رسول اللہؐ سے محبت: ادب، اطاعت اور دفاعِ سنت
رسول اللہؐ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، لیکن محبت صرف جذبات، نعروں اور عقیدت بھرے الفاظ کا نام نہیں۔ سچی محبت دل میں احترام پیدا کرتی، زبان کو محتاط بناتی اور زندگی کو اطاعت کے راستے پر ڈالتی ہے۔ جو شخص رسول اللہؐ سے محبت کا دعویٰ کرے، مگر آپؐ کی سنت کو اہمیت نہ دے، آپؐ کے فیصلوں سے گریز کرے یا دین کے مقابلے میں اپنی خواہش کو ترجیح دے، اس کی محبت ابھی عملی صورت اختیار نہیں کرسکی۔ محبتِ رسولؐ کی سچائی اسی وقت سامنے آتی ہے جب مسلمان اپنے عقیدے، عبادت، معاملات اور اخلاق میں آپؐ کو اپنا رہنما تسلیم کرتا ہے۔
مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ عروہ عکرمہ صبری نے اپنے خطبۂ جمعہ میں اسی حقیقت کو نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے رسول اللہؐ کے مقام و مرتبے، آپؐ کے ادب و احترام، سنت کی حجیت اور امت پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو ایک دوسرے سے جوڑا ہے۔ خطبے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ رسول اللہؐ کا احترام محض زبان تک محدود نہیں رہتا؛ اس کا لازمی نتیجہ سنت کی پیروی، حدیث کی حفاظت اور آپؐ سے وابستہ تمام مقدس نسبتوں کی قدر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہؐ کو انسانیت کے حق میں گواہی دینے والا، خوش خبری سنانے والا اور برے انجام سے خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا۔ قرآن اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ آپؐ کا احترام بجا لائیں اور آپؐ کی عظمت کو دل سے تسلیم کریں۔ رسول اللہؐ نے اپنے بلند مقام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کے دن آپؐ اولادِ آدم کے سردار ہوں گے، سب سے پہلے آپؐ کی قبر کشائی ہوگی، سب سے پہلے آپؐ شفاعت فرمائیں گے اور سب سے پہلے آپؐ کی شفاعت قبول ہوگی۔ یہ فضیلت مسلمانوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ آپؐ کا نام بھی احترام سے لیں اور آپؐ کی تعلیمات کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھیں۔
رسول اللہؐ کی زندگی میں صحابۂ کرام کو سکھایا گیا کہ آپؐ کے سامنے آواز بلند نہ کریں اور نہ آپؐ سے اس طرح بات کریں جیسے ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ قرآن نے اس بے احتیاطی کو معمولی لغزش نہیں کہا، بلکہ متنبہ کیا کہ اس سے محسوس ہوئے بغیر ہی اعمال ضائع ہوسکتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ آپؐ کے پاس اپنی آوازیں پست رکھتے تھے، انہیں مغفرت اور بڑے اجر کی خوش خبری دی گئی۔ رسول اللہؐ کی وفات کے بعد اس ادب کی صورت بدل گئی، مگر اس کی ضرورت ختم نہیں ہوئی۔ آج آپؐ کا ادب یہ ہے کہ آپؐ کی سیرت کا ذکر وقار سے کیا جائے، حدیث نبوی کو عام انسانی گفتگو نہ سمجھا جائے اور کسی ثابت شدہ فرمانِ نبوی کو تحقیر یا تمسخر کا نہ نشانہ نہ بنایا جائے۔ پہلے زمانے کے محدثین اس معاملے میں غیر معمولی اہتمام کرتے تھے۔ بعض اہل علم حدیث بیان کرنے سے پہلے غسل کرتے، خوشبو لگاتے اور اچھا لباس پہنتے تھے۔ سننے والے بھی پوری توجہ سے حدیث سنتے، اسے محفوظ کرتے اور دوسروں تک پہنچاتے تھے۔ ان کا یہ طرزِ عمل بتاتا ہے کہ وہ حدیث کو رسول اللہؐ سے ملی ہوئی ایک عظیم امانت سمجھتے تھے۔
خطیب نے حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی بعض تحریروں اور آوازوں پر بھی سخت تشویش ظاہر کی، جن میں رسول اللہؐ کے بارے میں ادب کی حدیں پامال کی گئیں۔ ایسی باتوں کو محض ’’اختلافِ رائے‘‘ یا ’’آزادیِ اظہار‘‘ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ علمی اختلاف دلیل، دیانت اور شائستگی کے ساتھ ہوتا ہے، جب کہ اہانت اور کردار کشی کا علم سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم ایسے میں مسلمان کا جواب بھی رسول اللہؐ کی تعلیمات کے مطابق ہونا چاہیے۔ دفاعِ رسالت کے نام پر بے انصافی، فساد یا قانون شکنی اختیار کرنا خود اس سنت کے خلاف ہے جس کے تحفظ کا دعویٰ کیا جارہا ہو۔قرآن اور سنت کے خلاف فکری مہمات نئی نہیں۔ ہر دور میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے مسلمانوں کا رشتہ سنت سے کاٹنے کی کوشش کی۔ بعض نے دعویٰ کیا کہ قرآن ہمارے لیے کافی ہے اور حدیث کی ضرورت نہیں، حالانکہ قرآن کریم ہی رسول اللہؐ کی اطاعت اور پیروی کا حکم دیتا ہے۔
نبی کریمؐ نے پہلے ہی ایسے آسودہ حال شخص سے خبردار کردیا تھا جو اپنی مسند پر بیٹھ کر کہے گا کہ بس قرآن کو لازم پکڑو؛ جو کچھ اس میں حلال ملے اسے حلال اور جو حرام ملے اسے حرام سمجھو!۔ آپؐ نے واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن کے ساتھ اس جیسی ایک اور ہدایت، یعنی سنت بھی عطا فرمائی ہے۔آج منکرینِ سنت کی توجہ خاص طور پر صحیح بخاری پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ مقصد صرف کسی ایک روایت پر سوال اٹھانا نہیں، بلکہ حدیث کے سب سے معتبر مجموعے کے بارے میں شک پیدا کرکے پوری سنت کو مشکوک بنانا ہے۔ کسی روایت کی سند یا مفہوم پر اصولِ حدیث کے مطابق علمی گفتگو ممنوع نہیں۔ محدثین خود روایات کا جائزہ لیتے، راویوں پر نقد کرتے اور صحیح و ضعیف میں فرق کرتے رہے ہیں۔ اصل خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تحقیق کے اصولوں سے ناواقف شخص چند تراشے جمع کرکے پہلے صحیح بخاری اور پھر پورے ذخیرۂ حدیث کو بے اعتبار قرار دینے لگتا ہے۔
ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حدیث کا علمی ذخیرہ چند لوگوں کی سادہ روایتوں کا مجموعہ نہیں۔ محدثین نے صدیوں تک راویوں کی دیانت، حافظے، باہمی ملاقات، اسفار اور روایت کے الفاظ تک کی چھان بین کی۔ انہوں نے صحیح اور ضعیف روایت میں فرق کرنے کے لیے باقاعدہ اصول بنائے، ہزاروں کتابیں لکھیں اور راویوں کے حالات محفوظ کیے۔ دنیا کی علمی تاریخ میں آثار کی جانچ پڑتال کا ایسا وسیع اور مربوط نظام کہیں دکھائی نہیں دیتا ہے۔ جو شخص اس پورے علمی سرمائے کو پڑھے بغیر چند سوشل میڈیا ویڈیوز کی بنیاد پر حدیث کا انکار کردے، وہ تحقیق نہیں بلکہ سطحی اثرات کے درپے ہے۔سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ کچھ لوگ جانتے ہیں کہ دینی مسلّمات کے خلاف اشتعال انگیز بات کرنے سے زیادہ توجہ ملے گی، ویڈیو تیزی سے پھیلے گی اور آمدن بڑھے گی۔ یوں مذہبی جذبات کو مجروح کرنا بھی کمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
ایسے مواد کو غصے میں دیکھنا، بار بار شیئر کرنا اور اس پر لمبی بحث چھیڑ دینا بسا اوقات اسی شخص کے مقصد کو پورا کرتا ہے۔ اس لیے خطیب نے ایسے صفحات اور چینلوں سے مکمل لاتعلقی اختیار کرنے کی تلقین کی۔ قرآن بھی ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے جو اللہ کی آیات کو معمولی دنیاوی فائدے کے عوض بیچ کر دوسروں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔مسلمان کا اصل کام ہر نئے فتنے کے پیچھے بھاگنا اور بے نتیجہ بحثوں میں وقت گنوانا نہیں۔ اسے فکر ہونی چاہیے کہ وہ رسول اللہؐ کی سنت اپنی زندگی میں کیسے زندہ کرے۔ نبی کریمؐ کے کچھ حقوق کا تعلق عقیدے سے ہے اور کچھ کا عمل سے۔ عقیدے کا تقاضا ہے کہ آپؐ کی ثابت شدہ احادیث اور احکام کو سچا مانا جائے، آپؐ کو آخری نبی تسلیم کیا جائے اور یقین رکھا جائے کہ آپؐ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ اسی طرح قیامت کے دن آپؐ کی عظیم شفاعت، حوضِ کوثر اور مقامِ وسیلہ پر ایمان رکھا جائے۔
عملی ذمہ داری یہ ہے کہ مسلمان رسول اللہؐ کی پیروی کو اپنی پوری زندگی پر پھیلا دے۔ قرآن نے آپؐ کو ان لوگوں کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا ہے جو اللہ اور آخرت کی امید رکھتے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ اس پیروی کو صرف لباس یا چند ظاہری اعمال تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ نماز اور عبادت کے ساتھ گھر، بازار، ملازمت، تجارت، معاہدے، اختلاف، عدل، رحم، امانت اور دوسروں کے حقوق میں بھی سنت کی رہنمائی قبول کرنا ہوگی۔ محبت کا مضبوط ثبوت یہی ہے کہ انسان اپنی مرضی اور معاشرتی دباؤ کے مقابلے میں رسول اللہؐ کے طریقے کو ترجیح دے۔آپؐ کا نام سن کر درود و سلام پڑھنا اور کثرت سے درود بھیجنا بھی اسی محبت کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس کا باقاعدہ حکم دیا ہے، جب کہ رسول اللہؐ نے بتایا کہ جو شخص آپؐ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ زبان کا یہ ادب رفتہ رفتہ دل میں تعلق مضبوط کرتا اور انسان کو آپؐ کی سیرت کے قریب لاتا ہے۔
رسول اللہؐ سے محبت کا دائرہ آپؐ کے اہل بیت، تمام امہات المؤمنین اور صحابۂ کرام تک پھیلتا ہے۔ خلفائے راشدین، عشرۂ مبشرہ اور اسلام کی نصرت کے لیے جان و مال قربان کرنے والے صحابہ امت کے محسن ہیں۔ اہل بیت یا صحابہ کی محبت میں نہ غلو درست ہے، نہ بے اعتدالی اور نہ کسی فریق کی توہین۔ محبت کا شرعی راستہ توازن، انصاف اور احترام کا راستہ ہے۔خطبے کے آخر میں مسجد اقصیٰ سے قلبی وابستگی کی طرف بھی توجہ دلائی گئی۔ مقدس مسجد سے تعلق صرف وہاں جسمانی حاضری کا نام نہیں؛ مسلمان کا دل بھی اس کے ساتھ دھڑکنا چاہیے۔ رسول اللہؐ نے ان خوش نصیب لوگوں میں اس شخص کا ذکر کیا جس کا دل مسجد سے وابستہ رہتا ہے کہ اسے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائے گا۔ آج مسجد اقصیٰ سے محبت کا تقاضا ہے کہ مسلمان اس کی دینی حیثیت کو سمجھیں، اہل فلسطین کے دکھ کو محسوس کریں اور اس کے تحفظ کے لیے جائز، پُرامن اور مؤثر کوششوں کا ساتھ دیں۔
رسول اللہؐ سے سچی محبت انسان کے دل، زبان اور عمل تینوں کو بدل دیتی ہے۔ دل آپؐ کی عظمت تسلیم کرتا ہے، زبان ادب اور درود کی پابند ہوتی ہے اور عمل سنت کے سانچے میں ڈھلنے لگتا ہے۔ یہی محبت حدیث کے علمی ورثے کا دفاع کرتی، اہل بیت و صحابہ کا احترام سکھاتی اور مسجد اقصیٰ سے تعلق جوڑتی ہے۔ محبتِ رسولؐ کا سب سے بڑا ثبوت شور نہیں، بلکہ ایسی زندگی ہے جس میں آپؐ کی سنت صاف دکھائی دے۔



تبصرہ لکھیے