ہوم << حب رسول محمد صلى اللہ علیہ والہ وسلم کے تقاضے – ہادیہ عبدالمالک
600x314

حب رسول محمد صلى اللہ علیہ والہ وسلم کے تقاضے – ہادیہ عبدالمالک

سرور دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم,اللہ کے آخری نبی اور ختم نبوت کی مہر ہیں۔ پیارے نبی دونوں جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گۓ تھے۔ان کی پیداٸش اور بعثت کا مقصد دنیا میں چاروں طرف پھیلے گمراہی اور جہالت کے اندھیروں کو مٹا کر ہدایت اور سچاٸی کی روشنی پیدا کرنا تھا۔ پوری دنیا اور خاص کر کے عالم عرب بری طرح سے گناہوں کے دلدل میں پیوستہ تھا۔

نہ حقوق کی حفاظت تھی اور نہ ہی انسانی جانوں کا تقدس,نہ ہی خالق کی پہچان تھی اور نہ ہی مخلوق کی قدر۔ایسی حالت میں پیارے نبی پاک محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آمد سے دنیا ستاروں کی مانند چمکی اور پھر بعثت کے بعد سرکار دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی فراست,اپنی دانائی اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے بدولت اللہ کے پیغام کو اس طرح دنیا تک پہنچایا کہ لوگ ان کے گرویدہ ہونے لگے۔اس دوران مخالفتیں بھی سامنے آئیں,لوگوں کے تلخ رویہ اور بے اعتنائی بھی دیکھنے کو ملی مگر پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمت نہ ہاری اور پھر ان کی محنت کا صلہ فتح مکہ کی صورت میں ان کو ملا جب پورا عرب ان کا تابع ہوگیا لیکن کمال اخلاق کی اعلی مثال کہ ایسی شاندار فتح کے باجود بھی پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں ذرہ برابر غرور و تکبر نہیں بلکہ عاجزی و انکساری کے کے ساتھ مکہ میں داخل ہورہے ہیں اور سبھی کے لیے معافی کا عام اعلان کر رہے ہیں۔

ایسی پاک اور پیاری ہستی,پیارے نبی پاک محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم جنھوں نے اپنی امت کے لیے اتنی صعوبتیں برداشت کیں,راتوں کو اٹھ اٹھ کر اس امت کی بھلاٸی اور ہدایت کی دعاٸیں مانگی,کی محبت کے کچھ تقاضے ہیں۔ اور یہ تقاضے صرف زبانی نہیں بلکہ عملی ثبوت مانگتے ہیں. زبانی طور پر اقرار کرلینا کہ ہمیں سب سے زیادہ محبوب اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں لیکن عمل و کردار کی بات آۓ تو قول و فعل میں واضح تضاد محسوس ہوتا ہے۔کسی بھی انسان سے محبت کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس انسان کی خوشی کا خیال رکھا جاۓ۔جو اس کو پسند ہو وہ کام کیے جاٸیں,اس کی محبت حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا جاۓ۔اس کی محبت آپ کے انداز سے,آپ کی چال ڈھال سے محسوس ہو۔ پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کے اظہار کا بھی یہی طریقہ ہے کہ ان کی سنت پر حرف بہ حرف عمل کیا جاۓ۔ان کی سنتوں پر مکمل طریقے سے پیروی کی جاۓ۔ان کی تعلیمات پر زندگی کے ہر ہر حصے میں عمل کیا جاۓ۔ان کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق اپنی کردار سازی اور اخلاق سازی کی جاۓ۔ان کے سنتوں کو زندہ کیا جاۓ۔ان کی تعلیمات کے مطابق جو کہ مکمل نظام زندگی ہے اپنی زندگی گزاری جائے۔

پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت ایسی ہو کہ ہمیں زبان سے یقین نہ دلوانا پڑے بلکہ ہمارا اخلاق,ہمارا کردار بذات خود حب رسول محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی گواہی دے اور ہم مخص نعتیں پڑھ کر اور میلاد منا کر خوش نہ ہوجائیں بلکہ اپنی نبی کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کر کے ان کی سب سے بڑی سنت ”اللہ کے دین کی اشاعت“ کو پورا کرنے کی کوشش کریں تاکہ روز محشر ہمارا شمار بھی ان خوش نصیبوں میں ہو جو سرکار دو عالم محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھوں حوض کوثر کا پانی پئیں گے۔