فرض کیجیے،
ایک صبح دنیا کو خبر ملتی ہے کہ مصنوعی ذہانت نے وہ تمام امتحانات پاس کر لیے ہیں جنہیں انسان اپنی ذہانت کا پیمانہ سمجھتا تھا۔ وہ اربوں صفحات پڑھ سکتی ہے، کروڑوں فیصلوں کا تجزیہ کرسکتی ہے، معیشت کے رجحانات کی پیش گوئی کرسکتی ہے، بیماریوں کے پھیلاؤ کا نقشہ بنا سکتی ہے اور چند لمحوں میں ایسی پالیسی تجاویز دے سکتی ہے جن پر ماہرین کو مہینوں درکار ہوتے تھے۔ دنیا حیران ہے، سرمایہ کار پرجوش ہیں اور ٹیکنالوجی کی صنعت مستقبل کے نئے نقشے بنا رہی ہے۔
مگر اسی لمحے ایک سوال پوری بحث کو دوسری سمت موڑ دیتا ہے:
اگر مشین نے انسان سے زیادہ تیزی سے سوچنا سیکھ لیا ہے تو کیا انسان نے بھی بہتر فیصلہ کرنا سیکھ لیا ہے؟
یہ سوال مصنوعی ذہانت سے زیادہ انسان، ریاست اور اداروں کے بارے میں ہے۔ہم آج مشین کی ذہانت ناپ رہے ہیں، مگر اداروں کی عقل نہیں۔ ہم الگورتھم کی رفتار گن رہے ہیں، مگر فیصلوں کی بصیرت کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس ایسا نظام ہوسکتا ہے جو غربت کی پیش گوئی کر دے، مگر اگر حکومت غربت کے اسباب دور کرنے کی سیاسی قوت نہ رکھتی ہو تو یہ ذہانت کس کام کی؟
مصنوعی ذہانت ٹیکس چوری کا امکان بتا سکتی ہے، مگر اگر ریاست بااثر طبقات کے خلاف کارروائی نہ کرسکے تو بہترین الگورتھم بھی بے معنی ہوجاتا ہے۔یہیں سے ایک نئی اصطلاح کی اہمیت سامنے آتی ہے: ادارہ جاتی ذہانت۔
ادارہ جاتی ذہانت محض جدید ٹیکنالوجی، بڑے ڈیٹا یا طاقتور کمپیوٹر کا نام نہیں۔ یہ اس صلاحیت کا نام ہے کہ ادارہ معلومات کو سمجھے، سمجھ کو پالیسی میں ڈھالے، پالیسی کو مؤثر عمل میں تبدیل کرے اور نتائج کو دیانت داری سے جانچے۔اگر یہ صلاحیت موجود نہ ہو تو دنیا کا بہترین AI نظام بھی ایک ایسے ادارے کے ہاتھ میں طاقتور آلہ بن جاتا ہے جو خود نہیں جانتا کہ اسے کہاں، کیوں اور کس مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔تصور کیجیے ایک ایسی ریاست کا جہاں جدید ترین مصنوعی ذہانت موجود ہو، مگر سرکاری ادارے ایک دوسرے سے معلومات کے تبادلے کے لیے اب بھی پیچیدہ کاغذی کارروائی کے محتاج ہوں؛ جہاں حکومت کے پاس کروڑوں شہریوں کا ڈیٹا ہو مگر اسے عوامی فلاح کی مؤثر پالیسی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت نہ ہو۔ ایسی ریاست میں ٹیکنالوجی جدید ہوگی، مگر حکمرانی قدیم۔
یہ خطرہ بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ طاقتور ٹیکنالوجی کمزور اداروں کو مضبوط بنانے کے بجائے ان کی کمزوریوں کو مزید طاقتور بنا دے۔ ایک غیر شفاف نظام اگر مصنوعی ذہانت کے ذریعے لاکھوں شہریوں کا ڈیٹا جمع کرلے تو اس کی نگرانی کی طاقت بڑھ سکتی ہے، مگر اس کی جواب دہی ضروری نہیں کہ بڑھے۔ اسی لیے ٹیکنالوجی خود ترقی نہیں ترقی تب بنتی ہے جب اس کے ساتھ اخلاقی شعور، قانونی نگرانی، شفافیت اور انسانی مقصد بھی موجود ہو۔مستقبل کی کامیاب ریاستوں کا فیصلہ شاید اس بات سے نہیں ہوگا کہ ان کے پاس کتنے بڑے AI ماڈل، کتنی تیز چِپس یا کتنا وسیع ڈیٹا ہے، بلکہ اس بات سے ہوگا کہ انہوں نے اپنی اجتماعی عقل کو ٹیکنالوجی کی رفتار کے ساتھ کس قدر ہم آہنگ کیا ہے۔وہ حکومتیں جو مصنوعی ذہانت کو محض نگرانی اور طاقت کے ارتکاز کے لیے استعمال کریں گی، بظاہر جدید مگر اندر سے زیادہ غیر انسانی ہوسکتی ہیں۔ اس کے برعکس جو ریاستیں اسے تعلیم، صحت، انصاف، شفافیت، معاشی مواقع اور شہری سہولت کے لیے استعمال کریں گی، وہ ٹیکنالوجی کو اجتماعی فلاح کا وسیلہ بنا سکیں گی۔
اس لیے اکیسویں صدی کا اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت انسان سے کتنی آگے نکل جائے گی؟ اصل سوال یہ ہے کہ انسان مصنوعی ذہانت کے ساتھ خود کتنا سمجھ دار ہوجائے گا؟
مصنوعی ذہانت معلومات کو رفتار دے سکتی ہے، امکانات دکھا سکتی ہے اور فیصلوں کے لیے بے شمار راستے سامنے رکھ سکتی ہے؛ مگر یہ طے کرنا کہ کون سا راستہ انسانی بھلائی، انصاف اور اخلاق کی طرف جاتا ہے، اب بھی انسان اور اس کے اداروں کی ذمہ داری ہے۔شاید مصنوعی ذہانت کا حقیقی انقلاب اس دن نہیں آئے گا جب مشین انسان سے زیادہ ذہین ہوجائے گی، بلکہ اس دن آئے گا جب انسان اپنی پیدا کردہ ذہانت کو حکمت کے ساتھ استعمال کرنا سیکھ لے گا۔آخرکار مستقبل کا فیصلہ کمپیوٹر نہیں کرے گا فیصلہ اس ہاتھ کا ہوگا جو کمپیوٹر کو استعمال کرے گا۔



تبصرہ لکھیے