ہوم << ایک تلخ حقیقت- عاطف زاہد
600x314

ایک تلخ حقیقت- عاطف زاہد

آئیے بات یہاں سے شروع کریں کہ آپ کے پاس سب سے بڑی نعمت آپ کی زندگی ہے۔ اس لیے دنیا کے اندر جو کچھ بھی ہے، اس سے آپ اس وقت تک ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب تک دم میں دم ہو اور زندگی کا ساتھ ہو۔ زندگی ختم ہو جائے تو زندگی کی ہر نعمت آپ کے لیے بے کار اور بے مصرف ہو جاتی ہے۔ اگر زندگی واقعی بہت بڑی نعمت ہے تو زندگی بسر کرنا اور گزارنا بڑا خوشگوار، لذت بخش اور ہلکا پھلکا ہونا چاہیے۔ نعمت کے معنی ہی یہ ہیں کہ آدمی اس سے لطف اندوز ہو اور اس سے فائدہ اٹھائے۔ ذرا سوچیے کہ واقعی زندگی اس قدر خوشگوار، لذت بخش، پُرمسرت اور اتنی ہی آرام دہ ہے جتنا کہ اس کو ہونا چاہیے؟

ایک آدمی کی زندگی کو دیکھیے کہ صبح سے شام تک وہ کس طرح اس فکر میں گزارتا ہے کہ کس طرح اتنا کما لے کہ پیٹ کی بھوک مٹ جائے، گزر بسر ہو سکے، رہنے کے لیے ایک مکان میسر آئے، بچوں کو تعلیم دی جا سکے، اور اگر بیمار پڑ جائے تو اس کے علاج کے اخراجات برداشت کر سکے۔ صبح سے شام ہوتی ہے، وقت گزرتا چلا جاتا ہے، بچے جوان ہو جاتے ہیں اور جوان بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایک آدمی کو یہ خواب دیکھنے کا وقت بھی نہیں ملتا کہ وہ آرام سے روزی کما سکے، زندگی گزار سکے، اس کے سر پر ایک صاف ستھرے مکان کی چھت کا سایہ ہو، اس کے بچے تعلیم حاصل کر سکیں، اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد جو کاغذ کا ایک ٹکڑا (سند یا سرٹیفکیٹ) انہیں ملے، اسے لے کر در و دیوار نہ چھانتے پھریں، بلکہ انہیں زندگی گزارنے کے لیے روزگار میسر آ سکے۔ اگر بیمار ہوں تو ڈاکٹر کی بھاری فیسوں اور گندے ہسپتالوں کے چکروں سے نجات مل جائے، اور کسی طرح شفا پا سکیں۔ یہ ایک عام آدمی کی زندگی کے وہ بوجھ ہیں جن کے نیچے وہ دبا ہوا ہے اور پس رہا ہے۔

ذرا آگے بڑھ کر اگر وہ گھر سے باہر قدم نکالتا ہے تو جس سوسائٹی کے اندر وہ رہتا ہے، ہر طرف اسے یہ نظر آئے گا کہ جسے اس کے پیدا کرنے والے نے برابر پیدا کیا تھا، اور ہر ایک کو دو آنکھیں، دو کان، دو ہاتھ، دو پاؤں اور ایک منہ دیا تھا، وہ اونچ نیچ، طاقت ور اور کمزور طبقات میں بٹ چکا ہے۔ ایک طرف کچھ لوگوں کے پاس دولت کے انبار لگے ہیں۔ وہ وسیع جائیدادوں کے مالک ہیں، محلات میں زندگی بسر کرتے ہیں، اور ان کی نگہداشت کرنے والوں کو لاکھوں روپے دیتے ہیں۔ دوسری طرف اندھیری گلیاں ہیں، جن کے اندر خستہ اور بوسیدہ مکانات ہیں، جہاں اس ملک کی بڑی اکثریت زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔اسی طرح صرف دولت ہی کا فرق نہیں بلکہ طاقت کا بھی فرق ہے۔ جن کے پاس طاقت ہے، انہوں نے طاقت کے بل بوتے پر کمزوروں کو دبا لیا ہے۔ وہ ان کا حق مارتے ہیں اور انہیں ظلم کا نشانہ بناتے ہیں۔ قانون بھی کمزور کا ساتھ دینے کے بجائے طاقت ور کا ساتھ دیتا ہے۔

پولیس، جس کا کام انسانوں کو تحفظ دینا اور ان کی مدد کرنا ہے، شریف آدمی اس کے پاس پھٹکنے سے بھی ڈرتا ہے۔ گاؤں اور دیہاتوں میں انسانوں کو ننگا کر کے نچایا جاتا ہے اور ان کی گشت کروائی جاتی ہے، جبکہ تھانوں کے اندر لوگوں کو بے تحاشا مار پیٹ کر رسوا کر دیا جاتا ہے۔ وہ عدالتیں، جو اس کام کے لیے بنی تھیں کہ لوگوں کو انصاف میسر ہو، ان کے بارے میں یہ حال ہے کہ کوئی غریب آدمی عدالتوں کا رخ کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ نہ وہ عدالتی فیسوں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی استطاعت رکھتا ہے کہ وکیلوں کی منہ مانگی فیسیں ادا کر سکے۔ اگر کوئی غریب آدمی قرض لے کر بھی عدالت اور کچہری کے چکر لگاتا ہے تو انصاف کرنے والے جج اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ یوں وہ زندگی بھر قرضوں میں جکڑا رہتا ہے، رسوا ہوتا ہے اور برباد ہو جاتا ہے۔ سالہا سال گزر جاتے ہیں۔ جن پر الزام لگتا ہے، وہ دس دس سال تک بغیر مقدمے کے حوالات میں گزار دیتے ہیں، اور ان کی زندگی جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتی ہے۔

گویا ظلم کا ایک بازار گرم ہے۔ ہر طرف گہماگہمی ہے، اور ظلم کی چکی میں سب پس رہے ہیں۔ اگر کوئی آدمی یہ چاہے کہ رزقِ حلال کمائے تو یہ ناممکن ہو کر رہ گیا ہے۔ اگر کوئی چاہے کہ اس کا کام رشوت کے بغیر ہو جائے تو یہ بھی ایک دشوار گزار عمل بن چکا ہے۔ گھر سے باہر کی زندگی کا یہ نقشہ ہے جو ہمارے سامنے ہے۔
ذمہ دار کون؟

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment