یہ روداد اس مقدس نشان کی جستجو، رات بھر کی دشوار چڑھائی اور ایک اجنبی کی مہربانی سے جڑی یاد کا بیان ہے۔ کولمبو سے کینڈی، پھر کینڈی سے ڈلہوزی اور آخر میں ڈلہوزی سے سری پاڈا تک کا یہ سفر سری لنکا کی قدرتی حسن ورعنائی، جسمانی مشقت اور عقیدت کی کشش کو ایک لڑی میں پروتا ہے.
اور بتاتا ہے کہ کبھی کبھی ایک دروازہ کھل جانے سے پوری روداد کا رنگ بدل جاتا ہے۔ ان راستوں پر چلنے والوں کے لیے یہ پہاڑ محض زمین کی ایک بلندی نہیں؛ اس سے دعائیں، منتیں، امیدیں اور مذہبی نسبتیں وابستہ ہیں۔
اس پہاڑ پر ہر چڑھنے والا اپنے ساتھ کوئی ان کہی داستان لاتا ہے اور واپسی پر اس پہاڑ سے وابستہ زندگی بھر تازہ رہنے والی بیش قیمت یادیں اپنے اندر سموئے نیچے اترتا ہے۔ یہ آٹھ قسطوں پر مبنی ایسے ہی اس سفر کی یادداشت ہے جو میں نے نو گھنٹے کے اس انتہائی دشوار گزار پہاڑی راستے پر اس مقدس نشان تک پہنچنے کے لئے کیا اور ان یادوں کی کہانی ہے جو میں اس پہاڑ سے اپنے ساتھ واپس لایا ۔
آئیے میرے ساتھ ۔مل کر اس ناقابل فراموش اور مشکل ترین سفر پر چلتے ہیں جو آپ کو مدتوں یاد رہے گا !
قسط نمبر ۲
جب حضرت ابراہیمؑ اور حضرت عیسیٰؑ کے قدم، باوا آدمؑ کے قدم سے ہم آہنگ ہوئے
سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی دکان کے سامنے چند لوگ کھڑے تھے۔ ان کے درمیان ایک بچہ ہاتھ میں چھابڑی لیے ہماری گاڑی کو دیکھ رہا تھا۔ چھابڑی سرخ کیلوں سے بھری ہوئی تھی۔ ہم آگے نکل آئے، مگر بچے کا چہرہ اور اس کے ہاتھوں میں سجے وہ انوکھے پھل کچھ دیر تک میری نگاہ میں ٹھہرے رہے۔میں نے سری لنکا کے سرخ کیلوں کے بارے میں بہت سنا تھا بہت پڑھا تھا ۔۔ مگر نہ انہیں کبھی دیکھا تھا، نہ ان کا ذائقہ چکھا تھا۔ میں نے نہلان سے کہا کہ اگلی آبادی میں کہیں گاڑی روکے تو انہیں خریدیں۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور ہم پھر سری پادا کی باتوں میں کھو گئے۔
’’کیا تمام مسیحی بھی اس نشان کو سینٹ تھامس کا قدم مانتے ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’نہیں،‘‘ نہلان نے جواب دیا، ’’سینٹ تھامس سے وابستہ روایت کا تعلق زیادہ تر پرتگیزی دور سے ہے۔ اکثر مقامی مسیحی بھی اسے حضرت آدمؑ کا قدم سمجھتے ہیں۔‘‘
وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوا، پھر مسکرا کر بولا:
’’پہاڑ ایک، اور کہانیاں کتنی ساری!‘‘
’’جتنے عقیدے، اتنی کہانیاں،‘‘ میں نے کھڑکی سے باہر پھیلی سبز بلندیوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’چٹان ایک ہے، نشان بھی ایک، مگر وہاں پہنچنے والے اپنے دلوں میں الگ الگ داستانیں لیے جاتے ہیں۔ ہر نام کے پیچھے کسی برادری کی یاد اور عقیدت بولتی ہے۔‘‘
اس کے بعد کچھ دیر گاڑی میں خاموشی رہی۔ انجن کی ہموار آواز اور سڑک کے ساتھ بدلتے ہوئے مناظر ہمارے درمیان پھیل گئے۔
میں سوچتا رہا کہ ایک ہی سیڑھی پر قدم رکھنے والے دو انسان بظاہر ایک ہی سمت جا رہے ہوتے ہیں، مگر ان کے دلوں میں منزل کا تصور کتنا مختلف ہو سکتا ہے۔ جہاں ایک شخص بدھ کی یاد دل میں بسائے چڑھائی چڑھتا ہے تو وہیں دوسرا حضرت آدم علیہ السلام کی نسبت سے دعا مانگتا ہے۔ کسی کی آنکھ میں شِو کی عقیدت اترتی ہے تو کسی کے دل میں سینٹ تھامس کی یاد جاگتی ہے۔
اس قدم نما نشان کی تشکیل کب ہوئی، کب اس کی زیارت شروع ہوئی ۔۔ کب یہ انسان کی توجہ کا مرکز بنا ۔۔کوئی نہیں جانتا ۔۔ امباگامووا کا کتبہ تو ہمیں صرف گیارہویں صدی کے اواخر میں بادشاہ وجے باہو اوّل کے زمانے تک لے جاتا ہے اور اس عہد میں سری پادا کی زیارت اور زائرین کے لیے انتظامات کی پہلی قدیم تاریخی شہادت فراہم کرتا ہے۔ مگر اس سے نہ نشان کی اصل تاریخ طے ہوتی ہے، نہ مختلف مذہبی نسبتوں میں سے کسی ایک کی تصدیق۔
مگر یہ غیر یقینی صورتِ حال میرے لیے پہاڑ کی کشش کم نہیں کرتی تھی۔ بلکہ میرے دل میں اس کی اہمیت کا تصور اور زیادہ اجاگر کرتی تھی ۔۔ اس کے گرد جمع ہونے والی روایتیں صدیوں سے وہاں آنے والے انسانوں کی خبر دیتی تھیں: الگ الگ زبانوں میں دعائیں مانگتے، اپنے اپنے عقیدے کی یاد دل میں بسائے، ایک ہی بلندی کی جانب بڑھتے ہوئے مسافر
تھوڑی دور جا کر نہلان نے ایک چھوٹے سے بازار کے سامنے گاڑی روک دی۔ بلال اتر کر سرخ کیلے، انناس اور امرود خرید لایا۔ اس طویل مذہبی اور تاریخی گفتگو کے بعد گاڑی میں پھلوں کی خوشبو پھیلی تو ہماری توجہ ایک زیادہ فوری معاملے کی طرف ہو گئی۔
امرود مجھے پاکستانی امرودوں جیسے میٹھے نہ لگے۔ سرخ کیلے بھی توقع پر پورے نہ اترے؛ کچھ سخت اور پھیکے سے تھے۔ البتہ انناس نے پہلی ہی قاش میں ساری کسر پوری کر دی۔ اس کی مٹھاس میں ہلکی سی ترشی تھی اور خوشبو دیر تک ذائقے کے ساتھ ٹھہری رہی۔ سری لنکا میں جب بھی انناس کھایا، یہی محسوس ہوا کہ اس پھل کو یہاں کی مٹی اور دھوپ کچھ خاص راس آ گئی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سری لنکا کے انناس جیسا انناس مجھے کہیں اور نہیں ملا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
سری پادا کا امتحان
ہم دوبارہ روانہ ہوئے تو کینڈی ابھی دور تھا۔ بچپن کی ٹیلی وژن اسکرین پر دیکھا ہوا شہر مجھے بلا رہا تھا، اور اس کی پہاڑیوں سے پرے ایک ان دیکھی چوٹی بھی اب آہستہ آہستہ میرے دل میں جگہ بنا رہی تھی۔
میں نے نہلان سے کہا:
’’کینڈی کے بعد سری پادا جانے کا انتظام بھی کرنا ہوگا۔‘‘
وہ میری بات سن کر ہلکا سا مسکرایا۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولا:
’’صاحب! سری پادا اپنے دیدار کے لیے آنے والوں کا امتحان لیتا ہے، ان کے خلوص کو پرکھتا ہے۔ اس چوٹی تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔ سات کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے، جس میں پانچ کلومیٹر کی سخت چڑھائی شامل ہے۔ پانچ ہزار سے زیادہ سیڑھیاں ہیں، اور بعض جگہ تو یہ چڑھائی تو انتہائی مشکل ہو جاتی ہے ۔۔ بلکل عمودی سیدھی ۔۔ اسی سے نوے ڈگری کی چڑھائی پر چڑھنے کے لئے زنجیروں کا سہارا لے کر آگے بڑھنا پڑتا ہے۔‘‘
وہ ذرا رکا اور پھر پوچھا:
’’کیا آپ یہ سب کر پائیں گے؟‘‘
اس کا سوال سن کر میں خاموش ہو گیا۔ راستے کی دشواری کا اندازہ میرے لیے کوئی نئی بات نہ تھی۔ میں ابنِ بطوطہ کی روداد پڑھ چکا تھا اور جان ڈیوی کا بیان بھی میری نظر سے گزرا تھا۔ ان کی تحریروں نے اس سفر کی مشقت کا ایک نقشہ میرے ذہن میں بنا رکھا تھا۔ میں جانتا تھا کہ اس بلندی تک پہنچنے کے لیے محض خواہش کافی نہیں، قدموں میں قوت اور دل میں حوصلہ بھی درکار ہے۔
لیکن کتاب کے اوراق پر کسی راستے کی دشواری پڑھنا اور اپنے قدم اس راستے پر رکھ دینا، دو الگ تجربے ہیں۔ صدیوں پہلے جن مسافروں نے اس پہاڑ کی طرف جاتے ہوئے مشقت اٹھائی تھی، میں ان کی روداد اپنے دل میں بسائے اب خود اسی سمت جانا چاہتا تھا۔ مجھے احساس تھا کہ قدم دیکھنے کے لئے بھی قدموں کی ضرورت پڑتی ہے ۔۔
میں نے اپنے میزبان کی طرف دیکھا۔ اس کے سوال کا پورا جواب میرے پاس بھی نہیں تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میں یہ کر پاؤں گا یا نہیں یہ تو چڑھائی ہی بتاتی کہ میرے قدم کہاں تک میرا ساتھ دیتے ہیں۔ البتہ میرے دل میں ایک بات طے تھی: مجھے سری پادا جانا تھا۔
اب یہ صرف ایک چوٹی کے دیدار کا شوق نہ تھا؛ یہ میرا اپنا امتحان بھی تھا
میں خاموش رہا اور مجھے خاموش دیکھ کر اس نے میری طرف ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی، ایک بار پھر مسکرایا اور پھر سڑک پر متوجہ ہو گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
جب تین پیغمبروں کے قدموں کی بات چھڑی
گاڑی کینڈی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ سڑک کبھی گھنے درختوں کے سائے میں سمٹ جاتی اور کبھی کسی موڑ پر وادی کا ایک گوشہ یوں کھلتا جیسے سبز پردے کے پیچھے سے کسی نے جھانک کر دیکھا ہو۔ دور پہاڑیوں پر دھند کی ہلکی تہیں ٹھہری تھیں اور قریب کے درخت دھوپ چھاؤں میں کچھ دیر ہمارے ساتھ چل کر پیچھے رہ جاتے تھے۔
ہم سری پادا کی روایتوں میں ایسے محو تھے کہ راستے کی مسافت پس منظر میں چلی گئی تھی۔ گاڑی ایک شہر سے دوسرے شہر جا رہی تھی، مگر ہم صدیوں کے سفر پر تھے ۔۔ ہماری گفتگو ہمیں زمانوں اور سرزمینوں کے پار لیے پھرتی تھی۔
’’ایک قدم کے نشان میں بھی کتنی کشش ہوتی ہے،‘‘ میں نے کہا، ’’کہ انسان اس کی زیارت کے لیے گھر سے نکلتا ہے، سمندر پار کرتا ہے اور پہاڑوں کی مشقت اٹھاتا ہے۔‘‘
نہلان نے پوچھا:
’’آپ نے پہلے بھی کہیں ایسے قدموں کے نشان دیکھے ہیں، صاحب؟‘‘
“سری پادا کی چٹان عقیدت کے اس مقام میں تنہا نہیں؛
میں نے جواب دیا ۔۔
“دنیا کے کئی اور گوشوں میں بھی انسان نے مقدس ہستیوں کی یاد قدموں کے نشانوں سے وابستہ کر رکھی ہے، جیسے وہ رخصت ہو جانے والوں کی موجودگی کو زمین کے دامن میں کہیں تھام لینا چاہتا ہو ۔ “
میں نے مکّہ میں مقامِ ابراہیمؑ اور یروشلم میں کوہِ زیتون پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قدم کی بھی زیارت کی ہے ۔”
’’میں نے بھی “
بلال پچھلی نشست سے بول اٹھا ۔۔
میں نے مڑ کر اسے دیکھا۔ کچھ دیر پہلے تک وہ باہر کے منظروں میں گم تھا؛ اب اس کے چہرے پر بھی کسی پرانی یاد کا سایہ اتر آیا تھا۔
’مقامِ ابراہیمؑ کا نام آتے ہی مسجد الحرام کی پوری فضا یاد آنے لگتی ہے،‘‘ میں نے کہا۔ ’’کعبہ کے گرد طواف کرتے لوگ، مختلف زبانوں میں اٹھتی دعائیں، رواں ہجوم کے درمیان اپنے لیے جگہ بناتے قدم، اور بیت اللہ کے پہلو میں سونے کی سنہری جالی میں محفوظ وہ پتھر، جس پر دو پیروں کے نشان ہیں۔‘‘
’’اور ان قدموں کوغور سے اور قریب سے دیکھنے کی خواہش بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے،‘‘ بلال نے کہا۔ ’’ میں جب بھی مکہ گیا ہر دفعہ طواف کے دوران کئی بار اس جالی کے قریب پہنچا کہ ذرا قریب ہو کر دیکھ سکوں مگر اردگرد اتنے لوگ چل رہے ہوتے ہیں کہ زیادہ دیر اس کے سامنے ٹھہرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ہجوم دھکا دے کر آگے بڑھا دیتا ہے لیکن نگاہ وہیں رہ جاتی ہے ۔ “
’’تعمیرِ کعبہ کی روایت میں آتا ہے کہ جب دیواریں بلند ہونے لگیں “ میں نے کہا۔ ’’تو حضرت ابراہیمؑ اس چٹان پر کھڑے ہو کر دیوار اٹھاتے اور بیٹا انہیں پتھر تھماتا جاتا۔ ذرا تصور کرو، اس بے آب و گیاہ وادی میں باپ بیٹا اللہ کا گھر تعمیر کر رہے ہیں؛ ہاتھ تعمیر میں مصروف ہیں اور لبوں پر قبولیت کی دعا ہے: اے ہمارے رب، ہم سے قبول فرما۔‘‘
تعمیر کے دوران پتھر پر کھڑے ہونے کا بیان صحیح بخاری میں، اور بنیادیں بلند کرنے اور دعا کا ذکر سورۃ البقرہ میں ہے “
کچھ لمحے خاموشی رہی۔ پھر میں نے بات آگے بڑھائی۔
’’اور اسی مقام پر حضرت آدمؑ علیہ السلام کی روایت بھی ہمارے سفر سے آ ملتی ہے۔
اسلامی روایات کے مطابق دنیا میں اللہ کی پہلی عبادت گاہ حضرت آدمؑ نے مکہ میں تعمیرکی تھی جب وہ جدہ میں اماں حوا سے ملے اور پھر مکہ تشریف لائے ۔۔ لیکن پھر ان کی تعمیر کردہ یہ مسجد امتداد زمانہ کی نظر ہو گئی ۔۔
گویا زمین پر اترنے والے پہلے انسان نے اپنے رب کی عبادت کے لیے پہلا گھر مکہ میں بنایا ۔۔ اور پھر جب حضرت ابراہیمؑ آخری بار مکہ تشریف لائے تو دونوں باپ بیٹوں نے حضرت آدمؑ کی قائم کردہ اس مسجد کی بنیادیں ڈھونڈیں اور ان پر کعبہ دوبارہ تعمیر کیا ۔ “
’’ایک سفر ہمیں آدمؑ کے قدم کی طرف لے جا رہا ہے اور یاد ابراہیمؑ کے قدموں کی آ رہی ہے،‘‘ بلال نے آہستگی سے کہا۔
“ہاں ایسا ہی ہے ۔۔ فارسی کے ایک بڑے خوبصورت شعر میں حضرت آدمؑ اور حضرت ابراہیمؑ کی اس نسبت کو بڑے دلکش انداز میں بیان کیا گیا ہے
ز آدم تا خلیل، این راهِ تسلیم و رضا باشد
گهی در نقشِ پا پیدا، گهی در کعبه، گه در قربان
آدمؑ سے ابراہیمؑ تک یہ تسلیم و رضا کا سفر ہے؛ جو کبھی نقشِ قدم میں، کبھی کعبے میں اور کبھی قربانی میں جلوہ گر ہوتا ہے
’’ میں نے جواب دیا۔ ’’مقامِ ابراہیمؑ کے سامنے کھڑے ہو کر مجھے ہمیشہ حضرت آدم کی یاد بھی آئی کہ پہلا گھر انہوں نے بنایا تھا جس کی تعمیر نو ان دونوں باپ بیٹوں نے کی جو ہر اینٹ رکھتے وقت اپنے رب سے قبولیت مانگ رہے تھے۔۔ اور سچ بتاؤں کہ حضرت آدمؑ کے قدم کا خیال بھی مجھے پہلی بار حضرت ابراہیمؑ کے قدموں کے سامنے آیاتھا اور میں نے عہد کیا تھاکہ ایک دن اس کی زیارت کرنے بھی جاؤں گا ۔۔”
گاڑی ایک چھوٹی سی آبادی سے گزری۔ سڑک کنارے ایک شخص اپنی دکان کے سامنے پانی چھڑک رہا تھا۔ دھوپ میں چھینٹے لمحہ بھر چمکتے اور پھر زمین میں جذب ہو جاتے۔
“مکہ کے اس پتھر کو دیکھتے ہوئے،‘‘ میں نے بات جاری رکھی، ’’خیال ان ہاتھوں تک پہنچ جاتا ہے جو کعبہ کی دیوار بلند کر رہے تھے۔ تصور میں ایک تصویر ابھرتی ہے: پتھر پر جمے ہوئے قدم، اوپر کو اٹھتے ہاتھ اور آہستہ آہستہ بلند ہوتی ہوئی تعمیر۔ اور ان کو تعمیر کرنے والے دو باپ بیٹا ۔۔ پڑھا اور سنا ہوا واقعہ جیسے آنکھوں کے سامنے حرکت کرنے لگتا ہے۔‘‘
نہلان نے سر ہلایا۔
’’یعنی عمارت کے ساتھ اس کی تعمیر کا وقت بھی دکھائی دینے لگتا ہے۔‘‘
’’ہاں، خیال میں۔ ہم مکمل عمارت کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، مگر اس نسبت کے ذریعے اس زمانے کو محسوس کرنا چاہتے ہیں جب تعمیر ابھی جاری تھی۔‘‘
نہلان کچھ دیر خاموش رہا،
اور پھر جھجھکتے ہوئے بولا ۔۔
“اور حضرت عیسیٰؑ کے قدم کا نشان؟ آپ نے وہ بھی خود دیکھا ہے؟‘‘
اس کے لہجے کا اشتیاق ۔۔ اس کے چہرے کی چمک اور تڑپ سے لگتا تھا جیسے کوئی ننھا بچہ اپنی دل پسند کہانی سننا چاہ رہا ہو ۔۔
“ہاں، میں اپنے دونوں بیٹوں، حمزہ اور بلال، کے ساتھ دو ہزار بائیس میں یروشلم گیا تھا تو کوہِ زیتون پر وہ نشان دیکھا تھا۔‘‘
ابھی تھوڑی پہلے وہ ہمیں اپنے دیس کی کہانیاں سنا رہا تھا اور اب خود یوں ہمہ تن گوش تھا جیسے میں نے اس کے دل کے تاروں کو چھیڑ دیا ہو ۔ شاید اس لئے کہ عیسائی ہونے کی وجہ سے یروشلم اور حضرت عیسیٰؑ کی کہانی اس کے دل کے زیادہ قریب تھی کیونکہ اس کی مذہبی اس سے عقیدت جڑی تھی ۔۔
اس نے سرگوشی کے سے انداز میں میری طرف جھکتے ہوئے پوچھا ۔۔
“آہ کوہ زیتون ۔۔ کلیسائے صعود اسماء ۔۔۔۔ وہ جگہ کیسی ہے؟ کیا نشان صاف دکھائی دیتا ہے؟‘‘
وہ کیتھولک مسیحی تھا۔ کوہِ زیتون کا ذکر اس کے لیے کسی دور افتادہ مقام کی خبر سے بڑھ کر ایک ذاتی کشش کی حثیت رکھتا تھا۔ سوال پوچھتے ہوئے اس نے چہرے کا رخ میری طرف کر لیا تھا اور اس کی توجہ سڑک سے ہٹ گئی تھی مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ گاڑی کہیں مار نہ دے لیکن وہ جلد ہی سنبھل گیا اور نگاہ پھر سڑک پر جما دی۔
مجھے اس کے چہرے پر اشتیاق بھری ایک عجیب سی لہر دوڑتی نظر آتی ۔۔ اس کے لہجے کی بے تابی اس کے اندر اٹھنے والے طوفان کا پتہ دیتی تھی ۔۔
بلال آگے کو جھکا۔
وہاں ایک چھوٹی سی گنبد نما عمارت میں چٹان پر قدم کا نشان ہے۔ مسیحی روایت کے مطابق جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھایا گیا تو وہ اس چٹان پر کھڑے تھے ۔ اوپر جاتے ہوئے ان کے دونوں قدموں کے نشان اس چٹان پر رہ گئے ۔۔ بعد میں دائیں پاؤں کا نشان تاریخ کی گرد میں کہیں گم ہو گیا اور اب صرف بائیں پاؤں کا نشان باقی ہے ۔”
نہلان نے اگلا موڑ احتیاط سے کاٹا، پھر دھیرے سے بولا:
’’میری خواہش ہے کہ کبھی یروشلم جاؤں۔ جن جگہوں کا ذکر بچپن سے سنتا آیا ہوں، انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کو دل چاہتا ہے۔‘‘
میں نے اسے غور سے دیکھا وہ کچھ نیا نیا سالگ رہا تھا ۔۔ پرانے نہلان سے مختلف ۔۔ وہ ہمیں اپنے دیس کے راستوں سے گزار رہا تھا، مگر اس کے اپنے اندر بھی اب خواہشوں کا ایک آن دیکھا شہر آباد ہو چلا تھا ۔۔ مجھے اس کی آنکھوں میں خواہش کے دیپ جلتے نظر آئے اس کے لہجے میں اشتیاق کی لپک تھی اور چہرے پر امید کی خاموش کرن ۔۔
“ وہ نشان دیکھ کر مجھے رخصت کا خیال آیا تھا،” میں نے آہستہ سے کہا۔ ’’ایک جانے والے کا خیال ۔۔ سامنے پتھر پر ایک نقش تھا، مگر اس سے وابستہ روایت نگاہ کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی طرف لے جاتی تھی۔ اس چھوٹی سی جگہ میں جدائی کا کتنا بڑا مفہوم سمٹ آیا تھا۔‘‘
میں کچھ دیر رکا، پھر بولا:
’’قدم کا نشان دیکھتے ہوئے آدمی بے اختیار اس ہستی کا تصور کرنے لگتا ہے جس سے وہ منسوب ہو۔ مقامِ ابراہیم میں میرے ذہن میں خلیل اللہ کا خیال ابھرا تھا، جو اپنے رب کا گھر تعمیر کر رہے تھے۔ اور کوہِ زیتون پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یاد کے ساتھ رخصت کا ایک احساس تھا۔ وہ کلمتہ اللہ تھے روح اللہ تھا ۔۔ دونوں کے قدموں کے سامنے مختلف احساس دل میں ابھرے تھے لیکن ایک چیز مشترک تھی دونوں جگہ یوں لگا جیسے میرے اور ان کے زمانے کے درمیان فاصلہ ختم ہو گیا ہو اور میں ان کے سامنے کھڑاہوا ۔۔”
نہلان نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’شاید اسی لیے لوگ نشان دیکھنا چاہتے ہیں، صاحب۔ لیکن میرے دل میں جب حضرت عیسیٰؑ کا خیال آتا ہے تو سب سے پہلے قربانی کا احساس ابھرتا ہے ۔ “
“ٹھیک کہتے ہو تمہاری ان سے زیادہ نسبت قربانی کی وجہ سے ہے ۔ “
’’پتا نہیں حضرت آدمؑ سے منسوب قدم کے سامنے جا کر مجھے کیسا محسوس ہوگا،‘‘ میں نے کہا۔ ’’شاید انسان کی زمین پر آمد کا خیال آئے، شاید جنت سے نکالے جانے کا احساس۔ میں پیشگی کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘
میں نے سامنے کی پہاڑیوں کو دیکھا۔ سری پادا ابھی میری نگاہوں سے بہت دور تھا، مگر اس کی کہانی ہمارے درمیان آن بیٹھی تھی۔ اب مجھے اس پہاڑ پر جانے کی اپنی خواہش کچھ زیادہ سمجھ آنے لگی تھی۔ میں حضرت آدمؑ کے قدم کے سامنے کھڑا ہو کر ان سے ملاقات کرنا چاہتا تھا انہیں دیکھنا چاہتا تھا مجھے چٹان کے ساتھ اس تک پہنچنے والے لوگوں کے احساسات بھی اپنی طرف کھینچ رہے تھے: گھر سے نکلنے کی بے قراری، دشوار راستے کی تھکن اور کسی مقدس یاد کے قریب پہنچنے کی آرزو۔
اسی لمحے شیخ سعدی کا مصرع یاد آیا:
بسیار سفر باید تا پخته شود خامی
یعنی خامی کو پختگی میں بدلنے کے لیے بہت سفر کرنا پڑتا ہے۔
واقعی، سفر محض ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کا نام نہیں۔ سفر کی صعوبتیں تکلیفیں انسان کو زیادہ مضبوط بناتا ہے جیسے مٹی بھٹی میں پک کر پختہ ہو جاتی ہے ۔ راستے میں انسان دوسروں کے عقیدوں اور آرزوؤں کو دیکھتا ہے تو اپنے دل میں بھی کچھ نئے دریچے کھلتے محسوس کرتا ہے۔۔کولمبو سے کینڈی جانے والی اس سڑک پر، نہلان کی باتیں سنتے ہوئے، میں ایک ایسے ہی دریچے کے سامنے کھڑا تھا۔
مکّہ اور یروشلم کے سفر میرے حافظے میں محفوظ تھے۔ سری پادا کا سفر اپنی تمام تر مشکلوں کے ساتھ ابھی سے مجھے اپنے سامنے کھڑا نظر آ رہاتھا ۔۔
بلال نے خاموشی توڑی:
’’مجھے یاد ہے، کوہِ زیتون پر نگاہ پہلے چٹان کی طرف تھی، پھر بے اختیار اوپر اٹھ گئی تھی۔‘‘
نہلان نے عقب نما آئینے میں اسے دیکھا۔
’’آسمان کی طرف؟‘‘
’’جی، شاید اس خیال سے کہ یہ نشان اس ہستی سے منسوب ہے جسے یہاں سے آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔‘‘
میں نے کہا
“ حضرت آدمؑ اور حضرت عیسیٰؑ کے قدم دو مختلف جگہوں پر ہیں دو مختلف عقیدوں سے جڑے ہیں ۔۔ ان دونوں قدموں کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ ہے صدیوں کا فرق ہے لیکن ایک نسبت بھی ہے ایک زمین پر اترنے کی یاد سے وابستہ ہے، دوسرا آسمان کی طرف اٹھائے جانے کی یاد سے۔ ان دونوں کے درمیان انسان کا زمینی سفر پھیلا ہوا ہے، اور شاید اسی لیے وہ ان نشانوں میں اپنے آسمانی تعلق کی جھلک تلاش کرتا ہے ۔ “
اسی لمحے گاڑی ایک موڑ سے گزری۔ درختوں کا پردہ ہٹا تو پہاڑیوں کے اوپر آسمان کا ایک کشادہ نیلا حصہ کھل گیا، جیسے سبزے کے درمیان کسی نے نیلے رنگ کی کھڑکی کھول دی ہو۔
نہلان خاموش تھا میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا سوچ رہاہے مگر اس کی خاموشی میں اب ایک آرزو کی جھلک صاف محسوس ہوتی تھی۔
شاید ویسی ہی آرزو جیسی میرے دل میں بھی جاگ اٹھی تھی وہ یروشلم جانا چاہتا تھا اور میں سری پادا
گاڑی اب چڑھائی کی طرف مڑ گئی تھی۔ باہر ڈھلوان پر درختوں کے درمیان چند گھر دکھائی دیے۔ کسی کی سفید دیوار دھوپ میں روشن تھی، کسی کی سرخ چھت شاخوں کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔
’’عجیب بات ہے،‘‘ میں نے کہا، ’’ان قدموں کی نسبتوں میں کتنے مختلف احساس جمع ہیں۔ مقامِ ابراہیم سے تعمیر کی یاد وابستہ ہے، کوہِ زیتون پر رخصت کا تصور آتا ہے، اور سری پادا حضرت آدم علیہ السلام کی زمین پر آمد کا قصہ سناتی ہے ۔”
بلال بولا:
’’یہ قدموں کا کھیل بھی خوب ہے ۔۔ کہیں قدم جمے ہیں، کہیں اٹھے ہیں، کہیں پہلی بار زمین پر رکھے گئے ہیں۔‘‘
میں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔
’’اور انہیں دیکھنے کے لیے بعد میں آنے والوں کے قدم چلتے رہتے ہیں۔‘‘
نہلان ہنسا۔ ’’سری پادا پر یہ چلنا خوب یاد رہتا ہے ٹانگوں کی سوجن اور پاؤں کے چھالے کئی دنوں تک اس سفر کا احساس دلاتے ہیں صاحب۔‘‘
’’تم اپنی بیوی کے ساتھ گئے تھے نا؟ تم دونوں کے لیے اس مقام کی مذہبی نسبت بھی مختلف تھی۔‘‘
اس کے چہرے پر وہی مانوس سی نرمی لوٹ آئی۔
’’جی، مگر راستے میں ہمیں ایک دوسرے کی تھکن کا زیادہ خیال تھا۔ کبھی وہ رکتی تو میں ٹھہر جاتا، کبھی میں کہتا کہ ذرا بیٹھ لیں۔ تو وہ بیٹھ جاتی اور پھر ہم دوسرے لوگوں کو اوپر جاتے دیکھتے تو ہمت ہوتی کہ ہم بھی پہنچ جائیں گے۔ اور دوبارہ چل پڑتے ۔”
’’اور چوٹی؟‘‘ بلال نے پوچھا۔
نہلان ہنس پڑا۔
’’وہ دکھائی تو دیتی تھی، صاحب، مگر قریب نہیں آتی تھی۔‘‘
گاڑی میں ہنسی پھیل گئی، مگر اس کی پچھلی بات میرے دل میں ٹھہر گئی۔ میں نے خیال میں انہیں سیڑھیوں پر دیکھا: ایک آگے بڑھ کر پلٹتا ہے، دوسرا تھکا ہوا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ مقدس مقام سے ان کی نسبتیں الگ تھیں، مگر اس لمحے دونوں کو ایک دوسرے کے قدم زیادہ عزیز تھے ۔
’’اب مجھے وہاں کے زائرین کو دیکھنے کا بھی اشتیاق ہے،‘‘ میں نے کہا۔ ’’کوئی اپنے بزرگ کے لیے ٹھہرتا ہوگا، کوئی بچے کو گود میں اٹھائے چلتا ہوگا۔ کوئی تمہاری طرح ٹھہر کر اپنی بیوی کا انتظار کرتا ہوگا ۔۔ چوٹی پر پہنچ کر منظر کے ساتھ ان لمحوں کی یاد بھی تو رہ جاتی ہوگی۔‘‘
’’پہلے اپنی ٹانگوں کی تیاری کر لیجیے،‘‘ بلال نے شرارت سے کہا۔ ’’دوسروں کی روداد دیکھتے دیکھتے کہیں خود راستے میں نہ بیٹھ جائیں۔‘‘
’’بیٹھنے میں حرج نہیں،‘‘ نہلان مسکراتے ہوئے بولا، ’’بس پھر اٹھنا پڑتا ہے۔‘‘
ہم سب ہنس پڑے۔ کچھ دیر بعد گفتگو پھر خاموشی میں ڈھل گئی اور ہم باہر کے مناظر دیکھنے لگے۔
اب پہاڑی ڈھلوانوں پر گھر پہلے سے زیادہ دکھائی دینے لگے تھے۔ سرخ کھپریل کی چھتیں سبزے کے درمیان ابھرتیں، پھر گم ہو جاتیں ۔۔ کہیں سفید دیواروں کی قطار سڑک کے ساتھ چلتی نظر آتی ۔ کہیں کسی بالکونی سے کپڑے ہوا میں لہراتے دکھائی دیتے ۔۔۔ دور سے بکھرے ہوئے رنگ معلوم ہونے والے مکان اب دروازوں، کھڑکیوں اور چھوٹے چھوٹے آنگنوں میں ڈھل رہے تھے۔
نہلان نے سامنے اشارہ کیا۔
’’کینڈی کی آبادی شروع ہو گئی ہے، صاحب۔‘‘
میں ذرا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ بلال بھی کھڑکی کے قریب ہو گیا۔
جس شہر کا نام بچپن سے سنتا آیا تھا، وہ اب چھتوں، راستوں اور درختوں کی صورت میرے سامنے آ رہا تھا۔ ایک موڑ پر پہاڑی کے دامن میں کئی گھر اکٹھے دکھائی دیے؛ اگلے موڑ پر ان کے اوپر ایک اور بستی جھلکنے لگی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے شہر سبز ڈھلوانوں پر آہستہ آہستہ اپنے دریچے کھول رہا ہو۔
کچھ دیر پہلے نہلان یروشلم کو دیکھنے کی آرزو بیان کر رہا تھا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور پھر باہر۔ اس کی ان دیکھی منزل ابھی دور تھی؛ لیکن میری ایک پرانی خواہش شیشے کے اس پار حقیقت اختیار کر رہی تھی۔
’’یہی کینڈی ہے؟‘‘ میں نے بے تابی سے پوچھا۔
’’ابھی ہم مضافات میں ہیں، صاحب،‘‘ اس نے مسکرا کر جواب دیا۔ ’’اس پہاڑی سے گزرنے کے بعد شہر اور کھل کر دکھائی دے گا۔‘‘
میں کھڑکی کے مذید قریب کھسک گیا۔ اور پوری توجہ سے باہر جھانکنے لگا ۔۔ مکّہ اور کوہِ زیتون کی یادیں آہستہ آہستہ حافظے میں اتر گئیں۔ سامنے کینڈی کی پہاڑی آبادی قریب آ رہی تھی، اور میں چاہتا تھا کہ اس پہلی ملاقات کی کوئی جھلک نگاہ سے رہ نہ جائے ۔



تبصرہ لکھیے