بعد نمازِ ظہر درسِ حدیث
مقرر:
ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
معزز حاضرینِ گرامی!
اللہ رب العزت نے انسان کو اپنی عبادت اور اپنے ذکر کے لیے پیدا فرمایا ہے۔انسان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرے، اپنے گناہوں سے توبہ کرے اور اپنی زندگی کو نیک اعمال سے مزین کرے۔نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ہمیں ایسے مختصر اور آسان اعمال بھی بتائے ہیں جن کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور قرب حاصل کر سکتا ہے۔
حدیثِ مبارکہ
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَتِلْكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ۔
ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 33 مرتبہ اللہ اکبر کہے، یہ ننانوے مرتبے ہوئے، پھر سو مرتبہ مکمل کرنے کے لیے یہ کلمات کہے:
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
تو اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
ذکر کی عظیم فضیلت
ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ یہ کتنی عظیم فضیلت ہے کہ ایک مسلمان اگر نماز کے بعد ان اذکار کا اہتمام اپنی زندگی کا معمول بنا لے تو اللہ رب العزت اس کے گناہوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔انسان سے زندگی میں چھوٹی چھوٹی غلطیاں اور گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ کے ذکر، تسبیح، تحمید اور تکبیر کو اپنا معمول بنائے تو یہ اعمال اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ذکر صرف زبان سے چند الفاظ ادا کرنے کا نام ہے، بلکہ ذکر انسان کے دل کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جوڑتا ہے، اسے غفلت سے نکالتا ہے اور اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جواب دہی کا احساس پیدا کرتا ہے۔
کبیرہ گناہوں سے توبہ
ڈاکٹر صاحب نے واضح فرمایا کہ کبیرہ گناہوں کے معاملے میں انسان کو مزید محتاط ہونا چاہیے۔ جب کسی شخص سے کوئی بڑا گناہ سرزد ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ فوراً اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی غلطی کا اعتراف کرے، صدقِ دل سے توبہ کرے اور آئندہ اس گناہ سے بچنے کا پختہ عزم کرے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ بندہ اگر سچی توبہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ آئے تو اللہ تعالیٰ اسے مایوس نہیں فرماتے۔اس لیے ہمیں گناہ پر اصرار کرنے کے بجائے فوراً توبہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
موت کسی وقت بھی آ سکتی ہے
ڈاکٹر صاحب نے نہایت اہم نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ہم روزانہ لوگوں سے ملتے ہیں، ان سے باتیں کرتے ہیں، ان کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ شاید یہ ہماری ان سے آخری ملاقات ہو۔کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان آج بالکل صحت مند اور تندرست نظر آتا ہے، لیکن اگلے ہی دن اس کے انتقال کی خبر آ جاتی ہے۔موت نہ عمر دیکھتی ہے، نہ صحت، نہ بیماری اور نہ کسی خاص وقت کا انتظار کرتی ہے۔ اس لیے عقل مند انسان وہ ہے جو ہر وقت اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کے لیے تیار رکھے۔ہمیں چاہیے کہ نمازوں کی پابندی کریں، ذکر و اذکار کا اہتمام کریں، گناہوں سے بچیں اور اگر کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں۔
نماز کے بعد اذکار کو معمول بنائیں
ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ ہمیں چاہیے کہ ہر فرض نماز کے بعد ان اذکار کا اہتمام کریں۔
33 مرتبہ — سُبْحَانَ اللّٰہ
33 مرتبہ — اَلْحَمْدُ لِلّٰہ
33 مرتبہ — اَللّٰہُ اَکْبَر
اور سو مرتبہ مکمل کرنے کے لیے:
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
یہ ایسا معمول ہے جس کے لیے بہت زیادہ وقت بھی درکار نہیں، لیکن اس کی برکتیں بہت عظیم ہیں۔
کلمۂ توحید کی عظمت
ڈاکٹر صاحب نے خصوصی طور پر لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کی عظمت بیان فرمائی اور فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے اس کلمے کی بہت زیادہ فضیلت بیان فرمائی ہے۔ حج کے موقع پر بھی یہ مبارک کلمہ کثرت سے پڑھا جاتا ہے۔یہ صرف چند الفاظ نہیں، بلکہ پورے عقیدۂ توحید کا خلاصہ ہے۔
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ
اس کا مطلب ہے:اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔
یعنی عبادت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ انسان کی نماز، دعا، سجدہ، خوف، امید اور تمام عبادات اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہونی چاہئیں۔
وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ
یعنی:وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات، اختیارات اور عبادت میں یکتا ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔
لَهُ الْمُلْكُ
یعنی:بادشاہی اسی کی ہے۔آسمان و زمین اور پوری کائنات کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ انسان کے پاس جو کچھ ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی عطا ہے۔
وَلَهُ الْحَمْدُ
یعنی:تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں۔نعمتیں دینے والا بھی وہی ہے، زندگی عطا کرنے والا بھی وہی ہے اور ہماری تمام ضروریات پوری کرنے والا بھی وہی ہے، لہٰذا حقیقی حمد و ثنا کا مستحق بھی وہی ہے۔
وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
یعنی:اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس لیے بندے کو اپنی ہر حاجت اور پریشانی میں اسی سے رجوع کرنا چاہیے۔
عمل کی دعوت
معزز حاضرینِ گرامی!
یہ پیغام صرف سننے کے لیے نہیں، بلکہ اپنانے کے لیے ہے۔آج ہم عہد کریں کہ ہر نماز کے بعد ان اذکار کا اہتمام کریں گے، کلمۂ توحید کو سمجھ کر پڑھیں گے، اپنی زندگی کو ذکرِ الٰہی سے آباد کریں گے اور اپنے گھر والوں، دوستوں اور عزیز و اقارب کو بھی اس نیکی کی طرف متوجہ کریں گے۔اگر ہمیں کوئی ایسا عمل معلوم ہو جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور مغفرت ہو تو اسے صرف اپنے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ حکمت اور محبت کے ساتھ دوسروں تک بھی پہنچانا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں کثرت سے اپنا ذکر کرنے، گناہوں سے بچنے، سچی توبہ کرنے اور نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔
فیصل مسجد میں عظیم الشان انٹرنیشنل محفلِ حسنِ قراءت کی دعوت
درس کے اختتام پر ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے تمام حاضرین کو ایک عظیم الشان اور بابرکت پروگرام میں شرکت کی دعوت بھی دی۔آپ نے فرمایا کہ آنے والے ہفتہ کو فیصل مسجد اسلام آباد میں ایک عظیم الشان انٹرنیشنل محفلِ حسنِ قراءت منعقد کی جا رہی ہے۔یہ محفل نمازِ عصر سے نمازِ عشاء تک جاری رہے گی، جس میں سعودی عرب اور مصر کے ممتاز اور عالمی شہرت یافتہ قراء کرام تشریف لا رہے ہیں، جو دنیا کے مختلف ممالک میں قرآن کریم کی خوبصورت تلاوت کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو کلامِ الٰہی سے جوڑتے ہیں۔یہ یقیناً قرآن کریم سے محبت رکھنے والوں کے لیے ایک شاندار موقع ہے۔تمام معزز نمازی حضرات سے خصوصی گزارش ہے کہ اس بابرکت اور عظیم الشان محفل میں ضرور شرکت فرمائیں، اپنے دوستوں، عزیزوں اور احباب کو بھی ساتھ لے کر آئیں۔جس طرح آپ کو اس محفل میں شرکت کی دعوت دی جا رہی ہے، اسی طرح آپ بھی اس دعوت کو آگے پہنچائیں اور دوسروں کو قرآن کریم کی خوبصورت تلاوت سننے اور اس بابرکت اجتماع میں شریک ہونے کی دعوت دیں۔
آئیے!
اپنے دلوں کو قرآن کریم کی تلاوت سے منور کریں، اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں اور اس عظیم الشان محفل میں بھرپور شرکت کر کے قرآن سے اپنی محبت کا اظہار کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم سے سچی محبت، اس کی تلاوت سننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اس محفل کو تمام شرکاء کے لیے خیر و برکت اور ہدایت کا ذریعہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے