ہوم << جنگ پلاسی ۲۳جون ۱۷۵۷ء “پلاسی سے پاکستان تک”

جنگ پلاسی ۲۳جون ۱۷۵۷ء “پلاسی سے پاکستان تک”


ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ۔ رمضان مبارک کا مہینہ تھا۔ مجھے ایک دوست نے اپنے گھر افطاری پر مدعو کیا۔ سلیمان کے آباؤاجداد کا تعلق انڈین گجرات سے ہے ۔ کوئی سو سال پہلے اس کا دادا ساؤتھ افریقہ گیا اورپھر وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ سلیمان کی پیدائش ساؤتھ افریقہ کے شہر کمبرلی میں ہوئی۔
۲۰۰۸ء میں وہ آسڑیلیا آ بسا۔
وہ امت کے لئے درد دل رکھنے والا ایک اچھا مسلمان ہے جس کی تاریخ پر بھی گہری نظر ہے۔ اس سے ملاقات ہمیشہ دل ودماغ کے نئے دروازے کھولتی ہے۔
اس روز مجھے اس کے ڈرائنگ روم کی میز پر ایک نئی کتاب پڑی نظر آئی جو ان دنوں اس کے زیر مطالعہ تھی۔
اس کتاب کا نام تھا۔
“ پلاسی سے پاکستان تک ۔
From Plassey to Pakistan “
افطاری کے دوران اور افطاری کے بعد سلیمان سے اس موضوع پر بہت سیر حاصل گفتگو رہی ۔ پھر اس سے یہ کتاب ادھار مانگ کر پڑھی بھی۔
یہ کتاب پاکستان کے پہلے ڈکٹیٹر اور صدر جنرل اسکندر مرزا کے بیٹے ہمایوں مرزا کی لکھی ہوئی ہے۔
اسکندر مرزا بنگال کے میر جعفر کا پڑپوتا تھا۔ اور ہمایوں مرزا میر جعفر کی نسل کا آخری چشم وچراغ ۔
اس کتاب میں موصوف پہلے تو اپنے جد امجد میر جعفر کے حسب و نسب اور خاندانی شرافت اور اصالت کے گن گاتے ہیں اور اپنے سید ہونے پر فخر کا اظہار کرتے ہیں ۔پھر وہ سراج الدولہ کی نااہلی اور کج فہمی اور رعونت و تکبر کا تذکرہ کرتے ہوئے میر جعفر کی انگریزوں کے ساتھ حمایت کادفاع کرتے ہیں ۔ کہ ہندوستان کی اجڈ اور جاہل غلام قوم کے لئے ضروری تھا کہ انہیں سراج الدولہ جیسے مغرور اور جابر حکمرانوں کی غلامی سے نجات دلا کر انگریزوں کی حکمرانی میں دے دیا جاتا تاکہ یورپ میں پھیلنے والی علم ونور اور سائنس کی روشنی ہندوستان کی جہالت اور غربت کے اندھیروں کو بھی دور کر سکتی۔ ان کے نزدیک آج کے ہندو پاک کی یہ ساری ترقی صرف ان کے پڑدادے کے اس حکیمانہ اور دانشمندانہ اقدام کی بدولت ہے جس کی وجہ سے ہندوستان میں انگریزوں کو اپنے قدم جمانے اور بعدازاں اپنی حکومت قائم کرنے کا موقعہ ملا۔
پھر وہ میر جعفر کی اس انقلابی سوچ کو اپنے باپ اسکندر مرزا کے اقدامات سے نتھی کرتے ہوئے اپنے باپ کی پاکستان کے لئے سر انجام دی جانے والی خدمات کا تذکرہ کرتے ہیں اور آخر میں پاکستانیوں کی ناقدر شناسی ، بے قدری اور بےمروتی و بے ثباتی کا شکوہ کرتے ہوئے اپنے باپ کی جلاوطنی اور آخری ایام کی کسمپرسی کا تذکرہ کرتے ہیں ۔
انہیں یہ بھی شکوہ ہے کہ اہل پاکستان نے ان والد کو پاکستان میں دفن ہونے کی اجازت بھی نہ دی۔ حالانکہ ان کی خدمات کے صلے میں ان کا حق بنتا تھا کہ انہیں پاکستان لا کر سرکاری اعزاز سے دفنایا جاتا ۔
آج تئیس جون ہے تو پتہ نہیں کیوں بے اختیار مجھے وہ کتاب یاد آگئی۔ آج ہی کے دن کوئی پونے تین سو سال پہلے پلاسی کے میدان میں ۱۷۵۷ء کو وہ تاریخ ساز جنگ ہوئی تھی جس نے ہندوستان کی تاریخ کا رخ بدل دیاتھا۔ اور اہل ہندوستان کو دو سو سال کے لئے انگریزوں کی غلامی کے ان اتھاہ اندھیروں میں دھکیل دیاتھا۔
جو آج تک برصغیر کے افق پر چھائے نظر آتے ہیں ۔
۲۳جون ۱۷۵۷ء کی صبح کا سورج طلوع ہوا تو مرشد آباد کے باہر دریائے ہگلی کے کنارے پلاسی کے میدان میں بنگال کے چوبیس سالہ نواب سراج الدولہ کی پچاس ہزار فوج اور انگریزوں کی تین ہزار فوج کے درمیان مقابلہ شروع ہوا ۔ انگریزوں کی اس تین ہزار فوج میں صرف چار سو کے قریب انگریز تھے باقی سب ہندوستانی تھے۔ اس فوج کی قیادت رابرٹ کلائیو لارڈ کر رہا تھا۔
سراج الدولہ کی فوج تیس ہزار پیادوں، بیس ہزار گھوڑسواروں اور 40 توپوں پہ مشتمل تھی ۔
اور ان میں سے بعض توپیں اتنی بڑی اور بھاری تھیں کہ ایک ایک توپ کو خاص طور پر پالے ہوئے تیس بیل کھینچتے تھے۔ اور کچھ توپوں کو ہاتھیوں کی مدد سے دھکیلا جاتا تھا ۔ نواب کی فوج کا سپہ سالار میر جعفر تھا۔
رات بھر بارش ہوتی رہی تھی۔ پلاسی کے میدان میں کئی جگہ پر ٹخنوں تک پانی کھڑا تھا۔
بظاہر یہ جنگ یک طرفہ تھی۔
کیونکہ تین ہزار کا مقابلہ پچاس ہزار سے تھا جو ہر طرح کے جنگی اور فوجی سازوسامان سے لیس تھی اسے بہترین اور بہت بھاری توپوں کی مدد حاصل تھی۔ لیکن جنگ شروع ہوئی تو نوے فی صد فوج جنگ سے کنارہ کش ہوگئی
پچاس میں سے پینتالیس ہزار فوج
خاموشی سے پیچھے ہٹ گئی
توپیں چلانے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ رات ہونے والی بارش کے نتیجے میں سارا گولہ وبارود گیلا ہوچکا ہے اور توپوں میں پانی پڑ گیا ہے ۔ اور کسی نے رات کو انہیں ڈھانکنے کی تکلیف گوارہ نہیں کی ۔جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی۔
نواب کو شکست ہوئی۔
اور محض گیارہ گھنٹے کے اندر بنگال کا پورا صوبہ انگریزوں کی جھولی میں جا چکا تھا
سید غلام حسین خان نے اپنی کتاب “ سیر المتاخرین
Seir Mutakherin “
میں لکھاہے کہ
“جنگ پلاسی تو وہ جنگ تھی جو لڑی ہی نہیں گئی تھی۔ اور لڑنے سے پہلے ہی ختم ہوگئی تھی۔
Battle of Plassey was a war which was never fought. It was over even it before started.”
ولیم ڈیلریمپل نے اپنی کتاب
“انارکی Anarchy “ میں فرانسیسی افسر لاء ڈی لاؤرسٹن کو خراج تحسین پیش کیا ہے کہ “ نواب کی ساری فوج میر جعفر کی ہدایت پر جنگ سے کنارہ کش ہو گئی تھی صرف مٹھی بھر جانثار فرانسیسی آفسر لاء جین کی قیادت میں لڑتے رہے ۔ یہاں تک کہ اسے گرفتار کر لیا گیا ۔ اور اس گرفتاری کے ساتھ ہی جنگ ختم ہوگئی۔ “
غلام حسین خان نے بھی لاء جین کی بہادری اور وفاداری کی بہت تعریف کی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ
“ صرف فرانسیسی آفسر لاء ، اس کے چند فرانسیسی ساتھی ، میر مدن اور دیوان موہن لال جیسے چند ہی لوگ تھے جو بہادری سے لڑے ۔
لاء گرفتار ہوا ۔ میر مدن اپنے ساتھیوں نوا سنگھ ہزاری اور بہادر خان کے ساتھ توپ کا گولہ لگنے سے مارا گیا جبکہ دیوان موہن لال میدان جنگ سے فرار ہونے کے بعد نواب کے بیوی بچوں کو میر میرن کے آدمیوں سے بچانے کے لئے ان کی ڈھال بنا رہا۔ “
توپ کا ایک گولہ نواب کے ہاتھی کے مہاوت کو لگا اور وہ جاں بحق ہوگیا۔ نواب کو گرفتار کر لیاگیا۔
غلام حسین خان نے “سیرالمتاخرین “ میں مزید لکھا ہے کہ
“ نواب سراج الدولہ کو میر جعفر کے محل کی ڈیوڑھی میں موجود ایک قید خانے میں کئی روز تک بھوکا پیاسا رکھا گیا ۔
۲جولائی ۱۷۵۷ء کو میر جعفر نے اسے بڑی بے دردی سے گھسیٹ کر قید خانے سے نکالا اور اسے ہاتھ پاؤں سے باندھ کر فرش پر الٹا لٹا دیا گیا۔
میر میرن کے حکم پر محمد علی بیگ اس کی پشت پر چڑھا نواب کے سر کو بالوں سے پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچا اور بڑی بے دردی سے نواب کو ذبح کر دیا۔
اسکی لاش کو جعفر گنج میں دریا ہگلی کے کنارے پھینک دیا گیا جہاں وہ ساری رات بے گورو کفن پڑی رہی اور کتے اور جنگلی جانور اسے بھنبھورتے رہے اگلی صبح اسے ہاتھی پر ڈال کر پورے شہر میں گھمایا گیا یہاں تک کہ جان بوجھ کر اس کی ماں آمنہ بیگم کے گھر کے سامنے سے بھی گزارا گیا ۔
پھر اسے اس کے رشتہ داروں کے حوالے کر دیا ۔ جنہوں نے اسے خوش دل باغ میں دفن کر دیا گیا جہاں اس کا نانا نواب علی وردی خان دفن تھا۔ “
۱۷۰۷ء میں اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے بعد اس کے پانچوں بیٹوں کے درمیان اقتدار کی ایسی جنگ چھڑی کہ بیس پچیس سال کے اندر اندر ہی ان کے باپ کی چھوڑی ہوئی عظیم الشان سلطنت چار ٹکڑوں میں بٹ گئی ۔
اس وقت ہندوستان انتظامی اعتبار سے چار بڑے صوبوں گجرات ، بنگال حیدرآباد دکن اور پنجاب میں تقسیم تھا۔
مرکز (دہلی ) میں چھڑنے والی اس جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ گجرات بنگال اور حیدرآباد کے صوبے داروں نے سرکشی اختیار کرتے ہوئے آزادی کا اعلان کر دیا۔ اور دہلی کی حکومت صرف پنجاب تک محدود ہو کر رہ گئی۔
یہ وہ وقت تھا جب یورپ کی ساری طاقتیں ہندوستان کو سونے کی چڑیا سمجھ کر اس پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھیں ۔
اور تاجروں کے روپ میں اپنے استبدادی پنجے گاڑنے کے لئے بے چین تھیں ۔
بنگال ان صوبوں میں سب سے بڑا ، زرخیز اور امیر صوبہ تھا۔
جس میں سارا بنگال ، بہار ، اودھ ، اڑیسہ ، آسام ، تری پورہ ، پٹنہ ، ریاست جوناگڑھ اور نیپال شامل تھے ۔
۱۷۴۰ء میں علی وردی خان نے بنگال کے نصیری نواب سرفراز خان کو شکست دے کر بنگال پر قبضہ کرلیا۔
مغل بادشاہ محمد شاہ نے بھی اسے بنگال کا قانونی حکمران تسلیم کرلیا۔
علی وردی خان کا باپ ایک عرب ہندوستانی تھا۔اس کا تعلق دکن سے تھا اور اس کا دادا اورنگ زیب عالمگیر کا رضاعی بھائی تھا۔
علی وردی خان ایک بہت قابل اہل ، سمجھدار حکمران اور دلیر جرنیل تھا۔ اس نے کئی مرتبہ مرہٹوں کو شکست دی ۔ اس کے دور حکومت میں بنگال ہندوستان کی سب سے مالدار اور پرامن ریاست بن کر ابھری
اس کا دارلحکومت مرشد آباد تھا جو موجودہ انڈین بنگال میں کلکتہ سے کوئی ایک سو پچاس کلومیٹر دور دریائے ہگلی (گنگا) کے مشرقی کنارے پر آباد تھا۔
علی وردی خان کی کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی۔ اس نے اپنی چھوٹی بیٹی آمنہ بیگم کی شادی اپنے بھتیجے زین الدین ہیبت جنگ (ہاشم خان ) سے کر دی ۔
ہاشم خان ۱۷۴۸ء میں مرہٹوں کے خلاف ایک جنگ میں ماراگیا۔
ہاشم خان کے تین بیٹے تھے۔ جن میں سے سب سے بڑے بیٹے سراج الدولہ کو علی وردی خان نے اپنا جاں نشین مقرر کیا تھا۔
۶جون ۱۷۵۶ء کو علی وردی خان اسی سال کی عمر میں دنیائے فانی سے رخصت ہوا ۔ تو اس کے انتقال کے بعد سراج الدولہ بنگال کے تخت پر بیٹھا اس وقت اس کی عمر تئیس سال تھی۔
وہ اپنے نانا کی نسبت ایک نا تجربہ کار ، کانوں کا کچا ، خوشامد پرست اور عیاش پرست نوجوان تھا ۔ اس نے میر جعفر کو اپنی فوج کا سپہ سالار مقرر کر دیا جسے اس کے نانا نے بغاوت اور غداری کے الزام میں معزول کر کے قید کر رکھاتھا۔ میر جعفر رشتے میں اس کا خالو لگتا تھا ۔ بعض روایات کے مطابق اس نے اپنی ماں کی سفارش پر اس کو رہا کیا اور بہت جلد میر جعفر نواب کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہوگیا ۔
پربھات رانجن سرکار نے اپنی کتاب میں سراج الدولہ کے بارے میں لکھاہے کہ
After the death of Alivardi Khan, his immature grandson became the nawab of Bengal, taking the name Mirza Mohammed Siraj-Ud-Daula. In addition to his young age, he had many kinds of defects in his character and conduct
میر جعفر کے دل ودماغ پر بنگال کا نواب بننے کا بھوت سوار تھا اور اس کی اسی ذہنیت کو بھانپ کر علی وردی خان نے اسے معزول کر کے قید میں ڈالا تھا اور مرتے وقت اپنی وصیت میں بھی سراج الدولہ کو اس سے ہوشیار رہنے اور اس پر اعتماد نہ کرنے کی تلقین کی تھی۔ اور اسے سانپ سے تشبہیہ دی تھی۔
لیکن سراج الدولہ نے اپنے نانا کی وصیت کو نظر انداز کرتے ہوئے نہ صرف اسے رہا کیا بلکہ کمال مہربانی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کو اپنی فوجوں کا کمانڈر ان چیف بھی مقرر کر دیا۔
چند ہی مہنیوں کے بعد میر جعفر نے پر پرزے نکالنے شروع کردئیے۔ اور انگریزوں سے ساز باز شروع کر کے انہیں بنگال پر حملے کی دعوت دی ۔
ولیم ڈیلریمپل نے اپنی کتاب “انارکی” میں لکھا ہے کہ
“ ولیم واٹس اور میر جعفر کے درمیان خفیہ خط و کتابت ولیم کے آرمنین ایجنٹ خواجہ پیٹرس اراتون کے ذریعے ہوئی جس میں میر جعفر نے نواب کو ہٹانے کے لئے ولیم کو اڑھائی کروڑ روپے ( موجودہ ۳۲۵ ملین پاؤنڈ ) دینے کی پیشکش کی ۔
ولیم واٹس نے کلائیو لارڈ کو لکھا جس نے اس سے اتفاق کیا۔”
انگریزوں نے بلیک ہول کا بہانہ بنا کر مرشدآباد پر چڑھائی کر دی ۔
بلیک ہول کلکتہ کے ولیم فورٹ میں ایک زمین دوز جیل نما کوٹھڑی تھی ۔
جس میں انگریزوں کے الزام کے مطابق ۱۷۵۶ ء میں نواب سراج الدولہ نے ولیم فورٹ پر قبضہ کرنے کے بعد ۱۴۶ انگریز قیدیوں کو بند کیا تھا۔ یہ کوٹھڑی محض ۲۰ مربع فٹ تھی اور جو قیدی اس میں بند کیے گئے تھے ان میں سے اگلی صبح صرف ۲۳ زندہ سلامت باہر نکلے۔ اتنی چھوٹی سی کوٹھڑی میں اس قدر آدمیوں کا سمانا محال ہے، اس لیے اکثر یورپین بھی اسے افسانہ ہی سمجھتے ہیں۔ لیکن انگریزوں نے یہ فسانہ اس لیے تراشا تھا کہ نواب سراج الدولہ پر حملہ کرنے کی وجہ یا جواز پیدا کیا جاسکے۔
۲۲ جون کی رات کو مرشد آباد میں میر جعفر کی حویلی میں ولیم واٹس ، میر جعفر اور اس کے بیٹے میر میرن کے درمیان ایک خفیہ میٹنگ ہوئی ۔ ولیم واٹس مرشد آباد میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی قاسم باغ فیکڑی کا انچارج تھا۔ اور بنگالی ، فارسی اور ہندی زبانیں بڑی فراوانی سے بول سکتا تھا۔ اس نے میر جعفر کےسر پر قرآن اور اس کے بیٹے کے سر پر اس کا ایک ہاتھ رکھا اور قسم اٹھوائی کہ وہ انگریزوں کے ساتھ غداری نہیں کرے گا۔ بدلے میں میر جعفر نے ولیم سے بنگال کی نوابی اور سراج الدولہ کا سر مانگ لیا۔
اگلے دن میدان جنگ میں میر جعفر نے اپنی زیراثر فوج کو لڑائی سے دور رکھا۔ اور ۲۳ جون ۱۷۵۷ء کو پلاسی کے میدان میں صرف سراج الدولہ ہی نہ ہارا بلکہ سارا ہندوستان انگریزوں کے سامنے ہار گیا۔
بنگال ٹوٹے ہوئے پھل کی طرح انگریزوں کی جھولی میں آن گرا۔
اس جنگ کے اثرات اتنے دوررس اور گہرے تھے کہ
اگلے سو سال میں انگریزوں
نے برصغیر
سے لے کر برما تک کے علاقے پر اپنا راج قائم کر لیا تھا ۔
میر جعفر بنگال کا نواب تو بن گیا لیکن بنگال کے مالک اب انگریز تھے اس کی حثیت ولیم واٹس اور کلائیولارڈ کے ہاتھوں میں محض ایک کٹھ پتلی کی سی تھی۔
نواب بنتے ہی اس نے بلیک ہول کے سانحے کے معاوضے اور ہرجانے کے طور پر انگریزوں کو ۱۷،۷۰۰،۰۰۰روپے اداکئے جنگ کا سارا خرچہ ادا کیا۔ اور وعدے کے مطابق اڑھائی کروڑ روپے بھی دئیے۔ لیکن یہ تو ابھی انگریزوں کی لوٹ کھسوٹ کا آغاز تھا۔ انہوں نے بنگال کی زیادہ تر زرعی اور زرخیز زمین پٹے پر حاصل کر لی ۔ پھر آنے والے دنوں میں انہوں بنگال کواس بے دردی اور بے رحمی سے لوٹا کہ صرف چند سالوں میں وہ بنگال جو ہندوستان کا سب سے امیر اور زرخیز علاقہ تھا۔ صنعتی اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا کپڑا ، بہترین ململ اور ریشم پیداکرنے والا صوبہ تھا۔ جس کی جی ڈی پی فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ جی ڈی پی سے بھی زیادہ تھی ۔ وہی بنگال ایک ہی دھائی میں بھوکا ننگا ہو گیا ۔ غربت گلیوں میں ناچنے لگی۔ انگریزوں نے ایک جبری حکم کے تحت بنگال کے کسانوں کو صرف پٹ سن اور کپاس اگانے پر مجبور کیا ۔ تاکہ ان کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔ اور گندم چاول اور دیگر اناج اگانے پر پابندی عائد کر دی ۔ انہوں نے کپٹرا بنانے کی مقامی صنعت کو تباہ و برباد کردیا کپڑا بنانے کے کارخانے توڑ پھوڑ دئیے گئے ۔ کپڑا بننے والی لوموں اور مشینوں کو برباد کر دیا ۔ بڑے پیمانے پر ان کاریگروں کے انگوٹھے کٹوا دئیے جو کپڑا بننے اور بنانے کی صنعت سے وابستہ تھے ۔
مقامی سطح پر کپڑابنانا اور بننا جرم ٹھہرا ۔
وہ ساری پٹ سن اور کپاس برطانیہ لے جاتے اور تاکہ اسے وہاں کپڑا بنانے کے فیکٹریوں میں استعمال کیا جا سکے۔
مانچسٹر کپٹرا بنانے کا مرکز بن گیا۔ یہ ہندوستان کا خام مال تھا جس نے مانچسٹر کو مانچسٹر بنایا ۔ برطانیہ میں صنعتی انقلاب آگیا۔ وہ دنیا کی عظیم ترین معاشی طاقت بن گیا اور بنگال کے لوگ بھوک سے مرنے لگے۔ جنگ پلاسی کے صرف تیرہ سال بعد
۱۷۷۰ء میں بنگال میں اناج کی کمی کی وجہ سے قحط آیا جس میں دس لاکھ کے قریب بنگالی بھوک کے ہاتھوں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ یہ بنگال کی تاریخ کاپہلا قحط تھا ۔ اور پھر قحط اس بد نصیب خطے کا مقدر بن گئے ۱۸۳۰ء میں وہ وقت بھی چشم فلک نے دیکھا کہ وہ ہندوستان جو پوری دنیا کو کپڑا درآمد کرتا تھا ۔کپڑا برآمد کرنے پر مجبور ہو گیا ۔ اس کی اپنی مقامی کپڑا بنانے کی ساری صنعت تباہ و برباد ہوگئی ۔ ہندوستان کی زمینیں صرف خام مال پیدا کرتیں وہ اپنا سارا خام مال برطانیہ بھیجتا اور کپڑا برطانیہ کی ملوں میں بنتا اور ہندوستانی برطانیہ کا بناکپڑا پہننے پر مجبور ہوتے۔
ولیم ڈیلریمپل نے اپنی کتاب میں اسی لوٹ کھسوٹ کو انارکی کا نام دیا ہے ۔

ششی تھرور نے اپنی کتاب
In glorious Empire: What the British Did to India
An Era of Darkness: The British Empire in India
میں بڑی تفصیل سے اس لوٹ کھسوٹ کا ذکر کیاہے ۔
اس کتاب کا اردو میں ترجمہ “ عہد ظلمت “ کے نام سے ہوا۔

الجزیرہ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق
سو ملین ہندوستانی انگریزوں کے دور میں بھوک اور قحط کی وجہ سے مرے ۔
How British colonialism killed 100 million Indians in 40 years
Between 1880 to 1920, British colonial policies in India claimed more lives than all famines in the Soviet Union, Maoist China and North Korea combined.

وہ ہندوستان جس کی جی ڈی پی اورنگ زیب کے دور میں پوری دنیا کی جی ڈی پی کے پچیس فی صد کے برابر تھی ۔ جس کی شرح خواندگی نوے فی صد سے زیادہ تھی ۔ جب انگریز دو سو سال کے بعد برصغیر سے رخصت ہوئے تو اس کی جی ڈی پی تین فی صد اور شرح خواندگی پانچ سے دس فی صد تھی۔

انگریزوں کی بے حسی اور ظلم کا یہ عالم تھا کہ ۱۹۴۲ء میں دوسری جنگ عظیم کے دوران چرچل کے حکم پر ہندوستان اور خاص طور پر بنگال کا سار اناج یورپ منتقل کر دیاگیا ۔ ہندوستان میں کھانے پینے کی چیزوں اور اناج کی شدید کمی واقع ہوگئی۔ قحط پھیل گیا لوگ ایک وقت کی روٹی کوبھی ترس گئے
لوگ بھوک سے مرنے لگے۔ آسٹریلیا کے اناج سے لدے بحری جہاز کلکتہ کی بندرگا ہ پر پہنچے تو چرچل کے خاص حکم پر انہیں کلکتہ میں اناج اتارنے کی بجائے یورپ پہنچنے کی ہدایت کی گئی۔ اور جب انسانی حقوق کے چمپئین چرچل سے اس حکم کی وجہ پوچھی گئی اور ہندوستان اور بنگال کے قحط اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے جو بےرحمانہ اور ظالمانہ الفاظ کہے وہ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لئے رقم ہو گئے ۔
ادتیہ سری کرشنا نے لکھا ہے کہ
One of Churchill’s key decisions was to divert food shipments away from India to support the war effort in Europe.
Churchill was focused
on winning the war and believed India was a drain on British resources.
In a 1942 memo,
he wrote, “I hate Indians. They are a beastly people with a beastly religion.”
He also stated, “The famine was their own fault for breeding like rabbits.
“مجھے انڈینز سے نفرت ہے ۔ یہ حیوان ہیں جن کا مذہب بھی حیوانی ہے۔ یہ قحط ان کی اپنی
غلطی ہے کیونکہ وہ خرگوش کی طرح بچے پیداکرتے ہیں ۔”

یہ اسی استعماری سوچ اور بے حسی کا نتیجہ تھا کہ اٹھارویں صدی کا ہندوستان جو دینا کی سب سے بڑی اکانومی تھی ۔ انگریزوں کے دو سو سالہ اقتدار کے بعد دنیا کے غریب ترین ممالک میں شامل ہو چکا تھا۔

میر جعفر اور اس کے خاندان کو بنگال کی نوابی تو مل گئی۔ لیکن گردش دوراں کا انتقام بڑا انوکھا تھا۔
تاریخ میں اس کی وہ حویلی جس میں اس نے ولیم واٹس کے ساتھ مل کر نواب کو ہرانے کی سازش تیار کی تھی اور وہ ڈیوڑھی جس میں اس کا بہیمانہ قتل ہوا تھا رہتی دنیا تک کے لئے نفرت کا نشان بن گئی اور “ نمک حرام ڈیوڑھی” کے نام سے مشہور ہوگئی ۔ لوگ آج بھی وہاں سے گذرتے وقت اسکی طرف دیکھ کر تھوکتے ہیں وہاں
بول و براز کرتے ہیں ۔
صدیوں سے میر جعفر کی نمک حرام ڈیوڑھی اور اس حویلی کے بالمقابل سڑک کے پار جعفر گنج قبرستان میں موجود اس کی قبر نفرت ، بے وفائی ، غداری ، اور دغابازی کی علامت ہے ۔ اور صدیوں سے میر جعفر کا نام نمک حرامی کی شرمناک مثال بن کر زندہ ہے۔
آخر میں ہمایوں مرزا سے بس
اتناکہنا ہے کہ تاریخ بڑی ظالم شئے ہے اور اس کا انتقام بھی بڑا بھیانک ہوتا ہے ۔ وہی فیصلہ کرتی ہے کہ کون کس وقت کہاں کھڑا تھا۔ کون کن الفاظ کے ساتھ
تاریخ میں زندہ ہے ۔ تمہارے آباؤاجداد کی وہ ڈیوڑھی جس میں بنگال
کی اور اہل ہندوستان کی غلامی کا فیصلہ ہوا تھا آج نمک حرام ڈیوڑھی کے نام سے مشہور ہے اور ہر گذرنے والا اس پر نفرت کی نگاہ ڈالتے ہوئے اس کی طرف تھوکتاہواگذرتا ہے تمہارا پڑدادا غداری اور نمک حرامی کی ایک گندی اور شرمناک مثال بن کر زندہ ہے اور تمہارا باپ جس نے پاکستان میں ڈکٹیڑشپ اور مارشل لاء کی بنیاد رکھتے ہوئے پاکستان کے آئین کو اپنے قدموں تلے روندا تھا ۔
اسے بقول قدرت اللّٰہ شہاب “ Thrash”
قرار دیا تھا
پاکستان میں مارشل لاء جیسی
قبیح اور رسم بد کا آغاز کیا تھا۔ جمہوریت کا سرعام قتل کیا تھا۔ اسے پاکستان میں دفن ہونے
کے لئے دو گز زمین بھی نہ مل سکی۔
وقت گذر جاتا ہے ہر چیز کو فنا ہونا ہے لیکن اپنی مٹی سے وفا کرنے والے تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتے ہیں خواہ وہ سراج الدولہ جیسے نااہل اور ناقاقبت اندیش ہی کیوں نہ ہوں ۔
اور غدار ، بے وفا اور نمک حرام ہمیشہ کے لئے شرم ناک حوالہ بن جاتے ہیں خواہ وہ میر جعفر اور اسکندر مرزا جیسے تجربہ کار اور قابل ہی کیوں نہ ہوں ۔
گوراانگریز برصغیر سے رخصت ہوا تو اپنے پیچھے اپنا نظام اور کالے انگریز چھوڑ گیا ۔ انڈیا اور بنگلہ دیش نے ان کالے انگریزوں سے نجات حاصل کر لی اور آج انڈیا چار سو بلین ڈالر کے ریزرو کے ساتھ دنیا کی پانچویں بڑی معاشی طاقت ہے۔ پاکستان سے بہت بعد آزادی حاصل کرنے والا بنگلہ دیش بھی آج اپنے اصل کی طرف لوٹ چکا ہے اور دنیا کا دوسرا بڑا کپڑا برآمد کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ پچاس سال گذر گئے بنگلہ دیش میں پھر کوئی قحط نہیں آیا اور نہ وہاں کوئی اب بھوک سے مرتا ہے۔
لیکن پاکستان پر اب بھی انگریز کا استعماری نظام اور کالے انگریز مسلط ہیں جو آج بھی پاکستان کو لوٹ کر لندن اور برطانیہ کو سنوارنے کا کام کر رہے ہیں ۔ ان کالے انگریزوں نے پاکستان کے ملکی وسائل کو اتنی بے دردی اور بے رحمی سے لوٹا ہے کہ آج پاکستان میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں ۔
ایک رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے بنکوں میں پاکستان کے ان کالے انگریزوں کا دو سو بلین ڈالر سے زیادہ سرمایہ محفوظ ہے ۔ لندن میں صرف ایک خاندان کی تین سوجائیدادیں ہیں جن کی مالیت پانچ ارب ڈالر ہے ۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی کہ وہ کبھی بھی نہ اپنے بیرونی حاکموں سے نجات حاصل کرسکا اور نہ ملک کے اندر موجود ان کالے انگریزوں سے ۔ ملک میں میر جعفر اور میر میرن بھی موجود ہیں اور نمک حرام حویلی جیسے کئی ڈرائنگ روم بھی قائم ہیں جہاں دن رات اپنے ذاتی مفاد کے لئے انگریزوں کے پرانے سامراجی نظام کو آج بھی پاکستانیوں پر مسلط کرنے کے لئے دن رات سازشیں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے ہم آج معاشی اخلاقی اور سماجی قحط کے دروازے پر کھڑے ہیں ۔تاریخ کے ان تلخ اور تکلیف دہ اوراق کا تذکرہ آج اس لئے بھی ضروری ہے کہ اسے اپنے حال سے جوڑ کر ہم شائد کوئی سبق حاصل کر سکیں ورنہ ۲۳ جون ۱۷۵۷ء کی طرح پاکستان یہ جنگ بغیر لڑے ہی ہار جائے گا۔

جعفر از بنگال ، صادق از دکن
ننگ آدم ، ننگ دیں ، ننگ وطن

Comments

Click here to post a comment