ہوم << ماہ صفرالمظفر، فضائل و احکام وحقیقت – مولاناقاری محمد سلما ن عثمانی
600x314

ماہ صفرالمظفر، فضائل و احکام وحقیقت – مولاناقاری محمد سلما ن عثمانی

قرآنِ حکیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

“بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، تو ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔”
(سورۃ التوبہ، آیت 36)

ماہِ صفر کے متعلق ایک طرف تو بہت سی توہمات اور بدشگونیاں پائی جاتی ہیں، جبکہ دوسری طرف اس کے بارے میں خود ساختہ حل بھی تلاش کر لیے گئے ہیں۔ مثلاً اس ماہ میں شادی نہ کرنا، سفر نہ کرنا، کاروبار کا آغاز نہ کرنا، اس ماہ کو مردوں پر بھاری سمجھنا، اس کی تیرہ تاریخ کو منحوس قرار دینا، یا مختلف چیزیں پکا کر محلے میں بانٹنا تاکہ بلائیں ٹل جائیں یا دوسروں کی طرف منتقل ہو جائیں۔ حالانکہ دینِ اسلام میں ان تمام باتوں کی کوئی حیثیت نہیں۔

بعض لوگ ماہِ صفر میں شادی بیاہ یا کوئی خوشی کا کام نہیں کرتے، حالانکہ ماہِ صفر المظفر سن 7 ہجری میں حضور نبی کریم ﷺ نے ام المؤمنین حضرت سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔
قارئینِ کرام!
ذرا سوچیے، اگر ماہِ صفر میں شادی کرنا منحوس ہوتا تو حضور نبی کریم ﷺ اس مہینے میں نکاح کیوں فرماتے؟
بلکہ ماہِ صفر ہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھولے اور حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو فتحِ خیبر جیسی عظیم کامیابی سے نوازا۔ (البدایہ والنہایہ)

عربی زبان میں نحوست کے لیے لفظ “طیرہ” استعمال ہوتا ہے، جو “طیر” سے نکلا ہے، جس کے معنی پرندے کے ہیں۔ اہلِ عرب چونکہ پرندوں کی اڑان سے فال لیتے تھے، اس لیے بدشگونی کے لیے بھی یہی لفظ استعمال ہونے لگا۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق نہ کوئی دن، نہ کوئی مہینہ، نہ کوئی جگہ اور نہ ہی کوئی انسان بذاتِ خود منحوس ہوتا ہے، بلکہ انسان کے اپنے اعمال، رویے، اخلاق اور طرزِ زندگی ہی اس کے لیے آزمائشوں کا سبب بنتے ہیں۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“تمہیں جو بھلائی پہنچتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور جو برائی پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔” (سورۃ النساء)

بدشگونی اختیار کرنے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے سخت تنبیہ فرمائی ہے۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “جو کسی چیز سے بدفالی پکڑ کر اپنے مقصد سے واپس لوٹ آیا، اس نے شرک کیا۔”
صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا کفارہ کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ یہ دعا پڑھے:
“اے اللہ! تیری عطا کے سوا کوئی بھلائی نہیں، تیری فال کے سوا کوئی فال نہیں، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔” (مسند احمد)

وسوسے اور توہمات شیطان کے ایسے ہتھیار ہیں جن کے ذریعے وہ انسان کو شرک اور کمزوری میں مبتلا کرتا ہے۔ یہی بدشگونیاں انسان کے اندر خوف اور بے اعتمادی پیدا کرتی ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان اور توکل انسان کو جرأت، اعتماد اور حوصلہ عطا کرتا ہے۔ اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر قسم کے وہم اور بدشگونی سے اپنے دل کو پاک رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے اور اپنے معمولاتِ زندگی جاری رکھے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: “بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے۔” پھر فرمایا کہ ہم میں سے ہر شخص کے دل میں کبھی نہ کبھی وہم آ سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ پر توکل اس وہم کو دور کر دیتا ہے۔ (سنن ابی داؤد)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “مرض خود بخود نہیں لگتا، نہ نحوست ہے، نہ الو منحوس ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، البتہ جذامی سے ایسے بچو جیسے شیر سے بچتے ہو۔” (صحیح بخاری) ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہ بیماری خود متعدی ہے، نہ الو، نہ ستاروں کی کوئی تاثیر ہے اور نہ ہی صفر کا مہینہ منحوس ہے۔ (سنن ابی داؤد) اس سے معلوم ہوا کہ نفع و نقصان صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے، البتہ احتیاط اختیار کرنا شریعت کا حکم ہے۔

اسی طرح ستاروں میں اثرات ماننا، زائچے بنوانا، تاریخوں کو منحوس سمجھنا اور ان کی بنیاد پر فیصلے کرنا سب بے بنیاد اور وہمی خیالات ہیں۔ البتہ اچھی بات یا اچھے الفاظ سے نیک فال لینا جائز ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “بدفالی کوئی چیز نہیں، البتہ مجھے نیک فال پسند ہے۔” (صحیح بخاری)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہترین کتاب اللہ تعالیٰ کی کتاب (قرآنِ مجید) ہے، بہترین طریقہ حضرت محمد ﷺ کا طریقہ ہے، اور دین میں نئی نکالی جانے والی ہر چیز بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لے جانے والی ہے۔ (مسلم، نسائی) اسی طرح آپ ﷺ نے اپنی امت کو یہ وصیت بھی فرمائی کہ “میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے؛ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت۔” (موطا امام مالک)

ماہِ صفر کی تاریخی حیثیت بھی مسلمہ ہے۔ اسی مہینے میں غزوۂ ودّان (2 ہجری)، غزوۂ بئرِ معونہ (4 ہجری)، وفدِ بنی عذرہ کا قبولِ اسلام (9 ہجری)، لشکرِ اسامہ بن زیدؓ کی روانگی (11 ہجری)، فتحِ مدائن (16 ہجری) اور دیگر اہم اسلامی واقعات پیش آئے۔ البتہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس مہینے کی کوئی مخصوص فضیلت یا خاص عبادت ثابت نہیں۔ اسی طرح ایک مشہور روایت بیان کی جاتی ہے کہ
“جس نے مجھے صفر کے گزر جانے کی بشارت دی، میں اسے جنت کی بشارت دوں گا۔” محدثین کے نزدیک یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے، لہٰذا اس سے استدلال کرنا درست نہیں۔

بعض لوگ ماہِ صفر کے آخری بدھ کو اس عقیدے سے سیر و تفریح کے لیے نکلتے ہیں کہ اس دن رسول اللہ ﷺ بیماری سے صحت یاب ہو کر باہر تشریف لائے تھے، حالانکہ سیرتِ نبوی کے مطابق یہی وہ دن تھا جب آپ ﷺ کے مرضِ وفات کا آغاز ہوا تھا۔ اس لیے اس دن کو سنت سمجھ کر خصوصی اہتمام کرنا درست نہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر و حضر میں ایامِ بیض (13، 14، 15) کے روزے نہیں چھوڑتے تھے۔ (نسائی) اسی طرح حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو ہر مہینے تین روزے رکھے، گویا اس نے پوری زندگی روزے رکھے۔” (ابن ماجہ)

ان تمام حقائق کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ ماہِ صفر ہرگز منحوس نہیں ہے۔ اصل نحوست انسان کے اپنے گناہوں، بداعمالیوں اور غلط عقائد میں ہوتی ہے، نہ کہ کسی مہینے، دن یا تاریخ میں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توہمات، بدعات اور خرافات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور قرآن و سنت پر صحیح معنوں میں عمل کرنے والا بنائے۔ آمین۔