مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
درس بعد نمازِ ظہر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
معزز نمازی حضرات!
نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنی امت کی تربیت کا ہر پہلو نہایت محبت، حکمت اور شفقت کے ساتھ فرماتے تھے۔آپ ﷺصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بے پناہ محبت فرماتے اور جب انہیں کسی اہم کام، مہم یا سفر پر روانہ فرماتے تو صرف رخصت ہی نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے لیے خصوصی دعائیں بھی فرماتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب کسی شخص کو سفر پر روانہ فرماتے تو اس کا ہاتھ پکڑ کر یہ دعا فرماتے۔
أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ
ترجمہ:میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کے خاتمے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔
یہ بظاہر چند مختصر الفاظ ہیں لیکن اپنے اندر پوری زندگی کی خیر، بھلائی اور حفاظت کا عظیم مفہوم سموئے ہوئے ہیں۔
ہماری اصل ضرورت: دین کی حفاظت
آج ہمارے دور کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ دین کی بنیادی تعلیمات سیکھنا مشکل نہیں مگر ہمارے اندر اس کا شوق اور اہتمام کم ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن اور مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہماری نئی نسل کے ذہنوں میں ایسی بہت سی چیزیں داخل کی جا رہی ہیں جن کا اسلامی تعلیمات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔بعض اوقات غلط نظریات، بے حیائی، دین سے دوری اور مقدس شخصیات کے بارے میں شکوک و شبہات کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ نوجوان نسل انہیں حقیقت سمجھنے لگتی ہے۔آج ایک اور خطرناک صورتِ حال یہ ہے کہ جو چیز ہم سوشل میڈیا پر دیکھ یا سن لیتے ہیں اسے تحقیق کے بغیر حرفِ آخر سمجھ لیتے ہیں۔ قرآن ہمیں تحقیق کا درس دیتا ہے لیکن ہم تحقیق کے بجائے ہر وائرل بات کو سچ ماننے لگتے ہیں۔ نتیجتاً بعض اوقات وہ مقدس ہستیاں جن کے ذریعے دین ہم تک پہنچا ان کے بارے میں بھی لاعلمی، جاہلیت اور گمراہ کن پروپیگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ایسے پُرفتن دور میں ہمیں اپنے ایمان اور اپنی اولاد کے ایمان کی حفاظت کے لیے دینی تعلیم سے مضبوط تعلق پیدا کرنا ہوگا۔
دعائیں پُرفتن دور میں مضبوط حصار ہیں
نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو مختلف مواقع پر جو دعائیں سکھائیں وہ صرف چند الفاظ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل تربیتی نظام ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ان دعاؤں کو خود یاد کریں ان کا مفہوم سمجھیں اپنی زندگی کا معمول بنائیں اور اپنے بچوں کو بھی محبت اور شوق کے ساتھ یہ دعائیں سکھائیں۔اگر ہماری اولاد کو معلوم ہوگا کہ ان کے دین کے محسن کون ہیں نبی کریم ﷺ نے ان کی تربیت کیسے فرمائی۔صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دین کیسے ہم تک پہنچایا اور اسلام کی بنیادی تعلیمات کیا ہیں تو وہ ہر پروپیگنڈے کے سامنے آسانی سے مرعوب نہیں ہوں گے۔دینی دعائیں ہمارے لیے ایک مضبوط حصار ہیں یہ ہمیں اللہ تعالٰی سے جوڑتی ہیں ہمارے ایمان کو مضبوط کرتی ہیں اور ہمارے دلوں میں آخرت کی فکر پیدا کرتی ہیں۔
أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ
اپنے دین کو اللہ کے سپرد کرنا
دعا کا پہلا جملہ ہے:
أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ
یعنی: میں تمہارے دین کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
یہ سب سے پہلی اور سب سے بڑی دعا ہے کیونکہ انسان کے پاس سب سے قیمتی دولت اس کا ایمان ہے۔دنیا کی دولت چلی جائے تو دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے صحت کمزور ہو جائے تو علاج کے ذریعے بہتری آ سکتی ہے کاروبار میں نقصان ہو جائے تو دوبارہ کوشش کی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر ایمان ہی ہاتھ سے نکل جائے تو انسان کی اصل کامیابی ختم ہو جاتی ہےاس لیے *نبی کریم ﷺ* نے سب سے پہلے دین کی حفاظت کی دعا فرمائی۔ اس میں یہ پیغام ہے کہ انسان *اللہ تعالیٰ* سے دعا کرتا رہے:
*اے اللہ*! میرے ایمان کی حفاظت فرما مجھے گمراہی سے بچا، مجھے فتنوں سے محفوظ فرما۔ میرے عقیدے کو درست رکھ مجھے قرآن و سنت پر قائم رکھ اور زندگی کے آخری لمحے تک ایمان کی سلامتی عطا فرما۔آج والدین کو خاص طور پر اپنی اولاد کے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔صرف یہ فکر کافی نہیں کہ بچہ اچھے نمبر لے اچھی ملازمت حاصل کرے یا دنیاوی اعتبار سے کامیاب ہو۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ ایمان کے ساتھ زندگی گزارے اور ایمان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو۔
وَأَمَانَتَكَ امانتوں کی حفاظت
دعا کا دوسرا حصہ ہے:
وَأَمَانَتَكَ
یعنی: اور تمہاری امانت کو بھی اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
امانت کا مفہوم بہت وسیع ہے
اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو ذمہ داریاں دی ہیں وہ بھی امانت ہیں۔ نماز امانت ہے، قرآن امانت ہے، علم امانت ہے، انسان کا جسم امانت ہے، مال امانت ہے۔ عہدے اور ذمہ داریاں امانت ہیں، کسی کا راز امانت ہے، کسی کی عزت و آبرو امانت ہے، حتیٰ کہ ہماری اولاد بھی *اللہ تعالیٰ* کی عطا کردہ امانت ہے۔اس لیے مسلمان کو اپنی زندگی میں ہر امانت کی حفاظت کرنی چاہیے۔اگر کسی نے ہمیں کوئی مال دیا ہے تو اس میں خیانت نہ کریں۔ کسی نے کوئی راز بتایا ہے تو اسے دوسروں تک نہ پہنچائیں۔ کوئی ذمہ داری دی گئی ہے تو اسے دیانت داری سے ادا کریں۔ کسی منصب پر فائز ہیں تو اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہ کریں۔حقیقت یہ ہے کہ قیامت کے دن انسان سے صرف عبادات کے بارے میں نہیں بلکہ اس کی ذمہ داریوں کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔
وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ اعمال کا بہترین انجام
دعا کا تیسرا اور انتہائی اہم حصہ ہے:
*وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ*
یعنی: *اور تمہارے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔*
یہاں ہمیں اپنی زندگی کے سب سے اہم مرحلے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے: *انجام۔*انسان نے زندگی میں کتنے ہی اچھے کام کیے ہوں لیکن اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کا خاتمہ ایمان، نیکی اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر ہو۔اسی لیے ہمیں ہمیشہ حسنِ خاتمہ کی دعا مانگنی چاہیے۔ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارا انجام کیا ہوگا۔ انسان کو اپنی عبادت، اپنے اخلاق، اپنے معاملات اور اپنے ایمان پر آخری دم تک قائم رہنے کی فکر کرنی چاہیے۔بسا اوقات انسان زندگی کے ایک حصے میں بہت نیک ہوتا ہے لیکن بعد میں غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور کبھی کوئی شخص اپنی زندگی کے ابتدائی حصے میں کمزور ہوتا ہے لیکن *اللہ تعالیٰ* اسے ہدایت عطا فرما کر نیک انجام نصیب فرما دیتے ہیں۔اس لیے ہمیں اپنے اعمال پر غرور نہیں کرنا چاہیے بلکہ *اللہ تعالیٰ* سے ثابت قدمی اور حسنِ خاتمہ مانگتے رہنا چاہیے۔
چند الفاظ، مگر پوری زندگی کی خیر
غور کیا جائے تو اس مختصر دعا میں انسان کی پوری زندگی سمو دی گئی ہے۔دین محفوظ ہو۔امانتیں محفوظ ہوں۔اور انجام اچھا ہو۔اگر انسان کو یہ تین نعمتیں حاصل ہو جائیں تو اس کی زندگی حقیقتاً کامیاب ہے۔دین سلامت ہے تو اصل دولت محفوظ ہے۔امانت محفوظ ہے تو کردار محفوظ ہے۔اور خاتمہ اچھا ہے تو آخرت کامیاب ہے۔یہی وجہ ہے کہ *نبی کریم ﷺ* اپنے *صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین* کی تربیت میں دعاؤں کو خاص اہمیت دیتے تھے۔
والدین کے لیے خصوصی سبق
آج والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو صرف دنیاوی کامیابی کے لیے تیار نہ کریں بلکہ انہیں ایمان، قرآن، سنت، دعاؤں اور اسلامی اخلاق سے بھی مضبوط کریں۔بچوں کو موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے بالکل الگ کرنا شاید ہر حال میں ممکن نہ ہو لیکن انہیں یہ ضرور سکھایا جا سکتا ہے کہ ہر دیکھی اور سنی ہوئی بات درست نہیں ہوتی۔انہیں تحقیق کرنا سکھائیں دین کے معتبر ذرائع سے علم حاصل کرنا سکھائیں۔ قرآن و سنت سے تعلق مضبوط کریں اور *صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین* اور دیگر مقدس ہستیوں کی خدمات اور مقام سے آگاہ کریں۔کیونکہ جو نسل اپنے دین کی بنیادوں سے واقف ہوگی وہ فتنوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوگی۔
فیصل مسجد آنے والوں کے لیے دعائیہ کلمات
آخر میں ان تمام معزز نمازیوں، مسافروں اور زائرین کے لیے خصوصی دعا کی گئی جو دور دراز علاقوں سے اپنے مختلف کاموں کے سلسلے میں اسلام آباد آتے ہیں تو فیصل مسجد میں نماز کے لئے تشریف لاتے ہیں۔اللہ رب العزت ہر اس شخص کے مقصد کو پورا فرمائے جس مقصد کے لیے وہ یہاں آیا ہے۔ جس کے دل میں کوئی جائز حاجت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرمائے۔ جو پریشان ہے اس کی پریشانی دور فرمائے۔ جو کسی مشکل میں ہے اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے۔ جو روزگار کی تلاش میں ہے اسے حلال اور بابرکت رزق عطا فرمائے۔ جو کسی بیماری یا تکلیف میں مبتلا ہے اللہ تعالیٰ اسے صحت و عافیت عطا فرمائے۔جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے فکر مند ہے اللہ تعالیٰ اس کے گھر والوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔اللہ تعالیٰ فیصل مسجد آنے والے ہر قدم کو اپنے ہاں اجر و ثواب کا ذریعہ بنائے۔ اس مسجد میں ادا کی جانے والی عبادتوں کو قبول فرمائے اور یہاں آنے والوں کو ایمان کی تازگی، دل کا سکون اور اللہ تعالیٰ کی قربت نصیب فرمائے۔
دعا
اے اللہ رب العالمین!
ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرما۔ہمیں ہر قسم کے ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ فرما۔ہمیں قرآن و سنت سے مضبوط تعلق عطا فرما۔ہمیں نبی کریم ﷺ کی محبت اور سنت پر عمل کی توفیق عطا فرما۔صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دین کے تمام محسنین کی صحیح معرفت، محبت اور قدر عطا فرما۔اے اللہ! ہمارے دین، ہماری امانتوں اور ہمارے اعمال کی حفاظت فرما۔
اَسْتَوْدِعُ اللّٰهَ دِينَنَا وَأَمَانَاتِنَا وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِنَا۔
اے اللہ! ہمارے اعمال کا خاتمہ ایمان، تقویٰ، نیکی اور اپنی رضا پر فرما۔اے اللہ! ہماری اولاد کے ایمان کی حفاظت فرما۔ انہیں قرآن کا عاشق، سنت کا پابند، والدین کا فرمانبردار اور دین کا خادم بنا۔اے اللہ! سوشل میڈیا اور زمانے کے تمام فتنوں سے ہماری اور ہماری نسلوں کی حفاظت فرما۔ حق کو حق سمجھنے اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرما باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔اے اللہ! فیصل مسجد آنے والے تمام نمازیوں اور زائرین کی جائز حاجات پوری فرما۔ جو جس مقصد کے لیے آیا ہے اس مقصد میں کامیابی عطا فرما۔ان کے سفر کو بابرکت بنا، ان کے قدم قدم کو اجر کا ذریعہ بنا اور انہیں خیریت و عافیت کے ساتھ اپنے گھروں تک واپس پہنچا۔اے اللہ! پاکستان کو امن، سلامتی، خوشحالی اور استحکام عطا فرما۔ہمارے ملک کی حفاظت فرما ہمارے گھروں میں ایمان، محبت اور برکت عطا فرما۔اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی خیر عطا فرما۔ آخرت میں بھی خیر عطا فرما اور جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے