صاحب!
دنیا میں نشے کی کئی قسمیں مشہور ہیں۔ کسی کو دولت کا نشہ ہے، کسی کو شباب کا، اور کچھ بدقسمت ایسے بھی ہیں جنہیں اقتدار کا نشہ ہوتا ہے (جو کہ اترے تو ہڈیلی پسلی ایک ہو جاتی ہے) لیکن ہمارا دامن ان تمام دنیوی اور سستے نشوں سے ہمیشہ پاک رہا۔ ہم نے جب بھی نشہ کیا، وہ خالص، پیٹنٹ اور ”روحانی“ قسم کا تھا.
یعنی ہجر اور تنہائی کا نشہ۔
کہتے ہیں کہ محبت میں وصال اصل منزل ہے، مگر ہم کہتے ہیں کہ بھئی! وصال تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے چائے میں چینی گھل جائے تو چائے ختم ہو جاتی ہے۔ اصلی مزہ تو ہجر کی اس کڑوی کاڑھے میں ہے، جو بندے کو سدا کے لیے بیدار رکھتی ہے۔ جب زندگی میں پہلی بار بچھڑنے کا مرحلہ آیا، تو ہمیں یوں لگا جیسے بجلی کا ننگا تار پکڑ لیا ہو۔ دل پر ایسا دھچکا لگا کہ عقل دنگ رہ گئی اور جذبات نے دھرنا دے دیا۔ ابتدا میں تو بندہ روتا ہے، آنسو بہاتا ہے، جیب رومالوں سے بھر لیتا ہے اور شاعر بننے کی فضول سی کوشش کرتا ہے۔ مگر کمال تو تب ہے جب اس ہجر کو باقاعدہ نشہ بنا لیا جائے۔ کچھ دن بعد یہ عالم ہوتا ہے کہ اگر کوئی آپ سے پوچھے، بھائی مزاج کیسے ہیں؟
تو آپ آہِ سرد بھر کر کہتے ہیں،
”بس پوچھو مت، اس کی یاد کا کینسر دل میں پال رکھا ہے!“
اور اندر ہی اندر اس غمگین کیفیت سے ایک عجیب سا مزہ آ رہا ہوتا ہے۔
تنہائی کوئی سزا نہیں ہے بھائی، یہ تو وہ وی آئی پی لاؤنج ہے جہاں دنیا کا شور شرابہ داخل نہیں ہو سکتا۔ شام ڈھلے جب ہم اپنی بیٹھک میں اکیلے مسندِ تنہائی پر تشریف فرما ہوتے ہیں، اور چائے کا ٹھنڈا ہوتا ہوا کپ ہاتھ میں ہوتا ہے، تو جو خیالات دماغ میں آتے ہیں. قسم لے لو جو کسی فلسفی کے خواب میں بھی آئے ہوں۔ تنہائی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں آپ خود اپنے ہی استادِ محترم بن جاتے ہیں۔ نہ کوئی بیوی کی فرمائش، نہ دوستوں کا ادھار مانگنے کے لیے فون، اور نہ ہی دنیا جہان کے جھمیلے۔ بس ایک خاموشی ہوتی ہے اور آپ کی اپنی ذات—جو خود سے ہی لڑ رہی ہوتی ہے اور خود ہی صلح کر رہی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ صاحب!
کبھی ہجر نوشی کر کے دیکھیں، اس سے پھیپھڑے تو خراب نہیں ہوتے البتہ دل کی کارکردگی ضرور مشکوک ہو جاتی ہے۔فائدہ یہ ہے کہ بندہ سوکھ کر کاٹا ہو جاتا ہے۔ ڈائٹنگ کرنے والے کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی جو سمارٹنس حاصل نہیں کر پاتے، وہ بچھڑنے کے صرف دو ہفتے بعد مفت میں مل جاتی ہے۔ پھر آتا ہے شاعری کا نشہ ۔ اس نشے کا سب سے خطرناک سائیڈ ایفیکٹ یہ ہے کہ بندہ شاعر بن جاتا ہے۔ باتھ روم میں نہاتے ہوئے بھی غزلیں سوجھتی ہیں اور پنکھے کی گھومتی آواز میں بھی محبوب کی ہچکیاں سنائی دینے لگتی ہیں۔
تو جناب!
بات یہ ہے کہ یہ ہجر، یہ تنہائی اور یہ بچھڑنا…. یہ سب زندگی کے وہ مصالحے ہیں جن کے بغیر انسان کی روح “پھیکی” رہ جاتی ہے۔ اب جو بچھڑ گئے سو بچھڑ گئے، ہم نے بھی اس ہجر کے نشے کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ آخر میں بس یہی کہیں گے:
بچھڑ کے تجھ سے ہمیں یہ ہنر ملا ہے ‘عزیز’
کہ اب تو دردِ دلِ زار بھی مزہ دیتا ہے!



تبصرہ لکھیے