معاشرے کی خوبصورتی صرف بلند و بالا عمارتوں، ترقی یافتہ شہروں یا جدید ٹیکنالوجی سے نہیں ہوتی بلکہ اس کا حقیقی حسن اس کے لوگوں کے اخلاق، گفتگو کے انداز اور اختلافِ رائے کے مہذب طریقے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب زبان میں شائستگی، لہجے میں نرمی اور دلائل میں وزن ہو تو اختلاف بھی خیر کا سبب بنتا ہے، لیکن جب گفتگو بدتمیزی، طعن و تشنیع، الزام تراشی اور نفرت میں بدل جائے تو وہ نہ صرف افراد بلکہ پورے معاشرے کو تقسیم کر دیتی ہے۔ اسی لیے یہ اصول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ
“ہمیشہ بات تمیز سے اور اعتراض دلیل سے، ورنہ خاموشی بہتر ہے۔”
اسلام نے گفتگو کے آداب کو انتہائی اہمیت دی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بارہا بندوں کو نرم گفتگو، حسنِ اخلاق اور بہترین انداز میں بات کرنے کی تعلیم دی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی پوری زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ آپ نے سخت ترین مخالفین کے ساتھ بھی شائستگی، تحمل اور حکمت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ آپ ﷺ نے اختلاف کو دشمنی نہیں بنایا بلکہ دلیل، اخلاق اور کردار سے لوگوں کے دل جیتے۔ یہی وہ اسوہ ہے جسے آج اپنانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہماری معاشرتی زندگی میں برداشت کم اور ردعمل زیادہ نظر آتا ہے۔ معمولی اختلافات بھی ذاتی دشمنی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں غیر ذمہ دارانہ زبان، کردار کشی اور بے بنیاد الزامات کا رجحان بھی بڑھا دیا ہے۔ کئی لوگ بغیر تحقیق کے دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں اور اسے آزادیِ اظہار کا نام دیتے ہیں، حالانکہ آزادیِ اظہار کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کسی کی تذلیل کی جائے۔
اعتراض کرنا ہر انسان کا حق ہے، لیکن اعتراض صرف اسی وقت مفید ہوتا ہے جب وہ دلیل، تحقیق اور خیرخواہی پر مبنی ہو۔ محض مخالفت برائے مخالفت، طنز، تمسخر یا ذاتی حملے کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ اگر کسی کی بات یا عمل میں واقعی غلطی موجود ہے تو اسے دلیل، احترام اور شائستگی کے ساتھ واضح کرنا چاہیے۔ ایسی تنقید اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے، جبکہ توہین پر مبنی تنقید نفرت کو جنم دیتی ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ہر اختلاف پر بولنا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض مواقع پر خاموشی سب سے بڑی دانشمندی ہوتی ہے۔ ہر بات کا جواب دینا، ہر الزام کا رد کرنا اور ہر بحث میں کود پڑنا عقل مندی نہیں۔ کئی مرتبہ خاموشی انسان کے وقار، شخصیت اور عزت میں اضافہ کرتی ہے۔ بزرگ کہا کرتے تھے کہ خاموشی وہ ڈھال ہے جو بہت سے جھگڑوں اور فتنوں سے انسان کو محفوظ رکھتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں سیاسی، مذہبی، سماجی اور خاندانی اختلافات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ اصل امتحان اختلاف کا نہیں بلکہ اختلاف کے انداز کا ہے۔
اگر ہم اپنے مخالف کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کر لیں، دلیل کا احترام کریں اور اپنے الفاظ کا انتخاب بہتر بنا لیں تو بہت سے تنازعات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ مہذب معاشرے اسی اصول پر ترقی کرتے ہیں کہ اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے دیتے۔ والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ نئی نسل کو گفتگو کے آداب سکھائیں۔ بچوں کو یہ تعلیم دی جائے کہ بلند آواز، سخت لہجہ اور بدزبانی طاقت کی علامت نہیں بلکہ اخلاقی کمزوری ہے۔ اصل طاقت وہ ہے جو دلیل سے قائل کرے، کردار سے متاثر کرے اور اخلاق سے دل جیت لے۔ آج میڈیا، تعلیمی اداروں اور مذہبی و سماجی حلقوں کو بھی اس حوالے سے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ہم اپنی محفلوں، اجتماعات، ٹیلی ویژن پروگراموں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شائستہ زبان کو فروغ دیں، تو معاشرے میں برداشت، رواداری اور باہمی احترام کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔ نفرت انگیز گفتگو وقتی طور پر توجہ حاصل کر سکتی ہے، مگر وہ کبھی دیرپا عزت نہیں دلا سکتی۔
ہمیں خود بھی اپنے رویوں کا احتساب کرنا چاہیے۔ کیا ہماری گفتگو لوگوں کو قریب لاتی ہے یا دور کرتی ہے؟
کیا ہمارے اعتراض اصلاح کے لیے ہوتے ہیں یا صرف کسی کو نیچا دکھانے کے لیے؟
کیا ہم اختلاف کرتے وقت انصاف، دیانت اور احترام کو ملحوظ رکھتے ہیں؟
اگر ان سوالات کے جواب نفی میں ہیں تو ہمیں اپنے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ کسی کے دل کو ہمیشہ کے لیے زخمی بھی کر سکتا ہے اور اسی زبان سے ادا ہونے والا ایک اچھا جملہ کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑ بھی سکتا ہے۔ اس لیے گفتگو سے پہلے سوچنا، الفاظ کو تولنا اور مخاطب کے احترام کو ملحوظ رکھنا ہر صاحبِ شعور کی ذمہ داری ہے۔ دلیل انسان کے علم کی پہچان ہے، جبکہ بدتمیزی اس کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک مہذب، پرامن اور باوقار معاشرے کی بنیاد حسنِ اخلاق، شائستہ گفتگو اور مدلل اختلاف پر قائم ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی معاشرے میں امن، محبت، اتحاد اور رواداری چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زبان اور قلم دونوں کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا۔ اختلاف ضرور کیجیے، مگر دلیل کے ساتھ۔ اپنی بات ضرور کہیے، مگر تمیز کے ساتھ۔ اور اگر نہ تمیز باقی رہے، نہ دلیل، تو پھر خاموشی ہی انسان کا بہترین زیور اور سب سے مؤثر جواب ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو فرد کو باوقار، معاشرے کو مہذب اور قوم کو مضبوط بناتا ہے۔



تبصرہ لکھیے