ہوم << داخلی امن کی پائیدار بنیاد – ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
600x314

داخلی امن کی پائیدار بنیاد – ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی

دہشت گردی کے معاصر منظرنامے کو اگر صرف بندوق، بارود اور خودکش حملوں تک محدود کرکے دیکھا جائے تو اس بحران کی حقیقی ساخت ہماری نگاہوں سے اوجھل رہ جائے گی۔ اکیسویں صدی کی سلامتی کی جنگ اب محض سرحدوں پر فوجی صف بندی کا نام نہیں؛ یہ اطلاعات، نظریات، معیشت، سائبر دنیا، خفیہ معلومات، سرحدی نظم، مقامی حکمرانی اور عوامی اعتماد تک پھیلی ہوئی ایک کثیرالجہتی کشمکش ہے۔

کوہاٹ کی پولیس لائنز میں 18 ستمبر 2026 کو نماز جمعہ کے دوران ہونے والا حملہ اسی وسیع تر بحران کی ایک سنگین مثال ہے۔ بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے کے بعد مسلح افراد نے پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ بعد ازاں سرکاری حکام کے مطابق 23 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 17 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل تھے، جبکہ کلیئرنس کارروائی میں 8 حملہ آور مارے گئے۔ستمبر کے آخری ایام کے واقعات نے واضح کردیا ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے درازندہ میں امن میلہ کے مقام پر قائم جوائنٹ چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں تازہ رپورٹ کے مطابق 15 افراد شہید ہوئے، جن میں 8 اہلکار، دو خواتین اور ایک دو سالہ بچہ شامل تھے۔ حملے کے بعد زخمیوں کو منتقل کرنے والی امدادی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور دو ریسکیو اہلکاروں کی شہادت کی اطلاع سامنے آئی۔ یوں دہشت گردی نے نہ صرف حفاظتی چوکی بلکہ انسانی امداد کے نظام کو بھی خطرے سے دوچار کیا۔

یہ واقعات اس بنیادی سوال کو سامنے لاتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی ردعمل صرف حملے کے بعد کارروائی تک محدود رہ سکتا ہے یا اسے پیشگی خطرات کی شناخت تک پھیلانا ہوگا۔ پولیس لائنز، چیک پوسٹیں، سرکاری تنصیبات، تعمیراتی کیمپ اور عوامی مقامات مختلف نوعیت کے اہداف ہیں، مگر ان سب کے ذریعے ریاستی نظم اور شہری زندگی میں عدم تحفظ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حساس تنصیبات کی نگرانی، مؤثر رسائی نظام، بائیومیٹرک تصدیق، انٹیلی جنس کا باہمی تبادلہ، سائبر تجزیہ اور مشتبہ مالیاتی سرگرمیوں کی نگرانی اسی لیے ناگزیر ہیں۔ دہشت گرد کو ہدف تک پہنچنے کے بعد شکست دینا ضروری ہے، لیکن اسے ہدف تک پہنچنے ہی نہ دینا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہے۔بلوچستان کے واقعات نے دہشت گردی کے معاشی اور سماجی پہلو کو بھی نمایاں کردیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں ضلع کونسل کے چیئرمین وڈیرہ غلام نبی شمبھانی کی رہائش گاہ پر حملے کے بعد بگٹی امن فورس کی کارروائی میں ذرائع کے مطابق 13 حملہ آور ہلاک ہوئے، جبکہ امن فورس کا ایک رضاکار شہید اور تین زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن کیا گیا۔

دکی کے علاقے نانا صاحب زیارت میں سڑک تعمیر کرنے والی کمپنی کے کیمپ پر حملے میں 18 مزدوروں کے اغوا، ایک سکیورٹی گارڈ کی شہادت اور ایک کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ حملے کے بعد مغوی مزدوروں کی بازیابی اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ مختلف ذرائع میں مغویوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف بھی سامنے آیا ہے، اس لیے حتمی اعداد کو سرکاری تصدیق سے مشروط رکھنا ضروری ہے۔یہ واقعات محض جانی نقصان کی خبریں نہیں بلکہ ریاستی سلامتی، معاشی سرگرمی، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی اعتماد کے باہمی تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جب تعمیراتی مزدور اغوا ہوں، مشینری تباہ کی جائے، پولیس یا کسٹمز کی چوکی نشانہ بنے یا ریسکیو اہلکار بھی محفوظ نہ رہیں تو دہشت گردی براہ راست ریاستی خدمات اور معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی میں ترقیاتی منصوبوں، معاشی تنصیبات اور بنیادی شہری خدمات کے تحفظ کو بھی مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔

پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ داخلی دہشت گردی میں افغان سرزمین پر موجود مسلح گروہوں اور ان کے مبینہ معاون ڈھانچوں کا کردار ہے، جبکہ افغان حکومت پاکستانی الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ ایسی صورت حال میں جذباتی بیانات کے بجائے شواہد پر مبنی سفارت کاری ضروری ہے۔ ہر دعوے کو قابل تصدیق معلومات، مالیاتی سراغ، مواصلاتی ریکارڈ، سرحدی نقل و حرکت اور دیگر قابل اعتماد شواہد سے جوڑنا چاہیے۔ یہی اصول کسی بھی بیرونی خفیہ نیٹ ورک سے متعلق دعووں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بنیادی میدان قومی سماجی استحکام بھی ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں سیاسی، مذہبی، لسانی اور معاشی شگافوں سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ اس لیے پارلیمان، حکومت، عدلیہ، پولیس، مسلح افواج، ذرائع ابلاغ، مذہبی قیادت، جامعات اور سول انتظامیہ سمیت پورے معاشرے کو ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں اختلاف رائے آئینی حق ہو، مگر تشدد کے لیے کوئی اخلاقی یا سماجی جواز باقی نہ رہے۔

شہداء کے اہل خانہ کی کفالت بھی اسی قومی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ مالی معاونت، تعلیم، صحت اور رہائش کو وقتی امداد کے بجائے مستقل ریاستی نظام بنانا ہوگا۔ محافظوں کی قربانی کا حقیقی اعتراف یہی ہے کہ ان کے خاندانوں کو زندگی کی دوسری جنگ تنہا نہ لڑنی پڑے۔پاکستان کو ایسی جامع قومی سلامتی حکمت عملی درکار ہے جس میں عسکری قوت کے ساتھ قانون، حکمرانی، معیشت، سفارت کاری، ٹیکنالوجی اور عوامی اعتماد کو یکجا کیا جائے۔ مؤثر تفتیش، مضبوط استغاثہ، گواہوں کا تحفظ، دہشت گردی کی مالی معاونت کا سدباب، سرحدی نظم، سائبر نگرانی اور مقامی سہولت کاری کے خاتمے کو اسی حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔آج کا دہشت گرد بندوق کے ساتھ مالیاتی نیٹ ورک، ڈیجیٹل رابطے، سرحد پار معاونت، اغوا، تخریب کاری اور نظریاتی تشہیر بھی استعمال کرتا ہے۔ اس لیے ریاست کو بھی روایتی قوت کے ساتھ علم، ٹیکنالوجی، قانون اور اجتماعی شعور کو اپنی دفاعی قوت بنانا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف اگلا حملہ ناکام بنانے میں نہیں بلکہ ایسے سلامتی نظام کی تشکیل میں ہے جو منصوبہ بندی سے لے کر وسائل، نقل و حرکت، ہدف تک رسائی اور نظریاتی تشہیر تک ہر مرحلے پر مؤثر مزاحمت فراہم کرے۔

کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ بگٹی اور دکی کے واقعات ایک ہی حقیقت کی مختلف تصویریں ہیں۔ یہ محض عسکری معرکہ نہیں بلکہ ریاستی نظم، قانون کی بالادستی، معاشی تسلسل، سرحدی سلامتی، عوامی اعتماد اور قومی یکجہتی کی مشترکہ آزمائش ہے۔ ریاست مضبوط ہو مگر قانون کے تابع، ادارے مربوط ہوں مگر جواب دہ، سرحد محفوظ ہو مگر سفارت کاری کے دروازے کھلے رہیں، ترقیاتی منصوبے جاری رہیں مگر ان کے محافظ محفوظ ہوں، اور قوم متحد ہو مگر اختلاف رائے کی آئینی گنجائش کے ساتھ۔ اسی توازن میں داخلی امن کی پائیدار بنیاد پوشیدہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment