ہوم << قلبِ سلیم: حسنِ معاشرت کی بنیاد – الشیخ ابو یوسف سنینہ – خطبہ مسجد الاقصیٰ
600x314

قلبِ سلیم: حسنِ معاشرت کی بنیاد – الشیخ ابو یوسف سنینہ – خطبہ مسجد الاقصیٰ

الشیخ ابو یوسف سنینہ – 8 ربیع الاول 1448 ہجری – 21 اگست 2026

انسان کے ظاہر کو سنوارنا آسان، مگر دل کی اصلاح مسلسل محنت چاہتی ہے۔ دل غفلت، خود پسندی، حسد اور رنجش سے پاک ہو تو اس کا اثر کردار اور معاملات پر بھی دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن نے آخرت کی کامیابی کو قلبِ سلیم سے وابستہ کیا ہے۔ ایسا شخص غلطی پر اصرار نہیں کرتا اور ذاتی ناراضی کو ظلم و زیادتی کا جواز نہیں بناتا۔ اس کے دل میں اللہ کا خوف اور جواب دہی کا احساس اسے دوسروں کے لیے سلامتی کا سبب بناتا ہے۔

مسجد اقصیٰ کے خطیب الشیخ ابو یوسف سنینہ نے اپنے خطبۂ جمعہ میں اسی قلبِ سلیم کو حسنِ اخلاق اور صالح معاشرے کی بنیاد قرار دیا۔ ان کے مطابق قبولیتِ الٰہی کے لیے اتباعِ سنت، نیک لوگوں کا احترام اور بھائیوں کی خیر خواہی ضروری ہے۔ ظلم، فساد اور حق تلفی سے بچنا چاہیے، کیونکہ دنیا سے رخصت ہوکر اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ کامیاب وہی ہوگا جو اپنے رب کے سامنے قلبِ سلیم لے کر پہنچے گا۔قلبِ سلیم کی پہچان عملی زندگی سے ہوتی ہے۔ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی تکلیف برداشت کرنا، دوسروں کی غلطیوں سے درگزر اور ان کی عزت کی حفاظت کرنا اسی کی علامتیں ہیں۔ مسلمان بہترین امت ہیں، اس لیے معمولی مفادات پر لڑائی، باہمی زیادتی، طعن و تشنیع اور طویل دشمنی ان کے شایانِ شان نہیں۔ معاشرتی کشیدگی کا ایک بڑا سبب یہی ہے کہ مذہبی روپ تو باقی ہے، مگر اسلامی اخلاق کمزور پڑتے جارہے ہیں۔

اس خرابی کا علاج گھر سے شروع ہوگا۔ بچوں کو سچائی، شائستگی، اللہ اور رسولؐ کی محبت اور دوسروں کے حقوق کی تربیت دے کر قرآن اور سیرتِ نبوی سے جوڑا جائے۔ ہمارے اسلاف حفظِ قرآن میں ایک دوسرے سے آگے بڑھتے تھے۔ مجاہدؒ نے مسلمہ بن مخلدؒ کو فجر میں سورۂ بقرہ بے خطا پڑھتے سنا تو ان کے غیر معمولی حفظ کا اعتراف کیا۔قرآن سے تعلق مسجد اور اہلِ علم سے بھی جوڑتا ہے۔ مسجد میں قرآن سیکھنے اور مجالسِ ذکر میں بیٹھنے سے دل کو سکون اور ذہن کو یکسوئی ملتی ہے۔ حدیث میں ایسی مجالس والوں کو اہلِ کرم کہا گیا ہے۔ البتہ قرآن سے وابستگی تلاوت و حفظ تک محدود نہ رہے؛ بلکہ زبان کو سچائی، دل کو اخلاص اور معاملات کو انصاف سکھائے۔علم کے ساتھ استاد کی قدر بھی ضروری ہے۔ ایک دانا شخص کے مطابق والدین اس کی دنیاوی زندگی کا ذریعہ، جبکہ استاد دائمی کامیابی کا رہنما بنا۔ یہ بات علم کی قدر واضح کرتی ہے۔ اسی طرح نیک لوگوں کی صحبت انسان کو سنوارتی اور بری صحبت گناہ کی طرف لے جاتی ہے۔

تعلیم کا اثر معاشرتی رویوں میں ظاہر ہونا چاہیے، کیونکہ اسلام محض مذہبی وضع قطع نہیں؛ اس کی روح اچھا برتاؤ، امن، محبت اور خیر خواہی ہے۔ مسلمان کی عزت اچھالنا اور عیوب بیان کرنا دینداری نہیں۔ مضبوط معاشرہ تبھی قائم ہوگا جب خاندان آپس میں جڑیں، دلوں سے کینہ نکلے، حقوق ادا ہوں اور اختلاف دشمنی نہ بنے۔ اسی لیے خطیب محترم نے تفرقے سے بچنے، اللہ کی رسی تھامنے اور بھائی بھائی بن کر رہنے کی تلقین کی۔ دینی مخاصمت دل کو مشغول اور نفاق کو جنم دیتی ہے۔ خواہشات اور گناہوں سے بچا جائے، مسلمانوں کی آبرو محفوظ کی جائے اور ان کی کمزوریوں پر پردہ ڈالا جائے۔ اختلاف بدگمانی، دشمنی اور حق تلفی تک نہیں پہنچنا چاہیے۔ یہ پاکیزگی اسلاف کے کردار میں نمایاں تھی۔ عبداللہ بن محمد بن مغیث قرطبیؒ رات کو اس حال میں سوتے کہ دل میں کسی مسلمان کی بدخواہی نہ ہوتی۔ عنبسہ بن سعیدؒ کہتے تھے کہ جو شخص میرے پاس بیٹھا، اس کے اٹھنے سے پہلے میں نے اس کی کوئی خوبی ضرور پہچان لی۔ یہ رویہ خامیوں کے بجائے خوبیوں پر نظر رکھنا سکھاتا ہے۔

یہ کیسی عبادت ہے کہ آدمی روزہ رکھے مگر حرام کام سے توڑ دے، رات کو قیام کرے مگر دن میں جھوٹی گواہی دے، یا سلام کرنے میں بھی بخل کرے؟ اسلاف کے نزدیک لوگوں کی آبرو محفوظ رکھنا، اپنی حد میں رہنا اور حاجت مند کی مدد کرنا بھی عبادت تھی۔ ایک دانا شخص کے پاس کوئی ضرورت مند نہ آیا تو اس نے اس دن کو اپنی عمر میں شمار ہی نہ کیا۔حسنِ معاشرت کے لیے صبر اور کشادہ دلی ناگزیر ہیں۔ صبر آزمائش میں اچھا رویہ برقرار رکھنے، جبکہ کشادہ دلی معاملہ آسان کرنے کا نام ہے۔ ہر اختلاف میں اپنی بات منوانا ضروری نہیں؛ درگزر خاندان کو ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے۔ گناہ ہوجائے تو توبہ کی جائے، جس میں استغفار، ندامت، گناہ کا ترک اور دوبارہ نہ کرنے کا عزم شامل ہے۔خطیب محترم نے انبیائے کرام کے حالات سے بھی سبق دلایا۔ آدمؑ کا واقعہ خواہشات کے خطرے سے خبردار کرتا ہے۔ نوحؑ نے شدید اذیت کے بعد کافر قوم کے خلاف دعا کی، جبکہ نبی اکرمؐ نے تکلیفیں اٹھا کر بھی قوم کی ہدایت چاہی۔ موسیٰؑ کے حالات فتنوں میں اللہ کی طرف رجوع سکھاتے ہیں۔ سلیمانؑ کو عظیم سلطنت ملی، جبکہ رسول اکرمؐ نے اپنے گھرانے کے لیے بقدرِ ضرورت رزق مانگا۔ سب کے سب انبیائے کرام اپنے رب کے فیصلے پر راضی رہے۔

اس رضا کا اعلیٰ نمونہ نبی اکرمؐ کی زندگی ہے۔ آپؐ نے دنیا کو اس مسافر کی منزل قرار دیا جو کچھ دیر درخت کے سائے میں رک کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ آخری وقت میں آپؐ نے رفیقِ اعلیٰ کو پسند فرمایا۔ آپؐ کی ولادت اور نزولِ وحی پیر کو ہوا اور پیر ہی کو آپؐ دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان نسبتوں کا تقاضا آپؐ کی سنت، رحم دلی، قناعت اور اخلاق اپنانا ہے۔رضا کے ساتھ توکل بھی ضروری ہے۔ مومن تدبیر کرتا، مگر نتیجہ اللہ کے سپرد رکھتا ہے۔ اللہ کا فیصلہ کامل علم اور حکمت پر مبنی ہے۔ یہ یقین دل کو بے جا فکر اور تقدیر پر اعتراض سے نکالتا اور مصیبت میں صبر، آسودگی میں شکر پیدا کرتا ہے۔توکل انسان کو دعا کی طرف لے جاتا ہے۔ جو تنگی میں دعاؤں کی قبولیت چاہے، وہ آسودگی میں بھی رب کو یاد رکھے۔ وہی ابراہیمؑ کے بیٹے کو بچانے، یوسفؑ کو کنویں سے اقتدار تک پہنچانے، یونسؑ کی پکار سننے، یعقوبؑ کا غم اور ایوبؑ کی تکلیف دور کرنے والا ہے۔ اسی سے مغفرت، شرحِ صدر اور آسانی مانگی جائے۔

رسول اللہؐ نے سیدنا علیؓ کو تکلیف کے وقت اللہ کی حمد، اس کے حِلم و کرم اور عرشِ عظیم کی ربوبیت بیان کرتے ہوئے دعا کرنا سکھایا۔ عبداللہ بن جعفر اپنی بیٹیوں کو رخصتی کے موقع پر یہی کلمات سکھاتے تھے، تاکہ نئی زندگی میں بھی ان کا تعلق اپنے رب سے مضبوط رہے۔ خطبے کا حاصل یہ ہے کہ دل اللہ کی یاد سے آباد، بندوں کی بدخواہی سے پاک اور کردار عدل و احسان سے آراستہ ہو۔ رشتہ داروں کے حقوق ادا، برائی اور زیادتی سے اجتناب اور نعمتوں پر شکر کیا جائے۔ عبادت مزاج میں نرمی، گفتگو میں شائستگی اور معاملات میں دیانت پیدا کرے۔ معاشرے کی اصلاح یہیں سے شروع ہوگی کہ ہر شخص دوسروں سے پہلے اپنے دل، زبان اور رویے کو درست کرے۔ یہی قلبِ سلیم اور حسنِ معاشرت کا راستہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment