ہوم << مرکز ختم نبوت جا معہ عثمانیہ ختم نبوت چناب نگر میں – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی
600x314

مرکز ختم نبوت جا معہ عثمانیہ ختم نبوت چناب نگر میں – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

39ویں سالانہ انٹر نیشنل ختم نبوت کانفرنس، مورخہ 7 ستمبر 2026 بروز سوموار

سات ستمبر اہلِ اسلام کے فتح، مسرت اور فتحِ مبین کا دن ہے، سات ستمبر یومِ ختمِ نبوت و یوم الفرقان ہے۔ 7 ستمبر کا دن فتحِ مبین کا دن ہے۔ امتِ مسلمہ اور اہلیانِ پاکستان کے لیے یہ دن مسرتوں، خوشیوں کا دن ہے۔ انتھک محنت، لازوال قربانیوں کے بعد یہ دن امت کو نصیب ہوا۔ 7 ستمبر یومِ تحفظِ ختمِ نبوت کا دن ہے، 7 ستمبر یومِ تشکر و امتنان منانے کا دن ہے، 7 ستمبر تجدیدِ عہد، عزم و ہمت و استقلال کا دن ہے۔ سات ستمبر یومِ تجدیدِ عہد و امتِ مسلمہ کے لیے خوشی و شادمانی کا دن ہے۔

یہ عظیم دن ہمیں اپنے ان اکابرین کی یاد دلاتا ہے جن کی قربانیاں و جدوجہد رنگ لائی۔ اس یادگار و عظیم تحریک کے نتیجے میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے عاشقانِ رسول ﷺ کی عزت کی لاج رکھتے ہوئے ختمِ نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والے اس فتنۂ قادیانیت کو آئین کے کٹہرے میں کھڑا کر کے غیر مسلم قرار دیا تھا۔ جس دن امتِ مسلمہ کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہوئی، جب 1974 میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے منکرینِ ختمِ نبوت، قادیانی و لاہوری گروپ کو قرآن و سنت کے مطابق غیر مسلم اقلیت قرار دے کر مسلمانوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کر کے ملک کے قانون کا حصہ بنا دیا، اسی دن کی یاد ہر سال منائی جاتی ہے۔امسال بھی چناب نگر میں انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ کے زیرِ اہتمام 39ویں سالانہ انٹر نیشنل ختم نبوت کانفرنس 7 ستمبر 2026 بروز سوموار کو حسبِ سابق مرکز ختمِ نبوت، جامعہ عثمانیہ ختمِ نبوت، مسلم کالونی، چناب نگر میں بڑی شان و شوکت سے منعقد ہوئی۔

جس کی سرپرستی فضیلتہ الشیخ، شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ، امیر مرکزیہ انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ نے فرمائی، جبکہ صدارت انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ ورلڈ کے سیکرٹری جنرل مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج (مدینہ منورہ) نے، جبکہ نگرانی انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ کے نائب امیر مولانا قاری شبیر احمد عثمانی، مولانا قاری محمد سلمان عثمانی اور نقابت کے فرائض مولانا علامہ محمد قادری، مولانا قاری احسن رضوان عثمانی، مولانا عمر عثمان نے ادا کئے۔

اس سالانہ ختمِ نبوت کانفرنس میں اندرونِ ملک کے سرکردہ رہنماؤں، علماء کرام، مشائخ عظام، دانشور، وکلاء، صحافی، ملک کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین و نمائندگان نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔ ان میں مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج (مدینہ منورہ)، مولانا اسعد محمود مکی (مکہ مکرمہ)، حضرت پیر حبیب اللہ نقشبندی، مجلس احرار اسلام کے امیر سید محمد کفیل بخاری، اہلِ حدیث مکتبِ فکر کے علامہ قیم الٰہی ظہیر، مولانا قاری محمد یعقوب شیخ، جماعت اسلامی کے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، سنی علماء کونسل کے مولانا نعمان ضیاء فاروقی، شبان ختمِ نبوت کے مولانا سید انیس احمد شاہ، بریلوی مکتبِ فکر کے مولانا سید سیف اللہ شاہ قادری، انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کے امیر مولانا محمد الیاس چنیوٹی، شیخ الحدیث مولانا مفتی طاہر مسعود، خدام ختمِ نبوت پاکستان کے چیئرمین مولانا علامہ محمد قادری، مولانا فرید احمد حقانی، جمعیۃ اشاعت التوحید و السنۃ کے مولانا عصمت اللہ بندیالوی، مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر اعوان، مسلم لیگ علماء مشائخ ونگ کے و ممبر اسلامی نظریاتی کونسل مولانا حافظ محمد امجد، جمعیۃ علماء اسلام ف کے مہر حافظ تنویر الحق، پاکستان راہِ حق پارٹی کے مولانا انس اعظم، جمعیۃ علماء اسلام س کے مولانا قاری اعظم حسین، مولانا محمد یوسف شیخوپوری، تحریکِ منہاج القرآن کے مفتی غلام اصغر صدیقی، مولانا سعد کامران، قاری محمد آصف رشیدی، مہر تیمور امجد لالی ایم پی اے، ان کے علاوہ متعدد علماء کرام، مشائخ عظام، وکلاء، طلباء، صحافی، قانون دان، مذہبی اسکالر، سیاسی، مذہبی و سماجی جماعتوں کے مرکزی قائدین و نمائندگان نے شرکت کی۔

کانفرنس کی پہلی نشست کا آغاز صبح 11 بجے تلاوت اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ اس نشست سے جماعتی و دیگر علماء کرام نے خطابات کئے۔ اس کے بعد نمازِ ظہر دوسری نشست کا آغاز ہوا، جس میں کیپٹن (ر) محمد صفدر اعوان، مولانا مفتی غلام اصغر صدیقی، حضرت پیر حبیب اللہ نقشبندی، مولانا شبیر احمد عثمانی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، مولانا علامہ محمد قادری، مولانا قاری محمد سلمان عثمانی، مولانا احسن رضوان عثمانی، مولانا حافظ محمد امجد، مولانا محمد یوسف شیخوپوری، مولانا محمد انس اعظم و دیگر علمائے کرام نے حضور ﷺ کی سیرت، حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام، ختمِ نبوت کی افادیت اور اس پر چل کر کام کرنا، عقیدۂ ختمِ نبوت سے متعلق شعور دینا، قادیانیوں سے متعلق ان کی جھوٹی نبوت کے بارے میں ان موضوعات پر خطاب کیا۔تیسری نشست بعد نمازِ عصر ہوئی، جس میں مولانا سعد کامران نے قادیانیت کے متعلق سوالات کے جوابات دیئے۔ بعد نمازِ مغرب مولانا مفتی محمد نے مجلسِ ذکر کرائی اور اصلاحی بیان کیا۔ بعد نمازِ عشاء پانچویں و اختتامی نشست کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ اس نشست کی صدارت مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج نے کی۔

کانفرنس کی آخری نشست سے مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج، مولانا اسعد محمود مکی، سید محمد کفیل شاہ بخاری، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مہر حافظ تنویر الحق، مولانا مفتی طاہر مسعود، مولانا سید انیس احمد شاہ، مولانا عصمت اللہ بندیالوی، مولانا فرید احمد حقانی، قاری محمد یعقوب شیخ، علامہ قیم الٰہی ظہیر، مولانا سید سیف اللہ شاہ، مولانا نعمان ضیاء فاروقی، مولانا قاری اعظم حسین، مولانا اعظم فاروق، مولانا قاری محمد سلمان عثمانی و دیگر علمائے کرام، مشائخ عظام نے تفصیلی خطابات کئے۔انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ کے نائب امیر و ختم نبوت کانفرنس کے نگران و منتظم اعلیٰ مولانا قاری شبیر احمد عثمانی، مولانا علامہ محمد قادری، قاری محمد سلمان عثمانی، محمد حسان، محمد حنیف مغل، مولانا احسن رضوان عثمانی، مولانا نس نعمان دیگر رہنماؤں نے کانفرنس میں تشریف لانے والے معزز مہمانانِ گرامی کا خیر مقدم کیا۔کانفرنس میں علمائے کرام نے اپنے اسلاف اور ختمِ نبوت کے لیے قربانیاں دینے والوں اور قادیانیت کے خلاف لازوال جدوجہد اور خدمات کو سراہا اور ان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

کانفرنس کے حوالہ سے دوردراز تک چنیوٹ و چناب نگر کی اہم شاہراہوں پر ختمِ نبوت کے پرچم، کارکنوں کے قافلے کثیر تعداد میں آتے رہے اور چنیوٹ ختمِ نبوت چوک سے لے کر چناب نگر مسلم کالونی اڈہ تک سرگودہا روڈ خوبصورت بینرز، کتبے اور پرچموں سے سجایا گیا تھا، جو ایک خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے۔ فضا ختمِ نبوت زندہ باد، شہداء ختمِ نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی۔سالانہ انٹر نیشنل ختمِ نبوت کانفرنس کے مثالی انتظامات کئے گئے تھے، جس میں حضرات علمائے کرام کے قیام و طعام کے لیے خصوصی اہتمام کیا گیا۔ شرکائے کانفرنس کے لیے کھانے پینے کا انتہائی شاندار و بہترین انتظام کیا گیا اور رضاکار ہر آنے والے مہمان کو دسترخوان پر لے جاتے اور کھانا کھلاتے۔ کارکنانِ ختمِ نبوت نے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور اپنی ڈیوٹی کا احساس کرتے ہوئے کانفرنس کی رونق کو دوبالا کیا۔کانفرنس کے نگران و منتظمِ اعلیٰ مولانا قاری شبیر احمد عثمانی نے کارکنانِ ختمِ نبوت کے جملہ انتظامات کو سراہا اور ان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ جب قافلے چناب نگر کی حدود میں پہنچتے تو فضا ’’ختمِ نبوت زندہ باد‘‘ کے ترانوں سے گونج اٹھی اور یہ منظر قابلِ دید تھا۔

چناب نگر میں کئی مقامات پر تحریکِ ختمِ نبوت کے مطالبات پر مشتمل دیدہ زیب بینروں کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کی سرگرمیوں کے سدِباب کے حوالے سے مطالبات والے بینرز بھی لگائے گئے تھے۔کانفرنس کے پنڈال میں خوبصورت بینرز آویزاں تھے، جس میں پاک فوج زندہ باد، پاکستان زندہ باد، ختمِ نبوت زندہ باد، اسلام زندہ باد، شہداء ختمِ نبوت زندہ باد کے بینرز آویزاں تھے اور بھی مختلف قسم کے بینرز لگائے گئے تھے، جنہوں نے پنڈال کی خوبصورتی میں اضافہ کر دیا، اور ختمِ نبوت کے پرچموں نے خوبصورتی کو مزید دوبالا کر دیا۔اسی طرح سٹیج پر بھی خوبصورت پینافلیکس اور بینرز لگائے گئے تھے اور سٹیج کا منظر بھی اپنی مثال آپ تھا۔اس کانفرنس کی کوریج کے لیے ایک سپیشل میڈیا سیل قائم کیا گیا، جو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے لیے مخصوص کیا گیا تھا، جس میں صحافی و تجزیہ نگار بیٹھ کر کانفرنس کی کارروائی کو مکمل طور پر مانیٹر کرتے رہے۔ شرکائے کانفرنس کی رہنمائی کے لیے مرکز ختمِ نبوت، جامعہ عثمانیہ ختمِ نبوت کے مین گیٹ پر استقبالیہ کیمپ لگایا گیا، جہاں پر ختمِ نبوت کے رضاکار علماء کا استقبال کرتے اور اسٹیج پر پہنچاتے۔ پنڈال کی طرف جانے والی سڑک اور شرکائے کانفرنس کی رہنمائی کے لیے کناروں پر سفیدی ڈالی گئی۔ پریس گیلری، سائیکل سٹینڈ، کینٹین کے لیے علیحدہ علیحدہ جگہیں متعین کی گئیں۔

ختمِ نبوت کانفرنس میں آنے والے ہر شخص کی جامہ تلاشہ لی جاتی۔ گیٹ پر سکیورٹی کے لیے مامور نوجوان رضاکار اپنے فرائضِ منصبی ادا کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ پولیس کا واک تھرو گیٹ بھی موجود تھا۔ نازک ملکی حالات کے پیشِ نظر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔سرگودہا، فیصل آباد، چنیوٹ، پنڈی بھٹیاں، جھنگ، ٹوبہ، لالیاں و دیگر مضافاتی علاقوں سے مجاہدینِ ختمِ نبوت کے جانباز و کارکن موٹر سائیکلوں کے ذریعے پنڈال میں پہنچے۔کانفرنس میں معروف نعت خواں نے خصوصی طور پر شرکت کی اور دربارِ رسالت ﷺ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ کانفرنس کے پنڈال اور داخلی راستوں پر لائٹنگ کا زبردست و بہترین انتظام تھا، جس نے کانفرنس کی خوبصورتی کو دوبالا کر دیا۔

شرکائے کانفرنس کے لیے پینے کے لیے ٹھنڈے پانی کا بہترین انتظام کیا گیا تھا۔ پنڈال کے باہر درجنوں اسٹال لگائے گئے تھے، جن میں لوگوں نے ختمِ نبوت کا لٹریچر، اسلامی کتابیں و دیگر کھانے پینے کے اسٹال بھی لگائے گئے تھے، تاکہ شرکائے کانفرنس کو کسی قسم کی دقت نہ ہو۔ پنڈال کے اردگرد مکانات کی چھتوں پر سکیورٹی تعینات کی گئی اور پورے چناب نگر کو سکیورٹی حصار میں لیے رکھا۔ ریسکیو 1122، ایمبولینس، موبائل ڈسپنسری اور فائر بریگیڈ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر وقت موجود رہیے۔ انتظامیہ نے صفائی کا بہترین انتظام کیا، سٹریٹ لائٹس اور پانی کا ٹینک اور سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کا اہتمام کیا گیا۔کانفرنس کے انتظامات کے سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر و ڈی پی او چنیوٹ، اسسٹنٹ کمشنر تحصیل لالیاں، ڈی ایس پی تحصیل لالیاں، ایس ایچ او چناب نگر، چیف آفیسر چناب نگر نے مثالی کردار ادا کیا اور شاندار انتظامات پر یہ افسران مبارک باد کے مستحق ہیں۔کانفرنس میں ملک کے طول و عرض سے جماعتی قائدین و علماء و ذمہ داران نے قافلوں کی صورت میں شرکت کی اور خطابات کئے۔ کانفرنس میں مولانا احسن رضوان نے قراردادیں پیش کیں، جن کو سامعین نے ہاتھ اٹھا کر منظور کیا۔ رات کے آخری حصہ میں مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج کی رقت آمیز دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

کانفرنس کی مختلف نشستوں سے حضرات علماء کرام نے خطابات کرتے ہوئے کہا کہ قانونِ توہینِ رسالت کی روک تھام کے لیے طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد بنائے گئے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ اور اس کو کالا قانون کہنا دراصل ملک میں بدامنی اور انتشار کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔قانونِ ناموسِ رسالت ہماری ریڈ لائن ہے، اس قانون سے چھیڑ چھاڑ آگ و خون سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ عاشقانِ رسول اس قانون پر پہرہ دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے۔قادیانی اب بھی پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے خلاف خطرناک سازشوں میں مصروف ہیں۔ توہینِ رسالت کے مرتکبین کے خلاف قانونی گرفت کو مزید کمزور کیا جا رہا ہے اور ملزمان کو بچانے کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل اسلام و وطن دشمنی ہے۔مکہ دفاعی معاہدہ امتِ مسلمہ کے مستقبل کے لیے نویدِ مسرت ہے، فیلڈمارشل اور وزیرِ اعظمِ پاکستان کا قائدانہ کردار اہلِ پاکستان کے لیے باعثِ فخر و عزت، قابلِ ستائش و لائقِ تحسین ہے۔آپریشن بنیان مرصوص و معرکۂ حق و شعبان کی کامیابی پر افواجِ پاکستان مبارک باد کی مستحق ہیں۔ قوانینِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے خلاف ہرزہ سرائی ناقابلِ برداشت ہے۔

قانونِ ناموسِ رسالت کے خلاف بے بنیاد منفی پروپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں۔ لادین این جی اوز نظریۂ اسلام اور نظریۂ پاکستان کی بیخ کنی کر رہی ہیں اور یہ سب کچھ قادیانیوں کے ذریعے کروایا جا رہا ہے۔امتِ مسلمہ اپنے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو آخری نبی مانتی ہے اور قیامت تک اسی عقیدے پر قائم رہے گی۔ اقتدار کی راہداریوں میں گھسے قادیانی ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ حکمران عالمی ایجنڈے کے تحت گستاخوں کو پروموٹ کر رہے ہیں۔ پاکستان کا ایٹمی پلان کفر کی دنیا کی نظروں میں اس وقت بھی کھٹک رہا ہے۔ ملکِ عزیز پاکستان کے نظریہ و جغرافیہ کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔