ہوم << شکاری پہلے شعور کا شکار کرتا ہے – نعیم اللہ باجوہ
600x314

شکاری پہلے شعور کا شکار کرتا ہے – نعیم اللہ باجوہ

جنگل میں شکار صرف بندوق نہیں کرتی، بعض اوقات خاموشی بھی کرتی ہے۔ شکاری کی کامیابی صرف اس کی مہارت، اس کے ہتھیار یا اس کی بلند مچان کی مرہونِ منت نہیں ہوتی۔ اصل فیصلہ اس لمحے میں ہوتا ہے جب شکار اپنی حفاظت سے بے نیاز ہو چکا ہو۔ ہر نشانہ گولی سے نہیں لگتا؛ بعض اوقات غفلت، اطمینان اور تھکن مل کر وہ کام کر دیتے ہیں جو بارود بھی نہیں کر پاتا۔

ہر ہرن کو دوڑا دوڑا کر نہیں گرایا جاتا، اور ہر شکار پر گولی نہیں چلائی جاتی۔ کچھ شکاروں کا تعاقب فاصلے سے نہیں، ان کے شعور کے اندر کیا جاتا ہے۔ پہلے ان کے دل میں تحفظ کا فریب بویا جاتا ہے، پھر ان کی جاگتی ہوئی حسِ احتیاط پر اطمینان کی دھند اتار دی جاتی ہے، یہاں تک کہ اندر کا نگہبان بھی پہرہ دینا چھوڑ دیتا ہے۔ اس کے بعد تھکن ان کی روح پر یوں اترتی ہے جیسے شام جنگل پر اترتی ہے؛ خاموش، دھیرے دھیرے، مگر مکمل۔ پھر خطرہ سامنے کھڑا بھی ہو تو وہ اسے محض ایک سایہ سمجھتے ہیں، اور جب سایہ حقیقت بن کر وار کرتا ہے تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ گولی چلنے سے پہلے ہی اپنے شعور میں زخمی ہو چکے تھے۔

یاد رکھیے، انسان کا سب سے پہلا قتل اس کے جسم کا نہیں، اس کے شعور کا ہوتا ہے؛ باقی تمام وار صرف اس پہلی موت کی تصدیق ہوتے ہیں۔ یہی وہ شکار ہے جس میں تیر جسم کو نہیں، شعور کو زخمی کرتا ہے۔ انسان اس وقت نہیں ہارتا جب دشمن زیادہ طاقتور ہو؛ وہ اس لمحے ہارتا ہے جب اس کے اندر کا نگہبان سو جائے۔ کیونکہ کوئی قلعہ باہر سے اتنا آسانی سے فتح نہیں ہوتا جتنا اندر سے کھل جانے والا دروازہ۔ شیطان بھی انسان کے جسم پر پہلا وار نہیں کرتا، اس کی بیداری پر کرتا ہے۔ دنیا بھی پہلے ایمان نہیں چھینتی، پہلے حساسیت چرا لیتی ہے۔ نفس بھی کردار پر ایک ہی ضرب نہیں لگاتا؛ وہ پہلے غفلت کو سکون، بے پروائی کو اعتماد اور تھکن کو مجبوری کا خوبصورت نام دیتا ہے۔ کمزور وہ نہیں جس کے مقابلے میں طاقتور کھڑا ہو، کمزور وہ ہے جو مسلسل تھک چکا ہو۔ کیونکہ تھکن صرف جسم کو نہیں تھکاتی، وہ بصیرت پر غبار بن کر بیٹھ جاتی ہے۔ پھر آنکھیں کھلی رہتی ہیں مگر دیکھنا بند ہو جاتا ہے، کان سلامت رہتے ہیں مگر خطرے کی چاپ سنائی نہیں دیتی، اور دل دھڑکتا رہتا ہے مگر حق اور باطل کی سرحدیں دھندلا جاتی ہیں۔

زندگی کے بڑے شکاری جانتے ہیں کہ تھکا ہوا انسان آسان شکار ہوتا ہے۔ اس لیے وہ انسان کی قوت سے نہیں، اس کے صبر سے لڑتے ہیں؛ اس کے بازوؤں سے نہیں، اس کے شعور سے؛ اس کے قدموں سے نہیں، اس کی امید سے۔ انہیں معلوم ہے کہ جب روح تھک جائے تو جسم خود ہی ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ اسی لیے زندگی کے ہر زخم کو دشمن کی طاقت نہ سمجھیے۔ بعض زخم ہماری بے خبری کی قیمت ہوتے ہیں، بعض بے خوفی کا خراج، اور بعض اس اندرونی تھکن کا محصول جو آہستہ آہستہ ہماری روح کے چراغ مدھم کر دیتی ہے۔ اپنے وجود کو صرف طاقتور بنانے کی کوشش نہ کیجیے، اسے بیدار بھی رکھیے۔ کیونکہ دنیا میں سب سے محفوظ انسان وہ نہیں جس کے ہاتھ میں سب سے مضبوط ہتھیار ہو، بلکہ وہ ہے جس کے دل میں شعور کا چراغ روشن ہو۔ تھکن کو آرام دیجیے، مگر اپنے ضمیر کو کبھی سونے نہ دیجیے۔

یاد رکھیے، شکاری کا سب سے مہلک ہتھیار بندوق نہیں، شکار کی غفلت ہے۔ اور انسان کی سب سے بڑی شکست خون بہہ جانے سے نہیں ہوتی، شعور بہہ جانے سے ہوتی ہے۔ جس دن اندر کا نگہبان سو جائے، اسی دن مچان پر بیٹھا شکاری جیت جاتا ہے، چاہے اس نے ابھی تک گولی نہ چلائی ہو۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

نعیم اللہ باجوہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment