درسِ حدیث بعد نمازِ ظہر
مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
حدیثِ مبارکہ
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنْ تَمُوتَ وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ
ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ کون سا عمل محبوب ہے؟ *آپ ﷺ* نے فرمایا: یہ کہ تمہاری موت اس حال میں آئے کہ تمہاری زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر ہو۔
درسِ حدیث
معزز نمازی حضرات!
اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ایمان ہے اور ایمان کی سب سے خوبصورت منزل حسنِ خاتمہ ہے۔ ہر مومن کی یہی آرزو ہونی چاہیے کہ اس کی آخری سانس اللہ تعالیٰ کی یاد، اس کے ذکر اور کلمۂ طیبہ کے ساتھ نکلے۔ رسول اللہ ﷺنے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوال کے جواب میں اسی حقیقت کی طرف رہنمائی فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب عمل یہ ہے کہ بندے کی وفات اس حال میں ہو کہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو۔ ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے فرمایا کہ انسان کی آخری کیفیت اچانک پیدا نہیں ہوتی بلکہ پوری زندگی کی عادتیں ہی آخری لمحوں میں زبان پر آتی ہیں۔ اگر کسی نے اپنی زندگی ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، درود شریف اور استغفار میں گزاری ہے تو اللہ تعالیٰ اسے موت کے وقت بھی اپنے ذکر کی توفیق عطا فرماتا ہے۔
لیکن اگر زبان گالی گلوچ، جھوٹ، غیبت اور فضول گفتگو کی عادی ہو تو اکثر آخری وقت میں بھی وہی الفاظ زبان پر جاری ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ روزانہ اپنا محاسبہ کرے کہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے آباد ہے یا دنیا کی بے فائدہ باتوں سے۔ اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے ڈاکٹر صاحب نے حضرت ایوب علیہ السلام کی مبارک زندگی کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار نعمتوں سے نوازا تھا مگر پھر انہیں سخت آزمائش میں مبتلا فرمایا۔ بیماری، مال و دولت کا خاتمہ، اولاد کی جدائی اور طویل تکلیف کے باوجود ان کے صبر، شکر اور توکل میں ذرہ برابر کمی نہ آئی۔ جب شیطان نے ان کی اہلیہ کے ذریعے ایسے ذرائع اختیار کرنے کا وسوسہ ڈالا جن میں شرک کا شائبہ تھا تو حضرت ایوب علیہ السلام نے نہایت غیرتِ ایمانی کے ساتھ اسے رد کر دیا اور فرمایا۔ کہ میرا رب ہی میرے لیے کافی ہے آزمائش بھی اسی کی طرف سے ہے اور شفا بھی وہی عطا فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر کو پسند فرمایا بیماری دور کردی کھوئی ہوئی نعمتیں واپس عطا فرمائیں اور انہیں قیامت تک آنے والوں کے لیے صبر و استقامت کی روشن مثال بنا دیا۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو . اللہ تعالیٰ سے تعلق کمزور نہیں ہونا چاہیے بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ آج کا مسلمان بھی مختلف قسم کی آزمائشوں میں گھرا ہوا ہے۔ کوئی روزگار کے لیے پریشان ہے کوئی بیماری میں مبتلا ہے کوئی معاشی تنگی، گھریلو مسائل یا اولاد کی فکر میں ہے۔ ایسے تمام حالات میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے در پر حاضر ہونا چاہیے۔ دو رکعت نفل ادا کریں عاجزی کے ساتھ اپنے رب سے دعا کریں۔ اپنے دل کا حال اسی کے سامنے بیان کریں اور کامل یقین رکھیں کہ وہی مشکل کشا، حاجت روا اور دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔
جو بندہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے وہاں سے آسانیاں پیدا فرما دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ آخر میں ڈاکٹر صاحب نے نہایت مؤثر انداز میں فرمایا کہ آئیے آج ہم اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کریں کہ زندگی کے ہر موڑ پر اسی سے مدد مانگیں گے اپنی زبان کو ہمیشہ اس کے ذکر سے آباد رکھیں گے۔ اپنے دل کو اس کی یاد سے زندہ رکھیں گے اور اپنی پوری زندگی اس کی رضا کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں گے۔ تاکہ جب دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آئے تو ہماری زبان پر بھی کلمۂ طیبہ اور ذکرِ الٰہی جاری ہو اور اللہ تعالیٰ ہمیں حسنِ خاتمہ جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمائے۔ اللہ رب العزت ہمیں ہر وقت اپنا ذکر کرنے، صبر و توکل اختیار کرنے، ایمان پر ثابت قدم رہنے اور حسنِ خاتمہ نصیب فرمانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے