ہوم << رویے شخصیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں – فخرالزمان سرحدی
600x314

رویے شخصیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں – فخرالزمان سرحدی

انسان کی پہچان صرف اس کے نام، لباس، عہدے یا ظاہری شخصیت سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے رویے اس کی اصل شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں۔ انسان دوسروں کے ساتھ کس انداز میں گفتگو کرتا ہے، کمزور کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے، اختلاف رکھنے والے کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور مشکل وقت میں دوسروں کے لیے کتنا حساس ہوتا ہے، یہی چیزیں اس کے کردار کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہیں۔

خوبصورت چہرہ وقت کے ساتھ بدل سکتا ہے، عہدہ چھن سکتا ہے، دولت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے، مگر اچھا رویہ انسان کے کردار کی ایسی خوشبو ہے جو دیر تک باقی رہتی ہے۔ نرم لہجہ، مسکراہٹ، احترام اور خلوص وہ اوصاف ہیں جو انسان کو دوسروں کے دلوں میں جگہ دیتے ہیں۔اکثر ہم لوگوں کے بارے میں ان کے الفاظ سے رائے قائم کر لیتے ہیں، لیکن اصل امتحان ان کے رویوں کا ہوتا ہے۔ کوئی شخص محبت کی باتیں بہت کر سکتا ہے، مگر اگر اس کے عمل میں احترام نہ ہو تو اس کے الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس کچھ لوگ کم بولتے ہیں، مگر ان کا عمل ان کے خلوص کی گواہی دیتا ہے۔انسان کا رویہ اس کی تربیت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ گھر، تعلیمی ادارے اور معاشرہ مل کر شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں۔ جس انسان نے احترام، برداشت اور ہمدردی سیکھی ہو، وہ اختلاف کے باوجود دوسروں کی عزت برقرار رکھتا ہے۔ وہ غصے میں بھی اپنی زبان پر قابو رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی طاقت کو کمزور انسان کے خلاف استعمال نہیں کرتا۔

معاشرے میں بہت سے مسائل دراصل خراب رویوں کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔ عدم برداشت، بدگمانی، طنز، تحقیر، خود غرضی اور دوسروں کی بات نہ سننے کی عادت رشتوں میں فاصلے پیدا کرتی ہے۔ اگر ہم اپنے رویوں پر غور کریں تو بہت سے اختلافات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو سکتے ہیں۔خاص طور پر آج کے دور میں جب گفتگو صرف آمنے سامنے نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی ہوتی ہے، ہمارے رویوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ایک تحریر، ایک تبصرہ یا ایک جملہ کسی کے دل کو خوش بھی کر سکتا ہے اور زخمی بھی۔ ہمیں اظہارِ رائے کی آزادی کے ساتھ احساسِ ذمہ داری کو بھی اپنا شعار بنانا چاہیے۔اچھا رویہ کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔کسی کو معاف کرنا، غلطی تسلیم کرنا، چھوٹے کو عزت دینا، بزرگ کا احترام کرنا اور ضرورت مند کے کام آنا انسان کی عظمت کو کم نہیں کرتا بلکہ اسے مزید بلند کرتا ہے۔ہمیں دوسروں کے رویوں کا شکوہ کرنے سے پہلے اپنے رویوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ شاید ہم بھی کسی کے لیے وہی تکلیف بن رہے ہوں جس کا شکوہ ہم دوسروں سے کرتے ہیں۔ معاشرتی اصلاح ہمیشہ دوسروں سے شروع نہیں ہوتی؛ اس کا آغاز اپنی ذات سے ہوتا ہے۔

آئیے ہم اپنے رویوں میں محبت، برداشت، احترام اور خلوص پیدا کریں۔ کسی کے لیے آسانی بنیں، کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لائیں اور کسی پریشان حال انسان کے لیے امید کا سبب بنیں۔ کیونکہ دنیا ہمیں ہماری دولت سے نہیں بلکہ ہمارے برتاؤ سے یاد رکھتی ہے۔ واقعی، رویے شخصیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ چہرہ چند لمحوں کے لیے متاثر کرتا ہے، مگر اچھا کردار اور خوبصورت رویہ دل میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

فخرالزمان سرحدی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment