ہم انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی ہونہار طالبہ لائبہ کے والدین اور رشتہ داروں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ شدید تکلیف دہ ہے یہ امر کہ ایک فراڈ اس بچی کی جان لے گیا۔ دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ لائبہ کے والدین کو اللہ پاک صبر دے اس سانحہ کو برداشت کرنے کی ہمت دے آمین۔
لیکن۔۔۔۔۔۔
رکیے۔۔۔۔۔۔۔
سوچیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نظام تعلیم کے بارے میں سوچیے جو نوجوان نسل کو زندگی کا مفہوم نہیں سمجھا پاتا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ کتنے ہی خوبرو ذہین قابل اور محنتی نوجوانوں کو یہ نظام نگل گیا۔ آپ سمجھتے ہیں ان کے والدین کو کروڑ روپے یا 50 لاکھ روپے دے کر تلافی ہو جائے گی۔ نظر ثانی کیجئے آپ اپنی سوچ پر۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ بہتر مستقبل کا خواب جو ہر نوجوان کی آنکھوں میں سجا دیا گیا ہے کیا اس خواب کامعنی اور اس لفظ ’’بہتر مستقبل‘‘ کا مفہوم بھی انہیں بتایا گیا؟
جی ہاں بتایا گیا۔ اس نظام نے یہی بتایا کہ بہتر مستقبل کا مطلب ہے اپنا کماؤ اپنا کھاؤ۔ جب نوجوانوں کو اپنے ملک میں روزگار کے مواقع نظر نہیں آتے تو وہ امریکا، یو کےاور کینیڈا کو اپنے خوابوں کی جنت سمجھنے لگتے ہیں۔ اس نظام نے ان کو زندگی کا اعلیٰ مقصد سمجھایا ہی نہیں۔ ان کے اندر یہ چیز اتاری ہی نہیں کہ کم وسائل کے ساتھ بھی زندگی گزاری جا سکتی ہے. بلا شبہ پاکستان کی معیشت کو اس کے حکمرانوں نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے لیکن پھر بھی محنت، پختہ یقین اور مسلسل کوشش کے ساتھ اس ملک میں بھی انسان اچھے معیار کی زندگی گزار سکتا ہے۔ لیکن افسوس، نظام تعلیم،میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا نے مادہ پرستی کا ایسا طوفان بپا کر رکھا ہے کہ بیچارے عام نوجوان کے اندر آزادانہ سوچنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت معدوم ہوتی جا رہی ہے۔
اے اہل الرائے!
اہل فکر!
دانشورو!
پالیسی سازو!
خدارا نوجوانوں کو تباہ ہونے سے بچا لو۔ والدین کے لیے پیغام ہے کہ خدارا اپنے بچوں کے اندر توکل قناعت اللہ پہ پختہ ایمان سخت محنت ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کیجئے۔اس ملک سے محبت کا جذبہ ان کے اندر کوٹ کوٹ کے بھر دیجئے۔ ان کو اس ملک کے ویرانوں کو گل و گلزار کرنے کا فن سکھا دیجئے۔
خدارا تاکہ آنے والے دنوں میں کوئی اور لائبہ اپنی زندگی کی بازی نہ ہار جائے۔ کیمرے کی بجائے ایک اللہ کا خوف معاشرے سے فراڈ اور دھوکہ دہی کے عفریت کو ختم کر سکتا ہے۔ دل اداس ہے ۔ اداسی میں شاعری انسان کی ساتھی ہوتی ہے۔
جانے کب ہوں گے کم ….. اس دنیا کے غم



تبصرہ لکھیے