ہوم << قصہ حضرت آدم کے قدم کی زیارت کا – ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ
600x314

قصہ حضرت آدم کے قدم کی زیارت کا – ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

سری لنکا کے پہاڑوں میں سری پادا ایک ایسی چوٹی ہے جسے حضرت آدم کے قدم سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ جس کی طرف جانے والے راستوں پر صدیوں سے انسانی قدموں کی چاپ سنائی دیتی رہی ہے۔ سری لنکا میں چار نسلوں اور مذہب کے لوگ پائے جاتے ہیں :

سنہالی بدھسٹ
ملائی مسلمان
اینگلوانڈین عیسائی
اور تامل ہندو

یہ جگہ ان چاروں مذاہب کے لئے انتہائی مقدس ہے اور اسے ماننے والے ہر عقیدت مند کی اپنی کہانی اس سے جڑی ہے ، مسلمانوں کے نزدیک یہ حضرت آدم کے قدم کا نشان ہے . بدھسٹ اسے بدھا کا قدم مانتے ہیں ، عیسائیوں کے نزدیک یہ سینٹ تھامس کا نشان ہے اور ہندوؤں کے عقیدے میں یہ شِو مہاراج کا قدم ہے . یہ روداد اس مقدس نشان کی جستجو، رات بھر کی دشوار چڑھائی اور ایک اجنبی کی مہربانی سے جڑی یاد کا بیان ہے۔ کینڈی سے سری پاڈا تک کا یہ سفر قدرت کے حسن، جسمانی مشقت اور عقیدت کی کشش کو ایک لڑی میں پروتا ہے، اور بتاتا ہے کہ کبھی کبھی ایک دروازہ کھل جانے سے پوری روداد کا رنگ بدل جاتا ہے۔ ان راستوں پر چلنے والوں کے لیے یہ پہاڑ محض زمین کی ایک بلندی نہیں؛ اس سے دعائیں، منتیں، امیدیں اور مذہبی نسبتیں وابستہ ہیں۔ اس پہاڑ پر ہر چڑھنے والا اپنے ساتھ کوئی ان کہی داستان لاتا ہے اور واپسی پر اس پہاڑ سے وابستہ زندگی بھر تازہ رہنے والی بیش قیمت یادیں اپنے اندر سموئے نیچے اترتا ہے ۔ یہ آٹھ قسطوں پر مبنی ایسے ہی اس سفر کی یادداشت ہے جو میں نے نو گھنٹے کے اس انتہائی دشوار گزار پہاڑی راستے پر اس مقدس نشان تک پہنچنے کے لئے کیا اور ان یادوں کی کہانی ہے جو میں اس پہاڑ سے اپنے ساتھ واپس لایا ۔

قسط نمبر ۱
سری پادا — ایک نشان، چار مذہب، چار روایتیں :چار عقیدے

آج کینڈی کے لیے روانگی تھی۔ صبح سویرے ناشتہ کرتے ہی ہم کولمبو سے نکل آئے۔ شہر ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوا تھا؛زندگی دھیرے دھیرے جاگ رہی تھی ۔شہر نیند کی آخری تہیں اتار رہا تھا۔ کہیں دکانوں کے شٹر اٹھ رہے تھے، کہیں چائے کے برتنوں سے بھاپ بلند ہو رہی تھی، کہیں بچے بستے سنبھالے اسکول کی طرف جا رہے تھے۔ مجھے سری لنکا کی صبح کی یہ چستی بھلی لگی۔

دن ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوا تھا، مگر زندگی اپنے کام سے لگ چکی تھی۔ سری لنکا میں دن علی الصبح شروع ہو جاتا ہے یہ محنتی قوم ہے پاکستان کی طرح لوگ دن ڈھلے تک نہیں سوتے ۔ سڑک پر چہل پہل اب آہستہ آہستہ اپنی روزمرہ کی رفتار پکڑ رہی تھی، اور ہم ایک ایسے شہر کی طرف رواں تھے جو میرے وہاں پہنچنے سے بہت پہلے میری یادوں میں آباد ہو چکا تھا۔کینڈی کا نام بچپن سے سنتا آیا تھا۔ کینڈی کرکٹ گراؤنڈ سی لنکا میں میرا پسندیدہ گراؤنڈ تھا ۔ جس میں ہونے والے میچ میں کرکٹ کے علاوہ بھی بہت کچھ دیکھنے کو ملتا تھا ۔ کرکٹ کے میچ دیکھتے ہوئے کیمرہ اکثر کھیل سے نگاہ ہٹاتا تو کیمرہ کبھی کھیل سے ہٹ کر سبز پہاڑیوں، گھنے درختوں اور بادلوں میں لپٹے آسمان کی طرف جاتا تو میں کچھ لمحوں کے لیے اسکور بھول جاتا۔ دل میں ایک خاموش سی خواہش جاگتی کہ کبھی ٹی وی کی اس چھوٹی سی روشن اسکرین سے باہر نکل کر ان پہاڑیوں کے سامنے کھڑا ہوں۔ اور ان خوبصورت مناظر کو اپنی آنکھ سے دیکھوں اب سبرہ زاروں میں ان وادیوں کی ہواؤں میں سانس لوں ۔اور آج وہی خواہش سڑک پر ہمارے ساتھ سفر کر رہی تھی۔ میرا ایک خواب پورا ہونے جا رہا تھا ۔ میں اس پر اپنے رب کا جتنا بھی شکر ادا کرتا کم تھا ۔

کولمبو سے کینڈی کا فاصلہ یوں تو صرف ایک سو پچیس کلومیٹر تھا، مگر نہلان نے بتایا تھا کہ اسے طے کرنے میں چار گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ ہوا بھی یہی ۔ کبھی کوئی آبادی گاڑی کی رفتار تھام لیتی، کبھی سڑک کا تنگ موڑ آہستہ چلنے پر مجبور کر دیتا۔ کبھی رستے پر چلنے والی دوسری گاڑیوں کی لمبی قطار رکاوٹ بن جاتی ۔
میں نے گھڑی دیکھی، پھر اس کی طرف مسکرا کر کہا:
’’آپ کے ہاں فاصلے شاید کلومیٹروں میں نہیں، گھنٹوں میں ناپے جاتے ہیں۔‘‘اس کی نگاہ سڑک پر رہی، مگر ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
’’صاحب، نقشہ راستہ بتاتا ہے۔ پہنچنے کا وقت سڑک اپنے پاس رکھتی ہے۔‘‘
میں اس کی اس ڈرائیورانہ بات پر ہنس پڑا۔ باہر منظر ایسا تھا کہ تاخیر کا شکوہ بھی دل میں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا۔ سبزے کے درمیان کہیں سرخ چھت کا مکان جھلکتا، کہیں کسی آنگن میں دھلے ہوئے کپڑے صبح کی ہوا میں لہراتے دکھائی دیتے۔ دور پہاڑیوں پر دھند یوں ٹھہری تھی جیسے رات جاتے جاتے اپنا نرم سا رنگیلا آنچل وہاں بھول گئی ہو۔

’’کینڈی دیکھنے کا شوق تو بہت پرانا ہے،‘‘
میں نے کہا، ’’مگر آپ کے ملک میں ایک پہاڑ بھی ہے جو مجھے مدت سے اپنی طرف بلاتا ہے۔ آدم کی چوٹی۔‘‘
’’سری پادا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’جی، وہی۔‘‘
’’وہاں لوگ رات کو چڑھتے ہیں، تاکہ صبح چوٹی پر پہنچ سکیں۔ اندھیرے میں سیڑھیاں چڑھنا آسان نہیں ہوتا اور پھر اس چوٹی سے صبح کا نظارہ ایک ایسا ناقابل فراموش منظر ہے جو ساری عمر کے لئے آنکھوں میں زندہ رہ جاتا ہے کچھ لوگ سارا دن وہیں اس آس میں گزارتے ہیں اب آئے ہیں تو غروب آفتاب منظر بھی دل میں بسا کر رہی جائیں گے ۔

’’شاید کچھ راستوں کی کشش ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ آسان نہیں ہوتے،‘‘ میں نے کہا۔ ’
’آپ کبھی گئے ہیں؟‘‘اس کے چہرے پر ایک مانوس سی خوشی ابھری۔
’’میں وہاں دوبار گیا ہوں ۔ ایک بار جب سکول میں تھا تو سکول کے ٹرپ پر اپنی کلاس کے سارے بچوں کے ساتھ گیا تھا اور دوسری بار جب میری شادی ہوئی ۔ ہم نے منت مانی تھی ۔ اسے پورا کرنے گئے تھے ۔۔۔”
“ کیسی منت “
پچھلی سیٹ پر بیٹھا بلال جو پہلے بے دلی سے کھڑکی کے باہر دیکھ رہا تھا ۔۔ اچانک متوجہ ہوگیا اور اشتیاق بھرے لہجے میں بولا ۔۔
اس نے بیک ویو مرر میں بلال کو دیکھا اور زور سے ہنس پڑا ۔۔
اس کی ہنسی میں بیتے دنوں کی کسی شرارت بھری خوبصورت یاد کی جھنک تھی ۔۔

“ مجھے ایک سنہالی لڑکی سے محبت ہوگئی تھی جو میرے ساتھ کالج میں پڑھتی تھی لیکن میں اینگلو انڈین کتھولک عیسائی تھااور وہ ٹھہری پکی بدھ مت کی ماننے والی ۔ اس کے والدین راضی نہیں تھے ۔۔”
“پھر کیا ہوا ۔۔”بلال نے فوراً پوچھا۔
اب زینیہ اور بیگم صاحبہ نے بھی اس کی کہانی میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی ۔۔
’’پھر ہم دونوں نے منت مانی کہ اگر ہماری شادی ہو گئی تو سری پادا جائیں گے۔ کافی مشکلیں آئیں، مگر آخرکار گھر والے مان گئے۔ ہمیں تو یہ معجزہ ہی لگا۔ شادی کے بعد ہم دونوں اپنی منت پوری کرنے گئے تھے۔‘ وہ میری زندگی کا سب سے خوبصورت سب سے یادگار دن تھا ۔”
یہ کہتے ہوئے اس کے لہجے میں ایسی نرمی ۔۔ اتنی مٹھاس آ گئی تھی جیسے گاڑی چلاتے چلاتے اچانک کسی پرانی دلکش یاد نے آنکھوں کے سامنے گھر کر لیا ہو ۔۔

سری پادہ کی راہ میں، سینٹ تھامس: ایک حواری کی بازگشت
“ لیکن تم تو عیسائی ہو تمہارا اس پہاڑی کے اس نشان سے کیا تعلق “
میں نے حیرانگی سے کہا۔
“ نہیں صاحب وہ پہاڑی سارے مذاہب کے ماننے والوں کے لئے مقدس ہے ۔ ہر مذہب کی اپنی کہانی اس سے جڑی ہے ۔۔
میری بیوی کی عقیدت اپنی جگہ تھی، میری اپنی نسبت بھی تھی۔ ہم دونوں ایک ہی راستے پر ایک ساتھ عقیدت میں گندھی دو علیحدہ علیحدہ نسبتیں لئے چڑھے تھے۔‘‘اس نے جواب دیا ۔
“تو عیسائیوں کا کیا عقیدہ ہے اس پہاڑی کے بارے میں ۔”میں نے اپنی حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ،
“بعض مسیحی روایتوں میں چوٹی کے نشان کو سینٹ تھامس سے جوڑا جاتا ہے۔‘‘

یہ نام میرے لیے مانوس تھا، مگر سری پادا کے ساتھ اس کی نسبت نئی تھی۔
’’وہی سینٹ تھامس جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری تھے؟‘‘میری حیرانگی برقرار تھی ،
’’جی، بارہ حواریوں میں شامل تھے۔ جنوبی ہندوستان کے مسیحیوں میں ان کی بڑی قدیم یادیں محفوظ ہیں ۔۔ کلیسائی روایت کے مطابق وہ باون عیسوی میں مالابار، موجودہ کیرالہ، پہنچے تھے۔‘‘
گاڑی ایک چھوٹی سی آبادی سے گزری۔ سڑک کے کنارے چند دکانیں کھل چکی تھیں۔ ایک شخص اپنے دکان کے دروازے کے سامنے کبوتروں کو دانہ ڈال رہا تھا اور درجنوں کبوتر سامنے زمین پر بیٹھے تھے کچھ اس اڑتے ہوئے اس کے گرد طواف کر رہے تھے ۔۔ چند سامنے منڈیر پر بیٹھے نیچے جھانک رہے تھے۔ بلال کو یہ منظر بڑا اچھا لگا اس نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو اس طرف متوجہ کیا
نہلان نے گاری کی رفتار کم کر دی باہر دیکھا مگر اپنی بات جاری رکھی:

’’ان ساحلوں پر سمندری تجارت ہوتی تھی، دور دور سے جہاز آتے تھے۔ اسی ساحلی دنیا ایک دن ایک جہاز سے یروشلم کا ایک لٹا پٹا شخص اترا ۔ جو اپنے ساتھ بت پرستوں کی اس بستی میں ایک نیا انوکھا پیغام لے کر آیا تھا بہت سے مسیحی اپنے مذہبی ماضی کا رشتہ ان سے جوڑتے ہیں۔‘‘
’’تو باون عیسوی ان کی آمد کا ثابت شدہ سال ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔اس نے ذرا سا سر ہلایا۔
’’یہ روایت میں بتایا جانے والا سال ہے، صاحب۔ اسے کسی یقینی تاریخی دستاویز سے وابستہ ثابت شدہ تاریخ کے پیمانے پر پرکھنا مشکل ہے۔‘‘
مجھے اس کے جواب کا انداز اچھا لگا۔ اپنی مذہبی روایت کا ذکر کرتے ہوئے اس کے لہجے میں محبت تھی، مگر جہاں یقین کی حد ختم ہوتی تھی، وہاں وہ رک جاتا تھا۔
’’پھر ان کے اس ہندوستانی سفر کے بارے میں سب سے پرانی تحریر کون سی ملتی ہے؟‘‘
’’ایک کتاب ہے، اعمالِ تھامس۔ تقریباً تیسری صدی کی۔ اس میں ان کی تبلیغ، سفر اور موت کی داستان آتی ہے۔ معجزات بھی ہیں اور مذہبی قصے بھی۔‘‘

’’یعنی ان کے اپنے زمانے میں لکھی ہوئی روداد نہیں ہے ؟ “
’’جی بعد کی تحریر ہے۔ سو سال بعد لکھی گئی تھی ۔۔ اسے پڑھتے ہوئے یہ بات یاد رکھنی پڑتی ہے۔‘‘
میں کچھ دیر خاموش رہا۔ کھڑکی کے باہر درخت پیچھے کی طرف بہتے جا رہے تھے اور میرے ذہن میں ایک اور ساحل ابھر رہا تھا؛ ایک قدیم بندرگاہ کا منظر ۔۔ اجنبی زبانوں کی آوازیں، سامان اتارتے جہاز اور ان کے درمیان اپنے پیغام کے ساتھ اترنے والا ایک مسافر خستہ حال پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک بوڑھا ۔۔
’’ان کی موت کیسے ہوئی؟‘‘ میں نے پوچھا۔نہلان کے چہرے پر گھٹا سی چھا گئی وہ سنجیدہ ہو گیا۔
’’اعمالِ تھامس کی داستان کے مطابق ان کی تعلیم بعض بااثر خاندانوں، یہاں تک کہ شاہی گھرانے تک پہنچی۔ اس نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا ۔۔حکمران کی بیوی اور بیٹے کا ذکر بھی آتا ہے۔ پھر مخالفت بڑھی۔‘‘

’’صرف مذہب بدلنے کی وجہ سے؟‘‘میں نے پوچھا ۔۔
’’نہیں صرف مذہب بدلنے کا مسئلہ نہیں تھا ۔۔۔ داستان میں معاملہ گھر کی زندگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ بعض شادی شدہ عورتوں نے ان کی تعلیم سے متاثر ہو کر ازدواجی تعلق سے پرہیز اختیار کیا۔ ان کے شوہر ناراض ہوئے۔ یوں مذہبی اختلاف کے ساتھ گھریلو تنازع بھی پیدا ہوا۔‘‘
بلال اور زینیہ خاموشی ہمہ تن گوش تھے ۔ بیگم صاحبہ نے آہستگی سے کہا:
’’پھر تو بات محل کے اندر تک پہنچ گئی ہوگی۔‘‘
’’جی، اسی طرح بیان ہوتی ہے۔ اس تحریر میں بادشاہ کا نام مِزدائی یا مِسڈیئس آتا ہے۔ تھامس کو قید کیا گیا، پھر بادشاہ کے حکم پر سپاہی انہیں شہر سے باہر ایک پہاڑی پر لے گئے اور نیزوں سے قتل کر کے لاش پہاڑ سے نیچے پھینک دی ۔ اور یوں وہ بھی یسوع مسیح کی سنت پر عمل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۔۔”

اس نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر بولا:

’’لیکن گرفتاری اور قتل کی یہ تفصیلات بھی اسی بعد میں لکھی گئی مذہبی داستان سے آتی ہیں۔ اس زمانے کا کوئی عدالتی ریکارڈ یا گواہ ہمارے سامنے نہیں ہے۔‘‘
میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا ایک لمحے کے لیے صبح کی روشنی اور سڑک کا شور جیسے کچھ دور ہو گئے۔ ذہن کے کینوس پر ایک پہاڑی راستہ ابھرا، چند سپاہی اور ان کے درمیان چلتا ہوا ایک شخص۔ پھر میں نے اپنے تصور کو وہیں روک لیا۔ روایت نے جتنا بتایا تھا، اس سے آگے کی خاموشی کو اپنی طرف سے بھرنا مناسب نہ تھا۔
’’یہ واقعہ کس جگہ سے منسوب ہے؟‘‘
’’جنوبی ہندوستان کی کلیسائی روایت اسے میلاپور، موجودہ چنئی کے علاقے سے جوڑتی ہے۔ شہادت کا سال عموماً بہتر عیسوی بتایا جاتا ہے۔ وہیں ان کا روایتی مقامِ تدفین ہے۔ آج سان تھوم کیتھیڈرل باسیلیکا اس مقام کے اوپر قائم ہے جہاں انہیں دفن کیا گیا ۔۔ اور نیچے مقبرے میں لوگ حاضری دیتے ہیں۔‘‘
’’تو موجودہ گرجا بعد میں بنا ہوگا؟‘‘

’’جی، مقامِ تدفین کی روایت قدیم ہے، موجودہ عمارت بعد کی ہے۔‘‘
یہ فرق معمولی معلوم ہوتا تھا، مگر اس کے بغیر صدیوں کا فاصلہ ایک ہی منظر میں سمٹ جاتا۔ میں اس کی بات سنتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ کسی زیارت گاہ پر کھڑے ہو کر ہم کتنے زمانوں کو بیک وقت دیکھ رہے ہوتے ہیں: ایک شخصیت کی یاد، اس سے وابستہ روایت، بار بار تعمیر ہونے والی عمارت اور ہر عہد میں وہاں آنے والے لوگ۔
’’ان سے منسوب باقیات بھی وہیں ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ان کی باقیات کے سفر کی بھی ایک تاریخ ہے،‘‘
نہلان نے کہا۔ ’’کلیسائی روایتوں کے مطابق بڑا حصہ بعد میں اِدیسا، پھر خیوس اور آخر میں اٹلی کے شہر اورتونا پہنچا۔ اس لیے میلاپور کو ان کا روایتی اصل مقامِ تدفین کہتے ہیں اور اورتونا میں بھی ان سے منسوب اہم باقیات محفوظ ہیں۔‘‘

’’زندگی میں سفر، اور مرنے کے بعد بھی سفر،‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔نہلان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا دیا۔
کچھ دیر گاڑی میں خاموشی رہی۔ سڑک اب ہلکے ہلکے بل کھانے لگی تھی۔ دور پہاڑیوں کے نقوش پہلے سے واضح ہو رہے تھے۔پھر وہی سوال میرے ذہن میں لوٹ آیا جس سے گفتگو شروع ہوئی تھی۔
’’لیکن ہندوستان سے سری پادا تک ان کی کہانی کیسے پہنچی؟ کیا وہ سری لنکا بھی آئے تھے؟‘‘
نہلان نے جواب دینے سے پہلے ایک موڑ کاٹا۔
’’ان کے یہاں آنے کی کوئی ثابت شدہ تاریخ معلوم نہیں، صاحب۔ بعض مسیحی روایتوں نے اس نشان کو ان سے جوڑا، اور پرتگالی دور کی تحریروں نے اسے ایک نئی زندگی نئی جہت دے دی ۔ مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ خود کبھی اس پہاڑ پر آئے تھے۔‘‘

’’یعنی ہندوستان آمد کا باون عیسوی والا سال یہاں آنے کا سال نہیں کہا جا سکتا؟‘‘
’’جی، وہ ہندوستان آمد کی روایت ہے۔ سری پادا پر حاضری کی تاریخ ہمارے پاس نہیں۔ یہ تمام مسیحیوں کا مشترک عقیدہ بھی نہیں ہے۔‘‘
’’پھر آپ وہاں کس احساس کے ساتھ گئے تھے؟‘‘اس سوال پر اس کے چہرے کی سنجیدگی نرم پڑ گئی۔
’’اپنی بیوی کے ساتھ، صاحب۔ ہم نے مشکل وقت میں وہاں جانے کی منت مانی تھی۔ شادی ہوئی تو ہمیں اپنا وعدہ یاد تھا۔‘‘
’’اور راستے بھر مذہب پر بحث نہیں ہوئی؟‘‘ بلال نے شرارت سے پوچھا۔نہلان کھل کر ہنسا۔
’’مذہب پر بحث تو کبھی نہیں ہوئی نہ شادی سے پہلے نہ شادی کے بعد اور نہ اس دن ۔۔ راستے میں سانس پھول رہا تھا۔ بحث کے لیے سانس کہاں بچتا! کبھی وہ مجھے رکنے کو کہتی، کبھی میں اسے۔ بس اسی طرح اوپر پہنچ گئے۔‘‘

ہم سب ہنس پڑے۔ اس کی بات نے طویل تاریخی گفتگو کے بعد ہمیں پھر اسی گاڑی میں لا بٹھایا جہاں ایک آدمی اپنی شادی کی کہانی سنا رہا تھا۔
“ ہم بھی دوسرے عام شادی شدہ جوڑوں کی طرح آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں ایک دوسرے سے روٹھتے ہیں پھر مناتے ہیں لکین ہماری مذہب پر کبھی بحث یا لڑائی نہیں ہوئی وہ باقاعدگی سے ٹمپل جاتی ہے اور میں ہر اتوار کو چرچ ۔”
“اور بچے “ بیگم صاحبہ کی خانگی رگ ابھر آئی تھی ۔
“ میڈم ہماری ایک بیٹی ہے جو میڈیکل سکول کولمبو میں پڑھتی ہے وہ اپنی مرضی سے ماں کے ساتھ بدھسٹ ٹمپل جاتی ہے میں نے اسے کبھی نہیں روکا ۔”
میں نے نہلان کو ایک نئی توجہ ایک نئی نظر سے دیکھا۔ مجھے وہ بڑا اچھا لگا ۔۔ وہ پڑھا لکھا اور کشادہ ذہن اور بالغ النظر شخص تھا۔ مذہبی تعصب سے پاک
اسے اپنی روایت عزیز تھی، مگر اسے ثابت کرنے کے لیے ہر سنی ہوئی بات کو تاریخ بنا دینا ضروری نہیں سمجھتا تھا۔ اس کی بات میں جہاں شہادت کم پڑتی، وہاں وہ صاف کہہ دیتا کہ معلوم نہیں۔ مجھے اس دیانت میں ایک خاص وقار محسوس ہوا۔ اس نے کبھی اپنا مذہب اپنا عقیدہ بھی اپنے بیوی بچوں پر ٹھونسنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

باہر صبح پوری طرح روشن ہو چکی تھی۔ پہاڑیوں کے دامن میں گھر صاف دکھائی دینے لگے تھے اور سڑک کے کنارے زندگی اپنی روزمرہ پوری رفتار سے رواں دواں تھی۔ سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت میں بھی بہت اضافہ ہو گیا تھا ۔۔ جس نے گاڑی کی رفتار مزید سست کر دی تھی ، لیکن ہم سستی سے ہی سہی کینڈی کی طرف بڑھتے رہے، مگر میری نگاہ میں اب سری پادا کا وہ ان دیکھا پہاڑ بھی آباد ہو گیا تھا، جس کی ایک چٹان سے کتنی مختلف یادیں وابستہ تھیں۔ میں نے عقب نما آئینے میں نہلان کی آنکھوں کی جھلک دیکھی۔ سینٹ تھامس کی صدیوں پرانی داستان سناتے سناتے جب وہ اپنی بیوی کا ذکر کرتا تھا تو ان میں ایک الگ سی روشنی آ جاتی تھی ۔۔ اس کے پورے چہرے پر قوس وقزح سی پھیل جاتی تھی ۔ اس وقت مجھے ان دونوں کا پہاڑ پر چڑھنا یاد رہا: دو مختلف مذہبی روایتوں سے آئے ہوئے لوگ، تھکن میں ایک دوسرے کے لیے رکتے ہوئے، اپنے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرنے اوپر جا رہے تھے ۔

سری پادہ سے وابستہ شیوا کی کہانی سراندیب کا “بابا آدم ملائی” جہاں آدم کے آنسو موتی بنے
اس نے اچانک ایک موڑ پر گاڑی آہستہ کرتے ہوئے پوچھا ،
“صاحب آپ کے مذہب میں اس پہاڑی چوٹی کی کیا اہمیت ہے ۔ سری پادا، یعنی مقدس نقشِ قدم،‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
بدھ مت کے ماننے والے اسے بدھ کا قدم سمجھتے ہیں،‘
نہلان بولا۔ ’’اور مسلمان حضرت آدم کا۔‘‘
بعض مسلمان اسے حضرت آدم علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں۔ آدم کی چوٹی کا نام بھی اسی نسبت کی یاد ہے،‘‘ میں نے نرمی سے وضاحت کی۔

“یہ نسبت ہماری تاریخی اور عوامی روایتوں میں ملتی ہے، مگر قرآنِ مجید حضرت آدم علیہ السلام کے زمین پر اترنے کی جگہ متعین نہیں کرتا۔ اس نشان کی نسبت بھی قرآن یا صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔”وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا:
’’لیکن آدم کی چوٹی کا نام تو بہت پرانا ہے۔‘‘
’’ہاں، اس نام نے صدیوں کا سفر کیا ہے۔ بعض مسلم روایتوں میں سراندیب، یعنی سری لنکا، کو حضرت آدم علیہ السلام کی زمین پر آمد سے جوڑا گیا ہے۔ ہمارے ایک بہت مشہور اور پرانے تاریخ دان طبری نے بھی اس کا ذکر کیا ہے جبکہ دوسری روایتیں عرب یا کسی اور مقام کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اکثر عوامی داستانوں میں لکھا ہے کہ حضرت آدم نے اس پہاڑ پر طویل عرصہ توبہ، گریہ اور عبادت میں گزارا ۔ کچھ کتابوں میں ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر توبہ اور عبادت کرنے کا قصہ بھی ملتا ہے ۔ اور پھر وہ اماں حوا کو ڈھونڈتے ہوئے عرب پہنچے اور جدہ میں ان دونوں کی ملاقات ہوئی . یہودی سمجھتے ہیں کہ انہیں ماؤنٹ ٹمپل پر موجود اس مقدس چٹان پر اتارا گیا تھا جو آج گولڈن ڈوم کے نیچے موجود ہے ۔ ہمارے ادب اور شاعری میں حضرت آدم اور اس چوٹی کی کہانی ملتی ہے چودھویں صدی کے ایک فارسی شاعر وصاف شیرازی نے اپنی ایک مشہور نظم میں اس کا ذکر کیا ہے میں نے ابھی پچھلے دنوں ہی اس کی یہ نظم پڑھی تھی ۔

چو آدم ز فردوس آمد به خاک
دلش بود از اندوهِ دوری، چاک

خداوند در کوهِ سرّندیب
به او داد مأوایی آرام و طیب

هوا معتدل بود و آبی زلال
درختان همه سبز و گل‌ها به کمال

نسیمی که می‌آمد از کوهسار
ز دل می‌زدودش غمِ روزگار

که از دوریِ باغ، دل خسته بود
هنوزش به فردوس، جان بسته بود
در آن سبزه‌زار و در آن عطر و رنگ
مگر اندکی کم شود رنجِ تنگ “

میں نے اسے فارسی کے یہ شعر اپنے فون سے پڑھ کر سنائے اور پھر ان ترجمہ کیا ۔
“ جب آدم کو جنت سے رخصت کیا گیا تو خدا نے سراندیب کے ایک پہاڑ کو ان کے اترنے کی جگہ بنایا؛ ایسی سرزمین جس کی معتدل آب و ہوا، صاف پانی اور لطافت ان کی دل جوئی کر سکے، تاکہ جنت سے جدائی کے بعد زمین پر پہلا قدم ان کے لیے یکایک ناقابلِ برداشت نہ ہو۔”
ایک اور پندھویں صدی کے فارسی شاعر اشرف نے اپنی ایک نظم “ ظفر نامہ سکندری “ میں سکندر اعظم کا ذکر کیا ہے کہ وہ بھی سری لنکا آیاتھا
“سکندر سراندیب پہنچا اور جزیرے کے عجائبات دیکھے۔ پھر حکیم بلیناس کی مدد سے پہاڑ پر چڑھنے کی تدبیر کی۔ چٹانوں میں لوہے اور پیتل کے حلقے اور زنجیریں نصب کی گئیں، تاکہ مسافر ان کے سہارے بلندی پر پہنچ سکیں اور حضرت آدم سے منسوب مقام کی زیارت کر سکیں۔ “
“ نہیں صاحب سری لنکا میں ایسی کوئی روایت یا لوک داستان نہیں ملتی جس میں ذکر ہو کہ سکندر اعظم کبھی سری لنکا آیا تھا نہ ہی اس کا کوئی تاریخی ثبوت موجود ہے ۔ “

اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔
“ ہاں میں جانتا ہوں کہ یہ محض ایک ادبی و افسانوی روایت ہے، سکندر کبھی سری لنکا نہیں آیاتھا ۔۔ اسے بیان کرنے کا مقصد صرف تھا کہ ہمارے ہاں پاکستان ایران اور افغانستان میں مشہور روایت یہی ہے کہ وہ سری لنکا میں میں زمین پر اتارے گئے تھے ۔ “
میں نے جواب دیا ۔۔
“تو یہ کام سب سے پہلے کس نے کیا ۔”میں نے پوچھا

“نوارا ایلیا ضلع میں، ناوالاپیتیا سے ہٹن جانے والی سڑک کے قریب دو بڑی چٹانوں پر ایک تحریر کندہ ہے۔ جسے امبا گامووا کا کتبہ کہتے ہیں اس کتبے پر لکھی تحریر کے مطابق گیارہ سو آٹھ عیسوی میں سری لنکا کے پہلے بدھسٹ راجہ وکرم باہو اول نے پہلی مرتبہ اس مقام تک جانے کے لئے راستہ بنوایا ۔۔ اوپر چڑھنے کے لئے زنجیریں لگوائیں وہاں آنے والے زائرین کی دیکھ بھال کے لئے سرائے بنوائیں ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا ۔ مقدس مقام کے گرد دیوار (Prakara) تعمیر کی، اور نقشِ قدم کے اوپر زیورات سے مزین جال لگوایا۔‌یہ کتبہ سری پادا کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لیے اہم archaeological آرکیالوجیکل اور تاریخی شہادت ہے۔‌”

“ لیکن لوگ کب سے اس مقام کی زیارت کے لئے جا رہے ہیں کوئی ایسی تاریخی شہادت بھی ہے ۔”میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔۔
“کوئی نہیں جانتا لوگ کب سے اس جگہ کو جانتے ہیں ۔۔ راجہ وکرم باہو کے زمانے میں بھی زائرین دشوار گزار راستوں سے مقدس نقشِ قدم کی زیارت کے لیے جاتے تھے۔ بادشاہ نے ان کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ان کے لئے راستے بنائے ۔۔ ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے زمینیں وقف کیں اور آرام گاہوں اور خوراک کی سہولتیں فراہم کیں۔ اس کتبے کی شہادت سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ یاترا پہلے ہی رائج تھی؛ لیکن شاہی سرپرستی نے اسے مزید سہارا اور استحکام دیا۔۔ “
اس نے قدرے توقف سے جواب دیا ۔۔
“ ہاں تم ٹھیک کہتے ہو تاریخ اس کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ انسان کب سے اس نشان کو جانتا ہے ۔ میں نے نے بھی ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن مجھے اس سوال کا جواب نہیں ملا ۔”

میں نے اس کی تائید کرتے ہوئے کہا ، پھر گاڑی میں خاموشی چھا گئی . باہر کے حسین مناظر نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی
“تم ابن بطوطہ کو جانتے ہو “میں نے کچھ دیر توقف کے بعد پوچھا ۔
“جی ہاں ۔۔ چودھویں صدی کا عظیم سیاح ابن بطوطہ سے ہر وہ شخص واقف ہے جو سری پادا کی تاریخ جانتا ہے میں اسے مارکو پولو سے بڑا سیاح مانتا ہوں “
اس نے پر جوش لہجے میں جواب دیا ۔۔
“ابن بطوطہ بھی اسی عقیدت کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ کہ یہ حضرت آدم کے قدم کا نشان ہے ۔۔”
’’جی، میں نے ابن بطوطہ کی کتاب میں لکھی وہ روداد پڑھی ہے جو انہوں نے چودھویں صدی میں لکھی انہوں نے اس نشان کو حضرت آدم کا قدم کہا ہے۔ ابن بطوطہ کی کتاب کے یہ حصے سری پادا کے مندر کی ایک دیوار پر سنہالی میں لکھے ہیں ۔۔”
اس نے جواب دیا

ان کی سری پادا کے بارے میں لکھی یہ رودا ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اس زمانے میں یہ نسبت لوگوں کے دلوں میں کتنی گہری اتر چکی تھی۔ البتہ ان کی زیارت اس دور کے عقیدے کی شہادت ہے؛ نشان کی اصل حقیقت کا قطعی ثبوت نہیں۔‘‘
کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت آدم کی یہاں آمد کے حوالے سے سری لنکا میں اور کیا مقامی روایات ہیں ۔ میں نے نفی میں سر ہلایا تو وہ بڑے جوش سے بولا ۔
“سری لنکا کی مقامی مسلم روایتوں میں سراندیب وہ سرزمین ہے جہاں حضرت آدم علیہ السلام نے جنت سے جدائی کے بعد زمین پر پہلا قدم رکھا۔ یہاں سری پادا کی بلندی کو محبت سے ’’بابا آدم ملائی‘‘ بھی کہا جاتا ہے؛ ایک ایسا پہاڑ جس کی خاموش چٹان سے انسانی زندگی کے آغاز کی داستان وابستہ کر دی گئی ہے۔
لوک داستان یہ بھی سناتی ہے کہ حضرت آدم اس بلندی پر مدتوں گریہ و عبادت میں مشغول رہے۔ ان کے سامنے زمین کا سبز دامن پھیلا تھا، مگر دل میں جنت کی یاد آباد تھی۔ پہاڑ کی تنہائی، بادلوں کی آمدورفت اور رات کی خاموشی اس روایت میں ایک ایسے انسان کے رفیق بن جاتے ہیں جو اپنی کھوئی ہوئی قربت کو یاد کرتا اور رحمت کی امید میں ہاتھ اٹھاتا ہے۔

ان قصوں میں سب سے دل گداز روایت آنسوؤں کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت آدم نے مدتوں یہاں آہ زاری کی ۔۔ دن رات آنسو بہائے ۔۔ اور ان کے آنسو پہاڑ کی ڈھلوانوں پر گرے، پانی کے ساتھ بہے اور زمین کی تہوں میں اتر کر ہیرے جواہرات بن گئے۔ بعض بیانات میں حضرت حوا کے آنسو بھی اس داستان کا حصہ ہیں۔ یوں رتناپورہ کی مٹی سے نکلنے والا ہر نگینہ لوک تخیل میں کسی پرانی کسک کی چمک لیے ہوئے ہے؛ جیسے زمین نے انسان کے پہلے دکھ کو اپنے سینے میں رکھ لیاتھا اور وقت نے اسے آہستہ آہستہ قیمتی پتھر میں ڈھال دیا ۔

سری لنکا اور اور ہندوستان کے کے درمیان سمندر میں بنے نامکمل پل کے بارے میں بھی مقامی مسلمانوں کی روایت ہے کہ یہ “ آدم کا پُل‘‘ ہے اور اسی سے گزر کر وہ جزیرے سے باہر گئے یوں پہاڑ سے سمندر تک ایک داستان بچھ گئی: کہیں پہلا قدم، کہیں جدائی کے آنسو، کہیں آگے بڑھتے ہوئے انسان کا راستہ ۔۔
مقامی تخیل نے پہاڑ، چٹان اور جواہر کو انسانی جدائی، ندامت اور امید کی ایک داستان میں پرو دیا ” اس کی آواز کے گداز اور روانی نے ہم سب پر گہرا اثر کیا ۔
گاڑی ایک موڑ سے گزری۔ درختوں کے درمیان سے ایک لمحے کو دور کی وادی کھلی اس میں دور تک پھیلے سر سبز کھیت ناریل کے اونچے لہلہاتے درخت نظر آئے جیسے کوئی کھڑکی کھلی ہو پھر سبز شاخوں نے اسے دوبارہ اوجھل کر دیا۔میں نے تصور میں ایک تاریک پہاڑ دیکھا، جس کی ڈھلوان پر چراغوں کی قطار بل کھاتی ہوئی اوپر جا رہی تھی۔ ہر مذہب ہر نسل کے لوگ عقیدت کے چراغ دل میں جلائے اور مٹی کے چراغ ہاتھوں میں تھامے چوٹی کی جانب گامزن تھے ان روشنیوں کے درمیان کتنے ہی قدم ہوں گے، کتنی سانسیں، کتنی دعائیں۔جو دشوار گزار مسافت طے کر رہی تھیں ۔۔

روایت عقیدت بنتی ہے اور عقیدت خود تاریخ بن جاتی ہے
جب مہاتما بدھ کی سری لنکا آمدکی روایت تاریخ بن گئی

’’عقیدت بھی عجیب چیز ہے ‘‘ ڈرائیور نے کہا۔ ’’آدمی کتنی دور دور سے آ جاتا ہے۔‘‘
’’اور چوٹی پر پہنچ کر اس قدم نما نشان کو دیکھ کر عقیدت مند یہ تصور کرلیتا ہے کہ شاید اسی مقام پر انسان نے پہلی مرتبہ زمین کی سختی اور آسمان کی دوری محسوس کی ہوگی۔ ،‘‘
میں نے جواب دیا۔کچھ دیر ہم دونوں باہر دیکھتے رہے۔ پھر میں نے گفتگو کا سرا دوبارہ تھام لیا۔
’’بدھ مت کی روایت میں بھی بدھ یہاں آئے تھے۔‘‘
’’جی، مہاونس کے مطابق،‘‘ اس نے کہا۔ ’

“ اس مذہبی تاریخ میں لکھا ہے کہ بدھ نروان ملنے کے آٹھویں سال، ویساک کے پورے چاند کے موقع پر جب تیسری مرتبہ سری لنکا آئے۔ تو اسی سفر میں اس پہاڑی کے محافظ سمن دیوتا کی دعوت پر اسکے گاؤں سُمن کوٹ کا دورہ کیا جو اس سری پادہ چوٹی پر آباد تھا ۔ اور اسی دوران انہوں نے ایک چٹان پر اپنے پاؤں کا نشان چھوڑ دیا ۔۔
اسی لئے ہر سال دسمبر کے مہینے میں پہلے چودھویں کے چاند سے لے کر اپریل کے آخری پورن ماشی تک اس پہاڑ کے دامن میں میلا لگتا ہے اور لاکھوں لوگ اس کی زیارت کے لئے آتے ہیں ۔ میں بھی دونوں بار اسی میلے کے دوران وہاں گیا تھا۔ “
اس کے لہجے میں ماضی کے گزرے لمحوں کی خوشبو جھلکنے لگی تھی ۔۔
’مہاتما بدھ کس زمانے میں سری لنکا آئے تھے ؟ “
بلال نے پوچھا ۔ وہ پوری دلچسپی سے یہ ساری گفتگو سن رہا تھا

’’روایتی سری لنکن حساب اختیار کریں تو تاریخ تقریباً پانچ سو اسی قبل مسیح کے آس پاس بنتی ہے۔ مگر یہ مذہبی زمانی حساب سے حاصل ہونے والا اندازہ ہے۔ بدھ کی زندگی کی تاریخوں پر بھی علمی اختلاف ہے، اور ان کی سری لنکا آمد یا یہ نشان چھوڑنے کی کوئی آزاد، تاریخی تصدیق موجود نہیں۔‘‘
“ تو گویا یہ بھی محض ایک روایت ہے ۔ جس کا کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں ۔۔”
میں نے لقمہ دیا ۔

آپ ٹھیک کہتے ہیں ایسا ہی ہے ۔۔ یہ محض ایک مذہبی روایت ہے لیکن سری لنکا میں کوئی بھی اسے جھٹلاتا نہیں ہے سب اس پر آنکھیں بند کر کے یقین کرتے ہیں ۔۔جب بھی کوئی زائر وہاں دیدار کے لئے جاتا ہے تو اس کے لیے اس پہاڑ پر ایک زندہ تعلق موجود ہے۔ ایک چٹان پر نقش قدم کانشان ۔۔ جسے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے وہ رات کی سردی سہتا ہے، تھکن اٹھاتا ہے، سیڑھیوں پر رکتا ہے، پھر چل پڑتا ہے۔ چوٹی تک پہنچنے کی خوشی میں اس کی ساری مشقت شامل ہوتی ہے۔ روایت کی یہ معنویت اپنی جگہ ہے؛ تاریخی ثبوت کا سوال اپنی جگہ۔‘‘
تم ٹھیک کہتے نہلان ۔۔ میں نے اس کی تائید میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔
“ روایات کبھی کبھار تاریخ سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کرلیتی ہیں۔ اور پھر مذہبی روایات تو اور بھی مقدس ہوتی ہیں وہ اتنی مضبوطی سے عقیدے سے جڑ جاتی ہیں کہ پھر انہیں تاریخ کی کسی بھی کسوٹی پر پرکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے اور بعض اوقات تو یہ روایات اتنی دلکش ہوتی ہیں کہ انہیں تاریخ کے ترازو پر تول کے جھٹلانے کو دل بھی نہیں چاہتا ۔”

’’ ہر مذہب کی اپنی روایات ہیں اور ہر شخص اوپر کچھ اپنا ڈھونڈنے جاتا ہے؟‘‘میری اس بات پر وہ مسکرا دیا۔
’شاید۔ کوئی وہاں خدا ڈھونڈنے جاتا ہے کوئی صرف ایک مقدس ہستی کی یاد میں اس کی نشانی دیکھنے ۔۔کوئی اپنے گناہوں کی معافی کے لئے ۔۔ کوئی دعا مانگنے اور کوئی میرے جیسا اپنی منت کے پورا ہونے پر شکریہ ادا کرنے جاتا ہے ۔”

(جاری ہے)

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment