انسان کے کمال کا معیار نہ مال ہے نہ منصب، بلکہ اخلاق ہے۔ اور اخلاق کا سب سے حسین زیور ”عاجزی و انکساری“ ہے۔ تاریخ نے ہر بار یہ سچ ثابت کیا ہے کہ جو جُھک گیا وہی سربلند ہوا، اور جو اکڑ گیا وہی مٹی میں مل گیا۔ عاجزی بُلندی کا زینہ ہے۔ عاجزی انسان کو زمین سے جوڑتی ہے۔ اور یہی زمین سے جڑے ہوئے لوگ آسمان تک پہنچتے ہیں۔
عاجز انسان غلطی تسلیم کر لیتا ہے، دوسروں سے سیکھتا ہے، رشتے سنبھالتا ہے اور نرم لہجے سے دل جیت لیتا ہے۔ عاجزی ابتلا و آزمائش سے بچاتی ہے کیونکہ عاجز شخص ضد نہیں کرتا، اپنی اصلاح کرتا ہے اور سیکھتا ہے۔ قرآن مجید میں اللّہ تعالٰی فرماتا ہے:
”رحمان کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام ۔“ سورۃ الفرقان آیت 63
(ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، ادارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور اشاعت مارچ 1998ء ،صفحہ 927، 929 )
”یعنی تکبّر کے ساتھ اکڑتے اور اینٹھتے ہوئے نہیں چلتے، جباروں اور مفسدوں کی طرح اپنی رفتار سے اپنا زور جتانے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ ان چال ایک شریف اور سلیم الطبع اور نیک مزاج آدمی کی سی چال ہوتی ہے ۔“ ایضاً صفحہ 931
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک بار منبر پر سے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! تواضع، انکساری اختیار کرو ۔اس لیے کہ میں نے رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم سے سنا ہے: جو اللّٰہ کے لیے جھکتا ہے اللّٰہ اسے بلند کرتا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے حالانکہ وہ لوگوں کی نگاہوں میں بڑا ہوتا ہے ۔ اور جس نے تکبّر کیا اسے اللّٰہ تعالٰی گِرا دیتا ہے، تو وہ لوگوں کی نگاہوں میں چھوٹا ہے ۔ حالانکہ وہ خود اپنے آپ کو بڑا خیال کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ ان کے سامنے کُتّے اور سوُر سے بھی زیادہ ذلیل ہو جاتا ہے ۔“ مشکوٰۃ
انتخاب حدیث از مولانا عبد الغفار حسن عمر پوری، اسلامک پبلیکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور، اشاعت اگست 1988ء ، صفحہ 158، 159
تکبّر زوال کی سیڑھی ہے، پستی اور ذِلّت کی بڑی علامت ہے۔تکبّر انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ متکبّر نہ نصیحت سنتا ہے نہ مشورہ مانتا ہے۔ وہ خود کو سب سے بہتر اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے۔ یہی “مَیں” اُسے رشتوں، کاروبار اور عزت تینوں سے محروم کر دیتی ہے۔
متکبّر انسان کے لیے قرآن کی وعید ہے۔ اللّہ تعالٰی کا ارشاد ہے:
ترجمہ: ”پھر ہم نے موسٰی (علیہ السلام ) اور اس کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور کُھلی سنَد کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا ۔ مگر انہوں نے تکبّر کیا اور بڑی دوں کی لی۔ سورۃ المؤمنون آیت 45، 46ایضاً صفحہ 877، 879
تو انہوں نے تکبّر کیا اور وہ بڑے سرکش لوگ تھے،جس کی وجہ سے اللّہ نےاُنہیں عبرت ناک سزا دی۔فرعون کو اُس کے لشکر نے نہیں ڈبویا، اس کے غرور اور تکبّر نے ڈبویا۔ قارون کو اس کے خزانے نے نہیں مارا، اس کے تکبّر اور غرور نے مارا۔ ایک حدیث مبارکہ ہے:
ترجمہ: ”حضرت حارثؓ بن وہب سے روایت ہے کہ محمد رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:متکبّر آدمی جنت میں داخل نہ ہو گا اور نہ وہ جو جھوٹی شیخی بگھارتا ہے۔“ ابو داؤد ،
راہ عمل از مولانا جلیل احسن ندوی، اسلامک پبلیکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور، اشاعت 2100ء ، صفحہ 198
اصل حدیث میں، جواظ، اور ،جعظری، کے الفاظ آئے ہیں ۔ جواظ کے معنی ہیں متکبّر، متکبّرانہ چال چلنے والا، بدمعاش، بدکار، مال کو جمع کرنے والا، بخل کرنے والا اور جعظری اس کو کہتے ہیں کہ جس کے پاس ہے تو کچھ نہیں مگر لوگوں کے سامنے اپنے پاس قارون کا خزانہ ہونے کا دعویٰ کرتا پھرتا ہے ۔ یہ دولت کے ساتھ مخصوص نہیں، زہد وتقویٰ اور علم کی دنیا میں بھی متکبّر اور جھوٹی شیخی بگھارنے والے پائے جاتے ہیں ۔“ ایضاً صفحہ 198، 199
علامہ محمد اقبالٓ نے فرمایا ہے:
؎خودی کو کر بُلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے !
(کلیاتِ اقبال اُردُو ازعلامہ محمد اقبال ، غ ع ،صفحہ 347 ، تاریخ اشاعت فروری 1973ء)
اقبالٓ والی “خودی” غرور نہیں ہے۔ وہ اللّہ کے آگے جھک کر ہی بلند ہوتی ہے۔زندگی کا آفاقی اصول بالکل سادہ ہے۔پانی ہمیشہ نیچے کی طرف بہتا ہے اور وہیں برکت بن جاتا ہے۔ جو شخص عاجزی اختیار کر لے اللّہ اُس کے راستے آسان کر دیتا ہے۔ جو اکڑ جائے، وقت خود اُسے جھکا دیتا ہے۔نبی اکرم ﷺ کی پوری سیرت اس کی مثال ہے۔ فتح مکہ کے دن جب آپ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو عاجزی سے سر اس قدر جھکا ہوا تھا کہ مبارک داڑھی اونٹ کی کاٹھی سے لگ رہی تھی۔
اس لیے آئیں آج ہم عہد کریں:
علم ملے تو شکر کریں – کیونکہ علم کے ساتھ انکسار نہ ہو تو وہ تکبّر بن جاتا ہے۔ عزت ملے تو عاجزی کریں- کیونکہ عزت بھی ایک آزمائش ہے۔ کامیابی ملے تو سجدہ کریں۔ کیونکہ دینے والا صرف اللّہ ہے۔ علامہ اقبالٓ نے کہا ہے:
؎نہیں تیرا نَشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے! بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں!
ایضاً صفحہ 412
کبھی نہیں سنا کہ کسی انسان کو اس کی عاجزی لے ڈوبی ہو۔ تاریخ گواہ ہے: جس کسی نے اپنی غَلَطی مان کر، توبہ کی،آٸندہ نہ کرنے کا عہد باندھا اور اپنی اصلاح کی ، اللّہ تعالٰی نے اسے معاف کیا،جس عاجزی و انکساری کو اپنی عادت بنایا، اس نے بلند مرتبہ پایا۔عاجزی تاج ہے جو سر پر سجے تو وقار بڑھتا ہے۔ تکبّر بوجھ ہے جو کندھوں پر آئے تو کمر توڑ دیتا ہے۔ اللّہ ہمیں عاجزی اور انکساری اختیار کرنے والوں میں شامل فرمائے جو زمین پر عاجز بن کر چلتے ہیں۔ آمین۔



تبصرہ لکھیے