ہوم << اب کیا ہوگا؟ محمود فیاض

اب کیا ہوگا؟ محمود فیاض

محمود فیاض اگر آپ لوگوں نے کسی مصروف بازار میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے جیب کترے کو مار کھاتے نہیں دیکھا تو شائد یہ بات اتنی مزیدار نہ لگے، کیونکہ میں صرف اشارے کرنے والا ہوں۔
۔
جیب کترے کو جب کچھ راہگیروں سے ایک دو ہاتھ پڑ چکے ہوتے ہیں تو ایک زرا نکلتے قد کا بندہ آگے بڑھتا ہے، اور اس جیب کترے کو کالر سے پکڑ لیتا ہے۔ اور ایک دو آواز دار ہاتھ جڑتا ہے۔ غور کیجیے گا، کرارے نہیں آواز دار، تاکہ اردگرد کے لوگوں کو لگے کہ ٹھیک ٹھاک مارا گیا ہے۔
۔
پھر وہ اسکو پولیس تھانے لے جانے کی دھمکی دیتا ہے اور ساتھ آٹھ دس گالیاں بھی۔ سین پر موجود سارے کردار مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اب اسکو سزا مل کر رہے گی۔ ویسے بھی ہر کسی کو اپنے کام پر جانے کی جلدی ہوتی ہے۔ پہلے پہل کی ایکسائٹمنٹ کے بعد شغل میلہ زرا کم ہوتا ہے تو یار لوگ چھٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔
۔
لمبے قد والا اسکو لے کر ایک طرف کو چلنا شروع ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ صرف ایک دو اور لوگ اس کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔ جن میں ایک شائد وہ ہوتا ہے جو جیب کترے کا آخری شکار ہوتے ہوتے بچتا ہے۔
۔
اب لمبے قد والا کہتا ہے، ٹھیک بھائی لوگوں آپ میں سے کون تھانے کچہری بھگتے گا، میں ہی اسکو لے جاتا ہوں۔ ساتھ وہ ایک آدھ دھول دھپا جیب کترے کو پھر لگاتا ہے۔ باقی لوگ بھی اپنی راہ لیتے ہیں۔ ڈھیٹ بندہ جسکی جیب کٹنے والی تھی ،رہ جاتا ہے، وہ تھانے ساتھ جانے پر مصر ہوتا ہے۔
۔
یہاں آکر لمبے قد والے کا لہجہ تھوڑا بدل جاتا ہے۔ وہ درشت لہجے میں اس سے پوچھتا ہے، تیرا کوئی نقصان تو نہیں ہوا نا ؟ تو چل پھر اپنی راہ ناپ۔ میں ہوں نا۔ جا جا شابش ۔ ۔ یہ بڑے خطرناک لوگ ہوتے ہیں، پورا گینگ ہوتا ہے ان کا۔ تم نہیں جانتے۔ چل بچے شابش، تو بھی نکل۔
۔
جیب کٹنے سے بچنے والا حیرانی سے نہ سمجھنے کے انداز میں اس لمبے قد والے کو دیکھتا سائڈ پر رک سا جاتا ہے۔ اور لمبے قد والا جیب کترے کو کالر سے پکڑے اگلی سڑک سے بائیں مڑ جاتا ہے۔
۔
جیسے ہی وہ دونوں اکیلے رہ جاتے ہیں، لمبے قد والا ایک لات اس جیب کترے کی کمر پر رسید کرتا ہے، اور کہتا ہے، الو کے پٹھے، کتنی بار کہا ہے، ہاتھ دیکھ بھال کر مارا کر۔ کھوتے کا کھوتا ہی ہے تو، سال ہو گیا تجھے ۔ آیندہ دھیان سے۔ اچھا ، چل اب روٹی شوٹی کھاتے ہیں۔ چل آجا۔
۔
آج کل بھی ایک لمبے قد والا جیب کترے کو دھول دھپا کر رہا ہے۔ اور تماشائی خوش ہو رہے ہیں کہ اب جیب کترا جیل جائے گا۔ بس تماشہ ختم ہونے کی دیر ہے۔ پھر روٹی شوٹی کھاتے بندے آپ خود ہی پہچان جائیں گے۔

Comments

Click here to post a comment