ہوم << علم، عقل و شعور - جنید احمد خان
600x314

علم، عقل و شعور – جنید احمد خان

عقل ایک بنیادی پیدائشی انسانی وصف ہے جو بنی نوع انسان کے علاؤہ اور کسی ذی روح میں نہیں پائی جاتی، اس کا پیمانہ کسی بھی انسان کے اندر کم، متوازن یا بیش ہوسکتا ہے، کسی بھی انسان کے اندر عقلی استعداد کا کثرت سے ہونا اسے معاشرے میں دوسرے افراد سے ممتاز کرتا ہے اور اس انسان کی دور اندیشی کو چار چاند لگا دیتا ہےـ

علم وہ خزانہ پے جو ایک انسان اس دُنیا میں مختلف ذرائع سے حاصل کرتاہے، علم وعقل رکھنے والا کوئی بھی شخص ایک سنجیدہ, ساکت و عمیق شخصیت کا مالک ہوتا ہے، اور علم ہی وہ طاقت ہے جو ایک انسان کو شعور کی شمع سے روشناس کراتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ شعور انسانی شخصیت کے دو پہلوؤں میں منقسم نظر آتا ہے، جو کہ مثبت اور منفی شعور ہیں، منفی شعور حاصل کر کے ایک انسان انا پرستی، خود غرضی، خودپسندی، رقابت، حسد، عداوت، شخصیت پرستی، غرور، تکبر، منافقت جیسی خصلتوں میں مبتلا ہو جاتا ہےـ

علم کا دوسرا حاصل اور پہلو مثبت شعور ہے، یعنی مثبت شعور حاصل کر کے ایک انسان، تخلیق، حق گوئی، حق پرستی، بے باکیت، دانش، اخوت، اتفاق، جذبہ خدمت، محبت، خدمتِ انسانیت، جیسی عظیم خصلتیں پا لیتا ہےـ

کچھ خصلتیں انسان کو موروثی طور پر بھی مل جاتی ہیں اور وہ اس کے خمیر میں ہوتی ہیں، لیکن علم و شعور حاصل کرنے کے بعد انسان اپنی مثبت و منفی خصلتوں سے آگاہی حاصل کر سکتا ہے، اور یہی سفر خود آگہی ہے، جب انسان اپنی ذات میں گم ہو کر باریک بینی سے مشاہدہ کرتاہے اور اپنے اندر موجود اچھے اور برے کی حیثیت اس کے سامنے آشکار ہو جاتی ہے.

ذات بشری کا ایک پہلو اور بھی ہے، وہ یہ کہ ہر بشر فطرتاً اچھائی اور برائی کا پیکر ہوتا ہے، کوئی اچھا بولتا ہے لیکن اچھا لکھ نہیں سکتا، کوئی آچھا لکھتا ہے تو اچھا بول نہیں سکتا، کسی کے لہجے میں مٹھاس ہے تو دل میں خفی کدورت، کسی کا لہجہ سخت لیکن دل خوبصورت اور آئینے جیسا شفاف، اور اگر کسی میں دونوں خوبیاں ہیں تو اس میں اس برابر کوئی اور خامی لازماً موجود ہوتی ہےـ

مقصد کوئی انسان کامل نہیں ہوتا، انسان کی تخلیق ضعف و کمزوری کے ساتھ کی گئی ہے، اگر سامنے کوئی اچھائی نظر آ رہی ہے تو مخفی طور پر وہ ہزاروں برائیوں کا پیکر ہے، اگر سامنے کوئی برائی نظر آ رہی ہے، تو اس میں ہزاروں مخفی اچھائیاں بھی ہوتی ہےـ

ہر انسان سفر خود آگہی سے اپنا محاسبہ کرنے کی بھرپور قدرت رکھتا ہے، اور یہی بشری قوت انسان کو قدرت کی جانب سے عطا کردہ ایک نایاب تحفہ ہے، بری خصلتیں اپنا کر ایک انسان بدی کا پیکر اور شیطان کا آلہ کار بن جاتا ہے، ایسے میں بری صحبت کا بھی کردار ہوتا ہے، جہاں سے وہ منفی توانائی حاصل کرتاہے، لیکن وہ سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے اور مثبت شعور کا سفر کر کے ہی وہ اس راز کو پا لیتا ہے لیکن وقت گزر چکا ہوتا ہےـ

سفر خود آگہی کے ذریعے ایک انسان اپنا بہترین محاسبہ بھی کر سکتا ہے، وہ اپنی تمام تر منفی خصلتوں کو حاصل شدہ شعور کے ذریعے خیرباد کہہ کر تمام مثبت خصلتوں کو اپنا بھی سکتا ہے، اس منزل کی جانب بہت کم لیکن خوشبخت لوگ سفر کرتے ہیں، اور یہی وہ منزل مقصود ہے جو انسانیت کی معراج ہے، یہی وہ مقام ہے جو بشر کو ملائک سے افضل کر دیتا ہےـ

فرشتہ مجھ کو کہنے سے میری توہین ہوتی ہے
میں مسجودِ ملائک ہوں مجھے انسان رہنے دو

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

نقطہ نظر

ایک تبصرہ

Click here to post a comment

  • پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی معاشی قیمت

    پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کے باوجود سیلاب، شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور غیر متوقع موسمی حالات ملک کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ زراعت، انفراسٹرکچر، صحت اور توانائی جیسے اہم شعبے موسمیاتی تباہ کاریوں کی وجہ سے شدید مالی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
    سن 2022 کے تباہ کن سیلاب پاکستان کی تاریخ کے بدترین قدرتی سانحات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان سیلابوں کے نتیجے میں 30 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا جبکہ متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے 16 ارب ڈالر سے زیادہ رقم درکار ہے۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تقریباً 59 ارب ڈالر کے نقصانات برداشت کرنا پڑے۔ صرف 2022 کے سیلاب ہی پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 6 فیصد کے برابر تھے، جس سے معاشی ترقی، برآمدات اور مالی استحکام شدید متاثر ہوئے۔
    پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے اور یہی شعبہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ سیلاب اور خشک سالی کے باعث فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، مویشی ہلاک ہو رہے ہیں اور پانی کی قلت کسانوں کی آمدنی اور غذائی تحفظ دونوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ کپاس، گندم، چاول اور گنے جیسی اہم فصلوں کی پیداوار مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ حالیہ جائزوں کے مطابق صرف ایک موسمی سیزن میں زرعی شعبے کو ایک ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔
    موسمیاتی آفات صرف زراعت تک محدود نہیں بلکہ انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔ سڑکیں، پل، آبپاشی کے نظام، بجلی کی ترسیلی لائنیں، مکانات اور تعلیمی ادارے تباہ ہو رہے ہیں۔ ان نقصانات کے بعد حکومت کو بحالی اور تعمیرِ نو پر بھاری اخراجات کرنا پڑتے ہیں، جس سے قومی خزانے پر مزید دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
    غربت اور بے روزگاری بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑے نتائج میں شامل ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق شدید سیلاب اور دیگر موسمی جھٹکے 60 سے 90 لاکھ پاکستانیوں کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل سکتے ہیں۔ لاکھوں افراد روزگار، گھر اور ذریعہ معاش سے محروم ہو جاتے ہیں، جس کے اثرات کئی برسوں تک برقرار رہتے ہیں۔
    صحت کا شعبہ بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ نہیں۔ شدید گرمی، آلودہ پانی اور سیلاب کے بعد پھیلنے والی بیماریاں صحت کے اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ ہیٹ ویوز، ڈینگی، ملیریا اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ قومی پیداوار میں کمی اور افرادی قوت کی کارکردگی پر بھی منفی اثر ڈالتی ہیں۔
    طویل المدتی بنیادوں پر موسمیاتی تبدیلی پاکستان کی معاشی ترقی، غذائی تحفظ، پانی کی دستیابی، توانائی کی پیداوار اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو بار بار آنے والی قدرتی آفات ملک کو قرضوں، مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کے ایک خطرناک چکر میں دھکیل سکتی ہیں۔
    پاکستان کو اس وقت کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں کمزور انفراسٹرکچر، محدود موسمیاتی فنڈنگ، ناقص شہری منصوبہ بندی، پانی کا غلط استعمال اور ناکافی ڈیزاسٹر مینجمنٹ شامل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے بغیر موسمیاتی خطرات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔
    آج موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ پاکستان کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج بن چکی ہے۔ سیلاب، خشک سالی اور شدید موسمی حالات اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا رہے ہیں، معاشی ترقی کی رفتار کم کر رہے ہیں اور غربت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ مستقبل میں ان نقصانات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان مضبوط موسمیاتی پالیسیوں، جدید انفراسٹرکچر، بہتر منصوبہ بندی اور بین الاقوامی موسمیاتی مالی معاونت پر توجہ دے۔