ہوم << یوم تکبیر: پاکستان کی ایٹمی طاقت اور قومی اتحاد کا دن – مہناز ناظم
600x314

یوم تکبیر: پاکستان کی ایٹمی طاقت اور قومی اتحاد کا دن – مہناز ناظم

یوم تکبیر کا نام ذہن میں آتے ہی اس دن کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جب پاکستان نے اپنے دشمن کو شکست دینے کے لیےبھارتی جارحیت کاجواب دینے کا عزم کیا اور اپنے ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ سرحدوں پر انڈیا کی جارحانہ کارروائیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انڈیا نے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو کھلے الفاظ میں دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ دراز ہو رہا تھا۔

اس صورتحال میں پاکستان کے پاس دو ہی راستے تھے: ایک یہ کہ ڈر کر ہار مان لی جائے، دوسرا یہ کہ بھارت کو اسی کی زبان میں منہ توڑ جواب دیا جائے۔ پاکستان نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا اور زندہ دل قوم ہونے کا ثبوت دیا۔پاکستان کے عظیم سائنسدانوں اور حربی افواج نے اپنی محنت اور جرات سے پاکستان کو دنیا کی ان اقوام کی صف میں لا کھڑا کیا جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور دفاعی لحاظ سے ناقابل تسخیر ہیں۔ 28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں کیے گئے ایٹمی دھماکوں نے نہ صرف بھارت کی جارحیت کا جواب دیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اب کوئی کمزور ملک نہیں رہا۔

اگرچہ ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں پاکستان کو بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر اس مشکل موقع پر قوم نے مسلسل اتحاد و یکجہتی دکھائی۔ پوری قوم نے بے مثال قربانی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ بالآخر یہ سخت وقت بھی گزر گیا اور پاکستان دنیا بھر میں اسلامی ایٹمی طاقت رکھنے والی واحد اسلامی مملکت کے طور پر ابھرا۔آج پاکستان اسی ایٹمی طاقت کی بدولت دنیا بھر میں باوقار مقام رکھتا ہے۔ بھارت، جو پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، پاکستان سے کئی گنا بڑا ہونے کے باوجود جنگی مہم جوئی سے گریزاں ہے۔ یہ سب اسی یوم تکبیر کی بدولت ممکن ہوا جب مسلمانوں نے اللہ پر بھروسہ کر کے اپنی خود مختاری کے تحفظ کا عزم کیا اور “اللہ اکبر” کا نعرہ بلند کیا۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی قوت کو دنیا بھر میں امن کے قیام، مظلوموں کی مدد اور انصاف کے فروغ کے لیے استعمال کرے۔ ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ طاقت کا صحیح استعمال کیسے کیا جاتا ہے۔ یوم تکبیر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جب قوم متحد ہو اور اللہ پر توکل کرے تو کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔