ہوم << ایک مکمل انقلاب کی دعوت – عرفان علی عزیز
600x314

ایک مکمل انقلاب کی دعوت – عرفان علی عزیز

مکہ میں چند ہی نفوس ایسے تھے جو اپنی فطرت سلیمہ کے باعث عام لوگوں کی طرح برائیوں میں غرق نہ تھے۔ وہ نیکیوں اور اچھائیوں کے قدر شناس بھی تھے۔ ان کے درمیان ایک فرد البتہ ایسا موجود تھا جو اردگرد کے سارے معاشرے سے یکسر مختلف تھا۔ وہ لاقانونیت، ظلم و ہوس ، مکر وفریب اور جھوٹ کے سمندر میں ضبط نفس، بے غرضی، انصاف، رحم، دیانت، امانت اور سچائی کا ایک پیکر جمیل تھا۔

اس کی عادات و صفات اور اعمال و اقوال کے جمال نے ہر انسان کے دل میں اپنی عظمت کے جھنڈے گاڑ رکھے تھے۔ اس محبوب اور معزز ہستی کو پورے معاشرے میں بے پناہ احترام حاصل تھا۔ لیکن اس تفوق کی بنا پر وہ محبوب و محترم انسان اپنے لیے نہ کسی قسم کے مالی فائدے کا خواہش مند تھا نہ کسی منصب کا طلب گار۔ اس کی ذات ، اس کے مال اور اس کی پاکیزہ عادات سے پورے معاشرے کو فائدہ پہنچتا تھا۔ اس عظیم ہستی ، اس فرد فرید کا نام محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب صلی اللہ علیہ وسلم. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر عزیز کے چالیس سال، انتہائی عزت و احترام سے، اس شہر کے باسیوں کے درمیان گزارے۔ اس کے بعد وہ ایک ایسے انوکھے اور عظیم الشان تجربے سے گزرے جس کے بارے میں پہلے سے ان کے ذہن میں کوئی تصور تک موجود نہ تھا۔ یہ تجربہ وحی لے کر آنے والے ناموس اعظم ، یعنی جبریل امین سے ملاقات اور منصب نبوت پر فائز کیے جانے کا تھا۔

اس کے نتیجے میں انھوں نے اپنے عزیزوں، پھر شہر والوں، پھر تمام انسانوں کو یہ دعوت دینی شروع کر دی کہ وہ اپنے افکار، عقائد، عادات و عبادات، اطوار و خصائل، رہنے سہنے، کھانے پینے، پہنے برتنے، لینے دینے، خرید و فروخت، رشتے نبھانے اور بدلہ لینے، غرض پوری زندگی کو از سرنو اپنے پیدا کرنے والے رب کے ودیعت کردہ طریقوں کے مطابق درست بنیادوں پر استوار کریں۔ یہ بنی نوع انسان کے ایک ایک فرد کے لیے مکمل انقلاب کی دعوت تھی۔ اتنی بڑی تبدیلی لانے کے لیے داعی اسلام کے پاس اللہ کے پیغام حق اور اپنی ذات کے مثالی نمونے کے سوا اور کوئی سروسامان نہ تھا۔ نہ اتھارٹی، نہ اعوان و مددگار، نہ اقتدار، نہ فوج اور نہ اپنی ضرورتوں اور ذاتی اغراض کی تکمیل کی امید پر ساتھ دینے والوں کا کوئی ہجوم ۔ چند کمزور نفوس تھے جنھوں نے ان کے پیغام کو اس کی سچائی کی بنا پر قبول کیا تھا اور ساتھ دے رہے تھے۔

مکہ میں مال و دولت، تجارتی مفادات اور قدیم مذہبی تفوق کی بنیاد پر ایک بندو بست قائم تھا۔ اس سے وابستہ چھوٹے بڑے لوگوں کو تبدیلی کے ایسے چیلنج کا سامنا کرنے کی توقع تک نہ تھی۔ وہ اس نئی دعوت کو اپنی جمی جمائی زندگی کے لیے شدید خطرہ سمجھ کر اس کو ہر صورت میں ختم کر دینے پر تل گئے۔ انھیں اپنا چلتا ہوا بندوبست بچانے کے لیے کسی بھی ظلم و ستم سے دریغ نہ تھا، چنانچہ اس نئے دائی، اس عظیم رسول ملا لیام کے تیرہ سال مخلص ساتھیوں کی تلاش اور ان کی تربیت کرتے، انتہائی بے چارگی کے عالم میں ساتھیوں سمیت مکہ کے متکبروں کے ظلم وستم سہتے اور دنیا میں اپنے لیے عافیت کا کوئی ٹھکانا ڈھونڈتے ہوئے گزر گئے۔ پھر جب مدینہ میں ایک ٹھکانا مل گیا تو وہ بھی مکمل طور پر گوشتہ عافیت ثابت نہ ہوا۔ مدینہ آجانے کے بعد اگلے دس برسوں میں سے ایک لمبا عرصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اہلِ مکہ بلکہ پورے عرب کے لشکروں سے اپنا دفاع کرتے ہوئے گزارنا پڑا۔

دفاع کے ساتھ ساتھ انہی دس برسوں میں آپ کو ایک آئیڈیل معاشرہ قائم کرنا اور پیغام حق قبول کرنے والوں کو ایک بچے عقیدے پر استوار کرنا تھا۔ آپس میں لڑنے والوں کو ایک طاقتور امت کے سانچے میں ڈھالنا تھا۔ رجال کار تیار کرنے تھے، ادارے بنانے تھے اور ایک ایسا نظام قائم کرنا تھا کہ انسان کا اللہ سے جو خوبصورت تعلق قائم ہوا تھا اور ایک انسان کا دوسرے انسان سے خیر خواہی کا جو تعلق وجود میں آیا تھا، وہ ختم ہو کر نہ رہ جائے نسل در نسل آگے بڑھتا چلا جائے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بے پروائی، فکری غفلت اور عملی کج ردی کے سبب سے یہ تعلق زوال کا شکار ہو جائےتو بھی اس میں پھرسے تازہ ہوکر سرگرم عمل ہونے کی کل صلاحیت کا یہ موجود اور محفوظ رہے۔

دنیا کی کامیاب ترین ہستی
اس مقصد کی تکمیل کے لیے جو چیزیں بہم ہوئیں، وہ یہ تھیں۔ ابدی اور مطلق سچائیوں کو واشگاف کرنے والی ایک جامع کتاب، محمد رسول اللہ صل علیم کی صورت میں ایک ایسی ہستی جس نے اس کتاب کے ہر لفظ پر پوری طرح عمل کر کے مکمل نمونہ عمل پیش کیا ، اس کے علاوہ براہِ راست آپ سے تربیت حاصل کرنے والی ایک مختصر سی جماعت تھی جس کے زیادہ تر افراد چرواہے، پھیری لگانے والے، راستوں اور بازاروں میں سامان رکھ کر بیچنے والے چھوٹے تاجر، لکڑہارے، چھوٹے باغبان، کاشت کار، مزدور، گلہ بان ، غلام اور آزاد کردہ غلام تھے۔ یہی لوگ مختصر ترین عرصے میں محمد رسول اللہ سلیم کی تربیت پاکر کامیاب ترین حکمرانوں، دنیا کی عظیم ترین فوجوں کو شکست دینے والے سپہ سالاروں ، عدالت شعار منصفوں، نئی روایات رقم کرنے والے سفارت کاروں، مستعد ترین کار پردازوں، دنیا کی تجارت پر چھا جانے والے تاجروں ، عظیم سکالروں اور کامیاب ترین استادوں کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے کے لیے پوری طرح تیار ہو گئے ۔

ان سب کے سامنے ہر میدان میں یقینی کامیابی کے سامنے ہر یقینی کے حصول کے لیے نمونہ ایک ہی تھا۔ پوری کتاب ہدایت پر ایک ہی عظیم ہستی کے عمل کا کامل ترین نمونہ جس میں کہیں جھول تھا نہ ابہام اور نہ کوئی پیچیدگی۔ ہر عمل کا طریق کار انتہائی اجلا اور غرض و غایت واضح تھی۔ ان دس برسوں کی جدو جہد کے نتیجے میں پورے جزیرہ نمائے عرب کے رہنے والے سر پھرے بدو، تند خولڑا کے اور خود سر قبائل دیکھتے ہی دیکھتے فوج در فوج نئے دین میں شامل ہو گئے ۔ اسلام کی عظیم کامیابیوں کے سامنے ان میں سے کسی کے لیے اس کے سوا اور کوئی راستہ باقی نہ بچا تھا کہ وہ اپنے سابقہ عقیدے اور طرز حیات کو چھوڑ کر اللہ کے دین میں داخل ہو اور ایک امت کے نظم میں منسلک ہو جائے۔ اس امت کو انتہائی کٹھن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل نمونے پر من و عن عمل کرنے والے قائدین کی قیادت میں اس امت نے ارتداد جیسی خطرناک اندرونی مشکلات پر قابو پاتے ہوئے ہیں برس سے کم عرصے میں دنیا کی انتہائی طاقتور اور متمدن سلطنتوں پر غلبہ حاصل کرلیا۔ پھر یہ امت کئی صدیوں تک دنیا کی ممتاز ترین قوت رہی جو خیر کی داعی انصاف کی علمبردار اور بے مثال انسانی فلاح و بہبود کی ضامن تھی ۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عرفان علی عزیز

عرفان علی عزیز بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ افسانہ و ناول نگاری اور شاعری سے شغف ہے۔ ترجمہ نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد میں افسانے اور جاسوسی کہانیاں ناول شائع ہوتے ہیں۔ سیرت سید الانبیاء ﷺ پر سید البشر خیر البشر، انوکھا پتھر، ستارہ داؤدی کی تلاش نامی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ شاعری پر مشتمل کتاب زیرطبع ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment