بات عموماً بڑے ادب اور احترام سے شروع ہوتی ہے: ”السلام علیکم! میں آپ کے بینک کے ہیڈ آفس سے بات کر رہا ہوں۔ آپ کا کارڈ بلاک ہو گیا ہے۔ ابھی آپ کو جو چھ ہندسوں کا کوڈ موصول ہوا ہے، وہ بتا دیجیے۔“ اور چند ہی منٹوں میں ایک خاندان اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو جاتا ہے۔بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف لاپرواہ افراد ہی ایسی چالوں کا شکار ہوتے ہیں، لیکن ذرا سوچیے! جنوری 2026 میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایوان کو بتایا کہ کسی نے ان کی آواز کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں سے پیسوں کا مطالبہ کیا تھا۔
آن لائن فراڈ اب ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو 2025 میں ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔ ان میں سے تقریباً 82 ہزار شکایات مالی فراڈ سے متعلق تھیں، جبکہ تقریباً 3 ہزار شکایات واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک ہونے کے حوالے سے تھیں۔ وزیر کے مطابق مالی فراڈ کے کیسز میں مجموعی طور پر تقریباً 2 ارب 71 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، جس میں سے اب تک تقریباً 45 کروڑ روپے واپس حاصل کیے جا چکے ہیں۔اکتوبر 2026 میں قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال اب تک تقریباً ایک لاکھ 48 ہزار شکایات موصول ہو چکی ہیں، جن میں بھی سب سے زیادہ، یعنی تقریباً 71 ہزار، شکایات مالی فراڈ سے متعلق ہیں۔
فراڈیے وقت کے ساتھ اپنے طریقۂ واردات میں تبدیلی کرتے رہتے ہیں، لیکن ان کے ہتھکنڈے زیادہ تر ایک جیسے ہوتے ہیں۔ جعلی بینک، بی آئی ایس پی اور سرکاری کالز: کوئی شخص خود کو بینک، پی ٹی اے یا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نمائندہ ظاہر کرکے آپ سے پن، او ٹی پی یا شناختی کارڈ نمبر مانگ سکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ بی آئی ایس پی کے سرکاری پیغامات صرف 8171 سے موصول ہوتے ہیں۔ واٹس ایپ ہیکنگ: آپ کو کسی بہانے سے ایک کوڈ موصول ہوتا ہے اور فون کرنے والا شخص اسے ”غلطی سے بھیجا گیا کوڈ“ قرار دے کر آپ سے مانگتا ہے۔ این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل سید خرم علی کے مطابق، واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہی کوڈ کسی دوسرے شخص کے ساتھ شیئر کرنا ہے۔ اس کے بعد فراڈیے اسی اکاؤنٹ کے ذریعے آپ کے رشتہ داروں اور دوستوں سے پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جعلی ای چالان اور انعامی پیغامات: اسلام آباد، کراچی اور پنجاب پولیس نے ٹریفک جرمانوں کے جعلی لنکس پر مشتمل پیغامات سے شہریوں کو خبردار کیا ہے۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق، اصلی ای چالان کے پیغام میں کوئی لنک موجود نہیں ہوتا اور یہ پیغام صرف 9915 سے موصول ہوتا ہے۔
ٹاسک والی نوکریاں اور سرمایہ کاری کی ایپس: ابتدا میں ویڈیوز کو لائک کرنے یا معمولی آن لائن کام کرنے کے عوض چھوٹی رقم دی جاتی ہے۔ اس طرح اعتماد حاصل کرنے کے بعد لوگوں کو ٹیلی گرام یا واٹس ایپ گروپس کے ذریعے بڑی رقم کی سرمایہ کاری پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ بعدازاں ان کی رقم ہڑپ کر لی جاتی ہے۔ غیر قانونی قرض ایپس: ایسی ایپس صارفین کے فون سے رابطہ نمبرز اور تصاویر تک رسائی حاصل کرتی ہیں۔ بعد میں قرض کی وصولی کے نام پر صارفین اور ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کیا جاتا ہے۔اے آئی کے ذریعے آواز کی نقل: مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے کسی رشتہ دار یا قریبی عزیز کی آواز کی نقل تیار کرکے فوری پیسوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ایسی کالز میں آواز اتنی حقیقی محسوس ہو سکتی ہے کہ عام شخص کے لیے دھوکا پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔
اچھی بات یہ ہے کہ متعلقہ ادارے سائبر کرائم اور آن لائن فراڈ کی روک تھام کے لیے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ این سی سی آئی اے، جس نے ایف آئی اے سے سائبر کرائم سے متعلق ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، نے مختلف شہروں میں متعدد کارروائیاں کی ہیں۔جولائی 2025 میں فیصل آباد کے ایک جعلی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 149 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 71 غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ دسمبر 2025 میں کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے میں ایک نیٹ ورک پکڑا گیا، جس کی مالیت وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے مطابق تقریباً 6 کروڑ ڈالر تھی۔ اس کارروائی کے دوران 34 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 10 ہزار سے زائد غیر ملکی سمیں برآمد کی گئیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ بینکنگ ایپس کو صارف کے رجسٹرڈ فون سے منسلک کیا جائے، نئے فون کو اکاؤنٹ کے ساتھ منسلک کرنے پر صارف کو فوری اطلاع دی جائے، اہم تبدیلیوں کے لیے کچھ وقت کی مہلت رکھی جائے اور بینک کا عملہ کبھی بھی صارف سے او ٹی پی طلب نہ کرے۔
نومبر 2025 میں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے اسٹیٹ بینک کے تعاون سے ملک گیر آگاہی مہم ”کلک کرنے سے پہلے سوچیں“ (Think Before You Click) بھی شروع کی۔پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران غیر قانونی طور پر جاری کی گئی ایک کروڑ 82 لاکھ سمیں بلاک کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ سم خریدنے والوں کی چہرے سے تصدیق کا عمل بھی شروع کیا جا رہا ہے۔اسی طرح ایس ای سی پی نومبر 2024 تک 142 غیر منظور شدہ قرض ایپس پر پابندی عائد کر چکا تھا۔ ادارہ اپنی ویب سائٹ پر منظور شدہ اور ممنوعہ ایپس کی فہرست بھی جاری کرتا ہے۔
آن لائن فراڈ سے بچنے کے لیے چند بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں:
اپنا او ٹی پی، پن، پاس ورڈ یا واٹس ایپ ویریفیکیشن کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، چاہے وہ خود کو بینک، این سی سی آئی اے یا پی ٹی اے کا نمائندہ ہی کیوں نہ ظاہر کرے. کسی بھی مشکوک کال کی صورت میں فون بند کر دیں اور اپنے بینک یا کارڈ کی سرکاری ویب سائٹ پر درج نمبر پر خود رابطہ کریں۔ واٹس ایپ میں ٹو اسٹیپ ویریفیکیشن (Two-Step Verification) فعال کریں۔ اس کے لیے سیٹنگز میں جا کر اکاؤنٹ کے آپشن میں جائیں اور ریکوری ای میل بھی شامل کریں۔ اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سموں کی تعداد چیک کریں۔ اس مقصد کے لیے اپنا شناختی کارڈ نمبر (ڈیش کے بغیر) 668 پر بھیجیں یا cnic.sims.pk پر جائیں۔ اگر کوئی نامعلوم سم آپ کے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ ہو تو فوری طور پر متعلقہ ادارے کو رپورٹ کریں۔ کسی کو رقم بھیجنے سے پہلے مکمل تصدیق کریں۔ آن لائن خریداری کرتے وقت فروخت کنندہ کے ریویوز ضرور دیکھیں، ممکن ہو تو کیش آن ڈلیوری کو ترجیح دیں اور ٹریفک چالان صرف متعلقہ پولیس کی سرکاری ویب سائٹ سے چیک کریں۔گھر کے افراد کے ساتھ ایک خفیہ ”کوڈ ورڈ“ طے کر لیں، تاکہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں پیسوں کا مطالبہ کرنے والی کال کی حقیقت کی تصدیق کی جا سکے۔
اگر آپ کے ساتھ آن لائن فراڈ ہو جائے تو گھبرانے کے بجائے فوری کارروائی کریں۔ سب سے پہلے اپنے بینک کی سرکاری ہیلپ لائن پر رابطہ کریں، اپنا اکاؤنٹ بلاک کروائیں اور فراڈ کی شکایت درج کرائیں۔ اس معاملے میں وقت بہت قیمتی ہے۔ جتنی جلدی شکایت درج کروائی جائے گی، رقم واپس حاصل کرنے یا اسے مزید منتقل ہونے سے روکنے کا امکان اتنا ہی بڑھ جائے گا۔اس کے بعد این سی سی آئی اے کی 24 گھنٹے دستیاب ہیلپ لائن 1799 پر رابطہ کریں یا complaint.nccia.gov.pk کے ذریعے شکایت درج کروائیں۔ فراڈ سے متعلق تمام اسکرین شاٹس، پیغامات، فون نمبرز اور ٹرانزیکشن آئی ڈیز محفوظ رکھیں، کیونکہ یہ شواہد تحقیقات میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔جعل ساز نمبرز کی اطلاع پی ٹی اے کو 0800-55055 پر یا complaint.pta.gov.pk کے ذریعے دیں۔ اگر بینک آپ کی شکایت کا مناسب ازالہ نہیں کرتا تو اسٹیٹ بینک کے ”سنوائی“ پورٹل سے رجوع کریں۔
ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کو آسان بنایا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی حفاظت سے غافل ہو جائیں۔ ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، مگر شہریوں کی اپنی احتیاط بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ہمیں صرف تین باتیں یاد رکھنی ہیں: رکیں، تصدیق کریں اور اپنا کوڈ کسی کو نہ بتائیں۔گھر میں کھانے کی میز پر بھی آن لائن فراڈ کے بارے میں گفتگو کریں، خصوصاً بزرگ والدین اور بچوں کو ان ہتھکنڈوں سے آگاہ کریں۔ انہیں بتائیں کہ کسی بھی مشکوک کال، پیغام یا لنک پر فوراً یقین نہ کریں۔یاد رکھیں، آج کی ایک چھوٹی سی گفتگو کل آپ کی عمر بھر کی جمع پونجی کو محفوظ بنا سکتی ہے۔



تبصرہ لکھیے