ہوم << ’’دلیل‘‘ کی مقبولیت کا اصل راز کیا ہے؟ سید سلیم رضوی

’’دلیل‘‘ کی مقبولیت کا اصل راز کیا ہے؟ سید سلیم رضوی

اس وقت سوشل میڈیا پر جو اُردو سائٹس بہت زیادہ پاپولر ہیں، ’’دلیل‘‘ نے بہت کم عرصے میں نہ صرف ان میں نمایاں جگہ بنا لی ہے بلکہ چند ہی ماہ میں کئی سنگ میل عبور کر لیے ہیں۔ اس کی چند خاص الخاص وجوہ ہیں۔ میں کسی لمبی تمہید میں پڑے بغیر ان کا ذکر اختصار سے کرنا مناسب سمجھوں گا۔
1۔سب سے بڑا ایڈوانٹیج جو برادرم محمد عامر خاکوانی صاحب کو حاصل ہے، وہ ہے میڈیا کے ساتھ پہلے سے وابستگی، ماشاء اللہ خاکوانی صاحب کی تحریر کا ایک خاص اُسلوب ہے، ان کی تحریر میں بلاکی روانی اور بلاغت ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی بات بڑے مدلل پیرائے میں بیان کرنے کا جو ملکہ حاصل ہے، وہ پڑھنے والے کے دل و دماغ پر گہرا نقش چھوڑ جاتا ہے۔ خوف مجھے یہ ہے کہ میرے توصیفی الفاظ کہیں خوشامد کے زُمرے میں نہ آ جائیں، صرف اتنا بیان کر دوں کہ کم و بیش آٹھ سال سے ان کے کالموں کا باقاعدہ قاری ہوں اور ان شستہ و شائستہ طرز تحریر کا دل وجان سے معترف بھی، تب سے جب وہ روزنامہ ایکسپریس سے وابستہ تھے اور اپنا پورا نام ’’محمد عامر ہاشم خاکوانی‘‘ لکھا کرتے تھے۔ مجھے غالباً ان کے کالم کی طرف اسی لمبے نام نے متوجہ کیا تھا۔ ایک بالکل نووارد کالم نویس کو مَیں نے محض جانچنے اور پرکھنے کی غرض سے پڑھنے کی کوشش کی تو اِقرار کیے بغیر نہ رہ سکا کہ یہ نوجوان ہمارے کالم نویسوں کی فہرست میں ایک اچھا اضافہ ہے۔ ایک اچھے کالم کی جو خصوصیات ہیں، ان میں سب سے فائق چیز الفاظ کا انتخاب ہے، (میرے خیال میں انتخاب کہنا بھی زیادتی ہوگی کی الفاظ شعوری طور پر چُنے نہیں جاتے بلکہ شاعری کی طرح نثر میں بھی اِن کی آمد ہوتی ہے) تحریر اس قدر مؤثر، دِلکش اور بےساختہ ہو کہ قاری کو اپنے ساتھ لے کے چلے، اور دوسرے یہ کہ علم میں اضافے کا ذریعہ بھی بنے۔ یہی وجہ ہے کہ خاکوانی صاحب اس عرصے میں قارئین کا اِتنا وسیع حلقہ بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ’’دلیل‘‘ کے نام سے جو بلاگ بنایا ہے ( اسے بےشک سائٹ کہہ لیجیے) اس کے پڑھنے والوں کی بڑی تعداد ان کے پہلے سے موجود قارئین پر مشتمل تھی، جس میں اردہ زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والے وہ لوگ تیزی سے شامل ہوتے جا رہے ہیں جن کی براہِ راست انٹرنیٹ تک رسائی ہے اور ان کے پاس اخبارات کے مطالعے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔
2۔ برادرم عامر خاکوانی نے اپنے چند کالموں میں قارئین کو سوشل میڈیا کی طرف مائل کرنے میں بھی شعوری کردار ادا کیا اور فیس بک کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے قارئین کی دلچسپی سوشل میڈیامیں بھی کئی گنا بڑھا دی ہے۔ جو لوگ اخباری کالموں کو پڑھ لینے پر اکتفا کرتے تھے یقینا اس سے انہیں تحریک ملی اور ان میں سے جن کی رسائی (ACCESS) انٹر نیٹ تک تھی انہوں نے ’’دلیل‘‘ میں بھی دلچسپی لینا شروع کر دی ہے اور یوں قارئین کا ایک بہت بڑا حلقہ بالواسطہ طور پر’’دلیل‘‘ کو میسر آ گیا ہے۔
3۔ میری رائے میں خاکوانی صاحب کی یہ خصوصیت سب پر فائق ہے کہ انہوں نے اپنے قارئین سے ایک اپنائیت بھرا تعلق قائم کر لیا ہے۔ لوگ بڑی چاہت اور خلوص دِل کے ساتھ، بڑے ہی پُر اعتماد انداز سے ان کے ساتھ براہِ راست وابستہ ہو چکے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ خاکوانی صاحب اپنی گوناگوں مصروفیات میں سے مضامین کے جواب میں کمنٹس کرنے والوں کے خیالات کو نہ صرف بہ نفس نفیس لائیک کرتے ہیں بلکہ جہاں تک بن پڑے ان میں سے کچھ کا جواب بھی دیتے ہیں۔ (آج کل ان کی طرف سے Likes اور جوابی کومنٹس میں خاطرخواہ کمی آ چکی ہے)
4۔ بیشتر قارئین ’’دلیل‘‘ پر لگنے والے مضامین کو پڑھنے پر اس لیے بھی آمادہ ہو جاتے ہیں کہ ان کی طرف قارئین کی توجہ دلانے میں خاکوانی صاحب کی پر خلوص سفارش بھی شامل ہوتی ہے جو چند خوبصورت اور پر کشش الفاظ پر مشتمل ہوتی ہے۔ یوں ہم جیسے ان کے دیرینہ نیازمند ایسے مضامین کو اس بنا پر نظرانداز نہیں کر سکتے کہ جو بات خاکوانی صاحب کے دل کو چھو گئی ہے، اس میں یقینا بڑا اثر ہوگا۔
5۔ میں اس بات کا برملا اظہار کرنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ خاکوانی صاحب بڑے دل گردے کے آدمی ہیں۔ مجھے نہیں خبر کہ’’دلیل‘‘ کو لانچ کرنے کا ان کا کب سے ارادہ تھا یا یہ فیصلہ اچانک سامنے آیا؟ وجہ کچھ بھی ہو سب سے پہلے خاکوانی صاحب نے برادرم وجاہت مسعود کی سائٹ’’ہم سب‘‘ کا اپنے قارئین سے تعارف کرایا۔ خود میں ان کے ایک کالم میں توجہ دلائے جانے کے باعث’’ہم سب‘‘ سے آشنا ہوا۔ اس میں کچھ کلام نہیں کہ وجاہت مسعود صاحب جس اخبار میں لکھتے ہیں، وہ ایک اعتبار سے خاکوانی صاحب کے اپنے اخبار کا حریف ادارہ ہے اور خبر بازی کی حد تک اِن دونوں اداروں کے مابین ایک طرح کی چپقلش بھی جاری رہتی ہے، تاہم خاکوانی صاحب نے اسے درخورِاعتنا نہ سمجھتے ہوئے اپنے قارئین کو وجاہت مسعود سے رُوشناس کرانے میں بخل سے کام نہیں لیا۔
6۔ برادرم خاکوانی صاحب اپنے قارئین کی کڑوی کسیلی باتیں بھی بڑے حوصلے سے سہہ جاتے ہیں، بلکہ اِن چُبھتی ہوئی جملے بازیوں کو ہنس کر ٹال جاتے ہیں۔ خود ہم (مراد راقم الحروف) ان کا حوصلہ آزمانے کے لیے اپنے کمنٹس میں کبھی کبھار چھیڑ چھاڑ بھی کر لیتے ہیں لیکن ایسا کوئی ثبوت ہمارے سامنے نہیں آیا جو ہمارے اس ہر دلعزیز بھائی کی ناگواری کا پتہ دیتا ہو۔ ظاہر ہے کہ ہم جیسے ادنیٰ سے لوگ، خواہ جس بھی حیثیت کے حامل ہیں، ان کا اصل اثاثہ ہیں اور اپنے اثاثے کو کون سنبھال کر نہیں رکھتا۔
میری درج بالا معروضیات میں شاید کوئی اختلافی پہلو بھی موجود ہو۔ اختلاف کا حق ہر کسی کو حاصل ہے۔ مَیں نے جو محسوس کیا بلا تأمّل لکھ ڈالا ہے، فیصلہ آپ خود اپنی صوابدید اور سمجھ بوجھ کے مطابق کر سکتے ہیں۔

Comments

Click here to post a comment