ہوم << محبت صرف زبانی نہیں،عملی بھی – ہادیہ عبدالمالک
600x314

محبت صرف زبانی نہیں،عملی بھی – ہادیہ عبدالمالک

پیارے نبی پاک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، رحمتُ العالمین کی ذاتِ گرامی پوری نوعِ انسانی کے لیے کامل نمونہ اور مشعلِ راہ ہے۔ نبی پاک ﷺ اخلاق و کردار کے اعلیٰ رتبے پر فائز تھے، جس کی گواہی قرآنِ مجید بھی دیتا ہے۔ آپ ﷺ کی پوری زندگی مبارک اللہ کے دین کی سربلندی میں گزری۔نبوت کے مقام پر فائز ہونے سے پہلے بھی آپ ﷺ ان تمام بت پرستی کے طریقوں سے سخت بیزار تھے جن کی پرستش مکہ میں عام تھی۔ آپ ﷺ کے شب و روز دنیا سے کٹ کر ایک جگہ گوشہ نشین ہو کر اللہ کی عبادت اور اس شرکیہ نظام کو زائل کرنے کی سوچوں میں گزرتے تھے۔

نبوت ملنے کے بعد اپنی زندگی کے بقیہ تئیس سال رحمتُ العالمین ﷺ نے دینِ اسلام کی اشاعت اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے صرف کیے۔ اپنا گھر بار، رتبہ، رشتے ناتے، مال و دولت، اپنا سب کچھ قربان کر دیا، صرف ایک کلمۂ توحید کو بلند کرنے کے لیے۔اس مشن میں آپ ﷺ نے پتھر بھی کھائے، برے الفاظ بھی سنے، اپنے آبائی وطن سے بھی دوری اختیار کی، تنگ گھاٹیوں میں بھی رہے، فقر و فاقہ بھی برداشت کیا، لوگوں کے دل شکن رویے بھی سہے، لیکن اپنے مقصد سے کسی صورت پیچھے نہ ہٹے۔ کوئی بھی مشکل یا مصیبت پیارے نبی ﷺ کو اپنے مشن سے رتی برابر بھی نہ ہلا سکی اور نہ ہی رب کی محبت و اطاعت کا جذبہ کم ہوا۔تئیس سال کی حق و باطل کی جنگ اور کفر و توحید کی کشمکش کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے اور محبوب ﷺ کو فتح نصیب کی اور سرزمینِ مکہ اسلام کا گہوارہ بن گئی۔ آپ ﷺ کے ساتھ ساتھ آپ کے جان نثار ساتھیوں نے بھی یہ ثابت کیا کہ توحید کی سربلندی کو زندگی کا مقصدِ اوّل بنانا، اس کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے حق پر ڈٹے رہنا اور دینِ اسلام کے نفاذ کے لیے مسلسل عمل پیرا رہنا ہی دراصل سنتِ نبوی ﷺ ہے اور یہی قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔

آج ہمارے نبی ﷺ ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن آپ ﷺ کی سیرت ہمارے سامنے موجود ہے، جو یہ بات واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کی سب سے بڑی سنت دینِ اسلام کے قیام کے لیے کوشش کرنا اور اقامتِ دین کا فریضہ ادا کرنا ہے۔ باقی تمام سنتیں اپنی جگہ بہت اہمیت کی حامل ہیں، لیکن یہ سنت سب سے بڑی اور اہم ہے۔افسوس کہ آج کا مسلمان محض زبانی محبت کے دعوے تو کرتا ہے، مگر جب عملی قربانی مانگی جاتی ہے تو پس و پیش کا شکار رہتا ہے اور معذرتوں، حیلوں اور بہانوں سے اپنا دامن بچا لیتا ہے۔ نبی پاک ﷺ سے محبت کا اصل تقاضا بھی یہی ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت کی مکمل پیروی کی جائے اور آپ ﷺ کی سب سے بڑی سنت کو پورا کیا جائے۔

مسلمان ہر قسم کی رکاوٹ کو توڑتا ہوا دینِ اسلام کے نفاذ کے لیے اپنے جان و مال، اپنی صلاحیتوں اور اپنے وقت سے جدوجہد کرے اور حقیقت میں اپنے آپ کو محمد ﷺ کا امتی ثابت کرے۔ جس نبی ﷺ نے اپنی زندگی اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور اپنی امت کی بھلائی کے لیے قربان کر دی، تو کم از کم ہم اپنے نبی ﷺ سے محبت کا اظہار صرف لفظوں یا جشن منانے کے بجائے عملی طور پر اٹھ کھڑے ہو کر اور اقامتِ دین کے فریضے کی ادائیگی کے ذریعے کریں۔ یہی سنتِ محمدی ﷺ، یہی طریقۂ محمدی ﷺ، یہی ذریعۂ نجات اور یہی ربِ الٰہی کے قرب کے حصول کا راستہ ہے۔