ہوم << نشے کی دھند اور انسان کا زوال – ثمر عباس لنگاہ
600x314

نشے کی دھند اور انسان کا زوال – ثمر عباس لنگاہ

انسانی تاریخ کے اوراق میں اگر غور کی نگاہ ڈالی جائے تو ایک حقیقت بار بار اپنی ہیئت بدل کر سامنے آتی ہے کہ انسان کی سب سے بڑی جنگ ہمیشہ باہر کی دنیا سے نہیں بلکہ اپنے ہی باطن سے رہی ہے۔یہی باطن جب کمزور پڑتا ہے تو خواہشات کی آندھیاں اسے اس طرح گھیر لیتی ہیں کہ عقل کی شمع مدھم پڑنے لگتی ہے اور اس لمحے زیادہ تر لوگوں کو ایک راستہ نظر آتا ہے جسے ہم نشہ کہتے ہیں۔

جو بظاہر سکون کا راستہ لگتا ہے مگر درحقیقت تباہی کی ایک بے انتہا وادی کی طرف لے جاتا ہے۔ نشہ ایک ایسا فریب ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی شخصیت کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ابتدا میں یہ ایک تجسس کے روپ میں سامنے آتا ہے، جیسے کوئی نادیدہ شے انسان کو سرگوشی میں کہہ رہی ہو کہ
“ذرا آزما کر دیکھو!!! اس میں کیا برائی ہے؟”
مگر یہی تجسس جب عادت میں بدلتا ہے تو انسان کی خودی کو اس طرح نگل جاتا ہے کہ وہ اپنی پہچان تک بھول بیٹھتا ہے۔ وہ جو کبھی اپنے خوابوں کا معمار تھا، اب اپنی ہی خواہشات کا قیدی بن جاتا ہے۔ایک نوجوان جو کل تک اپنی ماں کی امیدوں کا مرکز تھا، آج نشے کی دلدل میں ایسا دھنس جاتا ہے کہ اس کی آنکھوں کی چمک بجھنے لگتی ہے۔

اس کے قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں، اس کی باتوں میں بے ربطی آ جاتی ہے اور اس کا وجود ایک ایسے بوجھ میں بدل جاتا ہے جسے وہ خود بھی اٹھانے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ ماں کی آنکھوں میں نمی اور باپ کے چہرے پر چھائی ہوئی خاموشی، اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ نشہ صرف ایک شخص کو نہیں ۔ ایک پورے خاندان کو برباد کر دیتا ہے۔ معاشرتی سطح پر دیکھا جائے تو نشہ ایک خاموش قاتل ہے، جو کسی شور کے بغیر نسلوں کو نگل رہا ہے۔ گلیوں، کوچوں اور تعلیمی اداروں میں یہ زہر اس تیزی سے پھیل رہا ہے کہ جیسے ہوا میں کوئی آلودگی گھل گئی ہو ۔ جس کا ادراک دیر سے ہوتا ہے۔ دوستوں کی محفلیں، جو کبھی ہنسی مذاق اور علم کی باتوں سے آباد ہوتی تھیں، اب وہاں دھوئیں کے مرغولے اور بے حسی کی چادر دکھائی دیتی ہے۔ یہ منظر کسی ایک شہر یا ملک تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایک المیے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
الغرض نشہ ایک اندھیری سرنگ کی مانند ہے جس میں داخل ہونے والا روشنی کی امید کھو بیٹھتا ہے۔

مگر اگر انسان اپنے اندر کی روشنی کو زندہ رکھے، اپنی عقل کی شمع کو بجھنے نہ دے اور اپنے رب کے احکامات کو حرزِ جاں بنائے تو وہ اس اندھیرے سے بچ سکتا ہے۔ کیونکہ اصل قوت باہر نہیں، انسان کے اپنے اندر ہوتی ہے ۔ بس اسے پہچاننے کی ضرورت ہے۔ اسلام نے نشے کو جس شدت سے حرام قرار دیا ہے، اس کی حکمت بھی یہی ہے کہ یہ انسان کی عقل جو اسے دیگر مخلوقات سے ممتاز بناتی ہے، کو مفلوج کر دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے :
“اے ایمان والو! بے شک شراب، جوا، بت اور پانسے ناپاک شیطانی کام ہیں، سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ” (سورۃ المائدہ: 90)۔

اسی طرح حدیثِ نبوی ﷺ میں آتا ہے “ہر نشہ آور چیز حرام ہے”۔ یہ الفاظ کسی تاویل کے محتاج نہیں ۔ یہ ایک واضح اعلان ہیں کہ انسان کو اپنی عقل اور شعور کی حفاظت ہر حال میں کرنی چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکا کیسے جائے؟ محض قوانین بنانے سے یا وقتی مہمات چلانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو شعور دیں، ان کے اندر وہ خودی بیدار کریں جو انہیں ہر برائی سے بچنے کا حوصلہ دے۔ گھر کی تربیت، اساتذہ کی رہنمائی اور معاشرے کی مثبت فضا ۔ یہ تینوں عناصر اگر یکجا ہو جائیں تو نشے کے خلاف ایک مضبوط دیوار کھڑی کی جا سکتی ہے۔والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ محض نگران نہ رہیں بلکہ ان کے دوست بھی بنیں، تاکہ بچے اپنی الجھنیں اور مسائل کھل کر بیان کر سکیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ صرف نصابی علم تک محدود نہ رہیں بلکہ کردار سازی پر بھی توجہ دیں۔ اور معاشرے کو چاہیے کہ وہ ایسے ماحول کی تشکیل کرے جہاں نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے، تاکہ ان کے پاس اپنی توانائی کو درست سمت میں استعمال کرنے کے مواقع موجود ہوں۔

یہ جنگ کسی اور کی نہیں بلکہ ہماری اپنی ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک روشن مستقبل دینا چاہتے ہیں یا انہیں نشے کی اس دھند میں گم ہونے کے لیے چھوڑ دینا چاہتے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment