ہوم << سو سال بعد – کامران رفیع
600x314

سو سال بعد – کامران رفیع

جس قبا کو ترکِ ناداں نے تقریباً ایک صدی قبل چاک کیا تھا، قدرت نے آج اسی قبا میں ایک اور بڑا رفو لگا دیا ہے۔ پہلا سنگِ میل پاک سعودی مشترکہ تزویراتی پیش رفت تھا، اور اب ترکیہ کی شمولیت نے اس سفر کو ایک ایسے تاریخی موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جسے بلاشبہ امتِ مسلمہ کی گزشتہ سو سالہ تاریخ کی اہم ترین اور نویدِ سحر سے بھرپور پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔

آج پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد امتِ مسلمہ کو جس تقسیم، تفریق اور جغرافیائی انتشار کے ذریعے کمزور کیا گیا تھا، ربِ کریم سے قوی امید ہے کہ تاریخ کا پہیہ اب اس انتشار کے الٹ سمت گھومنے لگا ہے۔ شاید نشاط ثانیہ کا سفر واقعی شروع ہو چکا ہے۔اور قدرت کا نظام بھی کتنا عجیب ہے!

جس مکہ مکرمہ میں ٹھیک ایک سو سال پہلے امت کے بکھرے ہوئے اجزا کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش ہوئی تھی، آج اسی مکہ میں ایک نئی تزویراتی حقیقت جنم لے رہی ہے۔جولائی 1926ء میں مکہ مکرمہ میں ہونے والی مؤتمر عالمِ اسلامی (World Muslim Congress) میں مولانا محمد علی جوہر اور برصغیر کے دیگر مسلم رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔ یہ اجتماع خلافت کے خاتمے اور مسلم دنیا کی سیاسی بے سمتی کے عہد میں امت کے اجتماعی شعور کو زندہ رکھنے کی ایک اہم کوشش تھا۔اور آج، ٹھیک ایک سو برس بعد، اسی مکہ میں “مکہ ایگریمنٹ” ایک نئے تاریخی امکان کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔سو سال پہلے مکہ میں سوال یہ تھا کہ بکھری ہوئی امت اپنی اجتماعی آواز کیسے پیدا کرے؟

آج جواب یہ ہے کہ وہ اپنی اجتماعی دفاعی قوت (Collective Power) پیدا کرے . علامہ اقبال نے اہل مشرق کے ایسے ہی کسی لمحے کے لیے کہا تھا:

کھول آنکھ! زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ!
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!
اس جلوۂ بے پردہ کو پردے میں چھپا دیکھ!
ایامِ جدائی کے ستم دیکھ، جفا دیکھ!

یہ پیش رفت محض ایک کاغذ کا ٹکڑا یا روایتی دفاعی دستاویز نہیں۔ یہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں Strategic Autonomy کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ پاکستان کے پاس دفاعی تجربہ اور ایٹمی صلاحیت ہے، ترکیہ کے پاس تیزی سے ابھرتی ہوئی دفاعی ٹیکنالوجی اور صنعتی صلاحیت ہے، جبکہ سعودی عرب کے پاس سرمایہ، توانائی اور عالمی اقتصادی اثر و رسوخ ہے۔ اگر یہ تینوں قوتیں محض دفاعی تعاون تک محدود رہنے کے بجائے ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی، صنعت، سرمایہ اور انسانی وسائل کے ساتھ جوڑ دیں تو یہ شراکت داری ایک غیر معمولی جیو اکنامک قوت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

مشترکہ دفاعی پیداوار ، ڈرون اور ایرو اسپیس ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت ، سائبر سیکیورٹی، صنعتی ڈیٹا، تحقیق و ترقی اور دفاعی صنعت میں باہمی سرمایہ کاری — یہ وہ میدان ہیں جہاں ایک دفاعی معاہدہ مستقبل کی اقتصادی شاہراہ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ لیکن اصل سوال معاہدے کا نہیں، وژن کا ہے۔اگر یہ اتحاد صرف خطرات کے خلاف ایک دفاعی حصار بن کر رہ گیا تو اس کی تاریخ محدود ہو گی۔لیکن اگر اسے دفاع سے معیشت، معیشت سے ٹیکنالوجی، ٹیکنالوجی سے خود انحصاری، اور خود انحصاری سے تہذیبی اعتماد تک لے جایا گیا، تو یہ اکیسویں صدی کے مسلم دنیا کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔ تاریخ کا پہیہ گھوم چکا ہے۔

مگریہ ابھی منزل نہیں۔نشان راہ ہےیہ شاید موسم بدلنے کی پہلی علامت ہے۔اور اگر تینوں ممالک کی قیادت نے اس لمحے کو سیاسی تدبر، معاشی بصیرت، علمی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی طاقت سے آگے بڑھایا، تو ممکن ہے آنے والی نسلیں آج کے دن کو صرف ایک معاہدے کے طور پر نہیں بلکہ مسلم دنیا کی ایک نئی تزویراتی بیداری کے نقطۂ آغاز کے طور پر یاد کریں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

کامران رفیع

کامران رفیع نصاب سازی اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے پاکستان کے بڑے ادارے آفاق کے ایچ آر ہیڈ ہیں۔ اس سے پہلے ڈوگر پبلشرز کے ریسرچ اینڈ مارکیٹنگ ہیڈ رہے ہیں۔ علم و تحقیق سے شغف ہے۔ ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں.

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment