ملازم بھی اس سماج کا حصہ ہے جو اپنی روزی روٹی کیلئے دن رات مشقت کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، یہ بھی ہم جیسے انسان ہیں، اشرف المخلوقات ہیں۔ ملازمین سے حسن سلوک و باہمی محبت کا رشہ قائم ہو نا ضروری ہے کیونکہ انہوں نے ہی ایک فیکٹری، دوکان، یا کاروبار کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان کے بغیر تو سماج ادھورا ہے۔
انسان جب اپنے ہم مرتبہ لوگوں سے بات چیت کرتا ہے تو اخلاقی قدروں کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے اور جب اپنے ماتحت لوگوں سے معاملہ کرتا ہے تو ان کو اپنے سے کم تر سمجھتا ہے اور تمام اخلاقی قدروں کو پامال کر دیتا ہے اور اس کی عزت و نفس کا بھی خیال نہیں رکھتا۔ حضور نبی کریمﷺ نے اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا اور اپنے سے بڑے اور چھوٹے سب کے ساتھ ایک جیسے معاملات رکھنے کا حکم فرمایا۔
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے غلام سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور اسے درے سے مارنے لگا۔ اتنے میں میرے پیچھے سے آواز آئی۔ اے ابو مسعود، جان لو! مگر میں شدید غصے کی وجہ سے آواز پہچان نہ سکا۔ جب آواز دینے والا میرے قریب آ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ رسول کریمﷺ ہیں اور آپﷺ فرما رہے تھے۔ اے ابو مسعود! جان لو تمھیں اس غلام پر جتنا قابو حاصل ہے اس سے زیادہ قابو اللہ تعالیٰ کو تمھارے اوپر حاصل ہے۔ یہ سن کر میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا اور میں نے کہا کہ میں کبھی بھی اس غلام کو نہیں ماروں گا۔ میں اس غلام کو اللہ کے لیے آزاد کر تا ہوں۔ یہ سن کر حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا، ہاں اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمھیں آگ چھو لیتی (جامع الاصول)۔
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضورﷺ سے پوچھا، ہم ملازم کو ایک دن میں کتنی بار معاف کر دیا کریں؟ آپﷺ خاموش رہے۔ اس نے دوسری مرتبہ پوچھا، آپؐ خامو ش رہے۔ اس نے پھر یہ ہی سوال پوچھا تو آپﷺنے فرمایا اسے ہر روز ستر مرتبہ معاف کر دیا کرو (ابی داؤ د)۔
حضور نبی کریمﷺ نے غلاموں کے متعلق ارشاد فرمایا، وہ تمھارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو اسے چاہیے کہ جو خود کھاتا ہے اسے بھی وہ ہی کھلائے جو خود پہنتا ہے اس کو بھی پہنائے اور اس سے اس کی طاقت سے زیادہ کوئی کام نہ کروائے۔ اگر اسے کوئی ایسا کام کہہ دے تو خود بھی اس کی مدد کرے۔ حضورﷺ نے نماز کے ساتھ ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت آپﷺ کا وصال ہوا تو آپﷺ آخری دم تک یہی فرما رہے تھے، اے لوگو! نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا (ابن ماجہ)۔
نبی کریم ﷺ نے خادموں اور غلاموں کے طبقے کو جو اس وقت بالکل حقیر اورکمتر سمجھا جاتا تھا، ان کے مقام کو بلند کر کے آپﷺ نے بھائیوں کے درجے تک پہنچایا، یعنی ایک انسان جس طرح اپنے بھائی کے ساتھ مساوات اور برابری کا برتاؤکرتا ہے، غلاموں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرنے کی تاکید فرمائی۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: تمہارے خدمت گزار تمہارے بھائی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں (قبضہ) میں دے دیا ہے، اس لیے جس کا بھائی اس کے قبضے میں ہو تو اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے اور اسے ویسا ہی پہنائے، جیسا خود پہنتا ہے، انہیں ایسے کام کی تکلیف نہ دو جو ان سے نہ ہو سکے اور اگر انہیں زحمت دو تو ان کی مدد کرو (صحیح بخاری: باب ما ینھی من السباب واللعن، حدیث: 5703)۔
صحابی رسول حضرت ابوالیسر ؓ، آپ ﷺسے اپنی ملاقات کااحوال بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے دیکھا کہ جو چادر اور لباس آپ ﷺنے پہنا ہو اہے، وہی آپﷺ کے غلام نے بھی پہنا ہوا ہے۔ میں نے آپ ﷺسے اس بارے میں استفسار کیا تو آپ ﷺنے بڑی محبت اور شفقت سے میر ے سر پر ہاتھ پھیر ا اور دعا فرمائی کہ ”اے اللہ اسے برکت عنایت فرما“ پھر ارشاد فرمایا، ”تم ان غلاموں کو وہیں سے کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور وہیں سے پہنا ؤ جوتم خود پہنتے ہو“۔
اگرمیں اس غلام کو متاع دنیا میں سے کوئی چیز دے دوں، یہ میر ے لیے اس امر سے زیادہ آسان ہے کہ وہ قیامت کے دن میر ی نیکیاں لے لے (صحیح مسلم)۔
آپ ﷺنے ارشاد فرمایا، غلاموں (خادموں، ملازموں) کے ساتھ خوش خلقی کا برتاؤ کر نا برکت کا موجب ہے اور بد خلقی کا برتاؤ کر نا بے برکتی کا سبب ہے (سنن ابوداؤ)۔
اجرت کی ادائیگی میں ٹال مٹول پر نبی کریم ﷺنے سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں: آپ ﷺنے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں قیامت کے دن میں ان کا دشمن ہوں گا، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو کسی مزدور کو اجرت پر رکھے، اس سے پورا کام لے اور اسے اجرت نہ دے۔ (صحیح بخاری: باب اثم من باع حراً، حدیث:2114)۔
خیر کے کاموں میں حسنِ سلوک کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کے ذریعے انسان میں تواضع پیدا ہوتی ہے۔ حضورﷺ اپنے خدام کے ساتھ سب سے مثالی سلوک کرتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آنحضرت ﷺ کی سفر اور حضر میں خدمت کرتا رہا، لیکن حضور ﷺنے مجھ سے کبھی یہ نہیں کہا کہ تم نے فلاں کام ایسے کیوں کیا اور ایسے کیوں نہ کیا۔ (صحیح بخاری)۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے کہ حضور ﷺنے فرمایا کیا میں تمہیں وہ شخص نہ بتاؤں، جو آگ پر حرام اور آگ اس پر حرام ہے۔ وہ نرم طبیعت، نرم زبان، گھل مل کر رہنے والا اور درگزر کرنے والا ہے (ترمذی شریف)۔
حضرت سہیل بن معاذ ؓنے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جو اپنے غصے کو پی جائے، اگرچہ وہ اس کے مطابق کرنے پر قدرت رکھتا ہو، تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے مخلوق کے سرداروں میں بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جس حور کو چاہے، پسند کرلے (ترمذی شریف)۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:”جب تم سے کسی کا خادم اس کا کھانا لائے تو اسے چاہیے کہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا لے یا اسے بھی کچھ کھانا دے دے کیونکہ اس نے اس کی گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے ”(سنن ابن ماجہ: 3291)۔
انسان غلطی کا پتلا ہے، انسان ہونے کے ناطے اس سے غلطی سرزد ہوجائے تو اس سے درگزر سے کام لیا جائے، نہ کہ اسے ہدفِ تنقید بنایاجائے اور اسے سخت تنقید کا شکار کیا جائے، ذرا ذرا سی معمولی معمولی سے غلطی پر اس کی گرفت کی جائے، اس پر سختی کی جائے، حضور نبی کریم ﷺ کا عمل اس حوالے سے ہمارے لئے اُسوہ ئ حسنہ اور نمونہ ہے۔اسی لئے نبی کریم ﷺنے فرمایا ”برتنوں کے ٹوٹنے پر اپنے خادموں کو نہ مارو، کیونکہ تمہاری عمر کی طرح برتنوں کی بھی عمر ہوتی ہے“ (کنزالعمال: الاکمال من الصحبۃ مع المملوک، حدیث:2081)۔
نبی کریم ﷺ نے یہاں خادموں سے کسی غلطی کے سرزد ہونے پر انہیں مارنے پیٹنے پر تنبیہ فرمائی اور خود مخدوم کی تسلی کا سامان یوں فرمایا: اس سے کہا: تمہیں افسوس اس برتن کے ٹوٹنے پر نہیں کرناچاہئے کہ یہ برتن اپنی مدت عمر کے ختم پر ٹوٹ گیا ہے۔حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! اپنے خادم کی غلطیاں کس حد تک ہمیں معاف کرنی چاہییں؟ اس نے دو مرتبہ پوچھا: آپ ﷺنے خاموشی اختیار کی، پھر جب اس نے تیسری مرتبہ عرض کیا تو آپ ﷺنے فرمایا: ہر روز ستر مرتبہ (سنن ابوداؤد: باب فی حق المملوک، حدیث: 5164)۔
ایک اور روایت میں ہے حضرت ابو ہریرہ ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکا کر لائے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے، اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے دے دے (مسند احمد، حدیث:7505)۔
اللہ تبارک تعالی ہمیں اپنے گھریلو ملازمین، خادمین اور دیگر زیرِ کفالت افراد کے ساتھ عدل و احسان کرنے اور ان کے جملہ حقوق احسن طریقے سے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم میں رحم، درگزر اور معاف کرنے کی صفت پیدا فرمائے۔ آمین۔



تبصرہ لکھیے