندھ رکھی تھیں۔ کچھ ناچ رہے تھے اور کچھ سیٹیاں اور تالیاں بجا رہے تھے۔ یہ رہنما اور اس کا سیاسی گروہ آج کل بہت زیادہ تقریریں اور جلسے جلوس کر رہا ہے۔ غافل عوام کوروایتی غفلت سے جگانے کے لیے پُر زور تحریک چلائی جا رہی ہے۔ ملک کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں اس گروہ کے کارکن اپنی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، ہر سیاسی گروہ دوسرے گروہ کے خلاف سرگرم ہے اوراقتدار کے لیے کھینچا تانی، آج کل تو بس یہی سیاست ہے۔ میں نے رمضو کو دیکھا تو وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ٹی وی سکرین پر یہ سب مناظر دیکھ رہا تھا۔ مجھے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر اُس نے کہا ’’رنگ بازی...‘‘۔ میں نے اس لفظ پر غور کیا مگر کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اس کی شانِ نزول کیا ہے۔ اس نے خود کلامی کے انداز میں کہنا شروع کیا۔ ـ’’ ہونہہ! نرے رنگ باز، اج اس دے نال، کل اُس دے نال اور او سب آپس اچ نال نال اور اے سب اتھے دے اتھے‘‘۔اُس نے ٹی وی سے نظریں ہٹا لیں اور اپنے سامنے رکھی چائے کی پیالی کو گھورنے لگا۔’’صدیاں دی، حکومت سی دنیا تے ہیبت سی، رنگ بازی وچ لگ کے سب گنوا بیٹھے ........جیڑھے کل تک تہاڈا نام سن کے ڈردے سی.... اج تُسی اوناں تو ڈر رہے او‘‘۔ وہ بُڑبُڑایا۔ اُس کی بات وقتی طور پر سمجھ نہ آئی مگر کچھ دیر بعد ذہن پر اجداد کی تاریخ اور موجودہ انسانی رویے سے لے کر معاشرتی بدحالی اور قابلیت و استعداد کے فقدان تک سب مضمون اُترنے لگے۔

Comments

Click here to post a comment